’’وطن کے سپوت‘‘نئی نسل کوملک کی حقیقی تاریخ، شناخت اور تہذیب سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش: فضل رحمٰں رحمانی

’’وطن کے سپوت‘‘نئی نسل کوملک کی حقیقی تاریخ، شناخت اور تہذیب سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش: فضل رحمٰں رحمانی

’’وطن کے سپوت‘‘نئی نسل کوملک کی حقیقی تاریخ، شناخت اور تہذیب سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش: فضل رحمٰں رحمانی
جنگِ آزادیِ ہند کی نظر انداز کردہ تاریخ اور خانوادۂ رحمانی کی مختلف خدمات پر مفتی ریاض احمد قاسمی کی تحقیقی تصنیف منظرِ عام پر

مونگیر (پریس ریلیز)2 ستمبر 2026 جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذِ حدیث و فقہ مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی کی تازہ تصنیف ’’وطن کے سپوت‘‘ شاندار کتابت و طباعت کے ساتھ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ کتاب کو دارالاشاعت، خانقاہ رحمانی مونگیر نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو روپے مقرر کی گئی ہے۔ مصنف جامعہ رحمانی مونگیر میں تفسیر، فقہ اور حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں اور دارالعلوم دیوبند کے سابق معین المدرسین ہیں۔ یہ کتاب انہی کی تحقیق و مطالعے کا نچوڑ ہے۔

کتاب کی اشاعت پر امیرِ شریعت، مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے گہری مسرت کا اظہار کیا اور اسے ایک قابلِ قدر علمی و ادبی کاوش قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کتاب دراصل مختلف النوع مقالات کا مجموعہ ہے، جسے موضوعی اعتبار سے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ جنگِ آزادیِ ہند کے ان ابتدائی نقوش کو سامنے لاتا ہے، جو 1857ء سے بہت پہلے ہی اس سرزمین میں آزادی کی تڑپ، فکری بیداری اور عملی جدوجہد کی صورت میں موجود تھے، ( جسے اب ایک خاص نظریے کے تحت گمنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ) جب کہ دوسرا حصہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے دو عظیم بزرگوں قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری ؒاور والدِ گرامی، مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانی ؒکی علمی، فکری، اصلاحی اور عملی و سیاسی خدمات کا آئینہ دار ہے۔ امیرِ شریعت کے بقول قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری کی فقہی خدمات پر مبنی مقالہ اختصار کے باوجود جامعیت کا حامل ہے اور ان کی فقہی خدمات کے تعارف کے لیے ایک معتبر و مفید ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ اس کے بعد کے مقالات مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی فقہی بصیرت، تعلیمی جدوجہد، سماجی خدمات اور سیاسی فکر کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ امیرِ شریعت نے یہ بھی کہا کہ مصنف کا اسلوب سادہ، شگفتہ اور عام فہم ہے اور غیر ضروری طوالت سے اجتناب کے ساتھ جامعیت کا اہتمام اس کتاب کی نمایاں خوبیوں میں سے ہے، جس کے باعث یہ کتاب نہ صرف مدارس کے طلبہ و اساتذہ، بلکہ آزادی کی تاریخ، اکابرین کی خدمات اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے علمی و فکری ورثے میں دلچسپی رکھنے والے تمام اہلِ ذوق کے لیے یکساں مفید ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بھی اس موقع پر اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ ان کے بقول ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک محققانہ اور فکر انگیز کتاب ہے جو مجموعی طور پر اہلِ ذوق کے لیے دلچسپ معلومات کا خزانہ ہے اور حواشی و حوالہ جات کی پابندی نے اس کی علمی معتبریت میں مزید اضافہ کیا ہے، جب کہ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کے بقول مصنف نے کتاب کی ترتیب میں جدید تحقیقی اسلوب اپنایا ہے، پیش لفظ اور تمہید کے بعد وطن کی محبت، وطن کی آزادی و تعمیر میں حصہ داری اور جنگِ آزادی کے مفہوم و مقاصد پر گفتگو کر کے قاری کو موضوع سے قریب کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک مختصر مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں یورپی اقوام کی ہندوستان آمد اور ان کے خلاف مزاحمت کی طویل داستان کو اس خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے کہ دریا بکوزہ کی مثال سامنے آجاتی ہے۔ اس تمہیدی گفتگو کے بعد کتاب کا اصل مقالہ تین ابواب پر مشتمل ہے: پہلے باب میں علی وردی خان، سراج الدولہ، میر قاسم، نواب حیدر علی، ٹیپو سلطان شہید، اہلِ کیرالہ کی انگریزوں کے خلاف مسلح مزاحمت اور جدوجہدِ آزادی میں خدمات زیرِ بحث آئی ہیں۔ دوسرے باب میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز، سید احمد شہید، علماءِ صادق پور، مولانا سید محمد علی رام پوری، مولانا احمد اللہ اور بنگال کی فرائضی تحریک کی انگریز مخالف سرگرمیوں اور ان کے اثرات کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ تیسرا باب ان تحریکوں کے براہِ راست نتائج کو سامنے لاتا ہے، جس میں روہیل کھنڈ کی جنگ، امیر خان، مفتی محمد عوض، مولانا نصیر الدین دہلوی، علماءِ دیوبند اور جنگِ شاملی، اور جنگِ بریلی جیسے واقعات کا تاریخی و تحقیقی تجزیہ شامل ہے۔

اسی ذیل میں مصنف نے ایک اہم اصطلاحی نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ 1857ء انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ نہیں تھی، بلکہ اس سے پہلے ہی مسلمان ہندوستان کو انگریزی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مختلف محاذ پر سرگرمِ عمل ہو چکے تھے۔ اس پہلے تفصیلی مقالے کے بعد کتاب میں مزید چار اہم عنوانات کے تحت مقالات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پہلا مقالہ مولانا محمد علی مونگیری کی علمی و فقہی خدمات اور ان کے تربیت یافتہ فقہاء کے تعارف پر مشتمل ہے، جب کہ باقی تین مقالات بالترتیب امیرِ شریعتِ سابع مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی فقہی بصیرت، ان کی دینی وعصری تعلیم سے متعلق فکر و عمل کے چند گوشوں اور ان کے سیاسی نظریات کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہیں۔ کتاب کے سلسلہ میں یہ تفصیلات جناب فضل رحمٰں رحمانی ،ایچ او ڈی شعبہ صحافت جامعہ رحمانی مونگیر نے ایک پریس بیانیہ مین پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کتاب کا اصل مقصد نئی نسل کو موجودہ ہندوستان میں اپنی تاریخ، علمی روایات، تعلیمی نظام اور سیاسی حکمتِ عملی کے متعلق صحیح رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ اپنی شناخت اور ثقافت کے ساتھ اس ملک میں سر اٹھا کر جینے کی راہ آسان ہو سکے۔ کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں مذکور شخصیات، مقامات، تحریکات اور اصطلاحات کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے اشاریے کے تحت یکجا کر دیا گیا ہے، جو قاری کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس رکھی گئی ہے اور عربی و فارسی الفاظ کی بھرمار سے اسے بوجھل بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔یوں ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک ایسا علمی سرمایہ بن کر سامنے آتا ہے، جو جنگِ آزادی کی نظرانداز شدہ کڑیوں کو تاریخی حوالوں کی روشنی میں مربوط اور مستحکم کر تا ہے، ساتھ ہی خانقاہ رحمانی مونگیر کے اکابر کی علمی، فقہی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کو ایک حسین گلدستہ کی صورت میں پیش کرتا ہے، جس سے نسلِ نو کو یہ پیغام جاتا ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں اس کے وسائل سے استفادہ کا پورا حق ہے، جیسا کہ اس کی حفاظت اور استحکام و ترقی ہمارا فرض ہے۔

پیغام کی اسی جامعیت اور مختلف ضروری افکار کے اس حسین امتزاج کے باعث اہلِ علم و تحقیق کے حلقوں میں کتاب کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔

کتاب حاصل کرنے کے لئے براہ راست مصنف سے 7079707529 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے