جمعیۃ علماء رنگاریڈی کے زیرِ اہتمام ’’اسعد مدنی ٹورنامنٹ‘‘ کا انعقاد.
جمعیۃ یوتھ کلب کی جانب سے طلبہ میں دینی وابستگی، صحت مند سرگرمیوں اور اکابرین سے تعلق کے فروغ کی منفرد کوشش
راقم: محمد آصف الدین قاسمی
جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء سرور نگر منڈل
رنگاریڈی، 20 ستمبر، بروز اتوار:حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی، صدر جمعیۃ علماء ہند، کے ایماء اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب کی ہدایت پر، حضرت مولانا حافظ مقصود احمد طاہر صاحب کی زیرِ نگرانی، جمعیۃ علماء رنگاریڈی کے زیرِ اہتمام ’’اسعد مدنی ٹورنامنٹ‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔
جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد ملت کی دینی، اخلاقی، سماجی اور ہمہ جہت ترقی ہے۔ اسی مقصد کے تحت جمعیۃ یوتھ کلب نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ان کی جسمانی صحت، اجتماعی شعور اور مثبت صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
اسی سلسلے کی ایک خوب صورت کڑی کے طور پر منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں رنگاریڈی کے مختلف علاقوں، بالخصوص ونستھلی اور اطراف کے طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی اور اپنی کھیل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
یہ ٹورنامنٹ محض کھیل کا ایک مقابلہ نہیں تھا، بلکہ نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کے ذریعے دین سے قریب کرنے، مسجد سے ان کا تعلق مضبوط کرنے، نظم و ضبط، باہمی اخوت اور اجتماعی زندگی کے شعور کو فروغ دینے کی ایک بامقصد تربیتی کاوش تھی۔
ٹورنامنٹ کی تیاری تقریباً تین تا چار ہفتوں سے جاری تھی۔ حضرت مولانا مفتی احمد عبیداللہ یاسر دامت برکاتہم کے مشورے اور ہدایت پر مختلف علاقوں کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں مولوی شیخ مبشر احمد اشرفی صاحب، مفتی محمد وسیم اکرم صاحب اور راقم الحروف نے خصوصی محنت کی۔
کھیل کے ساتھ دینی تربیت
اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ کھیل کو دینی تربیت اور مسجد سے تعلق کے ساتھ مربوط کیا گیا۔ طلبہ کو فجر کی نماز مسجد میں ادا کرکے کھیل کے میدان کی طرف روانہ ہونے کی ہدایت دی گئی، جس پر الحمدللہ بڑی تعداد میں طلبہ نے عمل کیا۔
اسی طرح اسلامی شناخت کے اظہار کے لیے طلبہ کو ٹوپی پہن کر میدان میں آنے کی ترغیب دی گئی، جس کے نتیجے میں کھیل کے میدان میں بھی اسلامی تہذیب و تشخص کا ایک خوب صورت منظر دیکھنے کو ملا۔
ٹورنامنٹ کے انعامات میں بھی ایک منفرد تربیتی پہلو کو ملحوظ رکھا گیا۔ فاتح ٹیم کے لیے ’’حجۃ الاسلام ایوارڈ‘‘، بہترین کھلاڑی کے لیے ’’شیخ الہند ٹرافی‘‘، فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ’’شیخ الاسلام گولڈ میڈل‘‘ اور رنر اَپ ٹیم کے لیے ’’فدائے ملت سلور میڈل‘‘ مقرر کیے گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ طلبہ کھیل کے ساتھ اکابرینِ امت کے ناموں، خدمات اور دینی ورثے سے بھی واقف ہوں اور ان عظیم شخصیات کی یاد ان کے دلوں میں تازہ رہے۔
ان ارشادات کی روشنی میں صحت مند، مضبوط اور معاشرے کے لیے نفع بخش نوجوانوں کی تیاری اس طرح کی سرگرمیوں کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
اختتامی تقریب
ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں جمعیۃ علماء رنگاریڈی کے صدر حضرت مولانا مقصود احمد طاہر صاحب بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب اور جمعیۃ یوتھ کلب تلنگانہ کے ذمہ دار حضرت مولانا قاری یونس علی خان صاحب دامت برکاتہم بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
علماء کرام نے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے اور اس موقع پر صحت مند کھیلوں کی اہمیت، نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور مثبت سرگرمیوں کی افادیت پر اپنے قیمتی تاثرات پیش کیے۔
فاتح ٹیم کو حجۃ الاسلام ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ بہترین کھلاڑی محمد اہل سلمہ کو شیخ الہند ٹرافی پیش کی گئی۔ فاتح ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو شیخ الاسلام گولڈ میڈل اور رنر اَپ ٹیم کے کھلاڑیوں کو فدائے ملت سلور میڈل سے سرفراز کیا گیا۔
حضرت مولانا قاری یونس علی خان صاحب دامت برکاتہم نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے لیے ایسی صحت مند اور مفید سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں، جو انہیں جسمانی طور پر فعال رکھنے کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ انہوں نے آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا۔
کھیل، تربیت اور اکابرین سے وابستگی
اسعد مدنی ٹورنامنٹ کی اصل خصوصیت یہی رہی کہ کھیل کو محض تفریح اور مقابلے تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے دین، مسجد، تربیت، صحت، اخوت اور اکابرینِ امت سے تعلق کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ٹورنامنٹ کے نام سے لے کر انعامات اور میڈلز تک، ہر مرحلے میں اکابرین کی نسبت کو ملحوظ رکھا گیا، تاکہ نئی نسل کھیل کے میدان میں بھی اپنے اسلاف کے ناموں، خدمات اور دینی ورثے سے واقف ہو اور اپنی تہذیبی و دینی شناخت سے وابستہ رہے۔
یوں جمعیۃ علماء رنگاریڈی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ نوجوان نسل کے لیے ایک بامقصد اور تعمیری سرگرمی بن کر سامنے آیا، جس میں کھیل کے جوش و جذبے کے ساتھ دینی شناخت، اخلاقی تربیت، جسمانی صحت، باہمی اخوت اور اکابرینِ امت سے وابستگی کا پیغام بھی نمایاں رہا۔