تعزیت اور دعائے مغفرت کے شروعی حدود

تعزیت اور دعائے مغفرت کے شروعی حدود

تعزیت اور دعائے مغفرت کے شروعی حدود

ازقلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک

تعزیت اسلام کے ان جلیل القدر آداب میں سے ہے جنہیں شریعتِ مطہرہ نے محض ایک معاشرتی روایت یا رسمی اظہارِ افسوس کی حیثیت سے نہیں، بلکہ مواساتِ ایمانی، غم گساری، صبر و رضا کی تلقین اور اخوتِ اسلامی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر مشروع فرمایا ہے۔ جب کسی گھر کا چراغ گل ہو جائے، کسی خاندان کا سربراہ دنیا سے رخصت ہو جائے، یا کسی انسان پر موت کی صورت میں عظیم مصیبت نازل ہو، تو شریعت کا تقاضا یہ نہیں کہ اسے اس کے غم کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا جائے، بلکہ اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے پاس جائیں، اس کے غم میں شریک ہوں، اسے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہنے کی تلقین کریں اور اس کے دل میں صبر، احتساب اور اجرِ آخرت کی امید پیدا کریں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۝ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ (البقرۃ: 155-157)

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ مصیبت کو صبر، استرجاع اور رضا بالقضاء کی تعلیم دی ہے، اور یہی تعزیت کی اصل روح ہے کہ غم زدہ انسان کو جزع و فزع سے نکال کر صبر و یقین کی منزل تک پہنچایا جائے۔ اسی لیے امام قرطبی لکھتے ہیں کہ ان آیات میں مصیبت کے وقت صبر کی تلقین اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی تعلیم دی گئی ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اہلِ مصیبت کی دلجوئی قائم ہوتی ہے۔ (الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ البقرۃ: 155-157)
رسول اللہ ﷺ نے تعزیت کو محض اخلاقی نصیحت تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملاً اس کی تعلیم دی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے اپنے بچے کی وفات کی اطلاع بھیجی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1284؛ صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث: 923)

یہ مختصر حدیث تعزیت کے پورے فلسفہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں بندۂ مومن کو یاد دلایا گیا کہ حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، عطا بھی اسی کی ہے اور واپسی بھی اسی کی طرف ہے؛ موت کوئی حادثۂ اتفاقیہ نہیں بلکہ تقدیرِ الٰہی کا اٹل فیصلہ ہے، لہٰذا ایسے موقع پر بےصبری، شکوہ اور اعتراض کے بجائے صبر، احتساب اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید اختیار کرنا ہی مومن کی شان ہے۔
لغتِ عرب میں تعزیت مادۂ (ع ز ي) سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں: صبر دلانا، غم میں تسلی دینا، حوصلہ دینا اور مصیبت پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا۔ (لسان العرب، مادہ: عزی؛ القاموس المحيط، مادہ: عزی)
اصطلاحِ فقہ میں تعزیت سے مراد ایسے کلمات کہنا اور ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے جس سے اہلِ مصیبت کے غم میں تخفیف ہو، انہیں صبر کی تلقین ہو اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجرِ آخرت کی امید پیدا ہو۔ امام نووی فرماتے ہیں:التعزية هي التصبير، والحمل على الصبر، والوعد بالأجر، والدعاء للميت وللمصاب.» (المجموع شرح المهذب، 5/306)
«لأن فيها تسلية أهل المصيبة، والأمر بالصبر، وذلك مندوب إليه شرعًا.» (بدائع الصنائع، 1/320)
ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ تعزیت کا اصل مقصد میت نہیں بلکہ اہلِ میت ہیں، کیونکہ میت اپنے عمل کے ساتھ اپنے رب کے حضور پہنچ چکی ہوتی ہے، جبکہ اہلِ خانہ کو صبر، تسلی اور دینی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مصیبت کے ابتدائی لمحات انسانی زندگی کے نہایت نازک لمحات ہوتے ہیں۔ غم کی شدت بعض اوقات انسان کے صبر و تحمل کو متزلزل کر دیتی ہے، اس کی زبان سے ایسے جملے ادا ہو جاتے ہیں جو تقدیرِ الٰہی پر شکوہ، ناامیدی بلکہ بعض صورتوں میں کفریہ مفہوم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ نوحہ، چیخ و پکار، سینہ کوبی اور دیگر جاہلی رسوم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر تعزیت کرنے والے کی ذمہ داری صرف اظہارِ افسوس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اہلِ مصیبت کا خیرخواہ، مربی اور ناصح بن کر انہیں صبر، رضا، توکل اور شرعی حدود کی طرف متوجہ کرے، تاکہ غم کا یہ لمحہ ان کے ایمان کے لیے آزمائش کے بجائے اجر و ثواب کا ذریعہ بن جائے۔ یہی تعزیت کی حقیقی روح ہے، اور اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے تعزیت کے موقع پر ایسے کلمات کی تعلیم دی جو دلوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتے ہیں، نہ کہ انہیں شکوہ و شکایت کے راستے پر ڈالتے ہیں۔
تعزیت کی مشروعیت پر امت کا اتفاق ہے، البتہ فقہاء نے اس کے حکم کو استحباب سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اس میں مسلمان کی دلجوئی، صبر کی تلقین، اخوتِ اسلامی کا اظہار اور مصیبت زدہ انسان کی اعانت مقصود ہوتی ہے۔
فقہاء بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں کہ تعزیت اس لیے مشروع کی گئی ہے تاکہ اہلِ مصیبت کے غم میں کمی آئے، ان کے دلوں کو سکون ملے اور انہیں صبر کی تلقین کی جائے۔ (رد المحتار، 2/242)
اسی طرح امام کاسانی فرماتے ہیں:
المقصود من التعزية تسلية أهل المصيبة، والدعاء لهم بالصبر. یعنی تعزیت کا مقصد اہلِ مصیبت کو تسلی دینا اور ان کے لیے صبر کی دعا کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع، 1/320)

ان تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیت ایک مستقل عبادت یا محض رسمی ملاقات نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد مصیبت زدہ انسان کے قلب کو سہارا دینا اور اسے حدودِ شریعت کے اندر رہتے ہوئے صبر و رضا کی راہ پر قائم رکھنا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، اور اسی اصول پر اس پورے مضمون کی آئندہ تمام بحث قائم ہوگی، وہ یہ کہ تعزیت اور دعائے مغفرت دو الگ الگ شرعی احکام ہیں۔ بہت سے لوگ ان دونوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

تعزیت کا تعلق زندہ افراد سے ہے، یعنی اہلِ میت کے غم میں شریک ہونا، انہیں تسلی دینا، صبر کی تلقین کرنا اور ان کی دلجوئی کرنا؛ جبکہ دعائے مغفرت کا تعلق خود میت سے ہے، اور یہ ایک ایسی دعا ہے جس کی مشروعیت یا عدمِ مشروعیت کا دار و مدار میت کے شرعی حکم پر ہے۔

اسی بنا پر ہر اس شخص کی تعزیت ممکن ہے جس کے اہلِ خانہ کے ساتھ شرعی حدود کے اندر اظہارِ ہمدردی جائز ہو، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر ایسے شخص کے لیے دعائے مغفرت بھی جائز ہو۔غیر مسلم، مرتد، منافق، مبتدع، مضل اور ان اشخاص کے احکام کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت کیا ہے
چنانچہ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت کی نظر میں وفات پانے والے افراد ایک ہی درجہ کے نہیں، بلکہ ان کے دینی احوال کے اعتبار سے ان کے احکام بھی مختلف ہیں۔ اصولی طور پر انہیں چند اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

اول: وہ مسلمان جو عقیدۂ صحیحہ پر قائم تھا اور بظاہر اسلام پر وفات پائی۔

دوم: وہ مسلمان جو گناہ گار اور فاسق تھا، لیکن اس کا فسق اسے دائرۂ اسلام سے خارج کرنے والا نہ تھا۔

سوم: وہ شخص جو اہلِ بدعت میں سے تھا، لیکن اس کی بدعت ایسی نہ تھی جو موجبِ کفر ہو۔

چہارم: وہ شخص جس کے افکار و نظریات کے متعلق ائمۂ اہلِ سنت نے تضلیل، تبديع یا امت کو اس سے بچنے کی تنبیہ کی ہو، کیونکہ وہ اپنی دعوت و فکر کے ذریعے لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتا تھا۔

پنجم: وہ شخص جس پر شرعی دلائل کی بنا پر معتبر اہلِ علم نے کفر یا ارتداد کا حکم لگایا ہو۔

ششم: غیر مسلم، خواہ وہ مشرک ہو، یہودی ہو، نصرانی ہو یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ تمام اقسام شرعی اعتبار سے ایک حکم میں داخل نہیں ہیں، اس لیے ان کے متعلق تعزیت، دعائے مغفرت، اظہارِ افسوس اور دیگر متعلقہ احکام میں بھی فرق ہوگا۔ یہی فرق قرآنِ مجید، سنتِ نبوی ﷺ اور ائمۂ امت کی تصریحات سے ثابت ہے،

سب سے پہلے مسلمان کی تعزیت کا حکم سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی اصل ہے، اور دیگر تمام احکام اسی پر قیاس یا اسی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ اگر وفات پانے والا مسلمان ہو اور بظاہر اسلام پر اس کا خاتمہ ہوا ہو تو اس کے اہلِ خانہ کی تعزیت کرنا مستحب اور باعثِ اجر عمل ہے۔ اس میں نہ صرف اہلِ میت کی دلجوئی مقصود ہوتی ہے بلکہ انہیں صبر، رضا اور ثوابِ آخرت کی طرف متوجہ کرنا بھی مطلوب ہوتا ہے۔ (المجموع شرح المهذب، 5/306؛ بدائع الصنائع، 1/320؛ رد المحتار، 2/242)

تعزیت کے لیے شریعت نے کوئی ایک مخصوص عبارت لازم نہیں کی، بلکہ ہر وہ کلام جو اہلِ مصیبت کے لیے تسلی، صبر کی تلقین اور خیر خواہی پر مشتمل ہو، مشروع ہے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ سے منقول الفاظ سب سے افضل اور جامع ہیں:
«إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1284؛ صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث: 923) اسی طرح فقہاء نے مسلمان کی تعزیت کے لیے یہ دعا بھی ذکر کی ہے:
«أَعْظَمَ اللَّهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ»
یعنی: "اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کو عظیم فرمائے، آپ کو بہترین صبر عطا فرمائے اور آپ کے میت کی مغفرت فرمائے۔” (الأذكار، امام نووی، ص: 148؛ رد المحتار، 2/242)
یہاں یہ اصول ملحوظ رہنا چاہیے کہ میت کے لیے مغفرت کی دعا اسی وقت کی جائے گی جب وہ شرعاً اس کا مستحق ہو، کیونکہ دعائے مغفرت بذاتِ خود ایک عبادت ہے اور عبادات میں اصل اتباعِ نصوص ہے، نہ کہ محض جذبات۔
تعزیت کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ اہلِ مصیبت کو ایسے کلمات کہے جائیں جن سے ان کے غم میں اضافہ نہ ہو، نہ انہیں بار بار رلایا جائے، نہ ایسے واقعات چھیڑے جائیں جن سے ان کی بےقراری بڑھ جائے، بلکہ گفتگو کا محور صبر، اللہ تعالیٰ کی رضا، اجرِ آخرت اور حسنِ خاتمہ کی امید ہو۔ اسی لیے سلفِ صالحین تعزیت کے وقت دنیاوی تعریفوں کے بجائے آخرت کی یاد دہانی کو ترجیح دیتے تھے، کیونکہ یہی سنتِ نبوی ﷺ کا منہج ہے۔
اسی طرح تعزیت کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ایسے الفاظ سے اجتناب کرے جن میں شریعت کے خلاف کوئی مفہوم پایا جاتا ہو، مثلاً "اللہ نے ظلم کیا”، "ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا”، "اللہ نے بہت سختی کی”، یا "اب جینے کا کوئی فائدہ نہیں” جیسے جملے۔ یہ الفاظ تقدیرِ الٰہی پر عدمِ رضا کی علامت بن سکتے ہیں، حالانکہ مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ غم کی شدت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں پہنچتی، اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔” (سورۃ التغابن: 11)
علقمہ بن قیس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "یہ وہ شخص ہے جسے مصیبت پہنچتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لہٰذا وہ اس پر راضی رہتا ہے اور اللہ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔” (تفسير الطبري، تفسیر سورۃ التغابن: 11؛ تفسير ابن كثير، تفسیر سورۃ التغابن: 11)
یہی وجہ ہے کہ تعزیت کا سب سے بڑا مقصد اہلِ مصیبت کو رونے سے روکنا نہیں، بلکہ انہیں ایسے اقوال و افعال سے بچانا ہے جو ان کے دین و ایمان کے لیے نقصان دہ ہوں۔ شریعت نے آنسو بہانے کو ممنوع قرار نہیں دیا، کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے حضرت ابراہیم بن محمد کی وفات پر آنسو جاری ہوئے، لیکن آپ ﷺ نے ساتھ ہی یہ اصول بھی بیان فرمایا:
«إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا»”آنکھ اشک بار ہوتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، مگر ہم وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہو۔” (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1303)
یہی اسلامی تعزیت کا اعتدال ہے کہ فطری غم کو تسلیم کیا جائے، مگر اسے شریعت کی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیا جائے۔
مسلمان کی تعزیت کے احکام بیان کرنے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی حکم ہر اس شخص کے بارے میں بھی ہوگا جو بظاہر مسلمان کہلاتا ہو، یا پھر غیر مسلم ہو، یا وہ افراد جن کے متعلق ائمۂ اہلِ سنت نے تضلیل، تبديع یا تکفیر کا حکم صادر فرمایا ہو؟ یہی اس موضوع کا نہایت اہم اور حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اسی مقام پر افراط و تفریط دونوں جنم لیتے ہیں۔ ایک طبقہ محض انسانی ہمدردی کے نام پر تمام شرعی امتیازات ختم کر دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اظہارِ ہمدردی کی ہر صورت کو بھی ناجائز قرار دے دیتا ہے، حالانکہ دونوں رویے نصوصِ شرعیہ سے ہم آہنگ نہیں۔
سب سے پہلے غیر مسلم کی تعزیت کا حکم ملاحظہ کیا جائے۔

فقہائے امت نے اس مسئلہ میں اصل بنیاد قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل کو قرار دیا ہے۔ اصولی طور پر غیر مسلم کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صریح ممانعت فرمائی ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر صورت میں اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی ممنوع ہو۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ رکھنا ضروری ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ (سورۃ التوبۃ: 113)

ترجمہ: "نبی اور اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہیں۔
یہ آیت اس مسئلہ کی اصل اور فیصلہ کن دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وفات کے بعد ایسے شخص کے لیے دعائے مغفرت کرنا جس کا کفر پر مرنا یقینی ہو، شرعاً جائز نہیں۔
امام طبری فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور تمام اہلِ ایمان کو مشرکین کے لیے استغفار سے منع فرما دیا، خواہ وہ نسبی اعتبار سے کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں۔ (جامع البيان، تفسیر سورۃ التوبۃ: 113)
اسی طرح امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس مسئلہ میں نصِ صریح ہے کہ جو شخص کفر پر مر جائے، اس کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا جائز نہیں۔ (تفسير ابن كثير، تفسیر سورۃ التوبۃ: 113)
اس آیت کے نزول کا سبب بھی اسی مسئلہ کو مزید واضح کرتا ہے، جس کی تفصیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد آزر کے واقعہ سے متعلق آیات میں بیان ہوئی ہے، اور اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔ یہی واقعہ اس مضمون کی بنیادی دلیل ہے، اس لیے آئندہ بحث میں پہلے اسی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ غیر مسلم، مشرک، مرتد اور ان کے لیے دعائے مغفرت کے احکام کو سمجھنے میں اس واقعہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

قرآنِ مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، تاکہ یہ اصول ہمیشہ کے لیے متعین ہو جائے کہ کسی غیر مسلم کے لیے دعائے مغفرت کن حدود کے اندر جائز ہے اور کب ممنوع ہو جاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ (سورۃ التوبۃ: 114)
ترجمہ: "اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا، پھر جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے آہ و زاری کرنے والے اور نہایت بردبار تھے۔”

اس آیت نے سابقہ آیت (التوبۃ: 113) کی علت اور حکمت دونوں کو واضح کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استغفار کسی دائمی شرعی جواز کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ ایک سابقہ وعدے کی وجہ سے تھا۔ جب وحی کے ذریعہ یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کے والد کفر ہی پر مرے ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے براءت کا اعلان کر دیا اور ان کے لیے استغفار ترک فرما دیا۔
امام طبری لکھتے ہیں کہ اس آیت میں قطعی دلیل ہے کہ جب کسی شخص کا کفر پر مرنا ثابت ہو جائے تو اس کے لیے استغفار جائز نہیں رہتا۔ (جامع البيان، تفسیر سورۃ التوبۃ: 114) (الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ التوبۃ: 114)۔ (تفسير ابن كثير، تفسیر سورۃ التوبۃ: 113-114)
یہاں ایک اہم اصول سامنے آتا ہے کہ دعائے مغفرت اور تعزیت ایک چیز نہیں ہیں۔ قرآن نے جس چیز سے منع فرمایا ہے وہ کافر کے لیے استغفار ہے، جبکہ اس نے اہلِ کفر کے زندہ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ اخلاق، عدل اور معروف برتاؤ سے مطلقاً منع نہیں کیا۔ اسی لیے فقہائے امت نے لکھا ہے کہ اگر کسی غیر مسلم کے گھر میں وفات ہو جائے اور اس کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی میں کوئی دینی مفسدہ نہ ہو، اسلام کی ذلت لازم نہ آتی ہو اور نہ ہی اس میں ان کے مذہبِ باطل کی تائید پائی جاتی ہو، تو مناسب الفاظ میں تعزیت کی جا سکتی ہے، لیکن ایسے الفاظ کہنا جائز نہیں جن میں میت کے لیے مغفرت، جنت یا رحمت کی دعا شامل ہو۔

چنانچہ فقہائے لکھتے ہیں کہ غیر مسلم کی تعزیت کرتے وقت ایسے الفاظ کہے جا سکتے ہیں جن میں زندہ افراد کے لیے صبر، سلامتی یا بہتر بدلہ کی دعا ہو، مثلاً: "اللہ آپ کو اس مصیبت پر صبر عطا فرمائے” یا "اللہ آپ کو اس کا بہتر بدل عطا کرے”، لیکن یہ کہنا کہ "اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے” یا "اللہ اسے جنت نصیب کرے” جائز نہیں، کیونکہ یہ دعا قرآنِ مجید کی صریح ممانعت کے خلاف ہے۔ (رد المحتار، 6/754؛ الفتاوى الهندية، 5/347)

پس غیر مسلم کے بارے میں شریعت کا منہج نہ افراط پر مبنی ہے اور نہ تفریط پر؛ بلکہ اعتدال یہ ہے کہ انسانی ہمدردی، حسنِ اخلاق اور معاشرتی خیرخواہی اپنی جگہ برقرار رہے، لیکن عقیدہ، ولاء و براء اور نصوصِ شرعیہ کی حدود بھی ہر حال میں محفوظ رہیں۔ یہی وہ متوازن طرزِ فکر ہے جسے قرآن و سنت نے اختیار کیا اور اسی پر امت کے محققین کا عمل رہا۔
غیر مسلم کے بعد اب اس طبقے کا حکم بیان کرنا ضروری ہے جو بظاہر اسلام سے منسوب ہوتا ہے، لیکن اس کے عقائد، افکار یا اقوال کے بارے میں ائمۂ اہلِ سنت نے تضلیل، تبديع یا بعض صورتوں میں تکفیر کا حکم بیان کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں اسی بات میں سب سے زیادہ افراط و تفریط پائی جاتی ہے؛ ایک طرف ہر شخص کے لیے بلا امتیاز دعائے مغفرت کی جاتی ہے، اور دوسری طرف تحقیق کے بغیر لوگوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا جاتا ہے، حالانکہ شریعت نے دونوں راستوں سے منع فرمایا ہے۔

اس مسئلہ کی بنیاد ایک اہم اصول پر ہے، اور وہ یہ کہ کسی شخص کے متعلق شرعی حکم اس کے حقیقی دینی وصف پر موقوف ہوتا ہے، نہ کہ محض عوامی شہرت یا جذباتی وابستگی پر۔ اسی لیے اہلِ سنت والجماعت نے مطلق حکم اور حکمِ معین کے درمیان فرق کیا ہے۔ ممکن ہے کسی عقیدہ یا قول کو علماء کفر قرار دیں، لیکن کسی معین شخص پر حکمِ کفر اسی وقت لگایا جائے گا جب تمام شرائط پوری ہوں اور تمام موانع ختم ہو جائیں۔ (مجموع الفتاوى لابن تيمية، 12/487؛ إعلام الموقعين، 3/300)
اگر کوئی شخص مسلمان تھا، لیکن گناہوں میں مبتلا تھا، یا فاسق تھا، مگر اس کا فسق اسے اسلام سے خارج کرنے والا نہ تھا، تو وہ احکامِ اسلام ہی میں شمار ہوگا۔ اس کی نمازِ جنازہ، تعزیت اور دعائے مغفرت سب مشروع ہیں، کیونکہ کبیرہ گناہ مسلمان کو محض گناہ کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ (سورۃ النساء: 48)
یعنی اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا، اس کے علاوہ جس کے لیے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص ایسی بدعت کا داعی تھا جو کفر تک نہیں پہنچاتی، تو اس کے بارے میں اہلِ علم نے تفصیل بیان کی ہے۔ ایسے شخص کے لیے اصولاً دعائے مغفرت کی جا سکتی ہے، لیکن اگر وہ بدعت کا مشہور داعی ہو اور اس کی تعظیم سے بدعت کی ترویج کا اندیشہ ہو تو اہلِ علم اور مقتدا حضرات اس کے جنازے یا تعزیت میں شرکت سے اجتناب کر سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کے لیے اس کے باطل افکار کی تائید کا شبہ پیدا نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سلف نے اہلِ بدعت کے بعض جنازوں میں شرکت نہیں کی، اور اس کا مقصد ذاتی عداوت نہیں بلکہ دینی مصلحت تھا۔ (شرح السنة للبغوي، 1/226؛ الشريعة للآجري، 5/2458)
رہا وہ شخص جس کے متعلق معتبر اہلِ علم نے تحقیق کے بعد یہ حکم دیا ہو کہ وہ کفرِ اکبر یا ارتداد کا مرتکب ہوا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی، تو اس کے بارے میں حکم وہی ہوگا جو قرآنِ کریم نے مشرکین کے متعلق بیان فرمایا ہے، یعنی اس کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ کیونکہ ممانعت کی علت کفر پر موت ہے، خواہ وہ اصلی کافر ہو یا مرتد۔ (سورۃ التوبۃ: 113؛ تفسير ابن كثير، تفسير الآية)
تاہم یہاں نہایت اہم تنبیہ ضروری ہے کہ افراد کی تکفیر عوام کا کام نہیں بلکہ اہلِ علم اور شرعی عدالت کا مسئلہ ہے۔ کسی شخص کے متعلق محض سنی سنائی باتوں، سیاسی اختلاف یا شخصی عداوت کی بنیاد پر یہ کہنا کہ وہ کافر، مرتد یا جہنمی ہے، سخت گناہ اور انتہائی خطرناک طرزِ عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»
جب کوئی شخص اپنے بھائی سے کہتا ہے: اے کافر! تو یہ بات ان دونوں میں سے ایک پر لوٹتی ہے۔” (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6104؛ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 60)
لہٰذا جس شخص کے بارے میں صرف یہ کہا گیا ہو کہ وہ گمراہ ہے، یا اس میں بدعات ہیں، یا وہ مضل ہے، اس کے متعلق بھی شرعی حکم معتبر علماء کی تفصیل کے مطابق ہوگا، نہ کہ عوامی جذبات کے مطابق۔ اسی بنا پر ہر "گمراہ” شخص کا حکم "مرتد” کا نہیں ہوتا، اور نہ ہر "مبتدع” کا حکم "کافر” کا ہوتا ہے۔ یہ تفریق پورے احتیاط اور دلائل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے
اس تمام بحث و تمحیص، استقراءِ نصوص اور تتبعِ اقوالِ ائمہ سے یہ حقیقت نہایت جلی اور ناقابلِ انکار صورت میں سامنے آتی ہے کہ تعزیت اور دعائے مغفرت اگرچہ بظاہر ایک ہی موقع سے متعلق دو اعمال ہیں، لیکن حقیقتِ شرعیہ کے اعتبار سے دونوں کے مابین ایک واضح، دقیق اور اصولی امتیاز موجود ہے، جسے نظر انداز کر دینا علمی اضطراب، فکری انتشار اور احکامِ شریعت میں خلطِ مبحث کا موجب بنتا ہے۔ تعزیت کا مدار زندہ اہلِ مصیبت کی دلجوئی، مواسات، تسکینِ قلوب، تقویتِ عزائم، تلقینِ صبر اور تجدیدِ تعلق مع اللہ پر ہے، جبکہ دعائے مغفرت ایک محض توقیفی عبادت ہے جس کا جواز یا عدمِ جواز عقل، جذبات، معاشرتی میلانات، شخصی تعلقات یا عرفِ عام سے نہیں، بلکہ صرف کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور فہمِ سلفِ صالحین سے متعین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے جہاں اہلِ ایمان کے لیے استغفار، رحمت اور دعائے مغفرت کو مشروع فرمایا، وہیں ان لوگوں کے بارے میں، جن کے متعلق وحیِ الٰہی نے عدمِ مغفرت کا فیصلہ صادر فرمایا، استغفار سے قطعی طور پر منع کر دیا، تاکہ عقیدۂ توحید، حدودِ شریعت اور امتیازِ ایمان و کفر ہر حال میں محفوظ رہیں۔ یہی وہ اعتدال ہے جو اسلام کو محض جذباتی مذہب نہیں بلکہ ربانی شریعت بناتا ہے، جہاں ہر حکم دلیل کے تابع ہے، نہ کہ خواہشِ نفس کے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موت کا حادثہ انسانی زندگی کا سب سے جانکاہ، روح فرسا اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ اس لمحے انسان کا قلب رنج و الم سے بوجھل، فکر منتشر، حواس مضمحل اور زبان بےاختیار ہو جاتی ہے۔ ایسے نازک موقع پر شیطان انسان کو یا تو جزع و فزع، نوحہ و ماتم، تقدیرِ الٰہی پر شکوہ، یأس و قنوط اور کفریہ کلمات کی طرف دھکیل دیتا ہے، یا پھر اسے ایسی غلو آمیز محبت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ شریعت کی متعین کردہ حدود کو پامال کر بیٹھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعزیت کرنے والا محض تعزیت کنندہ نہیں رہتا بلکہ ایک مخلص مربی، مشفق ناصح، خیراندیش داعی اور امینِ شریعت کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اہلِ مصیبت کے آنسو پونچھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان کی بھی حفاظت کرے، ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر مطمئن کرے، انہیں صبر و احتساب کی فضیلت یاد دلائے، ان کی زبان کو ہر اس کلمہ سے محفوظ رکھے جس میں تقدیر پر اعتراض، اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ناراضی یا ایمان کے منافی کوئی مفہوم پایا جاتا ہو، اور انہیں اس حقیقت کا شعور عطا کرے کہ مومن کی شان مصیبت میں بھی بندگی، رضا اور تسلیم و انقیاد ہے، نہ کہ بےصبری اور شکوہ۔ یہی وہ نبوی منہج ہے جو تعزیت کو محض رسم نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دیتا ہے۔

