بھالکی میں پہلی بار کل ہند مشاعرہ، شعر و سخن کی کہکشاں نے تاریخی شہر کو ادبی خوشبوؤں سے مہکا دیا
بیدر۔ 27 ستمبر۔ ضلع بیدر کی تاریخی، تہذیبی اور ادبی سرزمین بھالکی میں 26 ستمبر 2026ء کی شب اردو شعر و ادب کی ایک یادگار اور تاریخ ساز شام اس وقت رقم ہوئی جب کرناٹک اردو اکادمی، بنگلورو کے زیرِ اہتمام حسینی مسجد فنکشن ہال، بالمقابل ٹی ایم سی، بھالکی میں پہلی مرتبہ عظیم الشان کل ہند مشاعرہ 2026ء منعقد ہوا۔ شب ساڑھے آٹھ بجے شروع ہونے والی اس ادبی محفل میں ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے نامور، قادرالکلام اور صاحبِ طرز شعرا نے اپنے منتخب کلام سے شعر و سخن کی ایسی دل آویز کہکشاں سجائی کہ بھالکی کی فضا دیر تک اردو شاعری کے مترنم لہجوں، فکر کی گہرائی اور جذبات کی رنگینی سے معمور رہی۔
کرشنا اور مانجرا ندیوں کے درمیان آباد بھالکی اپنی تاریخی، تہذیبی اور گنگا جمنی روایات کے حوالے سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس شہر میں پہلی مرتبہ کل ہند سطح کے مشاعرے کا انعقاد اہلِ ذوق کے لیے غیر معمولی ادبی موقع ثابت ہوا۔ بھالکی شہر اور اطراف و اکناف سے بڑی تعداد میں ادب نواز اور باذوق سامعین نے شرکت کی اور رات گئے تک شعرا کا کلام سماعت کرتے ہوئے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے اس مشاعرے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس نے ملک کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے شعرا کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
مشاعرے سے قبل افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کا افتتاح شیخ عبدالنصیر، چیئرمین عیدگاہ کمیٹی و صدر سٹی کانگریس کمیٹی بھالکی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ مولانا جلال الدین قاسمی، امام جامع مسجد بھالکی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر بھالکی کی علمی، مذہبی، سماجی اور صحافتی شخصیات بھی موجود رہیں، جن میں مولانا عبدالغفور رضوی، امام مسجدِ گڑھی بھالکی، جے راج پاترے، صدر جرنلسٹ ایسوسی ایشن بھالکی، سنتوش جی بی پاٹل اور محمد معز، رکن کے ڈی پی سمیت دیگر معززین شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنتوش جی بی پاٹل نے کہا کہ بھالکی کی سرزمین پر پہلی مرتبہ کل ہند سطح کا اردو مشاعرہ منعقد ہونا شہر کے لیے خوش بختی اور باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کرناٹک اردو اکادمی کے رکن محمد امین نواز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ محمد عظیم بادشاہ کے مسلسل اصرار اور بھالکی کے عوام کے اردو زبان سے گہرے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں سے ممتاز شعرا کو ایک منچ پر جمع کیا گیا، جنہوں نے اپنے کلام کی مٹھاس سے بھالکی کی فضا کو ادب کی خوشبو سے معطر کردیا۔
انہوں نے گنگا جمنی تہذیب اور قومی یکجہتی کے حوالے سے اپنے احساسات و تاثرات پر مبنی اشعار بھی پیش کیے، جنہیں سامعین نے خوب سراہا۔شیخ عبدالنصیر نے اپنے خطاب میں کرناٹک اردو اکادمی اور رکن محمد امین نواز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھالکی کی ممتاز تعلیمی و سماجی شخصیت محمد عظیم بادشاہ اور شہر کے عوام کے اصرار پر کرناٹک اردو اکادمی، محکمہ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف حکومتِ کرناٹک کے تحت بھالکی میں پہلی مرتبہ کل ہند مشاعرہ منعقد کرکے نہ صرف بھالکی بلکہ اطراف کے دیہات سے تعلق رکھنے والے ادب دوست افراد کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھالکی کے رکن اسمبلی، ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج اور بیدر ضلع انچارج وزیر ایشور بی کھنڈرے مشاعرے میں شرکت کے خواہاں تھے، تاہم بنگلورو میں اسی روز منعقدہ ایک اہم میٹنگ کے باعث وہ شرکت نہ کرسکے۔ ان کے مطابق وزیر موصوف نے بھالکی میں کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے کل ہند مشاعرے کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ شیخ عبدالنصیر نے اپنے منتخب اشعار پیش کرکے بھی محفل کو رونق بخشی۔ افتتاحی پروگرام کا آغاز مدرسہ مفتاح العلوم کے طالب علم التمش کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد کرناٹک کا ریاستی نغمہ ناڑ گیت تمام شرکائے تقریب نے احتراماً کھڑے ہوکر پڑھا۔
قاریہ بانو نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کی ، جبکہ ڈائمنڈ کالج بھالکی کی طالبہ علیزہ نے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔تقریب کے دوران بھاتمبرہ، بھالکی سے تعلق رکھنے والے مولانا عرفان اشاعتی کی تعلیمی و سماجی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا۔ بتایا گیا کہ وہ 130 سے زائد غریب اور مستحق طلبہ کی تعلیمی فیس کے لیے اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرکے ان کے کالج اکاؤنٹس میں فیس کی مد میں مالی معاونت جمع کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دینی، ملی اور سماجی خدمات بھی بلا امتیاز انجام دے رہے ہیں۔
ان خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزاز و تہنیت سے نوازا گیا۔ محمد امین نواز، رکن کرناٹک اردو اکادمی نے تمام معزز مہمانوں، شعرا اور بھالکی کے باذوق عوام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام اساتذہ کے لیے ایک روزہ ورکشاپ، طلبہ کے لیے ادبی و ثقافتی پروگرام، جماعت دہم میں اردو مضمون میں صد فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو اسناد اور فی طالب علم ایک ہزار روپے کے چیک کے ساتھ تہنیت، نیز بیدر، بسواکلیان اور اب بھالکی میں کل ہند مشاعروں کا انعقاد اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں اکادمی کی نمایاں سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیدر ضلع کے محبانِ اردو کے لیے آئندہ بھی مزید ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے اور اردو زبان کی ترقی، بقا اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے لیے مسلسل کام کیا جائے گا۔ افتتاحی تقریب کی نظامت محمد شریف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ اس کے بعد شمع روشن کرکے باضابطہ طور پر کل ہند مشاعرے کا آغاز کیا گیا۔کل ہند مشاعرے کی صدارت ممتاز، معروف اور کہنہ مشق شاعر و ادیب محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری نے کی۔ مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعرا نے اپنی منفرد شعری شناخت، مخصوص لہجے اور طرزِ اظہار کے ساتھ سامعین کو محظوظ کیا۔
مشاعرے میں افضل دانش، برہان پور، محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری، بیدر، سراجؔ سولاپوری، سولاپور، مقیم باگ، بسواکلیان، خادم اظہر، یادگیر، مجیب احمد مجیبؔ، بیجاپور، فیاض سکندرؔ، سداشیو پیٹ، تلنگانہ، عبدالحنان سیٹھ، بیدر، عبد الاشہر قادری، ہمناآباد، عظیم بادشاہ، بھالکی، ڈاکٹر مستقیم بیگم مسرورؔ، بیدر، حیدر علی شاکر، بیدر اور خالد پرواز نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض مقیم باگ نے انجام دیے۔شعرا کے کلام میں محبت و انسانیت، معاشرتی زندگی، تہذیبی اقدار، عصری مسائل، جذبات و احساسات اور زندگی کے مختلف رنگ نہایت خوب صورت انداز میں جلوہ گر ہوئے۔
خصوصاً افضل دانش نے اپنے منفرد اندازِ بیان اور مؤثر اشعار سے سامعین کو خوب محظوظ کیا اور بھرپور داد سمیٹی۔ دیگر شعرا کے اشعار پر بھی سامعین نے دل کھول کر داد دی اور محفل مسلسل واہ واہ اور تالیوں سے گونجتی رہی۔مشاعرے کے اختتام پر صدرِ مشاعرہ محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری نے اپنے صدارتی کلام سے قبل بھالکی کی ادبی، تعلیمی اور سیاسی تاریخ پر ایک معلوماتی اور پرمغز خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اردو اکادمی کے رکن محمد امین نواز نے بھالکی میں کل ہند مشاعرے کا انعقاد کرکے ایک نئی ادبی تاریخ رقم کی ہے، جبکہ اس مشاعرے کو کامیاب بنانے میں بھالکی کی ممتاز شخصیت اور اردو زبان کے متحرک خادم محمد عظیم بادشاہ کا تعاون بھی قابلِ ذکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے شعرا کی موجودگی نے اس محفل کو زبان و بیان کے مختلف اسالیب، لہجوں اور شعری تجربات سے ہم کنار کیا، جس کے باعث بھالکی کے اہلِ ذوق کو ایک ہی چھت تلے اردو شاعری کے متنوع رنگوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔میرؔ بیدری نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کرناٹک اردو اکادمی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں مشاعروں اور ادبی پروگراموں کے انعقاد سے اردو کے ادبی ذوق کو نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش جاری ہے۔ بھالکی میں منعقدہ کل ہند مشاعرہ بھی اسی ادبی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے ریاست کے ایک اور اہم خطے میں اردو شعر و ادب کی شمع روشن ہوئی ہے۔
انہوں نے خصوصی طور پر خواتین سامعین کا بھی شکریہ ادا کیا، جو مشاعرے کے اختتام تک پورے ذوق و شوق کے ساتھ موجود رہیں اور شعرا کے کلام کو سماعت کرکے انہیں بھرپور داد و تحسین سے نوازتی رہیں۔ بعد ازاں میرؔ بیدری نے اپنا صدارتی کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا اور زوردار داد سے سراہا۔آخر میں محمد عظیم بادشاہ نے مشاعرے کے کامیاب انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام افراد اور اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ادبی پروگرام کو کامیاب بنانے میں محنت کی۔
انہوں نے ہڑپد پریس رپورٹر، شیخ احمد، اننت کلکرنی، یوگیش منکاری، رفیق بھائی صدر ایم آئی ایم ٹرسٹ بھالکی، ستار بھائی، رفیق بھائی تعلقہ صدر JIH، بجرنگ سوریہ ونشی، خواجہ بھائی، محمد محی الدین پروپرائٹر رائل پرنٹرز بھالکی، رفیق چودھری، اسمٰعیل چودھری، شیخ علی احمد بھائی، اویس، علیم الدین، شیخ احمد بھائی، مولانا اختر، سید آصف صدر مدرس شاہین ہائی اسکول بھالکی، محترمہ ناظرہ بیگم میر معلمہ جی یو پی ایس بھالکی، نعیمہ بیگم ٹیچر، ڈاکٹر سارہ عنبر، زاہدہ بیگم، نغمہ بیگم ایڈمنسٹریٹر واسو ہسپتال، عفیفہ ماہین، قمر سلطانہ، آفرین بیگم، زیب النساء، ثمرین بیگم اور عائشہ بیگم سمیت تمام شرکائے مشاعرہ اور خدمت گاروں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بھاتمبرہ اور اطراف کے دیگر دیہات سے تشریف لانے والے علماء، دانشوروں اور باذوق محبانِ اردو، بالخصوص مولانا لائق علی اور مولانا اخلاق علی سمیت تمام شرکائے محفل سے بھی اظہارِ تشکر کیا۔یوں بھالکی کی سرزمین پر منعقدہ پہلا کل ہند مشاعرہ شعر و سخن کی خوشبو، گنگا جمنی تہذیب کے رنگ، قومی یکجہتی کے جذبات اور اردو زبان سے عوام کی محبت کی ایک خوب صورت یاد چھوڑتے ہوئے اختتام پذیر ہوا۔ یہ مشاعرہ نہ صرف بھالکی کی ادبی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرگیا بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک ایسے پلیٹ فارم کی صورت میں سامنے آیا جہاں مختلف خطوں کے شعرا، اہلِ قلم اور ادب نواز سامعین نے ایک ہی چھت تلے اردو کی شیرینی اور شعری روایت کے رنگا رنگ جلوے محسوس کیے۔