اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟
تلو کو انتظامی شناخت ملی تو کرناٹک کی دوسری بڑی زبان کا سوال بھی زندہ ہوگیا
از: عبدالحلیم منصور
زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ اس میں ایک قوم، ایک معاشرے اور ایک خطے کی تاریخ، تہذیب، یادداشت اور شناخت سانس لیتی ہے۔ اسی لیے کسی زبان کو سرکاری سطح پر جگہ ملنا صرف دفتری کارروائی کا معاملہ نہیں ہوتا؛ یہ محض زبان کے اعتراف کا نہیں، بلکہ اسے بولنے والے شہریوں کی ریاستی نظام تک مؤثر رسائی اور ان کی لسانی شناخت کے احترام کا سوال بھی ہے۔ کرناٹک میں اردو کے بارے میں بنیادی سوال بھی یہی ہے کہ جس زبان کو لاکھوں لوگ اپنی مادری زبان کہتے ہیں، جس کی یہاں صدیوں پرانی تہذیبی و ادبی روایت ہے اور جس کے فروغ کے لیے ریاستی سطح پر باقاعدہ ادارہ بھی قائم ہے، اسے سرکاری کام کاج میں وہ قانونی مقام کب اور کیسے ملے گا جس کی گنجائش خود آئین فراہم کرتا ہے؟
18 ستمبر 2026 کو بنگلورو سے باہر پہلی مرتبہ منگلورو میں منعقدہ کرناٹک کابینہ کے اجلاس میں تلو کو دکشن کنڑ اور اڈپی اضلاع میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ حیثیت انہی دونوں ساحلی اضلاع تک محدود ہوگی۔ یہ فیصلہ تلو بولنے والوں کے لیے ایک اہم لسانی پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ کرناٹک میں ایک دوسرا اور نہایت اہم سوال بھی پوری سنجیدگی سے سامنے آتا ہے: اگر کسی خطے میں بولی جانے والی زبان کو اس کی لسانی موجودگی، تاریخی اہمیت اور عوامی مطالبے کی بنیاد پر انتظامی نظام میں جگہ دی جاسکتی ہے تو اردو کے معاملے میں بھی اس کے آئینی اور قانونی امکانات پر سنجیدہ غور کیوں نہ کیا جائے؟ یہ سوال کسی جذباتی تقابل کا نہیں، ایک اصولی اور دستاویزی بحث کا تقاضا کرتا ہے۔
اس بحث کے پیچھے مردم شماری کے اعداد، آئین کی واضح دفعات، ریاستی قانون اور ملک کی دوسری ریاستوں کی باقاعدہ قانونی مثالیں موجود ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مادری زبان سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں اردو کو اپنی مادری زبان بتانے والوں کی تعداد تقریباً 66.18 لاکھ تھی، جو اس وقت کی ریاستی آبادی کا تقریباً 10.83 فیصد بنتی ہے۔ اسی مردم شماری میں تلو کو مادری زبان بتانے والوں کی تعداد تقریباً 15.93 لاکھ، یعنی تقریباً 2.61 فیصد درج ہوئی تھی۔ یہ اعداد کسی زبان کی تہذیبی عظمت یا ادبی قدر کا فیصلہ نہیں کرتے، لیکن یہ ضرور واضح کرتے ہیں کہ کرناٹک میں اردو کو محض ایک محدود لسانی گروہ کی زبان سمجھنا اعداد و شمار کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ مردم شماری کا سرکاری ریکارڈ ہے جو رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر، حکومت ہند کے تحت مرتب کیا گیا۔
کرناٹک کا موجودہ قانونی ڈھانچہ کنڑ کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دیتا ہے۔ 1963 کے کرناٹک سرکاری زبان قانون میں کنڑ کو سرکاری زبان بنانے اور سرکاری مقاصد میں اس کے استعمال کا قانونی انتظام کیا گیا ہے۔ اسی قانون کا پس منظر بھی آئین کے آرٹیکل 345 سے وابستہ ہے۔ لہٰذا اردو کا مطالبہ کنڑ کی حیثیت کو چیلنج کرنے کے بجائے اس آئینی گنجائش کے استعمال کا مطالبہ ہے جس کے تحت ریاست ایک سے زیادہ زبانوں کو مخصوص سرکاری مقاصد کے لیے قانونی شناخت دے سکتی ہے۔
ملک میں اس کی واضح مثال تلنگانہ ہے۔ تلنگانہ کے سرکاری زبان کے قانون میں 2017 کی ترمیم کے ذریعے اردو کو پوری ریاست میں دوسری سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ آندھرا پردیش میں بھی 2022 کی قانون سازی اور بعد کی سرکاری اطلاع کے ذریعے اردو کو ریاست کے تمام اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ یہ مثالیں اس بات کی دلیل نہیں کہ کرناٹک کو لازماً وہی قانونی طریقہ اختیار کرنا ہوگا، بلکہ یہ ضرور دکھاتی ہیں کہ ہندوستانی وفاقی نظام میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا قانونی درجہ دینا کوئی غیر معمولی یا ناقابلِ تصور انتظام نہیں۔ خود سپریم کورٹ نے بھی 2025 کے ایک فیصلے میں یہ ریکارڈ کیا کہ کئی ریاستوں نے آئین کے آرٹیکل 345 کے تحت اردو کو سرکاری زبانوں میں شامل کیا ہے۔
اس معاملے کا ایک دلچسپ اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تلو کے سرکاری درجہ کے لیے کرناٹک حکومت کی قائم کردہ مطالعہ ٹیم نے آندھرا پردیش کا دورہ کرکے وہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دینے کے لیے اختیار کیے گئے معیار اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا تھا۔ 19 اور 20 جنوری 2026 کو ٹیم نے آندھرا پردیش کا دورہ کیا تھا اور اس مطالعے کا مقصد مختلف ریاستوں میں ایک سے زیادہ سرکاری زبانوں کے انتظام کا جائزہ لینا تھا۔ یہاں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے: جب آندھرا پردیش کے اردو ماڈل کا مطالعہ تلو کے انتظامی درجہ کے لیے کیا جاسکتا ہے تو کیا اسی تجربے کی روشنی میں کرناٹک میں اردو کی اپنی آئینی اور انتظامی حیثیت کا باقاعدہ جائزہ نہیں لیا جاسکتا؟
یہ سوال کسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ آئینی اصول کے یکساں اطلاق کا سوال ہے۔ تلو کو اس کے تاریخی اور جغرافیائی مرکز، یعنی دکشن کنڑ اور اڈپی میں انتظامی شناخت ملنا اپنی جگہ ایک لسانی پیش رفت ہے۔ اردو کا معاملہ بھی اس کی آبادی، تاریخی موجودگی، جغرافیائی پھیلاؤ اور انتظامی ضرورت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دونوں زبانوں کے مطالبات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا نہ ضروری ہے اور نہ مناسب۔ ایک زبان کو شناخت ملنے کا مطلب دوسری زبان کے مطالبے کو مسترد کرنا نہیں ہوتا۔ کنڑ کرناٹک کی بنیادی سرکاری زبان ہے اور ریاست کی غالب لسانی شناخت ہے، جبکہ اردو کے لیے مطالبہ کنڑ یا تلو کے خلاف نہیں بلکہ ایک اضافی لسانی شناخت اور ریاستی نظام تک بہتر انتظامی رسائی کا سوال ہے۔ کرناٹک کی کثیر لسانی حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ایک زبان کی ترقی دوسری زبان کے جائز مطالبے کی نفی نہ بنے۔
اردو کرناٹک کے لیے نہ کوئی اجنبی زبان ہے اور نہ محض باہر سے آنے والی لسانی روایت۔ دکن کی سیاسی، تہذیبی اور ادبی تاریخ میں کرناٹک کا مقام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گلبرگہ، بیدر، بیجاپور اور رائچور جیسے خطے صدیوں سے اردو اور دکنی زبان و ادب کے اہم مراکز رہے ہیں۔ بہمنی سلطنت اور بعد ازاں عادل شاہی دور نے ان علاقوں میں اردو اور دکنی ادب کی پرورش کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، جہاں علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں نے اس زبان کی ابتدائی تشکیل و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یوں اردو کی ادبی تاریخ کو صرف شمالی ہند تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا؛ دکن، خصوصاً موجودہ کرناٹک کے خطے نے بھی اردو کی تشکیل، فروغ اور تہذیبی شناخت میں ایک مستقل اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔
اس تاریخی پس منظر میں کرناٹک میں اردو کو محض ایک حالیہ شہری یا مہاجر زبان سمجھنا تاریخ کے ایک بڑے حصے کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اردو کی موجودگی صرف مردم شماری کے اعداد سے ثابت نہیں ہوتی؛ ریاست کے مختلف علاقوں کی تہذیبی اور ادبی تاریخ بھی اس کی گواہی دیتی ہے۔ ریاستی سطح پر اردو کی ادارہ جاتی موجودگی بھی نئی نہیں۔ کرناٹک اردو اکیڈمی یکم جون 1977 کو قائم کی گئی تھی۔ ابتدا میں یہ محکمہ کنڑ و ثقافت کے لیے مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرتی رہی، بعد میں اسے خود مختار ادارے کی حیثیت دی گئی اور 2011 میں محکمہ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف کے تحت منتقل کیا گیا۔ کرناٹک حکومت کی سالانہ رپورٹ میں اس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔
یہ سب مل کر ایک اہم حقیقت سامنے لاتے ہیں: اردو کرناٹک میں محض بول چال کی زبان نہیں، بلکہ ایک تسلسل رکھنے والی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور ادارہ جاتی حقیقت ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ اس حقیقت کا مناسب انتظامی اور قانونی اعتراف کب ہوگا؟ زبان کے حقوق کا مطلب کسی ایک زبان کو دوسری زبان کے مقابل کھڑا کرنا نہیں۔ کنڑ کی سرکاری حیثیت اپنی جگہ برقرار رہتے ہوئے اردو کے لیے آئینی گنجائش کے مطابق اضافی قانونی شناخت کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کرناٹک کی مسلم قیادت، اردو صحافت، ادبی تنظیموں، اردو اکیڈمی اور اردو سے وابستہ سماجی اداروں کے کردار کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ اب تک اردو کے مختلف مسائل الگ الگ آوازوں میں اٹھتے رہے ہیں۔ سرکاری زبان کا مطالبہ، اگر واقعی ایک سنجیدہ اور مؤثر آئینی بحث بنانا ہے، تو اسے منتشر بیانات کے بجائے ایک واضح، مشترکہ اور دستاویزی مطالبے کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ مسلم قیادت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا فرد یا کون سا گروہ اس مطالبے کی قیادت کرے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اردو کے حق میں ایک متحد، غیر جماعتی اور آئینی موقف سامنے آتا ہے یا نہیں؟
ایک مشترکہ دستاویز میں مردم شماری کے اعداد، آئینی دفعات، کرناٹک کے قانونی ڈھانچے، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی مثالیں، کرناٹک میں اردو کی تاریخی موجودگی اور ممکنہ انتظامی طریقۂ کار کو یکجا کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت اور قانون ساز اداروں کے سامنے باقاعدہ نمائندگی، ماہرین سے مشاورت اور قانونی طریقۂ کار کے آغاز کا مطالبہ رکھا جاسکتا ہے۔ یہاں جذبات سے زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔ اگر اردو کے حق میں آواز صرف جلسوں، بیانات اور سماجی ذرائع ابلاغ تک محدود رہی تو اسے دیرپا قانونی مطالبے میں تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن اگر مسلم عوامی نمائندے، اردو صحافی، ادیب، ماہرین قانون، دانشور اور متعلقہ ادارے ایک مشترکہ دستاویزی موقف تیار کریں، تو بحث کو ایک واضح آئینی سوال میں تبدیل کیا جاسکتا ہے: کیا کرناٹک میں اردو کو اس کی آبادی، تاریخی موجودگی اور آئینی گنجائش کے مطابق سرکاری مقاصد کے لیے مناسب قانونی شناخت دی جاسکتی ہے؟
یہ سوال کسی حکومت کے خلاف نعرہ نہیں؛ یہ حکومت کے سامنے ایک آئینی سوال ہے۔
اردو کی تاریخ کو صرف ماضی کی یادگار بنا دینا بھی اس زبان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ آج بھی اردو صحافت، ادب، ثقافت اور عوامی زندگی میں زندہ ہے۔ لیکن زندہ زبان اور سرکاری زبان میں فرق ہے۔ ایک زبان گھروں، بازاروں اور ادبی محفلوں میں زندہ رہ سکتی ہے، مگر جب تک اسے انتظامی نظام میں مناسب قانونی جگہ نہ ملے، اس کے بولنے والے شہری اور ریاست کے درمیان لسانی فاصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔
فیض احمد فیض کی نظم ’’بول‘‘ کے معروف مصرعے اس بحث میں محض شعری آرائش نہیں بلکہ زبان، اظہار اور شناخت کی معنویت کی یاد دہانی بن جاتے ہیں:
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
اردو کے سرکاری درجہ کا سوال بھی دراصل اسی زبان کی آزادیٔ اظہار سے آگے بڑھ کر ریاستی شناخت اور شہری رسائی کا سوال ہے۔ جو زبان لاکھوں شہریوں کے گھروں، بازاروں، صحافت، ادب اور تہذیبی زندگی میں موجود ہے، کیا ریاستی نظام میں بھی اسے اس کی موجودگی اور آئینی گنجائش کے مطابق جگہ مل سکتی ہے؟
زبان کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں ہوتی اور نہ کسی حکومت کا سیاسی احسان۔ اردو بولنے والے شہریوں کی تعداد، کرناٹک سے اس زبان کا تاریخی و تہذیبی رشتہ، اس کی موجودہ سماجی موجودگی اور آئینی گنجائش—یہ سب مل کر اردو کے سرکاری درجہ کے مطالبے کو ایک سنجیدہ عوامی اور آئینی مسئلہ بناتے ہیں۔ اس مطالبے کو کسی دوسری زبان کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے کرناٹک کی کثیر لسانی حقیقت کے ایک جائز حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اب اصل امتحان اردو کے بولنے والوں کا نہیں، ان کی نمائندگی کرنے والوں کا ہے۔ مسلم قیادت، اردو اکیڈمی، اردو صحافت، ادبی و سماجی اداروں اور عوامی نمائندوں کو اس مسئلے کو محض تقریروں اور وقتی بیانات سے آگے لے جانا ہوگا۔ ایک متحد، غیر جماعتی اور دستاویزی مطالبہ تیار کرکے مردم شماری کے اعداد، آئینی دفعات، قانونی مثالوں اور عملی انتظامی تجاویز کے ساتھ حکومت کے سامنے رکھا جائے، اور حکومت سے اس پر واضح قانونی اور انتظامی اقدام کا مطالبہ کیا جائے۔ اردو کے نام پر آوازیں بہت ہیں؛ اب ضرورت ایسی مشترکہ آواز کی ہے جس کے پیچھے دلیل، دستاویز اور مسلسل پیروی موجود ہو۔
18 ستمبر کو تلو کو دکشن کنڑ اور اڈپی میں انتظامی شناخت مل گئی۔ یہ فیصلہ اپنی جگہ قابلِ احترام لسانی پیش رفت ہے، مگر اس نے کرناٹک میں اردو کے سوال کو بھی پہلے سے زیادہ نمایاں کردیا ہے۔ جب ایک زبان کے لیے اس کے انتظامی استعمال کا جائزہ لینے کی خاطر آندھرا پردیش کے اردو تجربے کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، جب تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا قانونی درجہ دیا جاچکا ہے، اور جب آئینِ ہند ریاست کو ایک سے زیادہ زبانوں کو سرکاری مقاصد کے لیے اختیار کرنے کی گنجائش دیتا ہے، تو کرناٹک میں اردو کے معاملے کو محض زیرِ بحث رکھنے کے بجائے اس پر باقاعدہ قانونی عمل شروع کرنے کا وقت بھی آچکا ہے۔
اردو کے لیے دروازہ کسی رعایت سے نہیں، آئینی راستے سے کھلنا چاہیے—اور اس دروازے پر دستک اب منتشر نہیں، متحد آواز میں ہونی چاہیے۔
haleemmansoor@gmail.com