مسکراتا چہرہ کسے اچھا نہیں لگتا، ہمارے چہرے کی مسکراہٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارا دل بغض سے بالکل پاک ہے۔مسکراہٹ دلوں کے فاصلے کم کردیتی ہے۔ کسی کی دلفریب مسکراہٹ پاکر ہم سارے دکھ درد بھول جاتے ہیں۔ مسکراہٹوں کے خوش رنگ حسین پھول نچھاور کرنے والے لوگ ماحول کو خوبصورت بنادیتے ہیں، فضائیں معطر ہوجاتی ہیں۔ مسکراہٹ کدورتوں کو مٹا دیتی ہے۔ مسکراہٹ کے خوبصورت پردے میں ہمارے دکھ درد چھپ جاتے ہیں۔ کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا اور ہم دکھوں کو دنیا والوں سے چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس لیے ہمیشہ مسکرایئے، اپنے درد و غم اپنے پاس ہی رکھیئے۔ اپنے دکھ لوگوں پر آشکار ہوجائیں تو دکھ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوجایا کرتے ہیں۔
مسکراہٹ کی دبیر چادر میں چاہے انسان اپنے دکھوں کو جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے لیکن اس کی آنکھیں اس کے دکھ کی کہانیاں سنا ہی دیتی ہیں، سچ جو کہتی ہیں آنکھیں۔ آنکھیں جھوٹ نہیں بول سکتیں۔ اسی لیے بہت سارے لوگ مسکراتے ہوئے آنکھیں نہیں ملاتے کہ کہیں آنکھوں کی سچائی ظاہر نہ ہوجائے۔ مسکراہٹ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کتنی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم مسکرا رہے ہوتے ہیں اور دل میں آنسوئوں کا طوفان بہت پُر زور ہوتا ہے۔ لیکن ہم اپنے دکھ درد دوسروں سے چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے کو جاذب ِ نظر بنادیتی ہے۔ وہ لوگ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر اس قدر خوشی ہوتی ہے کہ چہرے مسکرااُٹھتے ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ اس قدر پرخلوص ہوتے ہیں کہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔
دل کے درد چھپا کر اس طرح مسکراتے ہیں کچھ لوگ کہ اُداسیاں بھی حیران سی رہ جاتی ہیں۔ کچھ مسکراہٹیں بے انتہا خوبصورت ہوتی ہیں۔ انسان اُس مسکراہٹ میں اس طرح کھو جاتا ہے کہ سب کچھ بھول جاتاہے یاد رہ جاتی ہے تو بس وہ خوبصورت مسکراہٹ۔ جب دکھوں کی برکھا برستی ہے تو بہت سے لوگ مسکرانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ غموں کو اپنے اوپر پوری طرح سے اس طرح طاری کرلیتے ہیں کہ اپنی زندگی کو اجیرن بنادیتے ہیں۔ ہم صرف اپنے لیے تو نہیں جیتے ہم سے وابستہ اور بھی لوگ ہوتے ہیں۔ صرف اپنے دکھوں کا ماتم کرتے رہنے سے کیا حاصل۔ اپنے پیاروں کو دکھی کردینے سے کیا دکھ مٹ جائیں گے؟ پھر کیوں نہ دکھوں کو شکست دی جائے، کیوں نہ مسکرائیںہم، کہ جینا اسی کو کہتے ہیں۔ ہاں! جینا اسی کو کہتے ہیں۔
مسکراہٹ کے گلستانوں میں اُمید کے پھول کھلتے ہیں، مایوسی اور بے یقینی کی لہر چھٹ جاتی ہے۔ مسکراہٹ ہماری زندہ دلی کو ظاہر کرتی ہے۔ مسکراہٹ آپس کی دوریوں کو کم کرتی ہے، فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ ہمیشہ مسکراکر ملنے والے لوگ باغ و بہار شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی صحبت میں ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔ مسکراہٹ مثبت شخصیت کو ظاہر کرتی ہے۔مسکراہٹ خود اعتمادی کی علامت ہے۔ مسکرانے سے اس بات کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ہم زندگی کی مشکلات میں حوصلہ نہیں ہارتے بلکہ ہمت سے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہر انسان خوشیوں کا متلاشی رہتا ہے۔ جب ہم مسکراتے ہیں تو گویا لوگوں میں خوشیاں بانٹتے ہیں۔
ہماری مسکراہٹ پتھر دل انسان کو بھی مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ مسکرایئیکہ مسکرانا سنتِ نبوی بھی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ جھوٹی مسکراہٹ بھی اپنے چہرے پر سجالیںاور جھوٹی ہنسی ہنسیں تو آپ کا دماغ اس دھوکے میں آجائے گا کہ آپ خوش ہیں۔ اس کے بعد وہ قدرتی طور پر آپ کے ذہنی تنائو اور فکر کو کم کرکے ایسے ہارمونز پیدا کرے گا جو آپ کو خوش رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ مسکراہٹ آپ کے چہرے کی کشش میں اضافہ کرکے آپ کو جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔
مسکراہٹ آپ کے بدمزاج اور مغرور ہونے کے تاثر کو بہت حد تک کم کردیتی ہے، لوگ آپ سے بات کرنے میں آسانی محسوس کرتیہیں۔ انھیں آپ سے بات کرنے میں بے انتہا خوشی کا احساس ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام 1987سے ہر سال مسکراہٹ کا عالمی دن یکم اکتوبر کو منایاجاتاہے، جس کا مقصد پوری دنیا میں مسکراہٹ کو فروغ دینا ہے۔ مسکراہٹ ہمارے ذہنی تنائو اور بے چینی کو کم کرتی ہے، مسکراہٹ ہماری قوتِ مدافعت کو بڑھاتی ہے۔ ہماری جس طرح کی سوچ ہوتی ہے، جیسا رویہ اکثر ہم اپناتے ہیں ہماراچہرہ ویسا ہی ہوتا چلاجاتاہے۔ اگر ہم نخوت زدہ انداز رکھتے ہیں ہماری پیشانی پر ہمیشہ بل پڑتے رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے ہمارا چہرہ ایسا ہی بن جاتا ہے۔ اگر ہم ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہنے کے عادی ہیں تو لوگوں کو ہم سے مل کر خوشی کا احساس ہوتا ہے تو پھر ہمارے چہرے پر نرمی اور مسکراہٹ کا تاثر نمایاں ہوجاتاہے۔ یقیناً مسکراہٹ آپ کو دلکش اور حسین بنادیتی ہے۔ ہمارا چہرہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری شخصیت جھلکتی ہے۔ ہمارے سارے راز عیاں ہوجایاکرتیہیں۔ جو لوگ کسی کی غلطی کو نظر انداز کرکے ایک دل آویزمسکراہٹ چہرے پر سجالیتے ہیں اور غلطی پر بازپرس نہیں کرتے ایسے ہی خوبصورت لوگوں سے یہ دنیا حسین ہے، مسکرانا ہمارے لیے اسی طرح ضروری ہے جس طرح خوشبو کے پھیلنے کے لیے ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح مسکراہٹ ہمارے جینے کے لیے اسی قدر ضروری ہے۔
آپ کے مشاہدے میں اکثر یہ بات آئی ہوگی کہ استاد جب بھی ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ کلاس میں داخل ہوتا ہے فوراً ہی تمام طالب علموں کے چہرہ پر خوشگوار مسکراہٹ بکھر جایاکرتی ہے۔ اسی طرح گاہک ہمیشہ روکھا پھیکا رویہ رکھنے والے دکاندار سے دور رہنا چاہتا ہے۔ مسکراہٹ زندگی کو سہل بنانے میں کارآمد کردار ادا کرتی ہے۔ مسکرانے کے لیے کوئی وجہ درکار نہیں ہوتی۔ مسکراہٹ کا خوبصورت تحفہ ہم کبھی بھی کسی کو دے سکتے ہیںچاہے ہم کتنے ہی تہی داماں کیوں نہ ہوں۔ مسکرانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا دل بغض و کینہ، غرور و تکبر سے بالکل پاک ہے۔ مسکرانا ہماری صحت کو بہتر بنانے کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اگر ہم ہنسیں گے مسکرائیں گے تو ہم خود بہ خود پُر اُمید ہوتے چلے جائیں گے۔ نا اُمیدی ختم ہوجائے گی ہم میں مشکلات سے لڑنے کا نیاجذبہ جاگے گا۔ ہم اگر مسکرانا بھول گئے تو پھر شکست یقینی ہے۔ مسکراہٹ ایک طاقت ہے، توانائی ہے۔
ہنسنا مسکرانا کسی نعمت سے کم نہیںہے۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جن کے دل کی گلیوں میں ہر وقت بارش ہوتی رہتی ہے دل کے دریچے کتنے شبنمی سے ہوتے ہیں، سمندر کا سمندر آنکھوں میں چھپائے پھرتے ہیںلیکن کبھی ایک قطرہ آنسو کا بہنے نہیں دیتے اس لیے کہ کہیں اُن کے اپنے، اُن کے پیارے نا اُمید اور دکھی نہ ہوجائیں۔ وہ صرف مسکراتے ہیں اس لیے کہ وہ جانتے ہیںکہ مسکراہٹ کتنی بڑی نعمت ہے وہ اس نعمت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ دکھوں کو شکست دیتے ہیں۔ کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کتنی مسافت طے کرنے کے بعد یہ مسکراہٹ چہریپر نمودار ہوئی ہے۔ کتنے آنسوئوں کو تھپک تھپک کر سلانے کے بعد مسکراہٹ چہرے کی زینت بنی ہے۔ کوئی بھی نہیں جان پاتا، کوئی بھی سمجھ نہیں پاتا، یقیناً یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔ ایسی کامیابی صرف بہادر لوگوں کے ہی حصے میں آتی ہے۔ صرف اپنے لیے ہی روتے بسورتے لوگ جئے بھی تو کیا جئے۔ مسکرانا شکرگزار لوگوں کی نشانی ہے۔ آپ نے اکثر غور کیا ہوگا کہ کبھی جب آپ بہت زیادہ ذہنی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں اور کسی ایسی محفل میں شرکت کرتے ہیں جہاں کا ماحول بہت خوشگوار ہوتا ہے تو ہم اپنے سارے دکھ درد بھول جاتے ہیں۔ ایک نئی ترنگ طبیعت میں جاگتی ہے۔ دل میں ایک سکون اُترتا محسوس کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔ خود سے یہ عہد کرلیں کہ چاہے کتنے ہی دکھ آپ کی زندگی پر دستک دیں، ہر حالت میں مسکرائیں گے۔
مسکراہٹ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سہارا ہے، یہ سہارا ہمیں مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ ہم اس کے سہارے زندگی کی تلخیاں آسانی سے سہہ جاتے ہیں۔ راستے کتنے بھی دشوار گزار ہوں اس زندگی کے، ہم ہنستے مسکراتے ہر مشکل پر قابو پالیتے ہیں۔
ہم جب ہی خوش رہ سکتے ہیں جب آپ دوسروں کے لیے بھی خوشیاں تلاش کریں۔ انسان حقیقی طور پر خوش اسی وقت رہ سکتا ہے، جب اسے اپنی زندگی میں مقصدیت نظر آتی ہو اور اسے اپنے بارے میں یہ شعور بھی ہو کہ وہ کسی بھی طرح کے برے حالات میں خود کو کسی خلا میں گرنے نہیں دے گا۔ سچ پوچھیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی انسان ہمیں خوش نہیں دیکھ سکتا، سوائے چند لوگوں کے، لوگ صرف تنقید کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ لوگوں کی تنقید کا جواب ایک خوبصورت اور پُراعتماد مسکراہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لوگ جب آپ سے بلا وجہ بحث و تکرار کریں اور بات بڑھنے کی نوبت آنے لگے تو آپ صرف مسکرایئے اور وہاں سے ہٹ جایئے۔ منفی طرزِ عمل رکھنے والا شخص خود بہ خود خاموش ہوجائیگااور فساد ہونے سے رہ جائے گا۔ ہمیں حالات کو سازگار بنانے کے لیے، خوشگوار ماحول میں زندگی گزارنے کے لییمسکرانے کی عادت کو اپناناہوگا۔ جب ہم مسکراتے ہیں تو لوگوں نے جو غلط فہمیاں ہمارے بارے میں اپنے دل میں پال رکھی ہوتی ہیں وہ سب دور ہوجاتی ہیں۔ مسکرانا ہمارے دل کی صحت کے لیے بھی بے انتہا ضروری ہے۔ مسکرانے سے بلڈپریشرنارمل ہوجاتاہے۔ ذہنی تنائو ختم ہوجاتاہے۔ صحت مند زندگی کا راز مسکراہٹ میں پوشیدہ ہے۔
دل زخم زخم ہوپھر بھی مسکرائو۔راستے کتنے ہی دشوار گزار ہوں، تم پھر بھی مسکرائوکہ مسکراہٹ تمہارے اپنوں کی خوشی کے لیے بہت ضروری ہے۔ جی لیے خود کے لیے، ذرا دوسروں کی خاطر بھی مسکراکردیکھو۔ تمہاری مسکراہٹ کتنے مسئلے حل کر سکتی ہے۔ جن کا تمہیں ادراک نہیں ہے۔ تمہارا مسکرانا تمہارے اذلی دشمن کو بھی مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے۔ مسکراتے رہو کہ تمہارے مسکرانے سے آہستہ آہستہ بہار آہی جائے گی۔ موسمِ خزاں گزر ہی جائے گا۔ ذرا حوصلے کا دیا جلا کر دیکھو، ذرا سا مسکراکر دیکھو، اندھیرے چھٹ ہی جائیں گے۔ پُر نور سحر جلوہ گر ہوجائے گی آہستہ آہستہ۔ شامِ غم ہمیشہ تو نہیں رہ سکتی۔ شامِ غم کو تمہارے حوصلوں کے آگے سرنگوں ہونا ہی پڑے گا۔ آزمائشیں تو آتی ہیں امتحان لینے کے لیے، مسکرادیئے تو یقیناً کامیاب ہوتم۔ چاند جب بادلوں میں چھپتا ہے تو فلک اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر جب بادل چھٹتے ہیں تو روشنی ہر سو بکھر جاتی ہے۔ اس زندگی میں غم اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مسکراکے شکست دے دو ہر غم کو کہ بہادری اسی کو کہتے ہیں۔ ہاں! بہادری اسی کو کہتے ہیں۔ ہمارے سوچنے کا انداز یا تو ہمیں خوشی دے سکتا ہے یا پھر مایوسیاں اور اُداسیاں۔ اگر ہم دکھوں کو وقتی جانیں اور اپنے سے زیادہ ایسے لوگوں پر نظر ڈالیں جن کے دامن میں خوشی نام کی کوئی چیز نہیں اُن کے ساتھ مصائب اور مشکلات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا ہی چلاجاتاہے۔تو پھر آپ کو اپنے غم اتنے دکھی نہ کرسکیں گے۔ خوشی کے اظہار کا سب سے پہلا ذریعہ مسکراہٹ ہی ہوتی ہے۔ مسکراہٹ دلوں کو تسخیر کرلیتی ہے۔ مسکراہٹ دیرپا اثر رکھتی ہے۔ ہم مسکراتے ہوئے چہروں کو کبھی بھی بھول نہیں پاتے اُسے ہم خوشگوار یاد کی شکل میں ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے دکھ درد لوگوں سے چھپانے کے لیے جب مسکرانے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ ضدی سے آنسو ہماری آنکھوں سے ڈھلکنے کے لیے بے تاب ہوجاتے ہیںلیکن ہم کمالِ ضبط سے آنسوئوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اُس وقت ہم قربانی کے جذبے سے مامور ہوتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے دکھ دوسروں کو دکھی کردیں۔ ہم اُس وقت اپنے آپ سے لڑرہے ہوتے ہیں اور مسکرارہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھئے آپ کی زندگی صرف آپ کی زندگی نہیں ہے۔ اس لیے کوشش کیجئے کہ آپ کے آنسودوسروں کی آنکھوں میں نہ سماجائیں، آپ کے دکھ دوسروں کے دلوں میں نہ اُتر جائیں۔ اس لیے مسکرایئے کہ مسکرانا بھی ایک صدقہ ہے۔ مسکرایئے کہ یہ زندگی بہت مختصر ہے۔ مسکرایئے کہ آپ کی مسکراہٹ دلوں کو فتح کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ مسکرایئے اس طرح کہ فضائیں مسکرا اُٹھیں۔ یہ کائنات ساری مسکرا اُٹھے۔ تمہیں دیکھ کر غم بھی مسکرا اُٹھے۔ غم بھی مسکرا اُٹھے۔