شاملی کاعلی : حق آیا اور باطل گیا، باطل کو تو مٹنا ہی ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
محمد علی (آیوش ملک) کے قبول اسلام معاملے کی تفتیش کرنےو الے شاملی میں ایچ ٹی یو تھانے کے سربراہ جتیندر شرما کا دوسرے ضلع میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے یوگی ادیتیہ ناتھ کے ہوتے انتظامیہ کو یہ قدم کیوں اٹھانا پڑا؟ ایس پی نے اب اس معاملے کی تفتیش سٹی کوتوالی کے کرائم انسپکٹر راجندر سنگھ سدھو کے سپرد کیوں کی ؟ محمد علی کو باپ کی غیر قانونی حراست سے نجات تو مل گئی مگر مقدمہ جاری ہے اور اس معاملے میں بھی عدالت آیوش ملک کے والد سمیت پولیس پر نقصان بھرپائی کاہرجانہ لگا سکتی ہے۔ اس سے قبل پچھلے ہی ماہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اسی جسٹس سندیپ جین نے اتر پردیش حکومت اور بھاٹیہ نامی باپ کو حکم دیا تھا کہ وہ مشترکہ طور پر اپنی دو بالغ بیٹیوں کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں۔ ان بیٹیوں نشو بھاٹیا (آمنہ، 35 سال) اور دیا بھاٹیا (زویا، 20 سال) نے ہندو مت چھوڑ کر اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیا تو انہیں برسوں تک گھر میں غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا تھا۔ الہ باد ہائی کورٹ نے تو آکریتی چودھری کے معاملے میں گیانیش کمار کی بیٹی میدھا روپم کو اپنی جیب سے ۵؍لاکھ روپیہ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا اس لیے بعید نہیں کہ جیتندر شرما کوبچانے کے لیے تبادلہ کیا گیاہو۔
جیتندر شرما کا جرم یہ ہے کہ اس نے6؍ جون کو دوا ئیوں کےتاجر دیوراج ملک کی ایف آئی آر درج کی جس میں چاندنی قریشی پریہ جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اپنے اہل خانہ کی مدد سے آیوش ملک کو محبت کے جال میں پھنسا کر اس کا مذہب تبدیل کرایا۔ اس معاملے میں پولیس نے چاندنی اور ان کے والد سمیت دیگر ملزمان کو فوراً گرفتار بھی کرلیا ۔ چاندنی کے ماموں بھائی محمد سلیم نے اس بابت انکشاف کیا کہ وہ دیوراج ملک کے بھارت میڈیکل اسٹور سے تقریباً دو کلومیٹر دور رہتا ہے ۔ اسٹور کے قریب ایک اسپتال میں چاندنی فزیوتھراپی کرتی تھی۔ سلیم کے مطابق آیوش اپنی والدہ کو لے کر وہاں آتا تھا اور وہیں آیوش نے چاندنی کے رابطے میں آیا۔سلیم نے بتایا کہ چاندنی نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا چونکہ وہ مسلمان ہے اور آیوش جٹ برادری سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے وہ اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔ اس کے باوجود دیوراج ملک نے مبینہ طور پر سازش کے تحت ان کے خاندان کو اس معاملے میں پھنسا دیا۔
سلیم نے یہ الزام لگایا کہ چاندنی کو ’مہرہ‘ بناکرپورے خاندان کے کئی افراد مثلاًتایا، چچا اور دیگر رشتہ داروں کے بیٹوں کو بھی اس معاملے میں شامل کرکے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی ذرا بھی غلطی یا کردار ہوتا تو وہ سزا کے مستحق ہوجاتے۔محمد سلیم نے دعویٰ کیا کہ اگر چاندنی کا مقصد آیوش کو پھانسنا ہوتا تو وہ اس سے کورٹ میرج کر سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آیوش تو کئی برس سے مشرف بہ اسلام ہو داڑھی رکھے ہوئے تھا تو اس کے والد اور خاندان کو اس کا کیوں علم نہیں ہوا؟ان کا دوسرا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو دستخط تک کرنا نہیں آتا، وہ نکاح کیسے کرا سکتے ہیں؟سلیم کا الزام ہے کہ پولیس و انتظامیہ نے گھر کے تالے توڑ کر اندر داخل ہوئی اور بیجا کارروائی کر کے خاندان کو بے گھر کر دیاتھاجو غریب خاندان کے ساتھ کھلی ’ناانصافی‘ ہے۔ یوگی کے انتظامیہ نے یہ ظلم و جبر اس لیے کیا کیونکہ ڈبل انجن سرکار کے چلتے مسلمانوں کو اس قدر بدنام کرنے کے باوجود کسی ہندو نوجوان اسلام قبول کرلینا وزیر اعلیٰ کی ناک کا مسئلہ تھا ۔
تھانہ انچارج جیتندر شرما کی بھی عصبیت کو اس لیے بھی چوٹ لگی کہ دیانند نگر کے رہنے والے دیوراج ملک شاملی ضلع کی کیمسٹ ایسوسی ایشن کے بارسوخ صدر ہیں۔ شہر کے ایک خوشحال علاقے میں ان کا مکان اور دو معروف میڈیکل اسٹورس ہیں۔ ان کی دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے، جبکہ بیٹا آیوش ملک بی فارما کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میڈیکل اسٹور چلاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 6 جون کو دیوراج ملک نے کوتوالی میں شکایت درج کرادی کہ چاندنی قریشی نے ان کے بیٹے کو محبت کے جال میں پھنسا کرنہ صرف مذہب تبدیل کرا دیا بلکہ اس کا نام محمد علی رکھوا دیا۔ ملک کے اندر ’لو جہاد ‘ کے نام سے بڑا شور مچایا گیا کہ مسلمان لڑکے بھولی بھالی ہندو لڑکیوں کو دامِ محبت میں گرفتار کرکے ان کا مذہب تبدیل کروا لیتے ہیں مگر یہاں ایک بھولے بھالے ہندو لڑکے کو عشق و محبت کے جال میں پھنسانے کی دلچسپ واردات سامنے آئی تھی اور اس کے پیچھے آیوش کے دھن دولت پر قبضے کا الزام تھا ۔ مال کی محبت میں گرفتار دنیا پرست لوگ اس کے آگے سوچ ہی نہیں پاتے ؟
آیوش ملک نے چونکہ اپنا حلیہ بدل کر پہلے داڑھی بڑھائی اور پھر مسجد بھی جانے لگا تو اس کے گھر والوں کا ماتھا ٹھنکااور جب وہ ایک تصویر میں مسجد کے اندر نماز پڑھتا ہوا دکھائی دیا تو دیوراج اآپے سےباہرہوگئے حالانکہ ایک اور تصویر میں وہ میڈیکل اسٹور پر بھی ٹوپی اور کرتا پاجامہ پہنے بیٹھا دکھائی دیا تھا۔ اس دوران یوگ سادھنا آشرم کے مہنت سوامی یشویر نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کردیا کہ بھارت میڈیکل اسٹور کے مالک دیوراج کے اکلوتے بیٹے کو چاندنی قریشی نے اپنے جال میں پھنسایا ہے اور دباؤ کے باعث پورے خاندان نے مذہب تبدیل کر لیا ۔اس اشتعال انگیز ویڈیو کے بعد ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کیا اور چاندنی کے گھر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی دی ۔ ایف آئی آر کے ایک دن بعد پولیس نے چاندنی قریشی اور ان کے والد سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا نیز تقریباً ڈیڑھ ماہ تک عدالتی حراست میں رہنے کے بعد 24 جولائی کو عدالت سے باپ بیٹی کو ضمانت مل گئی۔ اس دوران آیوش ملک ببانگِ دہل یہ اعلان کرتا رہا کہ دین اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی مرضی سے اس نے اسلام قبول کیا ہے اور اگر اس کے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج رکھ دیا جائے تب بھی وہ دین حق سے دستبردار نہیں ہوگا ۔
اس کی ایمان افروز ویڈیوز کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک تقریباً 15 دن بعد آیوش کی ایک ویڈیو نے سب کو چونکا دیا ۔ اس میں اس کی داڑھی غائب ہوگئی تھی، بال چھوٹے ہوگئے تھے اور پوجا کرتا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اپنی والدہ کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی مرضی سے اپنے پرانے ہندو مذہب میں واپس آ گیا ہے اور اس نے اپنے اہل خانہ سے معافی مانگ لی ہے۔ اس ویڈیو کو گودی میڈیا نے خوب اچھالا مگر اس کے اندر آیوش کے چہرے پر دباو کے اثرات نمایاں تھے اور صاف ظاہر ہورہا تھا وہ کسی مجبوری کے تحت یہ سب کیا جارہا ہے۔ اس طرح بظاہر یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا مگر 9؍ ستمبر کو محمد سلطان نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکےیہ الزام لگادیا کہ اس کے دوست آیوش کو زبردستی گھر میں قید کر کے رکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے 16 ستمبر کو عدالت میں آیوش کی پیشی کا حکم دیوراج کو دے دیا اور پھر سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ۔16 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سندیپ جین کی بنچ کے سامنے آیوش ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس کی عمر تقریباً 31 سال ہے اور اس نے بی فارما تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس نے 2014 میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور وہ چاندنی قریشی سے شادی کرنا چاہتا ہے، تاہم اس کے والد اور خاندان کو یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔
آیوش نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسے دھمکیاں دی گئیں اور جون 2026 سے گھر میں نظر بندکردیا گیا۔ اس کے جواب میں والد دیوراج ملک کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کے بیٹے کا ’برین واش‘ کیا ہے اور ایک والد کی حیثیت سے وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں بہت فکرمند ہیں۔ان دونوں کا بیان سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ آیوش ملک بالغ ہے اور اپنی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عدالت کے مطابق وہ بغیر کسی دباؤ یا دھمکی کے اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے اور چاندنی قریشی سے شادی کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔عدالت نے تسلیم کیا کہ ایک والد کی حیثیت سے دیوراج ملک کا اپنے بیٹے کے مستقبل کو لے کر فکرمند ہونا فطری ہے، تاہم ایسی تشویش کسی بالغ شہری کے آئینی حقوق سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ آیوش کو اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص کے ساتھ رہنے، اپنے مذہب پر عمل کرنے اور قانون کے مطابق شادی سے متعلق فیصلہ کرنے کا آزادانہ حق حاصل ہے۔اس طرح تمام تر سیاسی ، سماجی اور سرکاری مخالفت کے باوجود حق غالب اور باطل مغلوب ہوگیا ۔عدالتی فیصلے کے بعد آیوش کے والد دیوراج ملک نے گھٹنےٹیک دئیے اور کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ انہیں منظور ہے۔ آیوش ان کا بیٹا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ اپنے بیٹے کے بغیر نہیں رہ سکتے نیزانہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ آیوش اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔اس طرح صبر و استقامت کے ماہتاب محمدعلی نے اس تاریک دور کودین اسلام کی چاندنی سے منور کر دیا۔ حق آیا اور باطل مٹا ، باطل کو تو مٹنا ہی تھا ۔