خاموش دیواریں

خاموش دیواریں (افسانہ)

از: الطاف احمد آمبوری
رابطہ9952391661

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور محلے کی تنگ گلی میں آہستہ آہستہ اندھیرا اتر رہا تھا۔ گلی کے نکڑ پر واقع پرانا، خستہ حال مکان، جس کی بوسیدہ اکھڑی دیواریں برسوں سے اس محلے کے اتار چڑھاؤ کی گواہ تھیں، آج خلافِ معمول بالکل خاموش تھا۔
اس مکان میں رحیم چاچا اکیلے رہتے تھے۔ کئی دنوں سے کسی نے انہیں باہر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا، اور نہ ہی ان کے کھانسنے کی جانی پہچانی آواز سنائی دی تھی۔
پڑوس کے بنگلے میں رہنے والے ساجد صاحب نے اپنی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی کی اور ہاتھ میں پکڑا مہنگا سمارٹ فون جیب میں رکھتے ہوئے رحیم چاچا کے بند دروازے پر ایک سرسری نظر ڈالی۔
"کئی دن ہو گئے، چاچا دکھائی نہیں دیے،” ساجد صاحب کی بیوی نے کچن کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے کہا۔
"ہوں گے کہیں اندر ہمیں کیا؟ اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے آج کل،” ساجد صاحب نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر خبروں کے چینل بدلنے لگے۔ ٹی وی پر دنیا بھر کے مظالم اور حادثات کی خبریں چل رہی تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ افسوس سے سر ہلا رہے تھے، لیکن چند فٹ کے فاصلے پر موجود پڑوسی کی خاموشی پر ان کا دل بالکل مطمئن تھا۔
گلی کے دوسری طرف، نوجوانوں کا ایک ٹولہ موبائل اسکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ کوئی سوشل میڈیا پر "انسانیت” اور "حقوق” پر لمبی پوسٹ لکھ رہا تھا، تو کوئی ویڈیو گیم میں مگن تھا۔ رحیم چاچا کے گھر کا بند دروازہ ان کے سامنے تھا، لیکن ان کی نظریں اپنی پانچ انچ کی اسکرینوں میں قید تھیں۔
تین دن گزر گئے۔ چوتھے دن رحیم چاچا کے بند مکان سے ایک عجیب سی بو اٹھنے لگی۔ وہ بو اتنی شدید تھی کہ اب اسے نظرانداز کرنا گلی والوں کے لیے ممکن نہ رہا۔
بالآخر، کچھ لوگوں نے جمع ہو کر پولیس کو فون کیا۔ جب پولیس نے آ کر مکان کا زنگ آلود تالا توڑا اور اندر داخل ہوئے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
رحیم چاچا اپنے پرانے بستر پر مردہ پڑے تھے۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد بتایا کہ ان کا انتقال شدید بیماری اور بھوک کی وجہ سے تقریباً تین دن پہلے ہوا تھا۔ یعنی جب ساجد صاحب اپنے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر دنیا بھر کی بے حسی پر بحث کر رہے تھے اور گلی کے نوجوان سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات شیئر کر رہے تھے، ٹھیک اسی وقت ان کی دیوار کے پیچھے ایک بوڑھا انسان زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا اور انہیں پکارنے کی سکت بھی کھو چکا تھا۔
لاش جب باہر نکالی گئی، تو پورے محلے میں ایک سنسنی خیز خاموشی پھیل گئی۔ ساجد صاحب کی آنکھیں زمین میں گڑی تھیں اور نوجوانوں کے موبائل فون ان کی جیبوں میں خاموش تھے۔ سب لوگ وہاں سے رخصت ہو گئے، لیکن رحیم چاچا کے مکان کی وہ پرانی، اکھڑی ہوئی دیواریں وہیں کھڑی رہیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ اینٹ گارے کی دیواریں نہیں، بلکہ اس پورے سماج کی بے حسی اور مردہ ضمیری کا اشتہار تھیں، جو آج بھی گلی میں آنے جانے والے ہر زندہ انسان سے سوال کر رہی تھیں کہ:
"اصل میں کون مر چکا ہے؟ وہ جو اندر تڑپ کر جان دے گیا، یا وہ جو باہر زندہ لاشیں بن کر گھوم رہے ہیں؟”

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے