اسپیم کالز کو صرف بلاک نہیں، شکایت بھی کریں: ٹرائی

اسپیم کالز کو صرف بلاک نہیں، شکایت بھی کریں: ٹرائی

اسپیم کالز کو صرف بلاک نہیں، شکایت بھی کریں: ٹرائی
ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے تین ماہ میں 9.66 لاکھ شکایات درج، 1.48 ارب تشہیری کالز اور 7.30 ارب ایس ایم ایس روکے گئے

ازقلم: جادید جمال الدین

ممبئی، 31 اگست: موبائل فون پر آنے والی غیر مطلوبہ اور اسپیم کالز سے پریشان صارفین کے لیے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے واضح کیا ہے کہ صرف اسپیم نمبر کو بلاک کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کی شکایت بھی درج کرانا ضروری ہے۔ ٹرائی کے مطابق صارف کی جانب سے درج کی جانے والی ہر شکایت اسپیم کرنے والے نمبروں اور اداروں کی شناخت، ان کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور بار بار ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں مدد دیتی ہے۔

ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل صارفین کو بڑی تعداد میں اسپیم کالز اور پیغامات کا سامنا ہے۔ اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال 41 ارب سے زائد اسپیم کالز اور 129 ارب اسپیم پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ ایک عام صارف کو روزانہ اوسطاً دو سے تین غیر مطلوبہ کالز آتی ہیں۔ مالیاتی خدمات، جائیداد اور ٹیلی مارکیٹنگ سے متعلق کالز ان میں نمایاں ہیں۔

ٹرائی نے اسپیم اور غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات کے خلاف صارفین کی شرکت بڑھانے کے لیے ٹرائی ڈی این ڈی ایپ فراہم کی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے صارف اپنی ’ڈو ناٹ ڈسٹرب‘ ترجیحات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اسپیم کالز اور غیر مطلوبہ ایس ایم ایس کی شکایت بھی درج کراسکتا ہے اور شکایت کی صورتحال معلوم کرسکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2026 تک ڈی این ڈی ایپ 33.16 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جاچکی تھی۔ اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف ذرائع سے غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات سے متعلق 10.85 لاکھ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 9.66 لاکھ، یعنی تقریباً 89 فیصد شکایات، ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے درج کی گئیں۔

ٹرائی کے مطابق صارفین کی ڈی این ڈی ترجیحات کے نتیجے میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں تصدیق کے بعد تقریباً 1.48 ارب تشہیری کالز اور 7.30 ارب تشہیری ایس ایم ایس روکے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی جانب سے اپنی ترجیحات درج کرانا اسپیم مواصلات پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہورہا ہے۔

ٹرائی نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شہریوں کی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 21 لاکھ سے زائد موبائل نمبروں اور تقریباً ایک لاکھ اداروں کو اسپیم اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات بھیجنے میں ملوث پائے جانے کے بعد منقطع اور بلیک لسٹ کیا گیا۔

تاہم ڈی این ڈی رجسٹری میں صارفین کی شرکت اب بھی محدود ہے۔ 30 جون تک 22.4 کروڑ صارفین نے اپنی ڈی این ڈی ترجیحات درج کرائی تھیں، جبکہ ملک میں موبائل صارفین کی تعداد تقریباً 134.8 کروڑ ہے۔ یعنی صرف 16 فیصد صارفین نے اپنی ترجیحات درج کرائی ہیں، جبکہ 112 کروڑ سے زائد صارفین نے اب تک کوئی ترجیح درج نہیں کرائی۔

ٹرائی کے مطابق صارفین ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے تمام تجارتی مواصلات کو روکنے، صرف تشہیری کالز و پیغامات پر پابندی لگانے یا اپنی ضرورت کے مطابق مخصوص شعبوں، کالز اور ایس ایم ایس کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ترجیحات درج کرنے کے بعد تبدیلیاں عموماً 24 گھنٹے میں نافذ ہوجاتی ہیں۔

اینڈرائیڈ صارفین ایپ میں ’اسپیم کالز‘ کے حصے میں جاکر متعلقہ نمبر منتخب کرکے شکایت درج کراسکتے ہیں، جبکہ آئی فون صارفین ایپ ایکسٹینشن فعال کرنے کے بعد کال لاگ سے اسپیم کال کی شکایت کرسکتے ہیں۔ شکایت 1909 پر بھی درج کرائی جاسکتی ہے۔

ٹرائی کا کہنا ہے کہ نمبر بلاک کرنے سے ایک صارف کو وقتی تحفظ ملتا ہے، لیکن شکایت درج کرانے سے اسپیم کرنے والے پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا راستہ کھلتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے