ملک کی معروف سیاسی و سماجی شخصیات بھی اب اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کی گرفت میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دہلی میں جاری انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی کے دوران سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ، الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو، خارجہ سیکریٹری وکرم مسری، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور متعدد اعلیٰ افسران و سیاسی شخصیات کے نام ان ووٹروں میں سامنے آئے جن کے ریکارڈ میں مبینہ تضادات یا سابقہ انتخابی فہرست سے عدم مطابقت پائی گئی۔ یہ صورتِ حال اس اعتبار سے غیر معمولی ضرور ہے کہ جن شخصیات کے نام برسوں سے سرکاری ریکارڈ، پارلیمانی دستاویزات، حکومتی عہدوں اور عوامی زندگی کے مختلف گوشوں میں محفوظ رہے ہیں، ان کے انتخابی ریکارڈ میں بھی کسی نہ کسی نوعیت کی عدم مطابقت سامنے آ سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود ووٹر کا نام حذف کیے جانے کے مترادف نہیں بلکہ متعلقہ شخص کو اپنے ریکارڈ کی وضاحت اور ضروری دستاویزات پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جس کے بعد قانونی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن جب انتہائی معروف، بااثر اور سرکاری نظام تک آسان رسائی رکھنے والی شخصیات بھی انتخابی ریکارڈ کی اس پیچیدہ چھان بین میں نشان زد ہو سکتی ہیں تو ملک کے کروڑوں عام شہریوں پر اس عمل کا نفسیاتی، انتظامی اور عملی بوجھ کس قدر شدید ہوگا؟ ایک مرکزی وزیر، سابق نائب وزیر اعظم، اعلیٰ افسر یا معروف سیاسی رہنما اپنے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے متعلقہ دفتر، وکیل، دستاویزات اور سرکاری ذرائع تک پہنچ سکتا ہے مگر وہ غریب مزدور کیا کرے گا جو صبح سے شام تک دو وقت کی روٹی کے لیے محنت کرتا ہے؟ وہ بوڑھی عورت کیا کرے گی جس کے پاس کئی دہائیاں پرانے کاغذات محفوظ نہیں؟ وہ کرائے دار کیا کرے گا جو روزگار کے تعاقب میں ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتا رہا ہے؟ وہ غریب خاندان کیا کرے گا جس کے پاس سرکاری دستاویزات میں نام کے ہجے تک مختلف درج ہیں؟ یہیں سے SIR کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ انتخابی فہرستوں کو درست رکھنا بلاشبہ جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ جعلی ووٹروں، فوت شدہ افراد کے نام، دوہرے اندراجات، ناقص معلومات اور غیر معتبر ریکارڈ کی اصلاح ضروری ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ جمہوری معاشرہ ایسی انتخابی فہرست کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں حقیقی ووٹر کے ساتھ جعلی اندراج بھی موجود ہو لیکن انتخابی فہرست کی تطہیر اور اہل ووٹر کی آزمائش میں ایک بنیادی فرق ہے۔ نظام کی خرابی دور کرنے کے نام پر اگر اہل شہری ہی مسلسل ثبوت فراہم کرنے، دفاتر کے چکر لگانے اور اپنی شہریت و شناخت کی وضاحت کرنے پر مجبور ہو جائے تو سوال محض انتظامی نہیں رہتا بلکہ جمہوری حقوق کی حفاظت سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
دہلی کے موجودہ معاملے میں تقریباً 33.13 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں تقریباً 19.33 لاکھ معاملات ’’logical discrepancies‘‘ جبکہ تقریباً 13.79 لاکھ ’’no mapping‘‘ کے زمرے میں رکھے گئے ہیں۔ بیشتر معاملات میں موجودہ تفصیلات کا 2002 کی سابقہ SIR فہرست سے میل نہ کھانا بھی ایک اہم سبب بتایا گیا ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ 2002 کی فہرست آخر کس نے تیار کی تھی؟ اسے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کس ادارے کی تھی؟ اگر کسی شہری کے نام کے ہجے اس وقت غلط درج ہوگئے تھے، اگر والد یا والدہ کے نام میں معمولی فرق آگیا تھا، اگر مکان کا پتہ تبدیل ہوگیا تھا، اگر خاندان نقل مکانی کرگیا تھا یا سابقہ ریکارڈ میں کسی تکنیکی سبب سے نام کا درست ربط قائم نہ ہوسکا تو کیا ہر غلطی کا خمیازہ آج وہی شہری بھگتے جس نے یہ سرکاری ریکارڈ تیار ہی نہیں کیا تھا؟ سرکاری نظام جب کسی شہری کا ریکارڈ تیار کرتا ہے تو شہری سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کئی دہائیوں بعد اسی ریکارڈ کے ہر حرف، ہر ہجے، ہر عدد اور ہر اندراج کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے۔ اگر ریکارڈ میں غلطی ہوئی ہے تو اصلاح ہونی چاہیے لیکن اصلاح کا بوجھ اس شخص پر ڈالنا جس نے ریکارڈ تیار نہیں کیا، انتظامی سہولت تو ہوسکتی ہے، انصاف کا معیار نہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات منعقد کرانے کا نام نہیں۔ جمہوریت کا حقیقی جوہر اس مساوات میں پوشیدہ ہے کہ ایک وزیر کا ووٹ اور ایک مزدور کا ووٹ قانونی اعتبار سے یکساں وزن رکھتا ہے۔ ایک ارب پتی تاجر اور ایک معمولی دستکار، ایک سابق وزیر اعظم اور ایک دیہاڑی دار، ایک اعلیٰ افسر اور ایک رکشہ چلانے والا، سب بیلٹ یا ووٹنگ مشین کے سامنے برابر شہری ہوتے ہیں۔ عہدہ ختم ہو جاتا ہے، دولت ختم ہو جاتی ہے، اقتدار بدل جاتا ہے، شہرت ماند پڑ جاتی ہے، لیکن حقِ رائے دہی کی آئینی اہمیت باقی رہتی ہے۔ اسی لیے SIR کا معیار بھی طبقاتی نہیں بلکہ یکساں ہونا چاہیے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی VIP یا ’’Marked Electors‘‘ جیسی اصطلاح کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ کیا ووٹروں کو بااثر اور عام طبقات میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ان کے تبصرے سیاسی تناظر رکھتے ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے، تاہم اس بحث کے پیچھے ایک بنیادی جمہوری اصول موجود ہے کہ ووٹ کی اہمیت ووٹر کے منصب یا شہرت سے متعین نہیں ہوتی۔ اگر الیکشن کمیشن کا مقصد واقعی انتخابی فہرست کو زیادہ مستند، شفاف اور درست بنانا ہے تو پھر سب سے زیادہ توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ کسی اہل شہری کا نام محض تکنیکی یا دستاویزی پیچیدگی کے باعث متاثر نہ ہو۔ نوٹس جاری کرنا ایک انتظامی مرحلہ ہوسکتا ہے لیکن کسی شہری کے لیے اس نوٹس کا جواب دینا، مقررہ وقت میں دستاویزات جمع کرنا، سماعت میں حاضر ہونا اور اپنے حق کا دفاع کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ایک سرکاری دفتر تک پہنچنے کے لیے بھی غریب شہری کو مزدوری چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ سفر کے اخراجات الگ، کاغذات کی نقول الگ، معلومات حاصل کرنے کی دشواری الگ اور اگر زبان یا قانونی اصطلاحات سمجھ میں نہ آئیں تو مزید پریشانی الگ۔ ایک شہری جس کے پاس محدود وسائل ہوں، اس کے لیے انتخابی فہرست میں نام برقرار رکھنے کی جنگ بھی ایک غیر معمولی انتظامی آزمائش بن سکتی ہے۔ اسی لیے انتخابی اصلاح کا فلسفہ یہ ہونا چاہیے کہ نظام شہری کے لیے آسان بنایا جائے، شہری کو نظام کے سامنے بے بس نہ کیا جائے۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ SIR کے معاملے میں نوٹس ملنا خود بخود نام حذف ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ ووٹر کو تصدیق اور سماعت کا موقع دیا جاتا ہے اور دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی کارروائی ہوتی ہے۔ بعض معروف شخصیات کے معاملات میں تصدیق کے بعد ریکارڈ درست قرار دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو کے معاملے میں نام کے عدم مطابقت والے مسئلے کی تصدیق کے بعد ان کا نام حتمی فہرست میں شامل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے معاملے میں بھی مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد مسئلہ حل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ یہ پہلو اہم ہے کیونکہ محض نوٹس کو حتمی اخراج سمجھ لینا بھی درست نہیں ہوگا۔ مگر اس وضاحت کے باوجود طریقہ کار پر سوال اٹھانا اس لیے جائز ہے کہ ایک ایسا نظام جس میں لاکھوں افراد کے ریکارڈ کی جانچ ہورہی ہو، وہاں غلطی کے امکانات، شہری کی رسائی، دستاویزات کی دستیابی، سماعت کے معیار اور اپیل کے مؤثر راستے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اصل مسئلہ SIR کی ضرورت سے انکار نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار کی شفافیت ہے۔ اگر انتخابی فہرست میں جعلی نام ہیں تو انہیں ختم کیا جائے۔ اگر ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات ہیں تو انہیں درست کیا جائے۔ اگر فوت شدہ افراد کے نام باقی ہیں تو انہیں قانونی طریقے سے حذف کیا جائے۔ اگر کوئی غیر اہل شخص انتخابی فہرست میں موجود ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ ضمانت بھی لازم ہے کہ ایک حقیقی، اہل اور زندہ شہری صرف اس لیے اپنے جمہوری حق سے محروم نہ ہو جائے کہ اس کے نام کا ہجّہ کسی پرانے ریکارڈ سے مختلف ہے یا اس کا موجودہ ریکارڈ 2002 کی فہرست سے براہِ راست مربوط نہیں ہو پا رہا۔ یہاں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری دوہری ہوجاتی ہے۔ ایک طرف اسے انتخابی فہرست کو ہر قسم کے جعلی اور غیر معتبر اندراج سے پاک کرنا ہے، دوسری طرف اہل ووٹر کے نام کو ہر ممکن قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان دونوں مقاصد میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرکے دوسرے کو کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جمہوریت میں الیکشن کمیشن محض ایک انتظامی دفتر نہیں بلکہ انتخابی اعتماد کا بنیادی ستون ہے۔ اس کے فیصلوں میں غیر جانب داری کا تاثر ہی کافی نہیں، بلکہ طریقہ کار بھی ایسا ہونا چاہیے جس سے عام شہری کو انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ انتخابی ادارے پر عوام کا اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کا قیمتی سرمایہ ہے اور اس اعتماد میں معمولی دراڑ بھی وسیع سیاسی و سماجی بے چینی پیدا کرسکتی ہے۔ ایس آئی آر کے موجودہ مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ شہریوں کو مناسب وقت، واضح ہدایات، قابلِ رسائی مراکز، مقامی سطح پر مدد، دستاویزات کے متبادل قابلِ قبول ذرائع اور مؤثر سماعت کا حق ملے۔ بالخصوص بزرگوں، خواتین، معذور افراد، کم آمدنی والے خاندانوں، کرایہ داروں اور مسلسل نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے طریقہ کار کو قابلِ عمل بنانا ضروری ہے۔ انتخابی فہرست کی صفائی ایک مقدس جمہوری ضرورت ہوسکتی ہے مگر صفائی کے نام پر اگر اہل ووٹر ہی فہرست سے باہر ہونے لگیں تو مقصد اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ فہرست درست ہونی چاہیے، مگر فہرست درست کرنے کا طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔ ریکارڈ شفاف ہونا چاہیے مگر اس شفافیت کا خمیازہ بے قصور شہری کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ جعلی اندراجات کا خاتمہ ہونا چاہیے مگر حقیقی ووٹر کو اپنے وجود، شناخت اور حقِ رائے دہی کے ثبوت کے لیے غیر ضروری اذیت سے نہیں گزارا جانا چاہیے۔۔معروف شخصیات کو SIR کے نوٹس ملنا ایک پہلو سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ جانچ کا دائرہ صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رکھا گیا لیکن اس عمل کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے VIP نام نشان زد ہوئے۔ حقیقی امتحان تو یہ ہے کہ ایک عام شہری، جس کے پاس نہ سیاسی اثر و رسوخ ہے، نہ وکیلوں کی فوج، نہ سرکاری دفاتر تک فوری رسائی، وہ بھی اسی اعتماد کے ساتھ کہہ سکے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے، اس کی بات سنی جائے گی اور محض کسی تکنیکی تضاد کی بنیاد پر اسے جمہوری عمل سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ووٹر فہرست محض ناموں کی ایک سرکاری فہرست نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کے سیاسی وجود کی دستاویز ہے۔ کسی شخص کا نام اس فہرست میں موجود ہونا اسے اقتدار نہیں دیتا لیکن اسے اقتدار کے انتخاب میں حصہ لینے کا حق ضرور دیتا ہے۔ اسی لیے ایک نام کا حذف ہونا محض ایک عدد کا کم ہونا نہیں بلکہ ایک شہری کی سیاسی شرکت پر اثر انداز ہونا ہے۔ لہٰذا SIR کو سیاسی الزام تراشی کا میدان بنانے کے بجائے انتظامی شفافیت، قانونی تحفظ اور جمہوری مساوات کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ الیکشن کمیشن کو بھی ہر جائز سوال کا واضح جواب دینا چاہیے، ریکارڈ کی خامیوں کی ذمہ داری کا تعین کرنا چاہیے اور ایسا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے جس میں شہری خود کو ملزم نہیں بلکہ جمہوری نظام کا باعزت فریق محسوس کرے۔ انتخابی فہرستوں کی اصلاح ضرور کیجیے، جعلی ناموں کا سدباب ضرور کیجیے، غلط اندراجات ختم ضرور کیجیے لیکن یہ اصول کبھی فراموش نہ ہو کہ جمہوریت کی حفاظت صرف جعلی ووٹروں کو نکالنے سے نہیں ہوتی؛ حقیقی ووٹر کے ووٹ کو محفوظ رکھنے سے بھی ہوتی ہے۔ اگر کسی نظام کی چھان بین میں بااثر شخصیات بھی نشان زد ہوسکتی ہیں تو عام آدمی کی دشواری کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس لیے اب وقت ہے کہ SIR کی چھلنی اتنی باریک نہ کردی جائے کہ اس میں سے جعلی اندراجات کے ساتھ حقیقی شہری بھی چھن جائیں۔ فہرستوں کی صفائی ضرور ہو مگر اہل ووٹروں کا صفایا نہ ہو؛ انتخابی نظام مضبوط ضرور ہو مگر شہری کا جمہوری حق کمزور نہ ہو؛ جانچ ضرور ہو مگر انصاف کے تقاضوں کو روند کر نہیں۔ یہی وہ توازن ہے جس کے بغیر انتخابی اصلاح محض انتظامی مشق رہ جائے گی اور جمہوری اعتماد اپنی بنیادوں میں متزلزل ہونے لگے گا۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار اور کریم گنج پورن پور پیلی بھیت مغربی اترپردیش کے متوطن ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com