ڈیجیٹل انڈیا کے UPI پر چارج کا بوجھ!

ڈیجیٹل انڈیا کے UPI پر چارج کا بوجھ!

ڈیجیٹل انڈیا کے UPI پر چارج کا بوجھ!

✍️ افتخاراحمدقادری

مرکز کی مودی حکومت نے برسوں تک ملک کے عوام کو نقد لین دین کی عادت سے نکال کر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف لانے کے لیے جس متحدہ ادائیگی رابطہ یعنی Unified Payments Interface، المعروف UPI کو آسان، محفوظ، تیز رفتار اور جدید ہندوستان کی علامت قرار دیا، اب اسی ڈیجیٹل نظام کے بعض بڑے تجارتی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ یعنی MDR عائد کرنے کا فیصلہ ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ حکومت کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ عام صارف کو UPI کے ذریعے ادائیگی کرتے وقت براہِ راست کوئی چارج ادا نہیں کرنا ہوگا، فرد سے فرد کی تمام ادائیگیاں حسبِ سابق مفت رہیں گی اور ₹2,000 تک کی بیشتر مرچنٹ ادائیگیاں بھی MDR سے مستثنیٰ رہیں گی، لیکن ₹2,000 سے زائد مخصوص Person-to-Merchant یعنی P2M لین دین پر 0.4 فیصد MDR نافذ کیا جائے گا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد فی لین دین ₹300 مقرر کی گئی ہے۔ یہ نیا نظام 15 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ بظاہر یہ محض ایک مالیاتی اور تکنیکی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ UPI آج ہندوستانی معیشت اور عام شہری کی روزمرہ زندگی کا ایسا جزو بن چکا ہے جس کے اثرات محض بینکنگ نظام تک محدود نہیں رہے۔ سبزی والے سے لے کر بڑے تجارتی ادارے تک، رکشہ ڈرائیور سے لے کر آن لائن کاروبار کرنے والے نوجوان تک، دکان دار سے لے کر سرکاری خدمات استعمال کرنے والے شہری تک، ہر سطح پر QR کوڈ اور موبائل ادائیگی معمول کی بات بن چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب نقدی جیب میں نہ ہو تو خریداری مشکل ہوجاتی تھی لیکن آج موبائل فون اور بینک اکاؤنٹ کے ذریعے چند لمحوں میں ادائیگی ممکن ہے۔ اس سہولت کو مقبول بنانے میں حکومت، بینکوں، ادائیگی ایپس اور پورے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے برسوں محنت کی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد حکومت نے ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ اور ’’کیش لیس اکانومی‘‘ کے نعروں کو جس شدت کے ساتھ آگے بڑھایا، اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو محض شہری سہولت نہیں بلکہ اقتصادی پالیسی کا ایک اہم ستون بنا دیا گیا۔ عوام کو بار بار بتایا گیا کہ نقدی رکھنے کی ضرورت کم کیجیے، موبائل سے ادائیگی کیجیے، QR کوڈ اسکین کیجیے اور چند سیکنڈ میں لین دین مکمل کیجیے۔ BHIM UPI اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کو عام کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیری مہمات چلائی گئیں، تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے کی ترغیب دی گئی اور صارفین کو بتایا گیا کہ یہ نظام آسان بھی ہے، محفوظ بھی اور شفاف بھی۔
آج جب یہی نظام کروڑوں ہندوستانیوں کی روزمرہ ضرورت بن چکا ہے تو اس کے بعض تجارتی لین دین پر فیس یا MDR کا نفاذ لازماً عوامی اور تجارتی حلقوں میں سوال پیدا کرے گا۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا MDR براہِ راست صارف پر عائد کیا جانے والا چارج نہیں ہے اور ادائیگی کرنے والے شخص سے الگ سے رقم وصول نہیں کی جائے گی، تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مرچنٹ پر آنے والی اضافی لاگت بالآخر کاروباری لاگت کا حصہ نہیں بنے گی؟ اگر کسی دکاندار کو ہر بڑے UPI لین دین پر MDR ادا کرنا پڑے گا تو کیا وہ اس اضافی لاگت کو اپنے منافع میں برداشت کرے گا، یا کسی نہ کسی صورت میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر اس کا اثر پڑے گا؟ حکومت نے صارف سے MDR وصول کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، لیکن بازار میں کاروباری اخراجات کے بالواسطہ اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ نئے نظام کا مطلب یہ نہیں کہ ہر UPI ادائیگی پر چارج عائد ہوگیا ہے۔ حکومت کے مطابق فرد سے فرد یعنی P2P لین دین کسی رقم کی حد سے مشروط نہیں ہوگا اور مکمل طور پر مفت رہے گا۔ اسی طرح ₹2,000 تک کی مرچنٹ ادائیگیاں اور مخصوص شرائط پوری کرنے والے چھوٹے تاجروں کے لین دین بھی صفر MDR کے دائرے میں رہیں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس انتظام کے بعد تقریباً 96 فیصد P2M لین دین بدستور MDR سے متاثر نہیں ہوں گے۔ چنانچہ ’’UPI اب ہر ادائیگی پر چارج ہوگا‘‘ کہنا درست تصویر پیش نہیں کرتا، البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ صفر MDR کے طویل عرصے کے بعد بڑے تجارتی لین دین کے لیے نئی لاگت کا دروازہ کھل رہا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت عام مخصوص مرچنٹ لین دین پر ₹2,000 سے زائد رقم کے لیے 0.4 فیصد MDR مقرر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ₹10,000 کی ادائیگی پر MDR ₹40 بنتا ہے، جبکہ ₹75,000 یا اس سے زیادہ کے لین دین میں MDR کی زیادہ سے زیادہ حد ₹300 ہوگی۔ بعض مخصوص شعبوں، جن میں ریلوے، ٹیلی کمیونی کیشن، انشورنس، ایندھن اور بعض ضروری خدمات شامل ہیں، کے لیے الگ فلیٹ MDR کا انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ اس طریقے سے UPI کے وسیع تر ادائیگی نظام، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور آپریشنل ضروریات کے لیے مالی بنیاد مضبوط ہوگی۔ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ دراصل حکومت کی طرف سے صارف پر عائد کیا جانے والا عام ٹیکس نہیں بلکہ ادائیگی کے نظام میں شامل اداروں کے درمیان تقسیم ہونے والی لاگت ہے۔ وزارتِ خزانہ نے بھی واضح کیا ہے کہ MDR حکومت یا NPCI کی طرف سے بطور ٹیکس وصول کی جانے والی رقم نہیں بلکہ ادائیگی کے ماحولیاتی نظام کے شرکا، مثلاً بینکوں اور ادائیگی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد UPI کے طویل مدتی استحکام اور تکنیکی توسیع کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ رقم کس کے کھاتے سے نکلے گی؛ سوال یہ بھی ہے کہ اس فیصلے کے معاشی اور نفسیاتی اثرات کیا ہوں گے۔ UPI کی سب سے بڑی قوت اس کی سادگی تھی۔ صارف نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ادائیگی کے پیچھے کون سا بینک کتنا خرچ کررہا ہے، کون سا سرور کس قیمت پر چل رہا ہے یا ادائیگی کے نظام کی تکنیکی دیکھ بھال کیسے ہورہی ہے۔ اس کے لیے UPI کا مطلب صرف یہ تھا کہ موبائل نکالیے، QR اسکین کیجیے اور ادائیگی مکمل کردیجیے۔ یہی سادگی اس کی مقبولیت کا بنیادی سبب بنی۔ اب جب بڑے لین دین پر MDR کا تصور سامنے آیا ہے تو ممکن ہے کہ بعض تاجر ادائیگی کے مختلف ذرائع کے اخراجات کا حساب لگانا شروع کردیں۔ چھوٹے تاجروں کی تشویش اسی لیے قابلِ فہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے ماہانہ ₹1 لاکھ تک QR کے ذریعے UPI وصول کرنے والے چھوٹے تاجروں کے لیے تحفظ کا انتظام بتایا ہے، لیکن تجارتی تنظیموں نے اس حد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چھوٹے کاروباروں پر بھی بالواسطہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بعض خوردہ فروش اور تقسیم کار تنظیموں نے MDR کے دوبارہ نفاذ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ معمولی منافع پر چلنے والے کاروباروں کے لیے ادائیگی کی نئی لاگت اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کوئی تاجر مسلسل بڑے UPI لین دین پر MDR ادا کرے گا تو وہ اپنے کاروباری اخراجات کم کرنے کے لیے نقد ادائیگی یا دوسرے ذرائع کو ترجیح دینے لگے۔ حالیہ دنوں میں بعض تجارتی حلقوں کی طرف سے احتجاج اور UPI کے استعمال سے متعلق علامتی بائیکاٹ کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ مثال کے طور پر اندور کے متعدد تجارتی گروہوں نے 23 ستمبر کو ’’No UPI Day‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے اور MDR کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہاں حکومت کے سامنے ایک پیچیدہ توازن کا مسئلہ ہے۔ ایک طرف UPI کے انفراسٹرکچر کو چلانے، اسے محفوظ رکھنے، سائبر حملوں سے بچانے اور بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے وسائل درکار ہیں؛ دوسری طرف یہی نظام اس وقت مقبول ہوا جب عام صارف اور بڑی تعداد میں تاجر اسے اضافی فیس سے تقریباً آزاد سمجھتے رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی MDR پالیسی UPI کے طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے اور صارفین پر براہِ راست بوجھ نہیں ڈالتی۔ دوسری جانب تاجر تنظیمیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ اگر بنیادی ڈھانچے کی لاگت بڑھ رہی ہے تو اس کا بوجھ تاجروں کے ایک مخصوص طبقے پر ہی کیوں ڈالا جائے۔
سیاسی محاذ پر بھی اس فیصلے نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر تنقید کی گئی ہے اور بعض رہنماؤں نے اسے UPI کے صفر MDR ماڈل میں بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنماؤں نے اس معاملے کو امریکی ادائیگی کمپنیوں اور عالمی تجارتی دباؤ سے بھی جوڑا ہے، تاہم یہ سیاسی جماعت کا دعویٰ اور اس کا سیاسی مؤقف ہے؛ اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ حکومت کی طرف سے جو وضاحت سامنے آئی ہے، اس میں بنیادی زور UPI کے انفراسٹرکچر کی پائیداری، ادائیگی کے نظام کی سلامتی اور مستقبل کی تکنیکی ضروریات پر ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ جس ڈیجیٹل معیشت کو حکومت نے قومی ترقی کے نشان کے طور پر پیش کیا، اس کے مالیاتی ڈھانچے کو کس طرح ایسا رکھا جائے کہ نہ صارف متاثر ہو، نہ چھوٹا تاجر دباؤ میں آئے اور نہ ہی ادائیگی کا نظام اپنی کشش کھوئے۔ UPI کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ اس کے ذریعے کتنی رقم منتقل ہوئی، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ اس نے معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک مشترک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کھڑا کیا۔ ایک معمولی دکاندار اور ایک بڑی کمپنی، ایک طالب علم اور ایک کاروباری شخص، ایک شہری اور ایک دیہی صارف، سب ایک ہی QR کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرسکتے ہیں۔ یہی ہمہ گیریت UPI کی اصل طاقت ہے۔
حکومت کو اس پہلو پر بھی پوری توجہ دینا ہوگی کہ MDR کی لاگت کسی صورت پوشیدہ طریقے سے صارف تک منتقل نہ ہو۔ اگر دکاندار سے کہا جائے کہ صارف سے براہِ راست چارج نہ لیجیے، لیکن بازار کے اندر قیمتیں بڑھانے یا نقد ادائیگی کو ترجیح دینے کا رجحان پیدا ہوجائے تو پالیسی کا عملی نتیجہ اس کے اعلان سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اسی لیے نگرانی، شفافیت اور مؤثر شکایتی نظام ضروری ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ صارف سے MDR وصول نہیں کیا جائے گا، لہٰذا اس اصول پر حقیقی عمل درآمد بھی اسی وضاحت کے ساتھ یقینی بنانا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام اب محض سہولت نہیں بلکہ معیشت کی رفتار کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگر کسی پالیسی کے نتیجے میں بڑے تاجروں، چھوٹے کاروباری اداروں یا ضروری خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان UPI کے استعمال کے حوالے سے تذبذب پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک ادائیگی کے طریقے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے صارفین کے رویے، کاروباری لاگت اور ڈیجیٹل معیشت کے اعتماد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت کو ہر مرحلے پر اعداد و شمار، زمینی حقائق اور تجارتی حلقوں کے تجربات کی بنیاد پر اس پالیسی کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
مودی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ MDR نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے یا نہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ برسوں کی محنت سے عوام میں پیدا کیے گئے ڈیجیٹل اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھا جاتا ہے۔ حکومت نے خود عوام کو نقدی سے ڈیجیٹل ادائیگی کی طرف منتقل کیا، QR کوڈ کو عام کیا، UPI کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا اور اسے ہندوستان کی ڈیجیٹل کامیابی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اب اسی کامیابی کی پائیداری کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی نیا مالیاتی بوجھ اس انداز میں نافذ نہ ہو جس سے عام شہری یا چھوٹا تاجر یہ محسوس کرنے لگے کہ ڈیجیٹل سہولت آہستہ آہستہ اضافی مالی ذمہ داری میں تبدیل ہورہی ہے۔
UPI پر نیا MDR بلاشبہ عام صارف سے براہِ راست وصول کیا جانے والا چارج نہیں ہے، اور حکومت کے مطابق بیشتر مرچنٹ لین دین بھی اس سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن صفر MDR کے طویل عرصے کے بعد بڑے تجارتی لین دین پر 0.4 فیصد لاگت کا نفاذ ایک اہم پالیسی تبدیلی ضرور ہے۔ اس تبدیلی کے اثرات صرف سرکاری اعلانات سے نہیں بلکہ بازار کے عملی رویے سے طے ہوں گے۔ اگر تاجر اسے آسانی سے جذب کرلیں، صارف پر بوجھ منتقل نہ ہو اور UPI کی رفتار برقرار رہے تو حکومت کا مقصد پورا ہوسکتا ہے؛ لیکن اگر لاگت کے اثرات بالواسطہ طور پر قیمتوں، نقدی کے رجحان یا ڈیجیٹل ادائیگیوں سے گریز کی صورت میں سامنے آئے تو اس پالیسی پر مزید نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ UPI کے معاملے میں محض مالیاتی حساب کتاب تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھے۔ جس نظام کو عوام نے حکومت کی اپیل پر قبول کیا، اس کے بارے میں عوامی اعتماد برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ڈیجیٹل ہندوستان کا خواب صرف موبائل فون، QR کوڈ اور تیز رفتار ادائیگی سے پورا نہیں ہوگا بلکہ اس وقت پورا ہوگا جب یہ نظام عام شہری کے لیے آسان، محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بھی برقرار رہے۔ UPI نے ہندوستان کو نقدی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف ایک بڑی جست لگانے میں مدد دی ہے؛ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالیاتی پالیسی کے نام پر اس جست کو ایسی رکاوٹوں سے دوچار نہ کیا جائے جو برسوں کی محنت سے پیدا ہونے والے ڈیجیٹل اعتماد کو متزلزل کردیں۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے