سعودی خواتین: صحرا سے کہکشاں تک کا سفر
(تیل سے ٹیکنالوجی تک: نئے سعودی عرب کی پرعزم خواتین)
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
جس سرزمین پر کچھ عرصہ قبل خواتین کے گاڑی چلانے پر بھی پابندی عائد تھی، آج وہیں کی بیٹیاں خلائی جہاز کے کیبن میں محوِ پرواز ہو کر زمین کے مدار کا چکر لگا رہی ہیں۔ 2023 میں ریانہ برناوی کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کا سفر محض ایک مہم نہیں، بلکہ ایک تاریخی تہذیبی ارتقا کا نقارہ تھا جس کی رفتار اور وسعت نے عالمی برادری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ مملکتِ سعودی عرب، جو محض ایک دہائی قبل سخت قدامت پسند سماجی روایات کا گہوارہ سمجھی جاتی تھی، آج صنفی مساوات اور خواتین کے معاشی استحکام کی عالمی درجہ بندیوں میں صفِ اول پر جلوہ گر ہے۔ یہ ہمہ جہت تبدیلی سطحی یا نمائشی ہرگز نہیں، بلکہ اس کی جڑیں معیشت، تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور بااختیار قیادت کے نئے فکری زاویوں میں پیوست ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے ”وژن 2030“ کے تحت خام تیل پر تکیہ کرنے والی معیشت کو علم و حکمت اور جدید ٹیکنالوجی کی معیشت میں ڈھالنے کے لیے خواتین کو محض معاون نہیں، بلکہ بنیادی محرک قرار دیا گیا۔ اعداد و شمار گواہی دے رہے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی ٹھوس کامیابیوں سے ہمکنار ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں خواتین کی بے روزگاری کی شرح کم ہو کر صرف 9 فیصد پر آ گئی، جو 2021 میں 21.7 فیصد تھی؛ اور یہ نمایاں کمی محض حسنِ اتفاق نہیں بلکہ ایک جامع و مربوط معاشی حکمتِ عملی کا ثمر ہے۔
تعلیم اس عظیم انقلابی عمل کا سب سے مضبوط ستون بن کر ابھری ہے۔ آج سعودی عرب میں ہر دو میں سے ایک سند یافتہ (گریجویٹ) خاتون ہے۔ یونیسکو کی رو سے قدرتی علوم، ریاضی اور شماریات کی ڈگریوں میں 72.6 فیصد حصہ خواتین کا ہے، جو کہ بیشتر یورپی ممالک کے اوسط تناسب سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے معاون وزیرِ تجارت ایمان المطیری نے اس پیش رفت کو اجاگر کیا کہ 54 فیصد خواتین گریجویٹس سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی (انوویشن) کے شعبوں سے وابستہ ہیں، جبکہ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ میں خواتین کا تناسب 59 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ انجینئرنگ کے میدان میں خواتین کا تناسب فی الوقت صرف 12.1 فیصد ہے، جو خلیجی خطے میں کم ترین شرح ہونے کے سبب تکنیکی دائروں میں صنفی تفریق کی نشان دہی کرتا ہے۔ تاہم کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) جیسے موقر بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی سن 2025 کی گریجویٹ کلاس میں 35 فیصد طالبات کی شرکت یہ واضح کرتی ہے کہ اعلیٰ ترین علوم کے دروازے اب مکمل طور پر وا ہو چکے ہیں۔ جامعات میں خواتین کا یہ بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف علمی فضا کو تقویت دے رہا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ سعودی خواتین جدید علوم میں یدِ طولیٰ پا کر مملکت کی معاشی عمارت کی بنیادی اینٹ بن چکی ہیں۔
علم کی یہ ضیا پاشی اب عملی معیشت کا رخ بدل رہی ہے۔ جنرل اتھارٹی برائے شماریات (GASTAT) کے مطابق، افرادی قوت میں خواتین کی شرکت جو 2018 میں محض 19.7 فیصد تھی، 2025 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 36.3 فیصد ہو گئی۔ بعد ازاں 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 15 سال اور اس سے زائد عمر کی سعودی خواتین کی معاشی شرکت کا تناسب 34.5 فیصد، جبکہ ورک فورس میں ان کی مجموعی شراکت داری 35.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بے روزگاری کا 9 فیصد کی کم ترین تاریخی سطح پر آنا اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ معاشرہ اب خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پورے خلوص سے گلے لگا چکا ہے۔ حکومت نے اس معاشی دھارے کو سہارا دینے کے لیے ”قرۃ“ پروگرام کے تحت 40,000 سے زائد ورکنگ خواتین کو بچوں کی نگہداشت (ڈے کیئر) کی سہولیات دیں، جبکہ ”وصول“ منصوبے کے ذریعے 300,000 سے زیادہ خواتین کو دفاتر تک نقل و حمل کے لیے مالی و سفری اعانت مہیا کی۔ زچگی کی رخصت کو قانونی طور پر 12 ہفتوں تک توسیع دی گئی، اور 2020 سے 2025 کی تیسری سہ ماہی تک لچک دار اوقاتِ کار کے معاہدوں کی تعداد 240,000 سے تجاوز کر گئی، جس نے خواتین کے لیے گھریلو ذمہ داریوں اور دفتری فرائض کے درمیان عمدہ توازن برقرار رکھنا آسان بنا دیا۔ وزارتِ انسانی وسائل و سماجی بہبود کے مطابق، اس وقت تقریباً 1.3 ملین خواتین آزاد پیشہ ورانہ خدمات (فری لانسنگ) میں سرگرم ہیں، اور ملک کے 690,000 کل فعال فری لانسرز میں سے نصف تعداد خواتین کی ہے، جو کہ ڈیجیٹل مارکیٹ پر ان کی مضبوط گرفت کی عکاسی کرتی ہے۔
محض اعداد کے تنوع سے بڑھ کر کلیدی انتظامی مناصب پر خواتین کا تقرر ایک قابلِ فخر باب ہے۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین کی موجودگی 43.7 فیصد تھی، جو سال کے اختتام تک بڑھ کر 44 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2017 میں یہ محض 28.6 فیصد پر رکی ہوئی تھی۔ قومی آبزرویٹری برائے خواتین کی سربراہ ڈاکٹر سناء محسن العتیبی نے اس غیر معمولی پیش رفت کو لچک دار ملازمتوں اور فاصلاتی کام (ریموٹ ورک) کے نئے مواقع سے مربوط قرار دیا ہے۔ انہوں نے سعودی پریس ایجنسی (SPA) کو بتایا کہ فیصلہ ساز عہدوں پر خواتین کا یہ ارتقا صرف عددی برتری نہیں بلکہ معیار کی بلندی کا ثبوت ہے، کیونکہ وژن 2030 کے تحت قائدانہ اہلیت رکھنے والی سیکڑوں مینیجرز کی خصوصی تربیت کر کے باصلاحیت خواتین قیادت کی ایک مستقل کھیپ تیار کر دی گئی ہے۔ شعبۂ طب میں بھی یہ رنگ نمایاں ہے، جہاں سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے 27 فیصد ایگزیکٹو اور انتظامی عہدے اب خواتین سنبھال رہی ہیں، جبکہ 2019 میں یہ شرح بمشکل 14 فیصد تھی۔
ٹیکنالوجی کے پیچیدہ میدانوں میں بھی سعودی خواتین نے حیران کن سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ سعودی فیڈریشن برائے سائبر سیکیورٹی، پروگرامنگ اور ڈرونز (SAFCSP) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں سائبر سیکیورٹی کے 45 فیصد عہدوں پر خواتین براجمان ہیں، جبکہ اس شعبے کی عالمی اوسط محض 25 فیصد ہے۔ یہ تفاوت ثابت کرتا ہے کہ حساس ترین قومی ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر منتخب کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ صحت میں شعبۂ نسواں کی سربراہ رانیم السالم کے بقول: ”سائبر سیکیورٹی میں خواتین کا کردار محض شمولیت کا نام نہیں بلکہ نئی اختراعات کی ضمانت ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں خواتین محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی سرکردہ معمار ہیں“۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلابی میدان میں مملکت کی کارکردگی اور بھی ممتاز ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے معروف ”اے آئی انڈیکس 2025“ نے مصنوعی ذہانت کے دائرے میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے سعودی عرب کو عالمی سطح پر پہلا درجہ دیا ہے۔ ریکارڈ مدت میں 666,000 سے زائد خواتین کو ڈیٹا سائنس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی باقاعدہ فنی تربیت سے آراستہ کیا گیا۔ سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (SDAIA) اور گوگل کلاؤڈ کا مشترکہ منصوبہ ”ایلیویٹ“ 25,000 مزید خواتین کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارتیں فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ نتیجتاً، سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے روزگار کی افزائش میں عالمی سطح پر تیسرے، بڑے لارج لینگویج ماڈلز کی تیاری میں چوتھے، اور اے آئی جابس میں خواتین کی شمولیت کے تناسب میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔
تجارت و کاروبار (انٹرپرینیور شپ) کا شعبہ بھی اب خواتین کے دستِ ہنر سے سج رہا ہے۔ وزارتِ تجارت کے مطابق، 2025 کے اختتام تک خواتین کے زیرِ انتظام تجارتی اداروں کی تعداد 774,123 تک جا پہنچی، جو مملکت کے جملہ کاروباری اداروں کا 43.8 فیصد بنتی ہے۔ 2025 کی تیسری سہ ماہی کے دوران جاری ہونے والے کل 128,000 کمرشل لائسنسوں میں سے 49 فیصد خواتین کے نام جاری ہوئے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ نجی شعبے کی باگ ڈور اب مساوی طور پر ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ایمان المطیری نے عالمی سطح پر واضح کیا کہ سعودی کاروباری طبقے میں اب 20 فیصد باقاعدہ کاروباری خواتین ہیں اور 78 فیصد نوجوان خواتین اپنا نیا کاروبار شروع کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں۔ خوراک، فیشن، تعلیم اور بیوٹی پراڈکٹس کے روایتی دائروں سے آگے نکل کر اب خواتین آن لائن ای کامرس اور خود مختار خدمات کے جدید نیٹ ورک کو اپنی معاشی بنیاد بنا رہی ہیں۔
اس سائنسی نشاۃ ثانیہ کا سب سے درخشاں لمحہ وہ تھا جب سعودی خواتین نے خلائی سائنس کے پردے چاک کیے۔ محقق ریانہ برناوی وہ پہلی سعودی خاتون بنیں جنہوں نے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا تاریخی سفر کر کے آئندہ نسلوں کو نئے خواب دیکھنے کی ہمت بخشی۔ سعودی اسپیس ایجنسی (SSA) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ”ساری“ مقابلے میں ام القریٰ یونیورسٹی کی باصلاحیت طالبات نے ایک مکمل منی ایچر سیٹلائٹ ماڈل ڈیزائن کر کے پہلا انعام جیتا، جو خلائی انجینئرنگ میں ان کی سائنسی بصیرت کا عملی شاہکار تھا۔
عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ ”ویمن، بزنس اینڈ دی لا 2026“ کے مطابق، خواتین کے قانونی اور مالی حقوق کے تحفظ میں سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے مقام پر فائز ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم 2025 میں سعودی وفد نے خواتین کی ہمہ جہت ترقی کی یہ رپورٹ پیش کی۔ اس تقریب میں وزارتِ انسانی وسائل کے نائب وزیر ڈاکٹر طارق الحمد نے درست تجزیہ پیش کیا کہ ”وژن 2030 دراصل روایتی اہداف کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاست، نجی شعبے اور معاشرے کے اشتراک سے بپا ہونے والا فکری و عملی انقلاب ہے“۔
تاہم، اس پرشکوہ رفتار کے راستے میں درپیش چیلنجز پر حقیقت پسندانہ نظر رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ سائنسی و تکنیکی (STEM) تعلیم میں قدرتی علوم کے مقابلے میں ہارڈ کور انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین کا ارتکاز اب بھی ناکافی ہے، جس کے لیے ثانوی اسکولوں کی سطح سے ہی کیریئر کونسلنگ کو ناگزیر بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں سے پرے دیہی علاقوں میں رہائش پذیر باصلاحیت خواتین تک تیز رفتار ڈیجیٹل انٹرنیٹ اور تعلیمی وسائل کی رسائی کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اعلیٰ سائنسی تحقیق اور صنعتوں کے فیصلہ ساز بورڈز میں خواتین کے تناسب کو بتدریج مستحکم کرنا ہوگا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ سعودی خواتین اب محض عددی شمولیت کی روایتی منزل کو پار کر کے پائیدار فکری قیادت، گرین انرجی اور بائیو ٹیکنالوجی کے نئے محاذ سنبھالنے کے لیے کمر بستہ ہو چکی ہیں۔
مستقبل کی دنیا میں سعودی خواتین کی یہ انقلابی پیش قدمی محض نسوانی فلاح کی مہم نہیں، بلکہ جزیرہ نمائے عرب کی ہمہ گیر جدیدیت، صنعتی تجدید اور علمی معیشت کی معراج کی ایک سچی اور درخشاں داستان ہے۔ وہ آج مفروضوں کے بجائے ایک زندہ، توانا اور موثر قوت بن کر ابھری ہیں۔ اگر ریاست اور تعلیمی اداروں کا یہ باہمی اشتراک، دیانت دارانہ مواقع اور تحقیقی سرپرستی اسی پختہ ارادے سے جاری رہی، تو وژن 2030 کا ہر خواب نہ صرف مکمل ہوگا، بلکہ مشرق کی یہ بیٹیاں عالمی سائنسی افق پر نئے سنگِ میل تراش کر اقوامِ عالم کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