کسی بھی شخص کو شرعی ،ملکی قانونی جواز کے بغیر جان بوجھ کر جان سے مار دینا قتل کہلاتا ہے،قتل ناحق ایک سنگین قسم کا جرم ہے بلکہ دوسرے جرائم کے مقابلہ میں ایک انتہائی گھناؤنا جرم ہے ،جس علاقہ میں قتل کے واقعات پیش آتے ہیں اور وہاں کسی کو ناحق قتل کیا جاتا ہے تو وہ علاقہ ظلم کی آماجگاہ بن جاتا ہے ، لوگوں پر ایک خوف طاری رہتا ہے ، اس جگہ رہنے والوں کا سکون غارت ہوجاتا ہے ،افسردگی ان پر چھائی رہتی ہے،قلبی اطمینان رخصت ہوجاتا ہے اور پورا علاقہ غضب الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے، قتل ناحق سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے والا شخص صرف ایک انسان کا قاتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قاتل ہوتا ہے ،قرآن مجید میں صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ ناحق قتل سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے والے شخص نے صرف ایک شخص کا قتل نہیں کیا ہے بلکہ اس نے تو پوری انسانیت کو قتل کیا ہے،ارشاد ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا(المائدہ:۳۲)’’جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والاہو،قتل کر ڈالیں تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا‘‘ ، اس آیت مبارکہ سے انسانی جان کی قدر وقیمت اور انسانی تکریم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کا قتل ناحق جرم میں پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے کیونکہ اس شخص نے اپنے گھناؤنے عمل کے ذریعہ زمین میں فساد برپا کیا ہے ،قتل ناحق زمین پر ایسا حادثہ ہے کہ اس سے بڑا کوئی حادثہ نہیں ہے ، سیدنا حسن بصریؒ قرآن مجید کی یہ آیت ’’ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا‘‘ کی تفسیر میں فرمایا ( جس نے ناحق ایک جان کو قتل کیا) اس پر اس قتل کا قصاص واجب ہوگا اس شخص کے برابر جس پر تمام انسانیت کو قتل کرنے کا قصاص واجب ہے،(کیونکہ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خون ریزی کرتے پھرتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا( وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور ( یعنی ملک بدر یاقید) کردئے جائیں ،یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے، کسی کو ناحق قتل کرنا کس قدر برا عمل ہے کہ اس کی شناعت کو بتاتے ہوئے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا : لزوال الدنیا جمیعا اھون عنداللہ من سفک دم بغیر حق ( بیھقی : ۵۳۴۴) ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہوجانا بھی کسی شخص کے قتل ِ ناحق سے ہلکا ہے‘‘،قیامت کے دن ہر جرم کا فیصلہ سنایاجائے گا اور دنیا میں اپنی طاقت وقوت یا عہدہ وکرسی یا مال ودولت یا پھر چالاکی وہوشیاری کی وجہ سے ظالم وقاتل سزا سے بچنے میں کامیاب بھی ہوں گے مگر یہ ان کی چالاکی اور دولت وکرسی کی حماقت یہاں کام نہیں آئے گی ،وہ تو مجرم بناکر پیش کئے جائیں گے اور ان کے چہروں سے خوف واضح طور پر جھلک رہا ہوگا ،قیامت کے دن سب سے پہلے جہاں نماز کی پوچھ ہوگی وہیں سب سے پہلے قتل وخون کرنے والے کا فیصلہ سنایا جائے گا ،رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: اول مایقضی بین الناس یوم القیامۃ فی الدماء ( نسائی: ۳۹۹۴)’’ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا‘‘۔
اسلام میں کسی بھی شخص کو ناحق اور بلاوجہ قتل کرنا جرم عظیم ، بدترین عمل ہے اور موجب لعنت وقابل گرفت ہے،ہر انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اسے بلاوجہ قتل کرنا بہت بڑا جرم اور انتہائی گھناؤنا عمل ہے ، عام انسان کے علاوہ مسلمان کو قتل کرنا تو اور بھی خطرناک جرم ہے بلکہ دیگر بڑے جرائم پر یہ جرم بھاری ہے ،رسول اللہؐ نے ایک مسلمان کے قتل کو پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بھی بڑا گناہ قرار دیا ہے ، رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: لزوال الدنیا أھون علیٰ اللہ من قتل رجل مسلم( ترمذی: ۱۳۹۵) ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کا قتل پوری دنیا کے تباہ ہوجانے سے زیادہ خطر ناک ہے‘‘ ، قرآن مجید میں کسی بھی مومن کو جان بوجھ کر جان سے مار دینے پر سخت ترین سزا سنائی گئی ہے ،ارشاد ہے: وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً(نساء: ۹۳)’’ جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کیا ہے‘‘،اس آیت کا ایک ایک جملہ بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قاتل پر جس قدر غضبناک ہیں ، قاتل کا ٹھکانہ صرف جہنم ہی نہیں ہوگا بلکہ وہ جہنم میں طویل مدت تک رہے گا اور سزا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار بھی ہوتی رہے گی ، ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن قاتل اور مقتول اس حال میں آئیں گے کہ مقتول قاتل کے سر لٹکا ہوگا اور کہہ رہا ہوگا : رب سل ہذا لم قتلنی؟ ’’ اے میرے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟‘‘،یقینا قاتل کے لئے اس دن کس قدر شرمندگی کی بات ہوگی اور اسے سزا سے کوئی بچا نہیں پائے گا ، ایک حدیث ہے جس میںرسول اللہؐ نے مومن کے قتل کئے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : لو ان اھل السماء واھل الارض اشترکوا فی دم مؤمن لا کبھم اللہ فی النار( دیلمی: ۵۰۸۹)’’ اگر تمام آسمانوں وزمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دیں گے‘‘۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی جولوگ ظلم وتشدد کا بازار گرم کر رہے ہیں چاہے جس مذہب کے ہوں ،ظلم تو بہرے حال ظلم ہی ہے ، ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانا ہی دراصل ظلم کے سد باب کی طرف پیش رفت کرنا ہے، مجموعی طور پر ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر ظلم کے خاتمہ کی کوشش کریں ،وہ اس طرح کہ اپنی ذات سے کسی کے اوپر ظلم ہونے نہ دیں ،بقیہ ظالموں پر پکڑ کرنا ،ان پر شکنجہ کسنا اور انہیں سزا دینا یہ حکومتوں ،عہدداروں ،عدالتوں اور قانون کے محافظوں کی ذمہ داری ہے ، ظلم پر تماشائی بنے رہنا اور صرف زبانی مذمت کرنا ظالموں کی طرف داری کے مترادف ہے، ظلم وستم کے بعد اگر ظالم آزاد گھوم رہا ہوتاہے اور مظلوم دہشت زدہ ہے ،ان کی فریاد رسی کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے اور حکام وعہد ار آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کے مجرم اور ظالم کے ساتھ ظلم میں برابر کے شریک ہیں، ظالم کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں یہ بھی مجرم کے ساتھ سزا کے مستحق ہیں۔
اس وقت ہمارے صوبے تلنگانہ کے مرکزی شہر (حیدرآباد) میں امن کی فضا مکدر ہے اور روز بروز صورت حال بگڑتی جارہی ہے، آئے دن کہیں نہ کہیں قتل وغارت گری کے دل ہلادینے والے واقعات پیش آتے جارہے ہیں اور درندہ صفت معمولی بات کو بہانا بنا کر قتل سے اپنے ہاتھ رنگین کرتے جارہے ہیں ، بعض قتل تو بالکل معمولی اور چھوٹی سی بات پر کیا جارہاہے ، بعض قتل کی وجہ خاندانی خصومت ہے تو بعض میاں بیوی کے جھگڑے تو بعض لین دین کی وجہ سے ہے ، افسوس تو اس بات پر ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں اکثر وبیشتر مسلمان ہیں ،الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ قتل کے واقعات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں تو مارے شرم کے سر جھگ جاتا ہے اور دل پر شدید چوٹ لگتی ہے ،آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں اور دل رونے لگتا ہے، اسلام جس نے پوری انسانوں کو امن ومحبت اور احترام کا درس دیا اور قتل وغارت گری کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے اسی کے ماننے والے اس طرح کے گھناؤنے جرم کا شکار ہورہے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ تو مساجد سے دوری ، دینی علوم سے ناواقفیت، اہل علم سے فاصلہ ، دوسری بنیادی وجہ شراب و نشے کی عادت،تیسری وجہ بے کاری وبے روزگاری ، چوتھی وجہ عدم برداشت اور بے جا غصہ ، پانچویں وجہ والدین کی لاپرواہی اور تربیت کا فقدان اور چھٹی وجہ جرم پر کھلی چھوٹ ، یقینا یہ بنیادی وجوہات جس نے معاشرہ کو نہ صرف تباہ وبرباد کردیا ہے بلکہ ان گھناؤنے جرائم کی وجہ سے معاشرہ کا سر شرم سے جھک گیا ہے ،حساس اور سنجیدہ قسم کے لوگ بہت متفکر ہیں اور غور وفکر میں ڈوب کر اس کے سد باب کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور یقینا کرنا بھی چاہئے ،معاشرہ کو قتل وغارت گری کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے دینی رہنماؤں ، مسلم تنظیموں کی ذمہ دار ، محلوں کے صدور اور سنجیدہ مزاج کے حامل افراد کو اجتماعی طور پر کوشش کرنے ضرورت ہے ، خاص کرمحلے کے بااثر لوگ کم ازکم اپنے محلے میں ہونے والے ایسے گھناؤنے جرائم کا سخت نوٹ لینا ہوگا ، جرائم روکنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی اور ضرورت پڑنے پر اہل علم اور معاشرہ پر گہری نظر رکھنے والوں سے مشورہ طلب کرنا ہوگا اور گاہے بگاہے کسی بہانے لوگوں کو جمع کرکے ان کے سامنے اخلاق نبویؐ پیش کرنا ہوگا اور ان کے مزاجوں کو سنجیدہ بنانے کی کوشش کرنا ہوگا ،اسی کے ساتھ ساتھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشرار پر کڑی نظر رکھیں اور جرائم پیشہ افراد کو کڑی سزا دیں ، جرائم کے بڑھتے واقعات کی ایک وجہ حکومت کی جرائم سے پردہ پوشی اور مجرموں کے ساتھ نرم رویہ ہے ،حکومت اور خصوصا محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے گھناؤنے جرم کرنے والوں پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور انہیں جلد ازجلد کڑی سزا دیں تاکہ جرائم کے سد باب میں مدد مل سکے ۔
قتل وغارت گری کے ذریعہ ظلم وستم کا بازار گرم کرنے والے افراد کو جان لینا چاہئے کہ ظلم تو آخر ظلم ہے ،ظلم وتشدد کے دن کی رات بھی آتی ہے ،کسی وجہ سے یہاں سزا سے بچ بھی جائیں تو وہاں کی عدالت سے بچ نہیں پائیں گے ، فیصلہ بادشاہوں کے بادشاہ کے ہاتھ میں ہوگا ، عدالت عظمی میں فرشتے گھسیٹ کر لائیں گے اور ایسی سخت سزا سنائی جائے گی جس سے کوئی بچا نہیں پائے گا ،ان مجرموں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جسے دیکھ کر مجرم کانپ اُٹھیں گے ، انہوں نے دنیا میں جو قتل وغارت گری مچائی، ظلم وتشدد کا بازار گرم کیا ، ہٹ دھرمی وسرکشی کی اور اپنے طاقت کے بل پر ناحق انسانوں پر ظلم کیا انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں داخل کیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جس میں وہ طویل عرصے تک سزاپاتے رہیں گے ۔