دین داری کے معیار کا فرق

دین داری کے معیار کا فرق

دین داری کے معیار کا فرق
شیخ طریقت رہبرملت امیرشریعت حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم العالیہ
جمع و تحریر :۔ استاذالاساتذہ حضرت مولانا محمد موسی خان ندوی صاحب دامت برکاتہم

اللہ کے دین کو اپنانے اور قرآن و سنت پر عمل کرنے کے معیارات کے اعتبار سے لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے، ان میں سب سے پہلا درجہ جس پر نجات موقوف ہے جس کو بزرگوں کے سلسلہ کی تعلیمات کی اصطلاح میں مقام صالحیت اور توحید آثاری کہتے ہیں، یہ مقام جس کو حاصل ہو جائے اس کو صالح کہتے ہیں، اور دوسرا درجہ شہادت، اور اس کے حاصل کرنے والے کو شہید کہا جاتا ہے، تیسرے درجہ کو صد یقیت اور اس مقام کے حاصل کرنے والے کو صدیق کہا جاتا ہے، چوتھا درجہ نبوت کا ہے، اور اس مقام کی حامل شخصیت کو نبی و رسول کہا جاتا ہے، ان چاروں درجات کا تذکرہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کیا ہے ، وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ ( النساء 69) اور جو کوئی اللہ و رسول کی پیروی کریں گے تو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، اور وہ ہیں انبیاء کرام میقین شہداء و صالحین ہیں، آیت میں اللہ کے انعام یافتہ بندوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، آیت میں ترتیب عروجی ہے، یعنی پہلے نبیوں کا مقام پھر ان کے بعد صد یقین پھر شہداء پھر صالحین کا تذکرہ کیا گیا ہے، ایک اور ترتیب ہے نزولی، یعنی پہلے صالحین پھر شہداء پھر صد یقین پھر انبیاء، اس میں جو نبوت والا درجہ ہے اس میں داخلہ بند ہے، اور صالحیت والا جو درجہ ہے اس میں داخلہ لینا ضروری ہے، اور درمیان میں جو درجے ہیں اس میں معیار کا فرق ہوتا ہے۔

آیت میں بحیثیت مجموعی بتلایا گیا ہے کہ کرنے کا کام بس ایک ہی ہے، اور وہ ہے اللہ و رسول کی اطاعت و فرمابرداری، البتہ جماعتوں اور درجات کا فرق معیار کے اعتبار سے ہے، کلاس میں نصاب سارے طلباء کے لئے پڑھنے کا ایک ہی ہوتا ہے، مگر امتحان میں پاس ہونے والے طلباء میں معیار کا فرق ہوتا ہے، کوئی اول نمبر سے پاس ہوتا ہے پھر اول میں بھی نمبرات کے اعتبار سے تفاوت ہوتا ہے، جس

کے جتنے زیادہ نمبر ہوتے ہیں، وہ اول درجہ میں اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے، ان میں سب سے زیادہ جس کے نمبرات ہوتے ہیں وہ ٹاپر ہے ( مدارس کی اصطلاح میں اس کو اول امتیازی کہتے ہیں ) ایسے ہی دوسرے اور تیسرے نمبر سے کامیاب ہونے والوں میں بھی نمبرات کے اعتبار سے تفاوت ہوتا ہے، اسی طرح تا قیامت اتباع و اطاعت کا اعلی ترین معیار تو صرف حضرت سیدنا ابو بکر صدیق کا ہے، اس لئے ان کو صدیق اکبر کہتے ہیں۔

ایک ہے بنی ہوئی چیز اور ایک ہے بنی ہوئی چیز پر آنے والے حالات کو حل کرنا ، ہر چیز وجود سے پہلے بنے کی محتاج تھی، ہم بھی وجود کے محتاج تھے، اس کے لیے ہم جان کے محتاج تھے، اور یہ جان بھی عجیب چیز ہے، دکھائی نہیں دیتی مگر ( جب کسی جاندار کو نیم جان حالت میں دیکھتے ہیں تو ) لوگ کہتے ہیں کہ اس میں جان ہے، آثار کو دیکھ کر ایسا کہتے ہیں، مثلا آنکھ کان وغیرہ میں حس و حرکت کو دیکھ کر کہتے ہیں۔

ایک چیز نہیں تھی وہ ہونے میں خدا کی محتاج تھی اس نے پیدا کیا تو وہی مالک بھی ہوا اس کے استعمال میں اس کی مرضی ہونا چاہئیے ، جب یہ بات حاصل ہو گئی تو سمجھنا چاہئیے کہ دین کی پہلی سیڑھی پر آپ چڑھ گئے، مگر بہت سارے مسلمان تو وہ ہیں جو شاید ابھی پہلی سیڑھی پر بھی قدم نہیں رکھے ہوں گے، یہ چیز زبان کے اقرار اور دل کے اعتقاد سے آگے بڑھ کر اب عمل میں اس کو لانا ہے کہ ہر چیز میں اس کی مرضی پیش نظر رکھے ، مگر لوگوں کے عمومی احوال کو دیکھ کر حضرت شاہ صوفی غلام محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جہاں تک ہماری رسائی نہیں ہوتی وہاں تو ہم کہدیتے ہیں کہ یہ اللہ کی ہے، مثلاً سورج ، چاند اور ستارے وغیرہ ، اور جہاں تک ہماری رسائی ہے وہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ میرا ہے، مثلاً روپیہ اور پیسہ حالاں کہ ہر چیز اللہ ہی کی ہے، اور ہر چیز میں انسان اللہ کا محتاج ہے حتی کہ لفظ ”اللہ زبان سے ادا کرنے میں بھی اللہ ہی کا محتاج ہے۔

دنیا میں چونکہ ضرورت پڑتی ہے چیزوں کو میرا کہنے کی ، اس لئے کہہ سکتے ہیں لیکن وہاں بھی ایسا ہی کہنا چاہیے جیسا کہ کرایہ کے مکان کو میرا کہتے ہیں، زبان سے اس کی میرا مکان تو کہتا ہے، مگر ذاتی اور حقیقی مکان مراد نہیں ہوتا بلکہ تعارف کے طور پر کہتا ہے، اس لئے مالک مکان کے سامنے یہی جملہ سنبھل کر کہتا ہے، اسی طرح کسی بھی چیز کو میری کہنا مگر اس استحضار کے ساتھ کہ اس کے مالک حقیقی اللہ ہیں، یہی وجہ مالک ہے کہ کوئی دوست مکان میں تھوڑی سی تبدیلی یا تغیر کا مشورہ دے تو انکار کر دیتا ہے، اور یہ کہتا ہے یہ میرا مکان نہیں ہے اس میں تصرف کا مجھے حق حاصل نہیں ہے، ہمارا اعتقاد ہے کہ خالق و مالک حقیقی حق تعالی ہیں، مگر جو چیز میں ہمارے پاس ان کی دکھائی دے رہی ہیں ان کو ان کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے لگ جائیں تو سمجھئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکے ہیں ، اب خود سوچیں کہ ہم کون کونسی چیزوں کا استعمال کس کس طرح کر رہے ہیں؟ اس کا شعور و استحضار نہ ہونے کی وجہ سے مال کا استعمال اپنی مرضیکے مطابق کر رہے ہیں، اور متعلقین کی مرضی پوچھ کر معلوم کر کے اس کے مطابق استعمال کر رہے ہیں، شادی اور دیگر تقریبات میں بینڈ باجہ، پھول، ویڈیو گرافی ، تصویر کشی ، صرف چند گھنٹوں کے لئیے انتہائی مہنگے شادی خانے، اور متنوع قسم کے کھانوں میں پیسوں کا بے دریغ استعمال، جسم اور جسم میں پائی جانے والی چیزوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔

ان تین مرحلوں سے گزرنے کے بعد دین کی پہلی سیڑھی پر چڑھ سکتے ہیں، جس کو صالحیت کہتے ہیں، اور یہ درجہ جس کو حاصل ہوتا ہے اس کو صالح کہتے ہیں ، ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرما یا والَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُدْخِلَتَهُمْ فِي الصَّلِحِينَ ( العنکبوت (7) جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ہم ضرور ان کو نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان میں یا کائنات کی کسی بھی چیز میں جو بھی حرکت نظر آرہی ہے وہ اللہ کا فعل ہے، جس طرح خالق حق تعالی ہیں، اور خلق ( پیدا کرنا ) ان کا وصف ہے، اور اس میں وہ یکتا ہیں ، اسی طرح فعل میں بھی وہی یکتا ہیں، اصلی، از لی اور حقیقی فاعل وہی ہیں۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خلق جس طرح ان کے قبضہ میں ہے، اسی طرح فعل بھی ان ہی کے قبضہ میں ہے ، حرکت و فعل ان ہی کی جانب سے ہے، چاہے صحیح ہو یا غلط ، مسجد جانا ہو یا سیندھی خانہ جہاں چاہے جاسکنے کا اختیار اللہ نے بندہ کو دیا ہے، مگر یہ اختیار بھی برائے اختبار ( امتحان ) ہے، مسجد جانے کے لئے پیروں اور چلنے کی قوت کا استعمال کیا تو اختیار کا صیح استعمال ہوا ہے، اس پر انعام ہے، اور قوت کا استعمال اگر گناہ میں کیا تو یہ اختیار کا غلط استعمال ہے، اور گناہ ہے، اس پر سزا ہوگی اللہ کے پاس، اس کو اصطلاح میں ” کسب“ کہتے ہیں، فعل کے خلق کی نسبت اللہ کی جانب اور کسب کی نسبت بندہ کی جانب ہوتی ہے، اس اعتبار سے فاعل اللہ ہیں اور کا سب بندہ ہے۔

ہماری زندگی میں آنے والے مختلف احوال کامیابی و نا کامی ، عزت و ذلت، فراخی و تنگی اور صحت و مرض وغیرہ ان تمام میں بھی فعل کی نسبت اللہ ہی کی جانب ہونا چاہئے ، اس کے نتیجہ میں ان تمام حالات کو جھیلنا آسان ہو جاتا ہے، جیسے اندھیرے میں اچانک غیر متوقع طور پر کسی کو اس کا محبوب یا دوست کچھ کے لگائے تو پہلے تکلیف سے چیچنا اور چلاتا ہے جب لائیٹ کھلی اور روشنی ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ تو میرا دوست و محبوب ہے، تو کہتا ہے کہ ارے تم ہو ، اس کے بعد اس کو دبوچ لیتا ہے۔

اسی طرح پریشانیوں میں تکلیف ضرور ہوتی ہے، مگر جب اللہ کے فاعل حقیقی ہونے کے استحضار کے ساتھ تکلیفوں کو اللہ کی جانب سے سمجھتا ہے تو یہ تکلیفیں آسان ہو جاتی ہیں بلکہ ایک طرح سے مزہ آنے لگتا ہے، اس لئے اس علم و استحضار کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی زندگی جتنی اچھی اور مزہ کی ہے، اتنی اچھی کسی کی زندگی نہیں ہے ، لوگ اچھی زندگی کا تعلق باہر کی چیزوں سے سمجھتے ہیں، حالاں کہ ایسا نہیں

ہے، سکون کا تعلق اندر پائے جانے والے خدا پر اعتماد سے ہے، جیسے دو آدمی ریل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں، ایک آدمی ٹکٹ لئے بغیر ریل میں سوار ہو گیا اور اسے کسی کے ڈبے میں بیٹھ گیا جہاں آرام و راحت کے سارے اسباب میسر ہوتے ہیں لیکن ہر لمحہ دھڑکن لگی ہوئی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں کب ٹی ٹی آ جائے اور ٹکٹ چیک کر لے ایک دوسرا آدمی ہے جو ٹکٹ لے کر ریل میں سوار ہوا، اور جرنل ڈبے میں بیٹھ گیا جہاں راحت کے اسباب میسر نہیں ہیں حتی کہ بیٹھنے کے لئے صحیح جگہ بھی نہیں ہے، مگر سکون سے بیٹھا ہوا ہے، اور اونگھ رہا ہے، حالات کے سدھار کے واسطے ضروری ہے کہ جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اس سے اپنا تعلق صحیح کر لو، اس لئے بزرگوں نے فرمایا کہ اعمالکم عمالكم تمہارے اعمال ہی تمہارے حکم راں ہیں ) جیسے تمہارے ارماں ہوں گے ویسے اللہ کی جانب سے فیصلے ہوں گے اور تمہارے حالات ہوں گے، اللہ سب کی ضرورت کو پوری کرتے ہیں، بلکہ انسانوں کے مقابلہ میں بعض جانور ایسے ہیں جو انسانوں سے زیادہ غذا کھاتے ہیں، اللہ ان کی بھی ضرورت پوری کر رہے ہیں، حضرت سید نا یونس مچھلی کے پیٹ میں رہ کر بھی خدا کو نہیں بھولے، اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے فرما یالا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (الأنبیاء 87) اے اللہ! آپ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ہے ، آپ کی ذات پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔

فاعل حقیقی اللہ کے ہونے کا یقین ہو جائے تو غلطی پر تو بہ تو کرنا ہے ہی، مگر شعور ہو تو یہ بھی اللہ کے سامنے کہنا ہے کہ اے اللہ ! میں نے تیرے دیئے ہوئے فعل کا غلط استعمال کیا ہے ، تو معاف فرمادے،

یہ اعلی درجہ کی توبہ ہے، اور زیادہ تر غلطی فعل کا رخ غلط رہنے کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔

فعل کے غلط استعمال کی وجہ سے اس وقت ہم مسلمان دو طرح کے جرم کر رہے ہیں، ایک تو اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں، زندگی میں اللہ کے کتنے احکام کو ہم چھوڑ رہے ہیں، اسلام نے عدل کا حکم دیا ہے اور ہم ظلم کر رہے ہیں ، اسلام سچائی کا حکم دیا ہے اور ہماری زندگی میں جھوٹ ہے، اسلام نے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کا حکم دیا ہے اور ہم حسد کا شکار ہیں، اور دوسری غلطی یہ کر رہے ہیں کہ ہم اسلام کے دشمنوں کو اسلام کو برا کہنے کا موقعہ دے رہے ہیں ، مثلاً آپسی لڑائی، بیویوں پر ظلم، پڑوس کے ساتھ بدسلوکی ، اور کاروبار میں دھو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھو مسلمان ایسا ہی ہوتا ہے، اور اسلام ایسا ہی مذہب ہے، یہ کوئی چھوٹا نہیں بہت بڑا جرم ہے اس لئے اپنی زندگیوں کو بدلنا ضروری ہے، اور اپنے طرز زندگی کو اچھا بنا کر عملی زبان سے یہ بولنا کہ دنیا کی سب سے اچھی قوم مسلمان ہوتی ہے، ہمارے بزرگوں کے پاس لوگ جو کھنچے چلے آتے تھے اس کی وجہ یہی تو تھی، اسی وجہ سے انھوں نے دین کو ساری دنیا میں پھیلا یا عالمی اعتبار سے دنیا کے خراب حالات کو سدھارنے کی یہ ایک قطعی اور حتمی ( یقینی ) تدبیر ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے