فلک بوس چٹانوں سے حوصلے تمہارے
ہوجائیں گے مٹی مٹی !
جب ہم جائیں گے یہاں سے
گلستاں کو دشت کر جائیں گے !!
تمہاری آنکھوں کو …
ستارے دیں گے !
تمہارے روم روم میں …
بس جائیں گے خوشبو کی طرح
یاد کے چناروں پہ …
تنہائیوں کی برف گرتی ہوگی !
تمہارے لہجے میں پھر …
شبنم سی اُترتی ہوگی
جھرنوں میں میری آواز
سنائی دے گی
پھر دور بہت دور
چلی جائے گی
واپس تو نہیں آئے گی
درپن بھی نہ دیکھ پاؤگے تم
میری شبیہ اُس میں بھی جھلکتی ہوگی!
دیکھیں گے تم کو …
بہت دور سے ہم
دکھوں کی ایک کتاب دے جائیں گے …
جاتے جاتے
اُس میں آہوں کی حدت ہوگی!
اَن کہی سی باتیں ہوں گی
ہم جاکر واپس تو پھر نہیں آئیں گے !
ہم جاکر واپس تو پھر نہیں آئیں گے !