اسی ضمن میں یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلام میں حق کا معیار شخصیات نہیں بلکہ شخصیات کا معیار حق ہے ۔ شریعت نے کسی شخصیت کو معیارِ دین نہیں بنایا، بلکہ ہر شخصیت کو کتاب و سنت کے میزان پر پرکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام کے علاوہ کسی شخصیت کی محبت، عظمت، شہرت، مقبولیت، علمی وجاہت، روحانی نسبت یا عوامی اثر و رسوخ اسے حدودِ شریعت سے ماورا نہیں کر سکتا۔ اگر کسی کے بارے میں قرآن و سنت نے مغفرت کی دعا کا حکم دیا ہے تو اس کے لیے دعا کرنا عین عبادت ہے، اور اگر کسی کے بارے میں نصوصِ قطعیہ نے استغفار سے منع فرمایا ہے تو اس کی عظمت کے قصیدے، اس کے لاکھوں معتقدین، اس کی سیاسی یا مذہبی حیثیت اور اس سے قلبی وابستگی بھی اس حکم کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ *مومن کا امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کو نصوص کے تابع بناتا ہےنصوص کو جذبات کے تابع نہیں کرتا وہ شخصیات کو شریعت کے تابع سمجھتا ہے، شریعت کو شخصیات کی تابع نہیں بناتا؛ وہ دلائل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے، نہ کہ ناموں، نعروں اور جذباتی وابستگیوں کے سامنے۔
*
پس ایک صاحبِ ایمان کے لیے اس پورے باب کا حاصل یہی ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر اپنے قلب و نظر کو کتاب و سنت کے تابع رکھے اور اپنے جذبات، تعلقات، شخصی وابستگیوں اور معاشرتی دباؤ کو احکامِ شریعت پر ہرگز غالب نہ آنے دے۔ بلاشبہ موت کا صدمہ دلوں کو رنجیدہ کرتا ہے، آنکھوں کو اشک بار کر دیتا ہے اور جذبات کو مہمیز دیتا ہے، لیکن یہی وہ مقامِ ابتلاء ہے جہاں ایمان کی حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے اور بندگی کا جوہر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ آسان یہ ہے کہ انسان جذبات کی رو میں بہہ جائے، ہر ایک کے لیے یکساں الفاظ استعمال کرے، ہر وفات پر بلا امتیاز دعائے مغفرت کر دے اور ہر معاملے کو محض انسانی ہمدردی کا عنوان بنا دے؛ لیکن بندۂ مؤمن کی شان یہ نہیں۔ اس کی شان یہ ہے کہ وہ محبت بھی اللہ کے لیے کرے، بغض بھی اللہ کے لیے رکھے، دعا بھی اللہ کے حکم کے مطابق کرے اور سکوت بھی اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کرے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علم، دیانت اور تقویٰ انسان کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ جب اہلِ علم، ائمۂ دین اور محققینِ امت کسی مقام پر نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں توقف کا حکم دیں تو ایک سچے مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی عقل، اپنے ذوق، اپنی رائے، اپنی جماعت، اپنی شخصیت پرستی اور اپنے جذبات سب کو پسِ پشت ڈال کر حکمِ شریعت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ اس کے دل میں یہ احساس زندہ رہے کہ ہمیں جنت میں شخصیات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت لے کر جائے گی، اور قیامت کے دن ہمارا محاسبہ اس بات پر ہوگا کہ ہم نے کتاب و سنت کی پیروی کی یا اپنے جذبات اور میلانات کی۔ اس لیے جہاں شریعت دعا کا حکم دے وہاں دل کھول کر دعا کی جائے، جہاں تعزیت کی تلقین کرے وہاں اخلاص، محبت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اہلِ مصیبت کا سہارا بنا جائے، اور جہاں شریعت خاموش رہنے یا رک جانے کا حکم دے وہاں زبان کو بھی روک لیا جائے اور دل کو بھی اللہ کے فیصلے پر راضی رکھا جائے۔ یہی عبودیت ہے، یہی تقویٰ ہے اور یہی ایمان کا حسن ہے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تعزیت کا مقصد محض آنسو پونچھنا نہیں، بلکہ ایمان کو بکھرنے سے بچانا ہے؛ دعائے مغفرت کا مقصد محض رسمی الفاظ ادا کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے حکم کے مطابق دستِ دعا بلند کرنا ہے۔ اگر تعزیت کسی غم زدہ دل کو صبر، رضا، توکل اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پر آمادہ کر دے تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور اگر دعائے مغفرت نصوصِ شرعیہ کے مطابق کی جائے تو یہی بندگی کا کمال ہے۔ لیکن اگر جذبات شریعت پر غالب آجائیں، شخصیات دلائل پر مقدم ہو جائیں اور محبت حدودِ الٰہی کو پامال کر دے، تو پھر انسان خیر کی نیت کے باوجود بھی راہِ اعتدال سے ہٹ سکتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی کامل اتباع کی توفیق عطا فرمائے، باطل کو باطل جان کر اس سے مکمل اجتناب نصیب فرمائے، اہلِ حق کی تعظیم، ان کے لیے دعائے مغفرت، ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ تعزیت اور اہلِ مصیبت کی صحیح رہنمائی کی سعادت عطا فرمائے۔ اور ہمیں اس بصیرت سے بھی نوازے کہ جہاں قرآن و سنت اور ائمۂ امت رک جانے کا حکم دیں وہاں ہم اپنے تمام جذبات، تعلقات، پسند و ناپسند اور شخصی میلان کو قربان کر کے خاموشی، احتیاط اور اتباعِ شریعت کا راستہ اختیار کریں۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے، یہی سلامتی کی راہ ہے، اور اسی میں دنیا کی عزت، دین کی استقامت اور آخرت کی فلاح و نجات مضمر ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے