ڈاکٹر اعجاز علی
سابق ممبرپارلیمنٹ راجیہ سبھا
آل انڈیا یونائیٹیڈ مسلم مورچہ لکھنؤ۔
9110102789
اسلامی تاریخ میں ہجرت کی بہت اہمیت پائی گئی ہے۔ حضرت ابراہم ؑ کی ہجرت نے خانہ ٔ کعبہ کو اسلام کا مرکز بنادیا۔ حضرت موسیؑ کی ہجرت نے عمالقہ قوم کو زیرکرنے کا راستہ ہموار کیا۔ پیغمبر محمدؐ کی ہجرت نے اسلامی تحریک کی جڑوں کو مضبوط کرنے، اس کو فائنل شکل دینے کی ایسی راہ کھولی کہ قیامت تک راہ راست کا راستہ ہموارہی ہوتارہے گا۔
غور کیجئے تو یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ ہر ہجرت کے پیچھے ایک حکمت چھپی ہوئی ہے اور وہ Time buying policy یعنی جب ماحول اتنا خراب ہوجائےکہ اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت لازمی ہوجائے اور عام آدمی کو اس ماحول کے زرر سے بچانے کیلئے ذہن ہے تو ایک مقررہ وقت تک کیلئے یا تو راستہ بدل دینا چاہئے یا ’’بیک ٹو پیولین‘‘(Back to Povilion) چلانا جانا چاہئے۔وقت کو غنیمت مان کر پھر سے لوگوں کی تعلیمی اقتصادی کمیوں کو پورا کرنے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور حکمتی مزاج کو پھلنے پھولنے کا موقع دینا چاہئے تاکہ لوٹ کر جب اسی ماحول میں واپس آئیں تو اسے ساز گار بنائیں اور تب پھر سے دوبارہ ہر ریس میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔
مذہبی ایشوز کو لےکر بھارت کا ماحول بھی تیزی سے خرابی کی طرف بڑھ گیا ہے اور اب لگتا ہے کہ چند سالوں میں ہی پیک(Peak) پر پہنچ جائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ 2014ء سے ہی ساری خرابی پیدا ہوگئی ہے بلکہ لمبے وقت سے چلی آرہی اقتدار پر قبضے کی لڑائی نے ہی اس سلسلے کو قائم کیا جس کا گراف وقت کے ساتھ اونچا ہوتا چلاگیا۔ اسی کو لے کر پہلے راجہ مہاراجوں کے بیچ ٹکرائو ہوتاتھا جواب سیاسی پارٹیوں کے بیچ ہورہاہے لیکن مذہبی دخل ہمیشہ رہا ہے ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ راجہ مہاراجوں کی فوج میں سپہ سالار بھل ہی دیگر ذات یا مذہب کے ہوں لیکن لڑنے والوں (سپاہوں) میں زیادہ ترمخصوص ذات یا مذہب کے ہی لوگ ہوتے تھے کیونکہ کہیں نہ کہیں ہر قوم کی بات آجاتی تھی۔ لہذا اپنی فوجوں میں زیادہ سے زیادہ اپنے ہی قوم کے لوگوں کو شامل کرنے کیلئے ان میں قومی جنون پیداکرنا ضروری فیکٹر ہوتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار پر قبضہ کے فراق میں مقابلہ آرائی کرنے والی کمیونٹیاںاپنی آبادیوں کو مذہبی بنیاد پر جذباتی بناکر رکھتی تھی تاکہ ضرورت پڑنے پر اتحاد کے نعرے پر انہیں ایک پیر پر کھڑا کیاجاسکا۔ آج تک وہی سلسلہ چل رہا ہے تبھی کوئی ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ تو کوئی ’’ہندو خطرے میں‘‘ ہے کی بات کرتاہے۔اُسی طرح سے عیسائیوں ، سکھوں ، بودھسٹوںاور یہودیوں میں بھی بات چلتی ہے۔ ملاجلاکر جدھر چاہئے سبھی مذاہب خطرے میں ہی بتائے جاتے ہیں۔ لیکن بات دراصل یہ ہے کہ کوئی مذہب خطرے میں نہیں ہے، ہاں عام انسانی آبادی کی جان ،مال واعمال پر خطرہ ضرور آجاتا ہے۔
آج جمہوریت کا دور ہے لیکن اس دور میں بھی بالادستی یا حصہ داری کے نام پر زیادہ تر ملکوں میںاندرونی خلفشار مچارہتاہے۔ عام آبادیوں میں جنون پیدا کرنے کیلئے مذہبی اداروں یا مذہبی پروگراموں کا استعمال کیاجاتاہے۔ بھارت میں بھی وہی حالت ہے۔ مذہبی بنیاد پر حصہ داری کو لے کر ہمیشہ ہوتے رہے ٹکرائو سے آج ملک وسماج کی جو حالت ہوچکی ہے وہ سبھوں کے سامنے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے جو بھی سماں آج بنا ہے وہ فی الوقت صرف ایک نمونہ ہے جو نظروں میں آرہاہے۔اگر یہی صورت حال رہی تو ۲۰؍سے۲۵؍سالوں میں ملک وسماج کی ’دُرگتی ‘ کیاہوگی یہ خدا کو معلوم ہے۔ فی الوقت تو ایسا لگنے لگا ہے کہ ملک سول وار کی طرح پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکاہے۔ آنے والی نسلوں کی حالت کیسی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ضرور ہےلیکن مینمار اور فلسطین میں ہوئے حادثات کا نظارہ تو ذہن میں تازہ ہے۔
لہذا وقت کا تقاضہ بنتاہے کہ اقلیتوں کی ’’سیاسی ہجرت‘‘ ہو اس کی وجہ صاف ہے ۔ جمہوریت میں ووٹ کی سب سے بڑی قیمت ہوتی ہے۔ اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے سیاسی مہارتھی کو چت کردے اور کمزور کو لاکر کرسی پر بیٹھا دوے یہی سرکار بناتی ہے جس پر ملک وسماج کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ عوام کی یہ بڑی ذمہ داری ہوتی ہے آیا وہ کس ایشو پر ووٹ دیتی ہے، حصہ داری پر یا حق داری پر ، گرچہ سرکاریں تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سچ تو یہ ہے اس ردوبدل سےحکمراں طبقے کو زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے وہ تو ہر دور میں اپنا جگاڑ بیٹھالیتے ہیں۔ فرق تو پڑتاہے محروم طبقات کو کیونکہ ان کے جان ومال واعمال تینوں پر خطرات کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں۔ ان کے جان ومال واعمال کی حفاظت ہو یہ ان کے بنیادی حقوق میں آتے ہیں لیکن ووٹ کیلئے تو انہیں حصہ داری کے نام پر ہی یکطرفہ کیاجاتارہا ہے۔ اسی سے ٹکرائو پیدا ہوتاہے جو جس کا خراب اثر ان کے حقوق پر پڑتاہے ۔ لہذا اب مسلم اقلیتوں کے ُرخ کو ’’حصہ داری‘‘ سے زیادہ ’’حق داری‘‘ کی طرف موڑناہوگا تاکہ سیاسی ٹکرائو کم سے کم ہو اور اس کے بدلے سماج کی تعلیمی واقتصادی حالات کو سدھاراجاسکے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے کیونکہ اقتدار یاحصہ داری کا نشہ سماج کے دل ودماغ میں ایسا پیوست کردیاگیا ہے کہ گائوں میں رہنےو الے ان پڑھ اورغریب مسلمان بھی حصہ داری کے نام پر ایک جُٹ ہوجاتے ہیں اور ٹکرانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سماج کی یہ حالت دیکھ کر ہی یہ لکھناپڑتاہے کہ مسلمانوں کے رُخ کو موڑنا مشکل ہے لیکن پھر بھی ناممکن تو نہیں ہے۔
بہر حال سماج کے دانشور، سماجی کارکن حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عام آدمی کے سونچ میں بدلائو لائیں۔ حکمراں طبقات کی باتوںکو درکنارکرتے ہوئے سماجی یاسرکارکی یوجنائوں سے ہی عام مسلمانوں کو ترقی دلانے کی راہ ہموار کریں۔ ہمیں یہ ذہن بنانا ہوگا کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتاہے اور نہ کوئی دشمن، یہ سبھی ووٹوں کے سوداگر ہوتے ہیں ۔ اس لئے کسی بھی سرکاری کی راہ میں روڑہ بن کر نہیں رہنا چاہئے بلکہ ان کے ذریعہ فراہم کی جانے والی سہولیات کا معقو ل استعمال کیاجانا چاہئے۔اگر کسی سرکار کی کسی پالیسی سے دل ودماغ پر چوٹ پہنچے تو اسے روڈ پر لے کر آنے سے بہتر کہ حکمت سے اس کا حل نکالیں۔ حضورؐ کی حدیث ہے کہ ’’شرکل بھی تھا، آج بھی ہے اور تاقیامت رہے گا ۔ ان شروں سےخیر نکالنے میں ہی انسان کی کامیابی ہے۔ صرف رد عمل دکھانے سے معاملات بگڑتے ہی ہیں۔اس لئے بہتر تو یہ ہوکہ رد عمل (ہربات پر) دکھانا ہی غلط ہے اور اگر دکھانا بھی ہے تو بہت غوروفکر کرنے کے بعد ہونا چاہئے لیکن ساتھ ہی اپنی کمیوں کو بھی درست کرنا ضروری بن جاتاہے تاکہ عمل وردعمل کا معاملہ ہی نہ بنے۔سرزمین بھارت میں ہی عیسائی سماج کتنی خاموشی سے زمین پر اپناکام کرتاہے ، اُسی سے سبق لیں۔ پھر علاحدہ پسندی کی اجازت اسلام میں نہیں ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ نے خود فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔ سبھی دوست ہیں۔ ان میں کچھ تو دوست ہیں ہی بقیہ امکانی دوست (Friend of Future) ہیں۔ لہذا اپنی لاحکمتی سے انہیں دشمنی کے غار میں نہیں ڈھکیلنا چاہئے بلکہ ان امکانی دوستوں کو بھی حقیقی دوست بنانے کی لگن اور حکمت ہونی چاہئے۔ اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں ہی بھلا ہے۔