دہلی کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو بی جے پی نے ’جہاں جھگی وہیں مکان ‘ کے بلڈوزر سے ڈھیر کرکے اس پر کمل چھاپ جھاڑو پھیر دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بنیا ہونے کی وجہ سے جانتے ہیں سیاست سمیت سارے کاروبار لین اور دین کی بنیاد پر چلتے ہیں ۔ اس لیے انہوں ووٹ کے بدلے دہلی کے غریبوں کی تعلیم ، صحت اور بجلی سڑک پر اپنی توجہ مبذول کردی۔ سرکاری اسکولوں کو ایسی ترقی دی کہ لوگوں نے اپنے بچوں نجی اداروں سے وہاں منتقل کردیا۔ گلی محلوں میں ’محلہ کلینک‘ کھول کرعلاج معالجہ کا بہترین انتظام کیا۔ نہ صرف سستی بجلی مہیا کرائی بلکہ کورونا کے زمانے میں غریبوں کو غذا کے ساتھ نقدی تک پہنچائی۔ ا یسے میں بی جے پی والے ’جہاں جھگی وہاں مکان ‘ کا وعدہ لے کر آئے ۔ اروند کیجریوال نے اس میدان میں قدم نہیں رکھا تھا اس لیے ان کے پیر اکھڑگئے ۔ عوام نے اپنے قیمتی ووٹ کے بل بوتے پر ’ایک بنگلہ بنے نیارا‘ کا خواب دیکھ کر دہلی میں برسوں بعد کمل کھلا دیا لیکن پھرکہانی میں ایک ٹویسٹ آگیا ۔
مودی جی چونکہ غیر طبعی (نان بایو لوجیکل ) مخلوق ہیں اس لیے ان کو سمجھنے میں لوگ غلطی کردیتے ہیں ۔برسوں پہلے انہوں نے کہا ’اچھے دن آنے والے ہیں‘ تو یہ سن کر عام لوگ خوش ہوگئے۔ انہوں نے سوچا کہ بیرون ملک سے ہر شہری کے بنک کھاتے میں پندرہ لاکھ آجائیں تو ان کے برے دن ازخود کوچ کرجائیں گے لیکن یہ ان کی بھول تھی۔ مودی جی تو اپنے اچھے دن کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ وہ آنے والے ہیں اور ان کے طفیل امیت شاہ، جئے شاہ ، گوتم اڈانی و مکیش امبانی وغیرہ کے بھی اچھے دن آجائیں سو آگئےمگر عوام کی حالت پہلے سے خراب ہوگئی عام لوگوں نےجب پندرہ لاکھ کا سوال کیا تو شاہ جی نے کہہ دیا وہ تو انتخابی جملہ بازی تھی ۔ ایسانہیں ہوتا؟ جھگی اور مکان کے معاملے میں بھی مودی جی نے یہ تو بتایا کہ مکان بنے گا مگر اس میں کون رہے گایہ نہیں بتایا ؟ اب اگر جھگی جھونپڑی میں رہنے والے اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے کہ وہ ان مکانوں میں رہیں گے تو اس میں بیچارے مودی جی کا کیاقصور؟ انتخاب کے بعد جب بی جے پی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت نے ‘جہاں جھگی وہیں مکان’ کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے جھگی بستیوں پر بلڈوزر سے چڑھائی کردی لوگوں کے ہوش ٹھکانے آئے ۔ غریبوں کے خوابوں کی اس بھیانک تعبیر پر سلمان احمد کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
کمل کی اوٹ سے نکلنے والے بلڈوزر نے خوابوں کامحل مسمار کردیا ۔ریکھا گپتا نے پہلے تو بلڈوزر چلایا اور پھر باقی بچی بستیوں میں عوامی سہولت کمپلیکس، نئے بیت الخلاء اور گلیوں کو پختہ کرنے کے لیے 327 کروڑ روپے کی اسکیموں کی منظوری کا جھانسہ دے کراپنا جرم چھپانے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ جھگی بستیوں پر بلڈوزر کا روائی کے بعد اجڑنے والے غریب خاندانوں میں سے کتنے لوگوں کو متبادل رہائش یا فلیٹ دیئے گئے تو اس کے واضح اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود نہیں تھے۔یہ تو خیر ہلکا حملہ تھا لیکن اب ایس آئی آر کے بہانے حکومت لوگوں کو ووٹ کے بنیادی حق سے ہی محروم کردینے کی بھی بھیانک سازش رچ رہی ہے ۔ایس آئی آر کی مشق سے قبل دارالحکومت میں تقریباً 1.45 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔الیکشن کمیشن نے ان میں سے 47.6 لاکھ ووٹرز کے نام حذف کردیئے۔ انہیں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہرے اندراج والے ووٹرز کے طور پر نشان زد کردیا گیا۔ اس کے بعد انتخابی فہرست کے مسودہ میں سے مزید 31.6 لاکھ ووٹرز کو نوٹس جاری کرکے ان سے اپنی اہلیت ثابت کرنے کو کہا گیا ۔
لیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق کسی پولنگ بوتھ پر دو فیصد سے زیادہ ووٹرز کے نام حذف کیا جانا مشتبہ سمجھا جاتا ہے اور ایسے معاملات کی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کا ذاتی طور پر دوبارہ تصدیق کرنا لازمی ہے مگر اس بات کا بھی پاس و لحاذ نہیں رکھا گیا۔دی رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیق کے مطابق دہلی کے مجموعی 14,947 پولنگ بوتھس میں سے صرف 51 ایسے تھے جہاں ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کی شرح الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ دو فیصد معیار کے اندر رہی۔ 639 بوتھس پر تو رجسٹرڈ ووٹرز میں سے نصف سے زیادہ کے نام فہرست سے خارج کر دیئے گئے۔اس تحقیق کے مطابق دارالحکومت میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) نے حکومت کی جانب سے انہدامی کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے ووٹرزکو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس طرح کے جملہ نو پولنگ بوتھس کے 87.87 فیصد ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کر دیئے گئے۔ یہ لوگ نہ روہنگیا ہیں اور نہ بنگلہ دیشی مسلمان ہیں ۔ اس میں سبھی مذاہب کے غریب لوگ شامل ہیں ۔ ایسے میں راحت اندوری کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سبھی زد میں یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
دی رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیق کے مطابق، نظرثانی سے قبل ان نو بوتھس پر مجموعی طور پر 10,015 رجسٹرڈ ووٹرز تھے، جن میں سے 8,800 کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیئے گئے۔ ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں حکومت نے ان کے سابقہ مکانات منہدم کیے جانے کے بعد نئے پتوں پر منتقل کیا تھا، لیکن نظرثانی کے عمل کے دوران ان کے نئے دستاویزات یا شناختی کوائف قبول نہیں کیے گئے۔ اس رپورٹ نے دہلی میں ایسے 29 پولنگ بوتھس کی نشاندہی کی جہاں 70 فیصد سے زیادہ ووٹرز کے نام حذف کیے گئے۔ ان میں سے نو بوتھس ایسے علاقوں میں واقع تھے جہاں حکومت نے مکانات منہدم کیے گئےتھے۔یہ نتائج دہلی میں ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے کے وسیع تر معاملے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ انہدام سے متاثرہ نو میں سے چار بوتھس کے بے گھر ہونے والے ووٹرز کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ مکانات منہدم کیے جانے کے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد بھی بہت سے افراد دہلی کے مختلف علاقوں میں نئے پتوں پر رہ رہے ہیں، لیکن ان کے انتخابی ریکارڈ نئے پتوں تک منتقل نہیں ہوئے۔
الیکشن کمیشن اپنے ضوابط کے مطابق بے گھر افراد کو بھی ووٹر کے طور پر تسلیم کرنےکا پابند ہے، تاہم بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے غریبوں کو اپنے ووٹر شناختی کارڈ بحال کرانے اور ان انتخابی ریکارڈ سے منسلک سرکاری مراعات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جھگی جھونپڑیوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد کے لیے اس کے اثرات صرف ووٹ دینے کا حق کھونے تک محدود نہیں ر ہیں گے کیونکہ انتخابی ریکارڈ اس بات کے ثبوت کے طور پر بھی استعمال ہو سکتے ہیں کہ کوئی شخص کہاں اور کتنے عرصے سے رہ رہا تھا۔ یہ معلومات بعض سرکاری فلاحی اسکیموں اور مراعات کے لیے اہلیت ثابت کرنے میں اہم ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں کولکاتہ کے معروف اخبار دی ٹیلی گراف کے سابق مدیر کو پاسپورٹ اور ویزا کے باوجود امریکہ جانے سے اس لیے روک دیا گیا کیونکہ ان کا نام ایس آئی آر کی فہرست میں نہیں تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے انہیں بے بنیاد خدشات کہہ کر ان مظلومین کی مدد کرنے سے انکار کردیا ۔ سپریم کورٹ میں 22 ستمبر کوسماعت کے بعد دہلی میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت لوگوں کو "میکانکی انداز” میں نوٹس جاری کرنے پر الیکشن کمیشن کو سخت تنبیہ کی گئی۔
عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ایس آئی آرکے عمل میں بغیر سوچے سمجھے اور مشکوک بنیادوں پر نوٹس دینے کا طریقہ درست نہیں ہے۔کورٹ کے مطابق ان تکنیکی اور بے بنیاد اعتراضات کا کسی بھی شہری کے اصل حقِ رائے دہی (ووٹ دینے کے حق) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل مکتوب نے انکشاف کیا تھا کہ جنوب مشرقی دہلی، جہاں مسلمانوں کی کم آمدنی والے تارکینِ وطن کی کئی ایک بڑی آبادی بستی ہے ایس آئی آر سے بہت زیادہ متاثر ہوئی۔ وہاں اخراج کی شرح دہلی میں سب سے زیادہ، یعنی 43.6 فیصد رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس رہنما رینوکا چودھری نے SIR کو ’’منتخب ادارہ جاتی دھاندلی‘‘ قرار دیا، جبکہ صحافی یونس لاسانیا نے کہا کہ یہ عمل ’’بنیادی طور پر شہریوں، بالخصوص محروم طبقات کو ہراساں کرنے اور انہیں مزید مایوسی کی طرف دھکیلنے کی ایک بے مقصد مشق بن گیا ہے۔‘‘ سینئر صحافی ایم کے وینو نےتو اس عمل کو ’’جمہوریت کا قتلِ عام‘‘ قرار دے دیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قتل عام کو اسی ووٹ کے خنجر سے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے جس کے ذریعہ یہ لوگ اقتدار میں آئے ہیں ۔ پہلے تو انہوں نے مکان کا خواب دِکھا کر جھگیوں کو روندا اور اب ووٹ کے حق کا انکاونٹر کردینا چاہتے ہیں۔ یہی یوگی بابا کا بلڈوزر اور انکاونٹرماڈل ہے۔ اب ملک کے عوام کو یہ طے کرنا ہے کہ ملک یوگی بابا کی مرضی یابابا صاحب کی رہنمائی میں چلے گا۔