ہر شخص مجاہد اردو ہونا چاہیے- گھروں اور محفلوں میں اردو الفاظ کا زیادہ استعمال کیا جائے

ہر شخص مجاہد اردو ہونا چاہیے- گھروں اور محفلوں میں اردو الفاظ کا زیادہ استعمال کیا جائے

ہر شخص مجاہد اردو ہونا چاہیے- گھروں اور محفلوں میں اردو الفاظ کا زیادہ استعمال کیا جائے
سیل فون پر سہولت کے باوجوداردو اخبارات خرید کر پڑھیں” بزم محبان اردو” کا قیام _محمد فاروق ظفر فاروقی اور حسام الدین ریاض کا خطاب
"بزم محبان اردو” کا قیام- محمد فاروق ‘ظفر فاروقی اور حسام الدین ریاض کا خطاب

حیدرآباد 9- جولائی – نئی نسل اردو زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے اردو کے عدم چلن اور لکھنے پڑھنے سے گریز کے لیے حکومتیں نہیں بلکہ اردو والے ہی ذمہ دار ہیں ایک زمانہ تھا جبکہ حیدرآباد کن کو ادبی محفلوں کا شہر کہا جاتا تھا آج حیدرآباد دکن دعوتوں کے نام سے سرخیوں میں ہے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو کا مجاہد بنے اور اپنے محلے میں اور اپنے گھر میں اردو کی نہ صرف محفل منعقد کرے بلکہ کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو اس محفل میں شرکت کی بطور خاص دعوت دیتے ہوئے انہیں اردو زبان سکھائیں, لکھائیں اور پڑھائیں ان خیالات کا اظہار صدر بزم محبان اردو حیدرآباد جناب محمد فاروق نے کیا جو بزم کی افتتاحی تقریب سے مخاطب تھے جناب محمد فاروق نے اعلان کیا کہ بزم محبان اردو حیدرآباد کی جانب سے ہر ماہ پہلے اور تیسرے اتوار کو اعظم فنکشن ہال مغل پورہ میں 8 تا 10 بجے شب "محفل اردو ” منعقد کی جائے گی اس محفل سے زیادہ سے زیادہ طلبہ اور نوجوانوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں اردو لکھنے پڑھنے کے علاوہ بول چال میں اردو کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے ترغیب دلائی جائے گی ممتاز و معروف سینیئر شاعر جناب ظفر فاروقی نے بزم محبان اردو کے قیام کے اعلان پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی محفلیں وقت کا تقاضہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عصری مدارس میں اردو تعلیم کا انتظام نہ ہونے اور گھروں میں بول چال میں اردو الفاظ کا استعمال کم ہونے کے باعث بچے اور نوجوان اردو الفاظ کے استعمال سے ناواقف ہیں ہمارے بچے دوران گفتگو بھی زیادہ سے زیادہ انگریزی زبان کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جناب ظفر فاروقی نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے منظم جدوجہد وقت کا تقاضہ ہے انہوں نے کہا کہ بعض اقلیتی کالجوں میں بھی اردو کی جائیدادوں کو برخاست کر دیا گیا ہے جو اردو والوں کے لیے افسوس کا مقام ہے انہوں نے کہا کہ اقلیتی مدارس اور کالجس میں بھی اردو بحیثیت دوسری سرکاری زبان پڑھائی جا رہی ہے یا نہیں اس کا بھی جائزہ لینا بے حد ضروری ہےممتاز ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے بزم محبان اردو کے قیام کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدارتی خطاب میں کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ اردو اساتذہ’ شعرا ‘ادیب اور اردو کو چاہنے والے حضرات و خواتین بھی اردو زبان کی تعریف کرتے ہیں لیکن اردو اخبار خرید کر نہیں پڑھتے دیکھا یہ جا رہا ہے کہ سیل فون پر اخبارات کی پی ڈی ایف فائل سے ہی اخبار بینی کو ترجیح دی جا رہی ہے محمد حسام الدین ریاض نے مزید کہا کہ اگر ہمیں سیل فون پر اخبارات کی سہولت ہو تب بھی اردو والوں کو چاہیے کہ وہ اردو کا ایک اخبار ضرور خریدیں اور اپنے اپنے گھروں میں زیادہ سے زیادہ اردو زبان کے ماحول کو فروغ دیں انہوں نے اس موقع پر اساتذہ’ پروفیسرس ,لیکچررس سے خواہش بھی کی کہ وہ موجودہ ایس آئی آر کے ماحول میں عوام کی ہر طرح سے بھرپور مدد کریں ایس آئی آر کا فارم کس طرح سے مکمل طور پر صحیح پر کیا جانا چاہیے اسے نہ صرف خودسیکھیں بلکہ اپنے فارم صحیح بھرنے کے بعد اپنے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کو ایس ائی آر فارم بھرنے میں مکمل تعاون دیں اور ہو سکے تو بی ایل اوز کی مدد سے اپنے اپنے محلے میں ایک فری ہیلپ ڈیسک قائم کرتے ہوئے ایس آئی آر کا فارم بھرنے کا انتظام کریں محفل اردو کا اغاز موسی ہاشمی کی قرات کلام پاک سے ہوا اس موقع پر جناب محمد حسین قادری عارف ، محمد حسین ہاشمی، ابراہیم ہاشمی، عمر فاروق، ابراہیم شریف اور دیگر اصحاب نے بھی مخاطب کیا جناب ظفر فاروقی کی دعا پر محفل کا اختتام عمل میں آیا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے