اسلام خیر خواہی والا مذہب ہے !

اسلام خیر خواہی والا مذہب ہے !

اسلام خیر خواہی والا مذہب ہے !

ازقلم:مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں صرف اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے، بھلائی اور خیر خواہی کے لیے بھی پیدا فرمایا ہے۔ اسلام ایسا عظیم مذہب ہے جو صرف مسلمانوں ہی کے ساتھ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، رحمدلی، عدل و انصاف اور خیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔۔۔
اسلام ہر انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ ہر انسان کے لیے نفع بخش بنیں، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، امیر ہو یا غریب، جاننے والا ہو یا اجنبی۔
رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالی نے پوری انسانیت کے لیے رول ماڈل بنایا۔۔۔۔ اچھے سے اچھے، قابل سے قابل ترین اور بہتر سے بہترانسان کا نمونہ اگر کوئی دیکھنا چاہے تو رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی اس شخص کے لیے بہترین نمونہ ہے چنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

یقینا تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی حیات طیبہ میں بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالی سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اور اخرت کے دن پر اس کا یقین ہو اور اللہ تبارک و تعالی کو خوب یاد کرنے والا ہو ۔۔۔۔(الاحزاب 21)
رسول اکرم ﷺ نے عملی اسلام پیش فرمایا اوردوسروں کے ساتھ خیر خواہی کو بہترین عبادت قرار دیا ۔۔لوگ کہتے ہیں "اسلام طاقت کے بل بوتے پر اور تلوار کی نوک پر پھیلا ہے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے پھیلا ہے” ۔۔۔۔غلط بیانی سے کام لینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام رسول اکرم ﷺ کے اخلاق کریمانہ کی برکتوں سے پھیلا ہے ایک دو نہیں بیسیوں واقعات ایسے ہیں جس میں رسول اکرم ﷺ اپنے دشمن پر غالب ہونے کے باوجود دشمنوں کو معاف فرمایا
★ ایک جنگ میں کئی لوگ قید ی بناکر لائے گئے۔ ان میں سخاوت و فیاضی میں مشہور زمانہ حاتم طائی کی صاحبزادی’’ طی‘‘ بھی تھی۔ جب اسے بارگاہ رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو اس نے کہا :اے محمد کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں عرب کے مشہور قبیلے کے سردار کی صاحبزادی ہوں۔ میرا باپ سخاوت و فیاضی میں ممتاز تھا،وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا ،ننگوں کو کپڑا پہناتا تھا ،حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرتا تھا،اس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی ضرورت مند کوواپس نہیں کیااور کوئی سائل اسکے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔نبی کریم ﷺنے جب یہ خوبیاں سنیں تو فرمایا کہ یہ اعلیٰ صفات تواہل ایمان کی ہیں۔اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو وہ بڑا نیک اور متقی انسان ہوتا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ اس کو رہا کردیا جائے کہ اس کاباپ حسن ِاخلاق و عادات کا مالک تھا۔‘‘
جب اسے رہا کردیا گیا تو وہ نبئ کریم ﷺ کے بلند اخلاق سے متأثر ہوکراپنے بھائی کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگئی۔۔۔۔۔
★اسی طرح سے غزوۂ خیبر کے بعد ایک یہودی عورت نے آپ ﷺ کی دعوت کی اور گوشت میں زہر ملا دیا۔ جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا اور پھر اس عورت سے پوچھا گیا تو اس نے گوشت میں زہر ملانے کا اعتراف کر لیا۔ صحابہ کرامؓ نے اس عورت کو قتل کرنے کی اجازت چاہی، لیکن آپ ﷺ نے اسے بھی معاف فرما دیا۔۔۔۔
★جب مکہ فتح ہوا تو قریش مکہ جو گزشتہ تقریبا بیس سال سے آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے رہے، وہ سب خوفزدہ کھڑے تھے کہ آج نبئ کریم ﷺ ان سے کیا سلوک کریں گے۔ آپ ﷺ نے ان سےسوال فرمایا: "تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیسا معاملہ کرنے والا ہوں؟” انہوں نے کہا: "آپ بھلائی کی امید دلاتے ہیں، آپ شریف بھائی اور شریف بھتیجے ہیں۔” اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: «آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔۔۔
★رسول اکرم ﷺ ایک درخت کے نیچے قیلولہ (دوپہر کا آرام) فرما رہے تھے اور آپؐ نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا رکھی تھی اچانک ایک مشرک دیہاتی (جس کا نام غورث بن حارث تھا) موقع پا کر آپ ﷺ کے پاس آ کر اس نے وہ تلوار لے لی اتنے میں اپ ﷺ کی انکھ کھل گئی اس مشرک نے آپ ﷺ سے پوچھا: بتائیے! آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپؐ نے انتہائی اطمینان اور توکل کے ساتھ جواب دیا: "اللہ”اس جواب اور غیبی دباؤ (ایک روایت کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام کے سینے پر ہاتھ مارنے) سے وہ شخص کانپ اٹھا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی آپؐ نے وہ تلوار اٹھالی اور اس مشرک سے پوچھا: "اب بتا تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟”اس نے کہا: "کوئی نہیں!” اس کے بعد آپؐ نے اسے معاف کر دیا اور بغیر کوئی سزا دیے چھوڑ دیا۔۔۔ آپؐ کے اس اعلیٰ اخلاق اور حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وہ شخص بعد میں مشرف بہ اسلام ہو گیا

آج دنیا نفرتوں، خود غرضی، حسد، ظلم اور بے رحمی کا شکار ہے۔ ہر شخص صرف اپنی ذات اور اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے، جبکہ اسلام انسان کے دل میں دوسروں کے لیے درد، محبت اور خیر خواہی پیدا کرنا چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
“اور لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 195)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں بلکہ عمومی طور پر ہر انسان کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے۔ یعنی ہر انسان کے ساتھ اچھا سلوک، نرمی، ہمدردی اور خیر خواہی اختیار کرنا مؤمن کی شان ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ﴿النحل 90﴾
اسلام کا مزاج یہی ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی، راحت اور بھلائی کا ذریعہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پوری انسانیت کے سب سے بڑے خیر خواہ بن کر دنیا میں تشریف لےائے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجتے وقت یہ ہدایات دی تھیں:”آسانی پیدا کرنا، مشکل میں نہ ڈالنا، خوشخبری دینا اور نفرت پیدا نہ کرنا، آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔”
اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺکی شان اقدس میں تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
“اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔” (سورۃ الأنبیاء: 107)
غور کیجیے!
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے رحمت ہیں، بلکہ فرمایا: “تمام جہاں والوں کے لیے رحمت”۔
یعنی آپ ﷺ انسانوں، جانوروں، کمزوروں، غریبوں، یتیموں، حتیٰ کہ دشمنوں تک کے خیر خواہ تھے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی انسانیت کی خدمت اور خیر خواہی کا کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا، کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، بلکہ جو لوگ آپ ﷺ کو ستاتے تھے، آپ ﷺ ان کے لیے بھی ہدایت کی دعا فرماتے تھے۔
جب طائف والوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، جسم مبارک لہولہان ہوگیا، فرشتہ آیا کہ اگر آپ حکم دیں تو ان پہاڑوں کو ان پر الٹ دیا جائے، لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:
“نہیں، مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ تعالی کا نام لینے والےہوں گے۔”
یہ ہے حقیقی خیر خواہی!
جو انسان اپنے دشمن کے لیے بھی ہدایت اور بھلائی چاہے۔
رسول ﷺ نےفرمایا:
خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ
“سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔” (المعجم الأوسط للطبرانی)
اس حدیث میں “الناس” کا لفظ آیا ہے، یعنی تمام انسان۔
لہٰذا بہترین انسان وہ ہے جو پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو۔
آج ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم لوگوں کے لیے آسانی کا سبب ہیں یا پریشانی کا؟ ہمارے پڑوسی اور ہمارے رشتہ دار ہماری حرکات و سکنات سے پریشان تو نہیں ہیں ؟ کیا ہماری زبان اور ہماری حرکتوں سے لوگوں کو سکون ملتا ہے یا تکلیف؟
کیا ہم دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں؟
کیا ہم کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں؟
کسی غریب کی مدد کرتے ہیں؟
کسی بیمار کی عیادت کرتے ہیں؟
کسی پریشان انسان کی دلجوئی کرتے ہیں؟
اسلام صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت بھی عبادت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (سنن ترمذی)
یہاں بھی “زمین والوں” فرمایا گیا، صرف مسلمان نہیں۔
یعنی ہر انسان، ہر مخلوق کے ساتھ رحم، شفقت اور خیر خواہی اختیار کرو۔۔۔۔
رسول اکرم ﷺ نے عملی طور پر اسلام کی حقانیت کو واضح فرمایا چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے
ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو رسول اللہﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ اس کے سر کے پاس بیٹھ گۓ اور اس یہودی لڑکے سے فرمایا کہ اسلام قبول کرلو۔ لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ موجود تھا۔ اس کے والد نے کہا کہ ابو القاسم ﷺ کی اطاعت کرو۔ چنانچہ اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔ (بخاری نے روایت کیا)
حضور ﷺ کے اعلی اور بلند اخلاق ہی کی برکت رہی کہ وہ یہودی لڑکا اسلام قبول کر کے اپنے اپ کو ہمیشہ ہمیش کی جہنم سے محفوظ کر سکا ۔۔۔
ایک مسلمان کا دل نفرت، حسد، بغض اور دشمنی سے پاک ہونا چاہیے۔ اگر کسی کے پاس دولت ہے تو وہ غریبوں کا سہارا بن جاۓ، اگر کسی کے پاس علم ہے تو وہ شخص اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے، اگر طاقتور ہے تو کمزوروں کی مدد کرے۔ایک موقع سے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
تم اپنے بھائی کی مدد کرو اگر وہ ظالم ہے یا مظلوم ہے ۔۔
حضرات محدثین کرام نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے اگر ظالم ہے تو اس کو ظلم سے روکے اور اگر وہ مظلوم ہے تو ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرنا چاہیے
یاد رکھئے!
جو انسان دوسروں کے لیے جیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔
اور جو صرف اپنی ذات کے لیے جیتا ہے، وہ دنیا میں بھی تنہا رہ جاتا ہے اور آخرت میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے اپنے لیے جینا تو کوئی جینا نہیں ہے۔۔ انسان اور جانور میں جو واضح فرق ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ جانور اپنے لیے جیتے ہیں اور انسان اپنے لیے جینے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ:
ہر انسان کے لیے اپنے دل میں خیر خواہی رکھیں۔
رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر نفرت نہ کریں۔۔۔۔
آج ہر جگہ علاقائی تعصب ،لسانی تعصب اور مذہبی تعصب تو جنون کی حد تک بڑھا ہوا ہے اور جن کو آپسی لڑائیوں کو فروغ دینے میں مزہ اتا ہے وہ خوب مزے لوٹ رہے ہیں مگر جو اچھے لوگ ہیں وہ انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناۓ ہوۓ ہیں دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہیں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کررہے ہیں ۔۔۔۔۔
اس لیے ہر شخص اس بات کی کوشش کرے کہ اپنی زبان، ہاتھ اور رویہ سے کسی کو تکلیف نہ ہونے پائے ۔۔۔۔اور یاد رکھیں
اس وقت میں محبت، اپنا ئیت اور خیرو بھلائی کا پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے