عقیدہ ٔ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

عقیدہ ٔ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

عقیدہ ٔ توحید
ایمان و اسلام کی بنیاد

شمع فروزاں
2026.07.10

ازقلم:مولانا خالد سیف الله رحمانی

اهل سنت اور اهل تشیع مسلمانوں كے دو قدیم اور بڑے فرقے هیں، ان كے درمیان بنیادی اختلاف امامت وولایت كا هے، اهل سنت كے نزدیك امام المسلمین كا انتخاب مسلمانوں كے ارباب حل وعقد كے ذریعه هوتا هے، (الاحكام السلطانیه، لابی یعلی:۱؍۳۳، فصول فی الامامۃ)؛ چنانچه حضرت ابو بكر صدیق رضی الله تعالیٰ عنه كا صحابه میں سے ارباب حل عقد نے انتخاب كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۳، كتاب الحدود، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت) حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنه كو اگرچه حضرت ابو بكر نے صحابه كے مشوره سے نامزد فرمایا تھا؛ لیكن خود حضرت عمر ؓ نے پیش كش كی تھی كه اگر مسلمان چاهیں تو اُن كے هاتھ پر بیعت كریں یا كسی اور كے هاتھ پر بیعت كر لیں؛ مگر سبھوں نے ان كے نام پر اتفاق كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۰۰۷۳، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) پھر حضرت عمرؓ نے اپنی شهادت كے وقت صحابهؓ میں سے چھ ممتاز شخصیتوں كو نامزد كیا كه مسلمان ان میں سے كسی كو امیر منتخب كر لیں، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی الله تعالیٰ عنه ان چھ حضرات كی اتفاق رائے سے اس فیصله كو نافذ كرنے كے ذمه دار بنے، اور انهوں نے ایك ایك شخص سے رائے لی، یهاں تك كه بعض پرده نشیں خواتین سے بھی رائے حاصل كی گئی (البدایۃ والنهایۃ : ۱۰؍ ۲۱۱) حضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تیسرے خلیفه راشد مقرر هوئے (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۷۰۰، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) حضرت عثمانؓكی مظلومانه شهادت كے بعد مدینه كے ارباب حل وعقد نے به اصرار سیدنا حضرت علی كرم الله وجهه كے هاتھوں پر بیعت كیا، اگرچه حضرت معاویهؓ اور ان كے گروه نے بیعت نهیں كی؛ لیكن ایسا نهیں تھا كه وه حضرت علی ؓكو خلافت كا مستحق نهیں سمجھتے تھے؛ بلكه ان كا مطالبه تھا كه پهلے قاتلان عثمان سے قصاص لیا جائے، حضرت علی ؓ اور ان كے بعد چھ ماه حضرت حسن ؓكی حكومت رهی، اسی پر خلافت راشده ختم هوگئی، یه خود رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم كی پیشین گوئی تھی كه میرے بعد ۳۰؍ سال خلافت رهے گی، اس كے بعد ملوكیت قائم هو جائے گی، (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۵۸۹۱) اور حضرت معاویهؓ خود اپنے آپ كو مسلمانوں میں پهلا بادشاه ’’ اول الملوك‘‘ كهتے تھے، (مصنف ابن ابی شیبه: ۷؍۲۶۱) اور ان تمام خلفاء كا انتخاب مسلمانوں كے ارباب حل وعقد كی رائے سے هوا تھا؛ اس لئے اهل سنت كے نزدیك مسلمانوں كے انتخاب سے هی امیر المومنین كا انتخاب هو سكتا هے۔
اهل تشیع كے نزدیك امامت وولایت كا عهده منصوص هے، جس كو همیشه اهل بیت میں رهنا چاهئے، (الاعتقادات للصدوق: ۱؍۹۳، باب اعتقاد فی عد الانبیاء والاوصیاء) اس اختلاف كی وجه سے كئی اور مسائل میں بھی اختلاف رائے پیدا هوا، اس موضوع پر اهل علم كے درمیان همیشه گفتگو هوتی رهی هے؛ لیكن عقیدهٔ توحید ورسالت میں كوئی اختلاف نهیں؛ مگر افسوس كه اس بار ملك كے بعض شهروں سے نهایت افسوس ناك خبریں اور شرمناك تصویر یں آئی هیں، جن میں اهل بیت كی بعض خواتین كی فرضی تصویروں كو دیویوں كی شكل میں بنایا گیا هے، تعزیه كے نام پر ان كو گشت كرایا گیا هے اور ان كے ساتھ مشركانه رسوم ادا كئے گئے هیں۔
یه بے حد خطرناك صورت حال هے اور اگر مسلمانوں نے خود اس پر روك نهیں لگائی تو اندیشه هے كه خدانخواسته ایك طبقه كھلے هوئے شرك كا شكار هو جائے گا، اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد توحید ہے ، اس عقیدہ کی ترجمانی کلمہ طیبہ ’’ لا اِلٰہ الا اللہ ‘‘ سے ہوتی ہے ، اس کلمہ میں اثبات بھی ہے اور نفی بھی ، تسلیم بھی ہے اور انکار بھی ، اقرار بھی ہے اور براء ت کا اظہار بھی ، اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور وہ ایک ہے ، یہ پہلو کفر کی ایک خاص قسم ’’ کفر الحاد ‘‘ کی تردید کرتا ہے ، الحاد کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود ہی کو نہ مانا جائے ، جیساکہ آج کل کمیونسٹ کہتے ہیں ، یاجیساکہ بہت سے اہل مغرب اور مشرقی ملکوں کے مغرب زدہ لوگ کہا کرتے ہیں ، اس کائنات کو سر کی آنکھوں سے دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کے باوجود خدا کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ میں بغیر باپ کے اپنے آپ پیدا ہوگیا ہوں ، یقیناً ایسا کہنے والے کو لوگ یا تو پاگل کہیں گے یا سمجھیں گے کہ یہ ثابت النسب نہیں ہے ۔
اس کلمہ کا منفی پہلو یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں ، خدائی میں شرکت نہیں ہے ؛ بلکہ وحدت ہے ، یہ کفر کی ایک دوسری قسم ’’ کفر شرک‘‘ کی تردید کے لئے ہے ، یہ بات قابل توجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں پہلے اسی منفی پہلو کا ذکر کیا گیا ہے ، مثبت پہلو کا ذکر بعد میں آیا ہے ، قرآن مجید میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ، وہ زیادہ تر شرک کی تردید کے لئے ہیں ، مختلف انبیاء نے جو اپنی قوموں کو خطاب فرمایا ہے ، اس کی تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے ، ان سبھوں کا ہدف شرک کا رد کرنا تھا ، جن جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ہے ، ان کی اصل بیماری شرک ہی تھی ؛ البتہ شرک کی مختلف شکلیں ان کے یہاں مروج تھیں ، کوئی قوم مورتی پوجا کرتی تھی ، کوئی سورج ، چاند اور ستاروں کی پوجا کرتی تھی ، کسی کے یہاں بادشاہ پرستی مروج تھی ، کوئی جانور کا پرستار تھا ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا ان میں قدرِ مشترک تھا ، اہل علم نے لکھا ہے کہ مسلمان کے لئے توحید کے اقرار کے ساتھ باطل معبودوں سے براء ت کا اظہار بھی ضروری ہے ، (مفاتیح الغیب : ۶؍۲۵۴) اسی لئے اسلامی عقائد کے مشہور ترجمان امام طحاویؒ اپنی کتاب ’’ العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ میں اور اس کے مشہور شارح علامہ ابن ابی العز حنفی فرماتے ہیں : ’’یہی وہ کلمہ توحید ہے ، جس کی طرف تمام پیغمبروں نے دعوت دی اور اس کلمہ میں توحید کا ذکر نفی و اثبات دونوں اعتبار سے ہے ، جو حصر کا تقاضا کرتا ہے ، اس لئے کہ اگر صرف خدا کا اثبات ہوتا تو اس میں ( دوسرے خدا کی ) شرکت کا احتمال ہوسکتا تھا ‘‘ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۱۰۹) ایک اور موقع پر فرماتے ہیں :
جان لوکہ توحید رسولوں کی بنیادی دعوت ہے ، یہ راستہ کی پہلی منزل ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کے ذریعہ سالک اللہ کے مقام تک پہنچ سکتا ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نوح نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، ( الاعراف : ۵۹) اور حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کی عبادت کرو کہ اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ، (الاعراف : ۶۵)نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اورغیر اللہ کی عبادت سے بچو ، (النحل: ۳۶) اسی لئے مکلف پر جو پہلا فریضہ عائد ہوتا ہے ، وہ یہی ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ : ۷۷)
قرآن و حدیث کی اگر تمام تعلیمات کو جمع کیا جائے تو اس کا غالب حصہ عقیدۂ توحید کی تعلیم اور ہر قسم کے شرک کی تردید سے جڑا ہوا ہے ، مسلمان جس حال میں بھی رہے اور جیسی کچھ آزمائش سے گذرے ؛ لیکن اس کی زبان پر ہمیشہ یہی کلمہ رہے :
اِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اﷲِ وَلَآ اُشْرِکَ بِہٖ ، إِلَیْہِ اَدْعُوْا وَاِلَیْہِ مَآبِ ۔ (الرعد : ۳۶)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ، میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف ہماری واپسی ہے ۔
مسلمانوں نے سب کچھ برداشت کیا ؛ لیکن عقیدۂ توحید کے بارے میں کبھی جانتے بوجھتے مداہنت گوارا نہیں کیا ، جب صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حبش کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں انھیں امن و سکون نصیب ہوا تو اہل مکہ کو یہ بات گوارا نہیں ہوئی اور انھوںنے ان کے پاس اپنے نمائندے بھیجے ، حبش کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو بھی طلب کیا اور ان کی مخالفت میں آنے والے وفد کو بھی ، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے ایک مؤثر تقریر فرمائی اور اس میں ان خوشگوار تبدیلیوں کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر اسلام ﷺکی بعثت سے عرب کے جاہلی معاشرہ میں آئی ، جس نے کانٹوں کو پھول اور ذروں کو آفتاب بنادیا تھا ، نجاشی بہت متاثر ہوئے ، مسلمانوں کو قیام کی اجازت دی اور مخالفین کے لائے ہوئے تحائف بھی واپس کردیئے ، اہل مکہ نے دوبارہ آپس میں مشورہ کیا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ، اور محمد ﷺ اللہ کا بندہ ، تو کل ہم بادشاہ کے سامنے رکھیں گے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسی بات کہتے ہیں ، جو آپ کے لئے بہت ہی ناگوار خاطر ہوگی ؛ چنانچہ وہ اس شکایت کو لے کر پہنچے ، مسلمانوں کے وفد کی دوبارہ طلبی ہوئی ، صحابہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق سوال کا ہمیں کیا جواب دینا چاہئے ، حضرت جعفرؓنے فرمایا : خدا کی قسم ہم وہی کہیں گے ، جو ہمارے رسول ﷺ نے ہمیں بتایا ہے ، چاہے اس کی وجہ سے جوبھی صورت حال پیش آئے ، انھوںنے پوری قوت کے ساتھ نجاشی کے سامنے یہ بات کہی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، خدا کے بندے اورپیغمبر ہیں ، نجاشی خود صاحب علم تھے ، حضرت جعفرؓ کی صدق کلامی اور صاف گوئی نے ان کو بے حد متاثر کیا اور انھوںنے ایک تنکا اُٹھاکر کہا کہ جتنی بات اِنھوںنے کہی ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اُس سے اِس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہے ۔ (مسند احمد : ۱؍ ۲۰۲، حدیث نمبر : ۱۷۴۰ )
غرض کہ ایسے نازک حالات میں بھی صحابہ نے نہ صرف توحید پر استقامت اختیار کی ؛ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سکوت اختیار کرنے یا اَنجان بن جانے کا راستہ بھی اختیار نہیں کیا ، مسلمان فکری پستی کی اِس سطح پر آجائے کہ شرکِ صریح میں مبتلا ہوجائے ، یہ ایک ناقابل تصور بات ہے ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، اسود بن عبد المطلب اوراُمیہ بن خلف وغیرہ حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوںنے آپ کے سامنے دو تجویزیں رکھیں ؛ تاکہ آپسی جھگڑا ختم ہوجائے ، ایک یہ کہ ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کریں اور آپ بھی ہمارے بتوں کی پوجا کرلیجئے ، یا مدت متعین کرلیں کہ ایک سال آپ کے خدا کی عبادت ہو ، ہم اور آپ سب مل کر آپ کے خدا کی عبادت کریں اور ایک سال ہماری مورتیوں کی پوجا ہو اور ہم اور آپ مل کر پوجا کریں ، اسی موقع پر سورۂ کافرون نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ نہ ہم تمہارے معبودوں کی عبادت کرسکتے ہیں اور نہ تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ تنہا ہمارے خدا کی عبادت کرو ، تواس طرح عبادت میں تو اشتراک ممکن نہیں کہ ہم اللہ کو ایک بھی مانیں اور اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرائیں ؛ لیکن قابل عمل صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مذہب پر عمل کریں ، ہماری طرف سے کوئی چھیڑ خوانی نہیں ہوگی ، اور ہمیں ہمارے مذہب پر عمل کرنے دیں۔ (تفسیر قرطبی : ۲۰؍۲۲۵- ۲۲۷۲)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی ایک شکل تو یہ ہے کہ آدمی زبان سے کسی کو شریک ٹھہرائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعہ اس کا اظہار کرے ، جیسے کوئی شخص غیراللہ کو سجدہ کرے ، غیر اللہ کے نام سے جانور ذبح کرے ، زبان سے کچھ نہ کہے ؛ لیکن غیر اللہ کے سامنے ایسا عمل کرے جس کو پوجا سمجھا جاتا ہو ، یہ بھی شرک ہے ، صحابہ نے آپ ﷺ سے سجدہکرنے کی اجازت چاہی ؛ لیکن آپ نے اس کی اجازت نہیں دی ، ( ابوداؤد ، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ، حدیث نمبر : ۲۱۴۰) صحابہ نے دوسروں کے سامنے جھکنے کی اجازت طلب کی ؛ لیکن آپ نے اس کو بھی گوارا نہیں فرمایا ، ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر : ۲۷۲۸) جس وقت دوسری قومیں سورج کی پوجا کیا کرتی تھیں ، آپ نے ان اوقات میں نماز پڑھنے کو منع فرمادیا ، (بخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ ، حدیث نمبر : ۵۸۱) شریعت کے اسی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے شعلہ پھینکتے ہوئے چراغ کے سامنے نماز پڑھنے کو منع کیا ؛ کیوںکہ اس میں آتش پرستوں کی مشابہت ہے ، (المحیط البرہانی : ۵؍۳۰۸) نمازی اس طرح نماز پڑھے کہ بالکل اس کے سامنے کسی شخص کا چہرہ ہو ، اس کو بھی روکا گیا (المحیط البرہانی : ۵؍۳۰۸) کیوںکہ اس میں شرک کا ایہام ہے ، اسی مصلحت کے تحت تصویر کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے کو منع فرمایا گیا ہے ، (حوالۂ سابق: ۵؍۳۰۹) کہ صاحب تصویر کی عبادت کی شکل نہ محسوس ہو ۔
دوسرے مذاہب کے شعائر کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ؛ چنانچہ مجوسی ایک خاص قسم کی ٹوپی پہنتے تھے ، اس ٹوپی سے منع کیا گیا ، برہمنوں کی طرح کمر میں زنار باندھنے سے منع کیا گیا ، (فتاویٰ ہندیہ : ۲؍ ۲۷۶) آتش پرستوں کے یہاں مذہبی تقریب کی حیثیت سے ’ نو روز ‘ منایا جاتا تھا ، اس میں شرکت کو بعض فقہاء نے کفر قرار دیا ہے ، (مالا بد منہ : ۱۳۸) ممتاز فقیہ اور مصلح حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں :
جو چیزیں دوسری قوموں کی مذہبی وضع ہیں ، ان کا اختیار کرنا کفر ہے ، جیسے صلیب لٹکانا ، سرپر چوٹی رکھنا ، جنیو باندھنا ، یا ’’ جے ‘‘ پکارنا وغیرہ ۔ (حیات المسلمین : ۲۲۴)
فقہاء نے جن صورتوں کا ذکر کیا ہے ، مورتی بیٹھانا اور اس کی تعظیم میں وہاں بیٹھنا ، یااس پر پھول چڑھانا اس سے کہیں بڑھا ہوا عمل ہے ، اور اسلامی شخصیتوں اور مقدس هستیوں كی خیالی مورتی بنا كر مشركانه عمل كرنا تو اور بھی بڑا گناه هے؛ اس لئے جہاں بھی جو لوگ اپنی نادانی ، ناسمجھی اور غلط رہنمائی کی وجہ سے اس کے مرتکب ہوئے ہیں ، ان کو توبہ کرنی چاہئے ، استغفار کرنا چاہئے اور عزم مصمم کرنا چاہئے کہ ہم آئندہ ہر قیمت پر ایسے عمل سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے ، دنیا کے چند سکوں کے لئے ایمان کھودینا پانا نہیں ہے کھونا ہے ، اور دنیا کی متاع حقیر کے لئے آخرت کا سودا کرلینا فائدہ نہیں ہے نقصان عظیم ہے ۔
وما عند اﷲ خیر من اللھو ومن التجارۃ واﷲ خیر الرازقین .

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے