سارا چمن اداس ہے کہ مالی چلا گیا
مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش
ازقلم: سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
جیسے جیسے عہدرسالت سے دوری بڑھ رہی ہے،قیامت قریب تر ہوتی جارہی ہے،روز بہ روز اہل اللہ،مشائخ اور اخیار و ابرار دنیا سے اٹھتے جارہے ہیں، گزشتہ چند برسوں سے تو جبال علم و عمل،رجال کار،وارثان انبیاء اورحاملان شریعت و طریقت،داعیان دین و مذہب اتنی تیزی سے راہی اجل ہوئے ہیں،جیسے تسبیح کے دانے یکے بعد دیگرے زمین پر گرتے چلے جاتے ہیں،اہل اللہ اورعلماء کا اتنی تیزی سے اٹھ جانا بھی علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے،ادھر کچھ دنوں سے ہم لوگوں کو ہرتھوڑے دن میں کسی شخصیت سے متعلق ایک تعزیتی تحریرلکھنی ہی پڑتی ہے،حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب مظاہری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں،جنکے احوال وخدمات کا تذکرہ آج کی تحریر میں مطلوب ہے،ماہنامہ اذان بلال،کے اصرار پر یہ تحریر لکھی جارہی ہے،حضرت مولانا کی حیات وخدمات کے حوالے سے اذان بلال خصوصی شمارہ شائع کررہا ہے تو ایسے موقع پر حافظے کی مدد سے ان سے وابستہ اپنی یادوں کو سپردقرطاس کررہاہوں۔
28 رمضان المبارک بمطابق 18مارچ 2026 کو سوشل میڈیا کے ذریعے یہ افسوسناک خبرموصول ہوئی کہ ہمارے حضرت،دارالعلوم آگرہ کے بانی،مبانی اور روح رواں حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب مظاہری چمپارنی اس دار فانی سے ہمیشہ کےلئے رخصت ہو گئے،خبر سنتے ہی جلدی جلدی میں اناللہ واناالیہ راجعون زبان سے جاری ہوگیا،چونکہ حیدرآباد میں افطار کا وقت ہوچلاتھا اس لیے خبر کی مزیدتحقیق افطار کے بعد کی گئی،تصدیق کے بعد ایک چھوٹی سی خبران الفاظ کے ساتھ میں نے سوشل میڈیا پر جاری کردی جو کافی وائرل ہوگئی اور بڑی تعداد میں لوگوں کے فون آنے لگے وہ خبر کچھ اسطرح تھی کہ
*دارالعلوم آگرہ کے مہتمم حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب مظاہری کا انتقال*
*اناللہ وانا الیہ راجعون*
یہ خبرانتہائی افسوس ناک ہے کہ ملک کے نامور عالم دین،دارالعلوم آگرہ کے بانی ومہتمم،حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب مظاہری ایڈیٹر ماہنامہ اذان بلال آگرہ ابھی کچھ دیرقبل انتقال کرگئے،اللہ تعالی انکی خدمات کو قبول فرمائے اور درجات کو بلند فرمائے،حضرت مولانا مرحوم طلبہ کے حق میں انتہائی شفیق،مہربان اور نرم دل تھے،وہ طلبہ کے بڑے خیرخواہ تھے اورقدم قدم پر انکی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ناچیز سے بھی بڑی محبت اورشفقت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔فون پر جب کبھی رابطہ ہوتا تو ہماری سرگرمیوں کا جائزہ ضرور لیتے،کئی بار دہلی کے اخبارات میں میری تحریر دیکھ کر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا اورفون کرکے حوصلہ افزائی کی۔ناچیز نے انکی شفقت و محبت کا بھرپور فائدہ اٹھایا،ادھر کچھ دنوں سے حضرت مولانا،صاحب فراش تھے،بالآخر آج وقت موعود آپہونچا اور اس دارفانی سے رخصت ہوگئے،رب کریم انکی خدمات کو قبول فرمائے اور انکی مغفرت فرمائے،احباب سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔تفصیلی تحریر بعد میں ان شاءاللہ۔
*سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد*
28 رمضان المبارک بروز چہارشنبہ 2026
حضرت مولانا سے ہمارا رابطہ کب اور کیسے ہوا؟ اسکی تفصیل کچھ اسطرح ہے کہ ماہ رمضان میں ہم لوگ دیوبند گئے،وہاں داخلہ امتحان کی تیاری کررہے تھے کہ اسی موقع پر دارالعلوم کے دروازوں اورشہر دیوبند کے چوک چوراہوں پر جگہ جگہ مختلف مدارس کا اشتہار لگا ہوا دیکھا،جوعام طور پرطلبہ کو راغب کرنے کےلئے مدارس کی جانب سے لگایا جاتاہے،جوطلبہ دارالعلوم کے داخلہ امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں،اس اشتہار کے ذریعے ایسے طلبہ اپنی سہولت کے اعتبار سے ان اداروں کا انتخاب کرتے ہیں،حصول تعلیم کےلئے ان اداروں میں جاکر آگے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں،ان میں دیوبند کے قرب و جوار کے علاوہ دور دراز کے مدارس بھی ہوتے ہیں،طلبہ کو رغبت دلانے کے لئے بہت سے مدارس اپنے یہاں طلباء کو دی جانے والی سہولتوں اور وظائف وغیرہ کا پرکشش اعلان کرتے ہیں،ہم لوگ جب داخلہ امتحان سے فارغ ہوگئے اور دارالعلوم کی لسٹ میں ہمارا نام نہیں آیا تو اب ہمارے پاس دو راستے تھے،ایک تو یہ کہ واپس حیدرآباد لوٹ جایا جائے اور دوسرا یہ کہ وہیں کسی ادارے میں داخل ہوکر آگے کی تعلیم جاری رکھی جائے،پھر اگلے سال دارالعلوم کے امتحان میں شامل ہواجائے،چنانچہ مشورے کے بعدہم نے حیدرآباد لوٹنے کا ارادہ ترک کردیا اور قریب کے کسی ادارے میں داخل ہوکر پڑھنے کا عزم کرلیا گیا،اب سوال یہ تھا کہ کہاں داخلہ لیاجائے؟ اسی درمیان کئی جگہوں پر ایک نمایاں اشتہار نظر سے گذرا،جس میں دارالعلوم آگرہ لکھا ہوا تھا اور وہاں طلبہ کو دی جانے والی سہولتوں کا ذکر اشتہار میں نمایاں طور پر نمبروار درج تھا،مشورے کے بعد دارالعلوم آگرہ جانے کا ذہن بنالیاگیا،اب سوال یہ تھا کہ آگرہ کیسے جایا جائے؟اشتہار میں مہتمم صاحب کا رابطہ نمبرموجود تھا،اس نمبر پرہم لوگوں نے فون کیا تو ہمارے سلام کرنے سے پہلے ادھر سے سلام کی آواز آئی،ہم نے جواب دیا اور خیرخیریت کے بعدپوچھا،حضرت ہم لوگ دیوبند سے بات کررہے ہیں آپ کے دارالعلوم آگرہ آنا چاہتے ہیں کیا صورت ہوگی؟ ادھر سے جواب آیا کہ بہت آسان ہے،ہمارے مدرسے کے ایک استاذ وہیں دیوبند میں فلاں جگہ پر ہیں یا تو آپ انکے ساتھ آجائیے یا نہیں تو فلاں فلاں وقت میں آگرہ کےلئے ٹرین ہے،بذریعہ ٹرین آپ حضرات آگرہ کینٹ اسٹیشن آجائیں اور ہم یہاں سے آپ کو رسیو کرلیں گے،ہم لوگ کئی ساتھی دیوبند سے تاج محل کے شہر اکبرآباد آگرہ کے لئے بذریعہ ٹرین ٹکٹ لیا اور روانہ ہو گئے، کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد آگرہ کینٹ اسٹیشن پر ہماری ٹرین رکی اور ہم لوگ ٹرین سے اتر گئے،اسٹیشن سے باہر آئے تو دیکھا کہ وہاں سفیدکلر کی بولیرو کار ہمارے استقبال کےلئے کھڑی ہے،اس میں ایک ڈرائیور بھی موجود تھے جو ہمارا انتظار کررہے تھے،ڈرائیور صاحب ہمارا حلیہ دیکھ کر ہماری جانب لپکے اورہم سے کہا کہ چلئے ہم دارالعلوم آگرہ سے آپ کے استقبال کے لیے یہاں موجود ہیں،آئیے تشریف لائیے اور پھر ہم لوگ بولیرو کار میں سوار ہو گئے،ڈرائیور نے اسٹیرنگ سنبھالی اور کچھ ہی دیر میں ہم لوگ محلہ پیر جیلانی آگرہ کے سامنےپہنچ گئے،شام کا وقت ہوچکا تھا،ڈرائیور نے وہاں پہونچ کر ہماری رہنمائی کی کہ مدرسہ یہیں پر واقع ہے،آپ حضرات اپنا سامان رکھ کرفریش ہوجائیں،چنانچہ ہم لوگ ایک کمرے میں سامان وغیرہ رکھنے کے بعدنہاں دھوکرفریش ہو گئے اور دوسرے دن داخلے کی کاروائی میں لگ گئے،فارم وغیرہ پر کرنے اور داخلے کے مراحل سے گزرنے کے بعد ہماری ملاقات حضرت مہتمم صاحب سے دفتر اہتمام میں ہوئی،یہی ہماری پہلی ملاقات تھی،پھر جب ہم لوگوں کا داخلہ وہاں ہو گیا تو حضرت مولانا اگر مدرسے میں ہوتے تو ان سے تقریبا روزانہ ملاقات ہوجاتی،چونکہ ہمارے اسباق بھی ان سے متعلق کیے گئے تھے،اس لیے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا اور استفادہ کیا جاتا،دوران درس عبارت خوانی وغیرہ کی ذمہ داری یہ ناچیز ہی اداکرتا،اس لیے درمیان درس اساتذہ کے مخاطب ہم ہی ہوتے،حضرت مولانا اکثر سفر میں رہتے،مدرسے میں ان کا بہت کم وقت گزرتا،جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی کتاب کسی دوسرے استاذ سے متعلق کرجاتے اورنصاب کے تکمیل کی ہدایت بھی دے دیتے،جب مدرسے میں ہوتے تو پابندی سے متعلقہ اسباق پڑھانے کا اہتمام کرتے تھے،بخاری اور مشکوت جیسی اہم کتاب ان سے متعلق رہتی تھیں،اسلئے حضرت مولانا طلباء کو نہ صرف یہ کہ اسباق پڑھاتے تھے بلکہ اکثر طلبہ سے انکی ضروریات اور پریشانیاں بھی معلوم کرتے اور اسکی تکمیل کےلئے بے چین رہتے،محنت سے پڑھنے کی تاکید کرتے،اس طرح طلبہ کا تعلیمی سال خوشگوار ماحول میں گزر جاتا اور سال کے اختتام پر یہ محسوس ہوتا کہ انتہائی سرعت کے ساتھ تعلیمی سال پورا ہو گیا،درمیان سال کئی ایسے مواقع میرے ساتھ خود پیش آئے،جسے بھلایا نہیں جاسکتا،حضرت مولانا کا بے انتہا مشفقانہ برتاؤ،محبت اورطلباء کےتئیں ان کی خیرخواہی کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا،ہم لوگوں کو ہفتے،دو ہفتے مدرسے میں ہوئے ہونگے کہ فجر کی نماز میں ایک دن امام صاحب نہیں تھے،مسجد میں جماعت کا وقت ہو گیا،ہمارے بعض استاذ نے مجھ سے کہا کہ چلیے آپ نماز پڑھائیے،ہم نے حکم کی تعمیل میں نماز پڑھادی،نماز کے بعد جب میں نے سلام پھیرا تو پیچھے کی صف میں دیکھا کہ حضرت مہتمم صاحب بھی تشریف فرما ہیں،حالانکہ حضرت مولانا جب مدرسے میں ہوتے تو نماز کی پابندی تو کرتے لیکن مسجد میں نماز کے لیے کم تشریف لاتے تھے،اس کی وجہ یہ تھی کہ ضعف کی وجہ سے سیڑھیوں سے چڑھنے،اترنے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا،بار بار اترنا،چڑھنا ان کے لیے مشکل تھا،تیسری منزل پر آفس اور انکا کمرہ تھا،وہیں نماز ادا کرتے تھے لیکن کبھی کبھار جائزہ لینے اورنماز کے بہانے مسجد میں ضرورتشریف لے آتے،اس دوران بچوں کی تعلیم و تربیت اور اساتذہ کی کارکردگی پر ایک نظر ضرور ڈالتے اور گہرائی سے اسکا جائزہ لیتے، کوئی چیز قابل اصلاح ہوتی تو اس کی نشاندہی فرماتے،گویا وہ مدرسے کے حالات،طلباء کی نقل وحرکت اور اساتذہ کی سرگرمیوں سے بے خبرنہیں بلکہ ہمیشہ باخبر رہتے،نماز ہوگئی تو اس دن کچھ دیر کے بعد مجھے حضرت مولانا نے کسی خادم کے ذریعے آفس میں بلوایا،میں ڈرتے ڈرتے حاضرخدمت ہوا اورباہر سے ہی سلام کیا تو حکم ہوا کہ اندرآئیے اور بیٹھ جائیے،میں نے حکم کی تعمیل کی اور ایک طرف کونے میں بیٹھ گیا،حضرت مولانا اسوقت کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے،کچھ دیر کے بعدنظر اٹھائی اور میری جانب دیکھ کرفرمانے لگے کہ آج فجر کی نماز آپ نے پڑھائی؟ میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں میں جواب دیا تو فرمانے لگے ماشاءاللہ آپ کی آواز اورتلاوت تو بہت اچھی ہے،اس کے بعدفرمایا کہ آپ نے قرآن کہاں سے حفظ کیا اور کہاں پڑھا؟اس طرح کے کئی سوالات کچھ منٹ تک وہ مجھ سے کرتے رہے اور میں اسکا جواب دیتا رہا،بات کرتے کرتے ایک دم،اچانک سے کھڑے ہوگئے،پیچھے الماری تھی اسے کھولا اور کچھ نکالا،پھرمصافحے کے لیے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئے اورفرمایا کہ جائیے محنت سے پڑھیئے، کوئی ضرورت ہوتو ہم سے ضرور بتائیے،میں مفتی عبدالقدوس صاحب سے کہہ دوں گا کہ وہ جہری نماز پڑھانے کی ذمہ داری آپ کو دیدیں۔سلام مصافحہ کے بعد میں دفتر سے باہر نکلا اور دیکھا تو میرے ہاتھ میں ایک اچھی خاصی رقم تھی جو میری حوصلہ افزائی کے لیے مولانا نے عنایت فرمایا تھا،اس کے بعدبھی کئی ایسے مواقع آتے رہے،جب میں مولانا کی خرد نوازی،حوصلہ افزائی اور ان کی شفقت و محبت سے بھرپور استفادہ کرتا رہا،وہ طلباء سے متعلق کسی طرح کے کمپرومائز کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے،چاہے وہ تعلیم کا مسئلہ ہو یا پھر دیگر کوئی اورمعاملہ ہو،ہمیشہ طلباء کے حق میں ڈٹے رہتے اورطلباء کے خلاف بہت کم سنتے تھے،کسی طلباء کے اخراج کی رپوٹ اگر دفتر میں پہونچ جاتی تب بھی اس معالے میں نرمی اختیار کرتے اورحتی الامکاں اخراج سے گریز کرتے،اساتذہ کو بھی ہمیشہ یہی تاکید کرتے کہ طلباء کے ساتھ جہاں تک ہوسکے خیرخواہی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیاجائے،شاید اسی لئے وہ مدرسے کی ایک ایک چیز پر باریکی سے نظر رکھتے،مدرسے میں کھانا کیا بن رہا ہے؟ طلباء کو کونسا کھانا مل رہا ہے،کھانے میں کوئی شکایت تو نہیں ہے؟ طلباء کو بلاکر پوچھتے آج کھانے میں کیا بنا تھا ؟کھا نا کیسا تھا وغیرہ وغیرہ،حضرت مولانا بیک وقت مدرسے کے شیخ الحدیث بھی تھے،بہترین ناظم و منتظم بھی،اذان بلال کے ایڈیٹر بھی اور سب سے بڑھکر وہ طلبا کے محسن و مربی بھی تھے،دنیا بھر کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے پابندی سے اخبارات کا مطالعہ بھی کرتے،کئی بار تو صبح صبح بازار سے مجھ سے اخبار منگواتے،طلباء کے سالانہ اور مسابقاتی پروگرام میں ناچیز نے بھی کسی عنوان پرتقریر میں حصہ لیا،اس میں میری پوزیشن آئی،جب انعامی تقریب منعقد ہوئی تو میری تقریر سن کرحضرت مولانا اتنے خوش ہوئے کہ مجھے دفتر بلا کرفرمایا کہ یہ تقریر تو آپ نے کسی کتاب سے یاد نہیں کی ہے،کس نے تیار کیاہے؟ میں نے بتایا کہ حضرت یہ تقریر میں نے خود لکھی ہے اور اپنے سے تیار کی ہے،تقریر انکو اتنی پسند آئی کہ دوبارہ مجھ سے دفتر میں سنا اورحوصلہ افزائی فرمائی،اس طرح اوربھی کئی مواقع ایسے آئے جن سے میں مستفید ہوتا رہا،ششماہی اور سالانہ امتحان میں ناچیز کی اول پوزیشن آئی تو اس موقع پربھی حضرت مولانا نے انعام و اکرام سے نوازا اورحوصلہ افزائی فرمائی۔اس طرح طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی خیرخواہی کا میں مشاہدہ کرتا رہا،درس میں اکثر بزرگوں کے کوئی اہم واقعات ضرور سناتے اور اکثر وبیشتر فرماتے کہ میں سفر میں جانا نہیں چاہتا لیکن مجبورا صرف اسلئے جاتاہوں کہ آپ لوگوں کی ذمہ داری میرے سر ہے، کم از کم اتنا انتظام تو ہوجائے جس سے آپ حضرات کے کھانے،پینے اور وظیفہ وغیرہ کے جو اخراجات ہیں وہ پورے ہوجائیں،صرف اسی فکر کو لے کر میں سفر میں جاتا ہوں اور میرا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا،آپ کی ضروریات کا بہتر سے بہترنظم ہو بس اسی لئے میں سفرکرتاہوں،انکا دعوی تھا کہ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے بعد طلباء کو معیاری کھانا،میرے علاوہ کوئی نہیں دیتا،میں چاہتاہوں کہ میرے یہاں کے طلباء کو ساری چیزیں معیاری فراہم کی جائیں،کیونکہ آپ مہمان رسول ہیں اورمہمان رسول کی جتنی تکریم کی جائے وہ کم ہے،اکثر اسفار انکے امریکہ اور دیگر ممالک کے ہوتے تھے،اس وقت طلباء کے درمیان یہ مشہور تھا کہ ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ غیرممالک کے اسفار اگر کوئی عالم کرتے ہیں تو وہ ہمارے حضرت مہتمم صاحب ہی ہیں،معلوم نہیں اس میں کتنی صداقت تھی اور یہ بات کس حدتک درست تھی؟ سال کے اخیر میں ہم لوگ درس مسلسلات میں شرکت کے لیے آگرہ سے سہارن پور جامعہ مظاہر گئے تو وہاں حضرت مولانا شیخ یونس صاحب مظاہری رحمہ اللہ مسندحدیث پر جلوہ افروز تھے،درس مسلسلسلات میں شرکت کے بعدہم لوگ حضرت شیخ سے ملاقات کےلئے انکے کمرے میں گئے تو حضرت شیخ یونس صاحب نے ہم سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے جب دارالعلوم آگرہ کا نام بتایا تو بہت خوش ہوئے اورفرمایا کہ اچھا،دارالعلوم آگرہ سے آئے ہو؟مولوی ابوالبرکات صاحب کے یہاں سے؟ "مدرسے کامہتمم تو مولوی ابوالبرکات مظاہری جیسا ہونا چاہیے”۔حضرت شیخ یونس صاحب سے جولوگ واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ حضرت شیخ سخت مزاج کے حامل،منفرد مزاج رکھتے تھے،بڑے اللہ والے،ملک کے ممتاز اورجلیل القدرمحدث میں انکا شمار ہوتا تھا،مولانا ابوالبرکات صاحب انکے شاگردوں میں تھے،اتنی عظیم شخصیت اگر اپنے کسی شاگرد کے بارے میں ایسی بات کہے تو یہ کم بڑی بات نہیں ہے،میرے نزدیک یہ بڑی سند ہے۔رب کریم دونوں کی مغفرت فرمائے۔
کئی سال کے بعد ایک دن مولانا ابوالبرکات صاحب کا فون میرے پاس آیا،انکا نمبرسیو نہیں تھا،فون اٹھایا تو ادھر سے سلام کی آواز آئی اورفرمانے لگے دارالعلوم آگرہ سے ابوالبرکات مظاہری بول رہاہوں،میں خوش ہوگیا اور کچھ دیر کےلئے سکتے میں آگیا،فورا سنبھلا اور عرض کیا کہ حضرت کیسی ہے آپ کی طبیعت؟ فرمانے لگے ٹھیک ہوں،پھرمیری خیرخیریت دریافت کرنے کے بعد فرمایا! آج اخبار پڑھ رہا تھا،اس میں آپ کی تحریرنظر سے گذری تو خیال آیاکہ یہ کون صاحب ہیں؟ ذرا تعارف ہوجائے،نمبرتحریر کے ساتھ موجود تھا اسلئے فون لگایا،تصویر دیکھ کر لگتاہے کہ آپ یہاں کے طالب علم رہے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو بہت خوش ہوئے،دعائیں دیں اور حوصلہ افزائی کرنے لگے،کافی دیر تک باتیں ہوئیں، اسکے بعد یہ سلسلہ جاری ہوگیا،وقفے وقفے سے میں بھی فون کے ذریعے انکی خیرخیریت لے لیتا یا کبھی حضرت مولانا کا ہی فون آجاتا اورخوشخبری سناتےکہ آج کے اخبار میں ماشاء اللہ آپ کی تحریر شائع ہوئی ہے،مبارک ہو،لکھتے رہئے،آپ اچھے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں،وغیرہ وغیرہ ایک بار فون پر ہی کہنے لگے کہ آپ آگرہ آکر اذان بلال کو سنبھالئے،میں اذان بلال کےلئے آپ جیسے سنجیدہ صاحب قلم کی تلاش میں ہوں،اب میری عمربھی ہوچکی ہے،بات آئی گئی ہوگئی،بہرحال یہ انکی خرد نوازی،اپنائیت اورمحبت وشفقت کی دلیل تھی کہ وہ ہم جیسے طالب علموں کو اتنی اہمیت دیتے تھے،طبیعت کی ناسازی کے باوجود یہ تحریر طویل ہوتی جارہی ہے،پچھلے کئی دنوں سے میری طبیعت ناساز ہے اور اذان بلال کے لئے اس تحریر کا تقاضہ باربار کیاجارہا ہے،اب آئیے ذرا ایک نظر انکے احوال و خدمات پر ڈالی جائے،انکی پیدائش کہاں ہوئی تعلیم کہاں سے اور کب حاصل کی؟آئیے اسکی تفصیل جانتے ہیں۔
*پیدائش اورتعلیم وتعلم*
حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب مظاہری کی ولادت باسعادت سرزمین چمپارن کے بھروا ٹولہ نامی گاؤں میں ہوئی جومغربی چمپارن کا حصہ ہے اور بتیا شہر سے تقریبا 25 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے،آپ کے والد ماجد کا نام محمد یاسین ہے،یاسین صاحب نیک دل،شریف النفس،دینی مزاج کے حامل ایک کسان آدمی تھے اورکھیتی باڑی کرتے تھے،مولانا سیدشاہدمظاہری صاحب اس تعلق سے لکھتے ہیں کہ”آپ کے والد کا نام محمدیاسین ہے،یکم جنوری 1948 عیسوی مطابق 18 صفرالمظفر1367 ہجری میں مغربی چمپارن بہار میں آپ کی ولادت ہوئی”
(علمائے مظاہراور انکی علمی و تصنیفی خدمات)
یاسین صاحب کا خاندان ایک شریف خاندان تھا،مولانا ابوالبرکات صاحب اپنے بہن،بھائیوں میں سب سے بڑے اور اس خانوادے کے اہم سپوت تھے،آپکی کامیابی کے آثارکم سنی سے ہی ظاہر ہونے لگے تھے،حصول علم کا شوق اور دلچسپی بچپن سے تھی،ابتدائی تعلیم کا آغاز مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی چمپارن سے ہوا اورتکمیل حفظ قرآن جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا،چمپارن میں حافظ خلیل الرحمن صاحب مرحوم کے پاس کی،پھر گورکھپور کی ایک مسجد میں فارسی وعربی درجات کی ابتدائی کتابیں پڑھیں،اسکے بعد جامع العلوم پٹکاپور، کانپور میں آپ نے مشکوتہ تک کی تعلیم حاصل کی،اور دورۀ حدیث کے لیے جامعہ مظاہر علوم سہارنپورتشریف لے گئے،وہاں آپ نے بخاری شریف شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ زکریا علیہ الرحمہ اورحضرت مولانا شیخ یونس صاحب جونپوری رحمہ اللہ کے علاوہ اس وقت کے اکابر اساتذہ سے احادیث کی دیگر کتابیں پڑھیں،مولانا سیدشاہد صاحب رقم طراز ہیں کہ”بعد ازاں مدرسہ جامع العلوم کانپور میں قافیہ قدوری سے مشکوت شریف تک تعلیم حاصل کر کے سہارن پور آگئے اورجامعہ مظاہرعلوم میں داخلہ لے کر 1387 ہجری میں دورہ حدیث شریف پڑھ کرشعبان 1388 ہجری میں فراغت پائی،آپ نے بخاری شریف جلداول حضرت شیخ سے،بخاری جلددوم اور ترمذی شریف مولانا مفتی مظفرحسین صاحب سے،ابو داؤد شریف مولانا محمدعاقل صاحب سے،طحاوی شریف مولانا اسعداللہ صاحب سے،مسلم شریف،نسائی،ابن ماجہ اورمؤطین مولانا محمدیونس صاحب سے پڑھی ہے۔”ملاحظہ ہو(علمائے مظاہراور انکی علمی وتصنیفی خدمات)
*درس و تدریس کا آغاز*
فراغت کے بعد آپ نے جامع العلوم کانپور سے اپنے تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا،14/15 سال مستقل جامع العلوم کانپور میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اوریہاں درس نظامی کی مختلف کتابیں پڑھائیں،مفتی اعظم ہندحضرت مفتی محمود حسن گنگوہی،حضرت قاری صدیق احمد صاحب باندوی،حضرت شیخ زکریا رحمہم اللہ کے علاوہ اس وقت کے دیگر اکابرین سے آپ کا بڑا گہرا ربط وتعلق تھا،آپ کی ترقی و بلندی میں ان تمام اکابرین کی دعائیں شامل تھیں،نا مساعدحالات کی وجہ سے آپ کانپورچھوڑ کرچلے آئے اور اپنے آبائی وطن مدرسہ اسلامیہ بتیا،چمپارن میں بحیثیت صدر مدرس کے عہدے پر مامور کئے گئے،تقریبا 5 سال وہاں رہے،یہاں بھی فضاء آپ کے مخالف ہونے لگی تو آپ راجستھان کے سوائی مادھے پورتشریف لے گئے اور دین کی اشاعت میں مصروف ہوگئے،طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے آپ نے اس جگہ کو بھی بہت جلدی خیرآباد کہہ دیا،اسکے بعداکبرآباد شہر آگرہ آپ کی آمد کا شایدمنتظر تھا،یہاں آپ کی تشریف آوری ہوئی،مدرسہ افضل العلوم آگرہ میں بحیثیت مدرس تقرر ہوا،پھر ایک سال بعدآپ نے آگرہ ہی کے ایک دوسرے مدرسے تعلیم القران نامی ادارے میں کچھ دن تدریسی خدمات انجام دی،لوگوں کے رویے نے وہاں سے جانے اور اس جگہ کوبھی چھوڑنے پرمجبور کردیا،کسم پرسی و بے سرو سامانی کی حالت میں آپ نے اپنے بڑوں سے مشورہ کیا اور اللہ کی ذات پربھروسہ کرتے ہوئے دارالعلوم آگرہ کا قیام عمل میں لایا۔ 1986 میں اس ادارے کی بنیاد رکھی،دارالعلوم آگرہ جب قائم ہوا تو حالات بہت نازک تھے،آپ نے دیگر احباب کو ساتھ لیکر توکل علی اللہ ادارے کی ترقی اور بلندی کے لیے قسم کھائی اور کمر باندھکر تن من دھن سے ادارے کی آبیاری شروع کی،آپ کی مخلصانہ جدوجہد اوربے مثال قربانیوں سے چند ہی برسوں میں یہ نوخیز ادارہ ملک کے ایک معیاری ادارے میں تبدیل ہوگیا،جہاں آج شعبہ پرائمری سے لیکر،درجہ حفظ،درجات عربی،دورہ حدیث اورتکمیل افتاء تک کی تعلیم ہورہی ہے الحمدللہ۔
مولانا سیدشاہد صاحب ادارے کے قیام اوراسکے بانی مبانی کے پس منظر کو ان الفاظ میں درج کرتے ہیں کہ
"موصوف نے مظاہرعلوم سے فراغت کے بعد جامع العلوم کانپور سے اپنا علمی رشتہ استوار کیا اورمتواتر 15 سال یہاں درس نظامی کی مختلف اور متعدد کتابیں پڑھانے کے بعد آگرہ منتقل ہو گئے اور وہاں کی سرزمین میں ایک ادارہ دارالعلوم آگرہ قائم کر کے اپنی مادرعلمی کا علمی فیضان وہاں سے جاری کیا،موصوف اپنے اس قائم کردہ ادارے کے مہتمم ہونے کے ساتھ ساتھ شیخ الحدیث بھی ہیں،مولانا ابوالبرکات صاحب موصوف نے یہ ادارہ رجب 1406 ہجری میں اس جذبے کے ساتھ قائم کیا تھا کہ سرزمین آگرہ میں ایک علمی،دینی و اصلاحی درسگاہ قائم کر کے علوم دینیہ،نبویہ کی توسیع و اشاعت کی جائے،اس مقصد کے لیے آپ نے اولا ایک وسیع اراضی خریدی جواپنے نشیب و فراز کے اعتبار سے بڑی ناہموارتھی،موصوف نے بڑی جانفشانی اور ہمت ومحنت سے اس کو قابل تعمیر بنایا اور ایک عظیم الشان پانچ منزلہ عمارت تعمیر کرا دی جس میں مدرسے کے تمام شعبہ جات کے دفاتر،طلباء کے لیے رہائشی کمرے،مہمان خانہ،مسجد اورمطبخ وغیرہ بنے ہوئے ہیں،22 اگست 1992 مطابق 22 صفر 1413 ھ دارالعلوم آگرہ کی مسجد کا سنگ بنیاد حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب باندوی کے دست مبارک سے رکھا گیا،جبکہ سابقہ مسجد اس قدر چھوٹی تھی کہ نماز دو قسطوں میں ادا ہوتی تھی یعنی پہلے ایک جماعت نماز ادا کرتی تھی باقی لوگ باہر کھڑے منتظر رہتے تھے اور پھر انکے فراغ پر دوسری جماعت نماز ادا کرتی تھی،نیز ماہ شوال سنہ 1417 ہجری سے باضابطہ طور پر یہاں دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا اور دو مفتیان کرام کا پہلے ہی دن سے تقرر ہو کر فتاوی نویسی کا آغاز ہو گیا،مولانا ابوالبرکات صاحب کے حسن اخلاص اور سعی پیم سے اب اس ادارے میں دورہ حدیث شریف تک درس نظامی مکمل پڑھایا جارہا ہے،حضرت مولانا صدیق احمد صاحب باندوی کو دارالعلوم اور بانی دارالعلوم سے بہت تعلق خاطر تھا، کثرت کے ساتھ آپ یہاں تشریف لاتے،اپنی دعاؤں اور دلی توجہات سے ادارے کو نوازتے تھے،چنانچہ ان کی پراثر دعائیں بارآور ثابت ہوئی،مولانا مرحوم کے دلی تعلق کا اندازہ اس واقعے سے ہوسکتا ہے کہ جب اس دارالعلوم کا پورا تعلیمی نظم و انتظام پھوس کے چھپر میں چل رہا تھا تو حضرت موصوف نے اس کے احاطے میں بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی تقریر میں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ انشاءاللہ عنقریب ہی یہ دین کا قلعہ چھپر سے پختہ عمارت میں تبدیل ہو جائے گا،چنانچہ آپ کی یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھپر ایک بلند بالا پختہ عمارت میں بدل گیا،مظاہر علوم کے زمانہ قیام میں آپ نے اپنا روحانی تعلق حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ سے قائم کرلیا تھا،حضرت شیخ نور اللہ مرقدہ سے بھی نیازمندانہ اورعقیدت مندانہ تعلق تھا چنانچہ چارمرتبہ حضرت نور اللہ مرقدہ کے ساتھ ماہ رمضان میں جامعہ مظاہر علوم کی مسجد میں اعتکاف میں شرکت کی سعادت آپ کو نصیب ہوئی”
(علمائے مظاہر اور انکی علمی و تصنیفی خدمات)
دارالعلوم آگرہ کے علاوہ شہر آگرہ میں ہی ادارے کی دو بڑی شاخیں قائم ہیں جن میں سے ایک کا نام مدرسہ بلال ہے اور دوسرا معہدعثمان بن عفان کے نام سے ہے،دونوں ادارے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں،دینی اداروں کے علاوہ آپ نے کئی عصری ادارےے بھی قائم کئے جو چمپارن کے علاقوں میں چل رہے ہیں۔
*ماہنامہ اذان بلال کی اشاعت*
علم دین کی نشرواشاعت اور اسکی ترویج وتبلیغ کے لیے آپ صرف ان اداروں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ ایک معیاری میگزین،ماہنامہ اذان بلال بھی خوبصورت ٹائٹل اورمعیاری مضامین کے ساتھ دارالعلوم سے آگرہ سے جاری فرمایا،حضرت مولانا کی حیات میں اذان بلال پابندی سے شائع ہوتا رہا اور بڑی تعداد میں لوگ اس سے استفادہ کرتے رہے۔
مولانا سیدشاہد صاحب اس بار ے میں لکھتے ہیں کہ”دارالعلوم آگرہ سے آپ ایک علمی اور دینی مجلہ اذان بلال کے نام سے اچھے اورعمدہ پیمانے پر شائع کررہے ہیں،یہ مجلہ اپنے علاقے میں خصوصیت کے ساتھ عوامی و اصلاحی خدمات انجام دےرہاہے۔”( دیکھئےحوالہ سابق)
اذان بلال پہلی بارکب جاری ہوا؟ اس کا پہلا شمارہ کس سن میں منظرعام پر آیا؟ اسکا علم نہیں ہوسکا لیکن اتنا طے ہے کہ دارالعلوم آگرہ کے قائم ہونے کے دوتین سال بعدہی یہ رسالہ جاری ہوا ہے یعنی 1990ء تک اسکا اجرا ہوچکا تھا،اس رسالہ کو جاری کرنے کا اصل مقصد دارالعلوم آگرہ کے اساتذہ وطلباء کے اندرتحریری صلاحیت پیدا کرنا تھا،اسی لئے درس قرآن اور درس حدیث جیسے عناوین اساتذہ کے لیے خاص تھے،دیگر موضوعات پربھی اساتذہ خامہ فرسائی کرتے تھے،چنندہ طلباء کی تحریریں بھی شامل اشاعت ہوتی تھی،اداریہ کے لئے بہتر سے بہتر مضمون کا انتخاب کیا جاتا تھا،مدرسے کے احوال و کوائف،کارگزاری،امتحانی رپورٹ اورتعلیمی سرگرمیاں بھی اس میں پابندی سے شائع کی جاتی تھی،اسطرح یہ ایک معیاری رسالہ بن گیا،جسکا قارئین کو شدت سے انتظار رہنے لگا،ابتداء یہ رسالہ معاونین اور پڑھنے لکھنے والوں میں مفت تقسیم کیا جاتا تھا،بعد میں اسکی کچھ ممبری فیس مقرر کردی گئی،اس رسالے نے بھی ادارے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔خدا کرے کہ یہ رسالہ جاری رہے اور پہلے کی طرح پابندی سے اسکی اشاعت ہوتی رہے،موجودہ ذمہ داران کو اس پر توجہ کرکے اسے یقینی بنانا چاہئے۔
*مرض الوفات اور آخری سفر*
وفات سے کئی ماہ قبل حضرت مولانا مرحوم مختلف امراض کا شکار ہوگئے تھے،یاد داشت بھی متاثر ہوگئی تھی،اسی وجہ سےمتعلقین نے بہتر نگہداشت کےلئے انھیں انکے آبائی وطن چمپارن میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور حضرت مولانا وہاں منتقل کردئیے گئے،اسکے باوجود آپ کو ادارے کی فکرہمہ وقت رہتی تھی،15 رمضان المبارک 1448 ہجری بوقت افطار آپ کی طبیعت ناساز ہوئی اور آگرہ کے ایک ہاسپٹل میں آپ کو داخل کرایا گیا لیکن طبیعت مزید بگڑتی گئی،سدھار کے کوئی آثار نہ دیکھ کر آپ کو دہلی کے ہولی فیملی ہاسپٹل ٹرانسفر کردیاگیا،عمر کے آخری پڑاؤ پر ڈاکٹر کے مشورے سےآپ کا آپریشن توکیا گیا مگر وہ آپریشن کامیاب نہ ہوسکا،یہی آپریشن انکے لئے جان لیوا ثابت ہوا اور شاید رمضان المبارک کے قیمتی و آخری ایام آپ کے لیے مقدرتھا۔ 28 رمضان المبارک 1448 ہجری،چہارشنبہ کو افطار سے چندمنٹ قبل اپنے آبائی وطن چمپارن میں آپ نے آخری سانس لی،دوسرے دن 29 رمضان المبارک مطابق 19 مارچ 2026 جمعرات کے دن بعدنماز ظہر انکی نماز جنازہ ادا کی گئی،جنازے کی ادئیگی سے قبل ملک کے معروف عالم دین حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی نے چندمنٹ بیان فرمایا اور جنازے کی امامت حضرت مولانا مرحوم کے جانشین اور دارالعلوم آگرہ کے جواں سال مہتمم قاری سعید الرحمن صاحب نے پڑھائی،دھوپ کی شدت کے باوجودسینکڑوں لوگ جنازے میں شریک ہوئے اورنم آنکھوں کے ساتھ ہزاروں من مٹی کے نیچے انھیں سپردخاک کردیاگیا۔اسطرح بے شمارخوبیوں والی 76 سالہ یہ عظیم شخصیت جنھوں نے تقریبا نصف صدی تک مذہب اسلام اور اسلامی علوم کی تبلیغ و اشاعت کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور ایک دنیا کو اپنے علم کی روشنی سے منور کرتے رہے،بدعت وجہالت کی تاریکیوں میں ایک روشن چراغ جلاکر لوگوں کو راہ راست پر لانے کا فریضہ انجام دیتے رہے،ہمیشہ ہمیش کے لئے اس دارفانی سے رخصت ہوگئے،اورہم جیسے ہزاروں شاگردوں،محبین،متعلقین اور دینی خدمت گذاروں کو تنہا کرگئے،حضرت مولانا کو اردو،عربی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی دسترس حاصل تھی،انا للہ وانا الیہ راجعون،اہلیہ محترمہ کا انتقال کافی پہلے ہوچکا تھا،پسماندگان میں کئی صاحب زادگان اور صاحب زادیاں ہیں،رب کریم تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے،آپ کی خدمات کو قبول فرمائے،درجات کو بلند فرمائے اور اپنے شایان شان آپ کو جگہ مرحمت فرمائے،امید ہے کہ دینی وعلمی حلقوں میں انھیں اور انکی روشن خدمات کو دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ان شاءاللہ
آسماں انکی لحد پرشبنم افشانی کرے
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com