وزیر اعظم نریندر مودی کو شکایت ہے کہ جنتر منتر پر طلبہ کی زبان درست نہیں ہے۔ بی جے پی والوں کو نہ صرف اسٹینڈ اپ کامیڈین پلکت منی کی نقالی پر بلکہ راہل گاندھی کے اس سے محظوظ ہونے پر بھی اعتراض ہے مگر خود ان کی اپنی پارٹی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے سابق معاشی سیکریٹری کے لیے جو الفاظ استعمال کرتے ہوئے کھلی دھمکی دی اسے ملاحظہ فرمائیں ۔ دوبے لکھتے ہیں:’’یہ جو سبھاش گرگ سابق مالیاتی سیکریٹری کی بدتمیزی ہے،اسے میں نے ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے،میں نے اس کے اوپر فوجداری ہتکِ عزت کا مقدمہ کیا ہے،کیونکہ اس نے اپنے دفتر میں میرے ساتھ ملاقات کا ذکر کیا ہے،سبھاش تمہاری معلومات کے لیے میں سن 2009 میں رکنِ پارلیمنٹ بنا تب سے لے کر آج تک میں بھارت سرکار کے دفتر میں نہیں گیا ہوں،کیونکہ سیکریٹری بھارت سرکار پروٹوکول میں رکنِ پارلیمنٹ سے نیچے ہیں ۔ دوسرا 2009 سے لے کر آج تک میں نے کبھی بھی ٹرانسفر پوسٹنگ کی کوئی چٹھی لکھی ہے،تمہارا کیا تمہارا کوئی دوست بھی میری کوئی چٹھی یا دفتر کی کسی میٹنگ کے متعلق اطلاع دے دیں تو میں تمہیں مرد کی اولاد مانوں گا ۔ملک کی معیشت کو ڈبونے والے سبھاش کا راستہ جیل ہے ‘‘۔ مرد کی اولاد جیل کا راستہ کیا مہذب زبان ہے؟
سوال یہ ہے کہ نشی کانت دوبے سبھاش گرگ سے اس قدر ناراض کیوں ہیں ۔ اس کی وجہ ہے کہ حال میں جب حکومت نے جی ڈی پی کے غلط اعداد و شمار پیش کرکے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کو سبھاش گرگ نے اس جھوٹ کو بے نقاب کردیا ۔ ا س کے بعد زعفرانیوں نے نشی کانت دوبے کو ان پر چھوڑ دیا۔ انہوں نے 2018 کا وہ پرانا خط پبلک کر دیا جو وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے سبھاش گرگ کی معاشی پالیسیوں اور قدامت پسندانہ طرزِ عمل کو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا تھا یعنی ملک کی خستہ حالی کے لیے گرگ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا لیکن وہ تو صرف پانچ ماہ کے لیے مالی سیکریٹری بنائے گئے تھے۔مودی جی کو تو بارہ سال پانچ ماہ ہوچکے ہیں اس طویل عرصہ میں انہوں نے کیا اکھاڑ لیا۔ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے سابق فائنانس سیکریٹری سبھاش چندر گرگ کے خلاف مجرمانہ ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی سبھاش گرگ کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نشی کانت دوبے نے 2018 میں ان کے دفتر کا دورہ کرکے کارپوریٹ مفادات کے لیے لابنگ کرنے کا الزام لگایا ۔ بی جے پی اور آرایس ایس والے آج کل دن رات یہی کررہے ہیں اس لیے پر کسی نے اس پر یقین کرلیا۔
وزیر اعظم نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرکے قومی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کہا کہ اگر لوگ سودیشی (دیسی مصنوعات) اور خود انحصاری پر زور دیتے رہیں گے تو ملک کے نوجوان آزادی کے 100 سال مکمل ہونے تک ‘وکست بھارت’ (ترقی یافتہ ہندوستان) کے وارث ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے 21 سال کچھ نہیں ملےگا اور وہی اقتدار میں رہے تو ملنے کے لیے کیا باقی بچے گا؟ وزیر اعظم کو آج کل پر وچن سنانے کی بیماری لگ گئی ہے اور وہ ریل پر بھی وہی سب کرنے لگتے ہیں حالانکہ نئی نسل جین زی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہاں لوگوں کو روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں مگر اس سے بے نیاز مودی جی نے اپنی ریل میں زور دیا کہ وہ غیر ملکی تعطیلات اور بیرون ممالک میں شادی تقریبات منعقد کرنے سے گریز کریں، بجائے اس کے کہ ‘وکل فار لوکل’ منتر کی وکالت کریں۔ ملک کا کتنا فیصد طبقہ یہ چونچلے پالتا ہے؟ اور اس سے کیا فرق پڑے گا۔ آج کا نوجوان پیپر لیک سے لے کر تعلیمی نظام تک کی اصلاح چاہتا ہے اور روزگارکے لیے فکر مند ہے۔ ایسے میں ان بے پرکی باتوں پر کان نہیں دھرے گا۔
وزیراعظم نے اپدیش دیا کہ، ” سودیشی اور ‘وکل فار لوکل’ کے منتر کو اپنائیں، سیاحت کے لیے بیرون ملک نہ جائیں، بیرون ملک شادیاں نہ کریں، ‘ویڈ ان انڈیا’ منتر کو اپنائیں اور، جب تک ضرورت نہ ہو، سونا نہ خریدیں۔” ویڈ ان انڈیا کا راگ الاپنے والے مودی جی کا ’میک ان انڈیا‘ فلاپ نہ ہوتا تو یہ نصیحت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ وزیر اعظم کو پیسے کمانے کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ آمدنی ہوگی تبھی نا بچت بھی ہوسکے گی اور فضول خرچی ہوگی ۔ پی ایم مودی کے مطابق حکومت کی پالیسیاں درست ہیں اور ارادے صاف ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے لیکن اس ترقی کا سارا فائدہ دو سرمایہ داروں اور مٹھی بھر زعفرانیوں کی جیب میں جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا مل رہا ہے؟ وزیر اعظم کی حالیہ ریل میں جین زی یعنی نوجوان نسل کے لیے ایک بہت اہم پیغام ہے۔ وہ فرماتے ہیں "ہم جتنا زیادہ سودیشی اور خود انحصاری پر زور دیں گے، اتنا ہی مجھے یقین ہے کہ جب ہم آزادی کے 100 سال مکمل کر لیں گے تو ہم اپنے نوجوانوں کو ایک ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ سونپ دیں گے‘‘۔
اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ21 سال تک تو وہ اقتدار پر سانپ بن کر بیٹھے رہیں گے اور نوجوانوں کے خواب دو دہائی تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوں گے۔ اس پیغام میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ نئی نسل کےخواب اگر بکھرگئے تو اس کی ذمہ انہیں پر ڈال دی جائے گی لیکن جین زی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور بہت جلد لوگ ان کو جھولا پکڑا کر کہیں گے کہ ’سر بہت ہوچکا، اب اسے اٹھائیے اور چل دیجیے‘۔ اس تناظر میں جی ڈی پی کا ڈھول تو اپنے آپ پھوٹ جاتا ہے۔ اپریل سےجون سہ ماہی میں جو 7.8 فیصد کی شرح کی ترقی پر شادیانے بجائے جارہے ہیں وہ تو پچھلی سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی متاثر کن 8.6 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے توانائی کی منڈیوں میں تنازعات اور رکاوٹوں کے آغاز کے باوجود، یہ توقع سے کہیں بہتر رہا لیکن پینچ یہ ہے کہ اعداد و شمار ہی قابلِ اعتبار نہیں ہے۔مودی سرکار کے کھوکھلے دعویٰ کی ہوا توسابق فائنانس سیکریٹری سبھاش گرگ نے نکال دی ۔ انہوں نے کہا کہ جون میں، جی ڈی پی کا تخمینہ لگانے کیلئے حکومت نےتھوک قیمت کے اشاریہ کا استعمال ترک کر دیا۔ اگر مودی حکومت ایماندارانہ اعداد و شمار پیش کرتی تو حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بہت کم ہوتی۔ ان کااندازہ ہے کہ یہ عدد 6.2فیصد ہو تی ۔انہیں یقین ہے کہ مودی حکومت نے اعداد و شمار میں ضرور ہیر پھیر کیا تاکہ یہ نمبر بہت زیادہ نظر آئے۔
ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اجے شکلا نےمیڈیا میں یہ دعویٰ کردیا کہ حقیقت میں ہندوستان کی جی ڈی پی زیرو ہے۔ان کے مطابق ہندوستان میں بیروزگاری اتنی ہے کہ لوگ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور بھارتیوں کی حالت یہ ہے کہ پانچ، پانچ اور آٹھ آٹھ ہزار روپئے کی نوکری کے لیے بھی طویل قطاریں لگ رہی ہیں۔اسی لیے مودی حکومت برکس اجلاس کے موقع پر اپنی ناکامی چھپانے کے لیے نئی دلی کی سڑکوں کے کنارے ٹینٹ لگاتی ہے۔ اس بابت ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھورام راجن نے مودی حکومت کی تیز رفتار معاشی ترقی کے دعووں پر سوال اٹھایاکہ اگر ملک کی معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو نوجوانوں کیلئے خاطر خواہ روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں ہو رہے اور ملک کے اندر سرمایہ کاری میں تیزی کیوں نہیں آ رہی؟اس طرح راجن نے یہ بات ظاہر کردی کہ شرحِ نمو کے اعداد و شمار کو نہ صرف اندورنِ ملک ماہرین شک کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی کوئی ان پر یقین نہیں کرتا ۔
سرکاری اعدادو شمار کے مطابق روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کا دباؤ بڑھ رہاہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی خوردہ افراط زر اگست 2026 میں 4.82فیصد رہی۔ وزارت شماریات اور پروگرام کے نفاذ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں کنزیومر فوڈ پرائس انڈیکس 5.95 فیصد تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ خوراک کی افراط زر کا دباؤ عام خوردہ افراط زر سے زیادہ تھا۔دیہی علاقوں میں خوردہ مہنگائی اگست میں 5.23 فیصد تھی جبکہ شہری علاقوں میں یہ 4.31 فیصد تھی یعنی دیہی باشندوں کو شہریوں کے مقابلے میں زیادہ قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری علاقوں میں 5.64 فیصد کے مقابلے دیہی علاقوں میں خوراک کی افراط زر میں بھی 6.13 فیصد اضافہ ہوا۔مودی سرکار دیہات کو شہروں سے مہنگا کردیا ۔ ماہِ اگست میں تمام اشیاء کی ہول سیل مہنگائی کی شرح 110.8 رہی۔ وزارت تجارت اور صنعت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ جولائی میں تھوک مہنگائی کی شرح 9.48 فیصد تھی مگر اگست میں 9.92 فیصد سال بہ سال اضافہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے ایسی جی ڈی پی کا کیا فائدہ جو ہنگائی کو قابو میں نہ رکھ سکے۔ اس لیے اب کی بار کو ئی بھی حکومت کے اس دھوکہ اور فریب میں نہیں آئے گا اور عوام انہیں ضرور سبق سکھائیں گے۔
۔