اذان کیوں دیجاتی ہے ؟

اذان کیوں دیجاتی ہے ؟

ازقلم:مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی !

اذان دراصل اللہ تعالی کی طرف سے اپنے کام کاج چھوڑ کر رب ذوالجلال کی اطاعت اور بندگی کے لیے آ نے کی دعوت ہے اور شیطان کو ذلیل و رسوا کرنا اور اپنے آ س پاس سے شیطانی اثرات اور بلاؤں کو بھگانے کی غرض سے مخصوص طریقے پر اللہ تعالی کی کبریائی اس کی بڑائی اور اس کی شہادت کا اعلان کرنا ہے۔ ۔۔۔۔
گویا اذان کے کلمات سے بندہ کو نماز کی طرف دعوت، اللہ کی بڑائی کا اعلان اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اس کی اہمیت واضح کرتی ہے

اسلام نے نماز کو محض ایک انفرادی عبادت نہیں بنایا، بلکہ اسے مسلمان کی اجتماعی زندگی کا بھی اہم حصہ قرار دیا ہے۔ جب نماز کا وقت آتا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ دنیا کے سارے مشاغل چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے حاضری دینے کا معمول بنا لیں اس لیے کہ اذان کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اپنے آپ کو کامیاب ہونے والوں کی فہرست میں شامل کروا سکے ۔۔۔۔ اسی مقصد کے لیے اذان مقرر کی گئی

اذان کا وقت ہوتے ہی سارے مشاغل کو چھوڑ کر نماز کی ادائیگی کی فکر کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم اور ضروری ہے ۔۔۔۔
★ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر والوں کے کام کاج (گھریلو امور) میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے، لیکن "جب نماز کا وقت ہوتا (اذان ہوتی)، تو آپ ﷺ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے، گویا وہ ہمیں پہچانتے ہی نہیں اور نہ ہم انہیں پہچانتے ہیں”۔ صحابہ کرام کا بھی یہی طرز تھا۔۔۔۔
★ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کیفیت: روایات میں آتا ہے کہ جب نماز کا وقت قریب آتا، تو خوفِ خدا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ جب ان سے پوچھا جاتا تو فرماتے: "اس امانت کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے جسے آسمان اور زمین اٹھانے سے عاجز آ گئے تھے”۔
★ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایک مرتبہ مدینہ کے بازار سے گزرے۔ نماز کا وقت ہوا تو لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور نماز کے لیے چلے گئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے ان لوگوں کی کیفیت کو دیکھ کر یہ آیت پڑھی:
رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ…
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں تجارت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی۔۔۔۔۔
مؤمن اور غیرمؤمن میں جو واضح فرق ہے وہ یہ ہے کہ مومن بندہ اللہ کے حکم پر سارے کام کاج چھوڑ کر اللہ تعالی کی عبادت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیتا ہے یعنی اذان ہو جانے یا نماز کا وقت ہو جانے پر دیگر مشاغل سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اللہ تعالی کی اطاعت اور اس کی بندگی کو، حقیقت میں یہ شخص تعریف کے قابل ہے
اور ایک شخص ایسا بھی ہے کہ دن بھر کاروبار کرتا ہے، لاکھوں روپے کماتا ہے، مگر کاروبار کی وجہ سے نمازیں قضا ہو رہی ہیں، اللہ کا ذکر چھوٹ رہا ہے اور زکوٰۃ ادا نہیں کی جا رہی اور دیگر عبادات کا بھی ایسا ہی حال ہے تو اس نے اپنی زندگی کے مقصدکو پہچانا ہی نہیں ۔۔۔
کتنے ایسے کاروباری ہیں جو ہفتے میں ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں جو روزانہ دن میں کوئی ایک نماز کے علاوہ ساری نمازیں چھوڑ دیتے ہیں ؟ اور کتنے تو ایسے ہیں جن کی نماز کا کوئ پتہ ہی نہیں ؟
مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو اس سلسلے میں غور و فکر کی ضرورت ہے کہ اپنی دنیا سوار نے کے لیے ہم لوگ اپنی آخرت ضائع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔
اور بندوں کو اللہ تعالی کی طرف سے ایسا اختیار بھی نہیں دیا گیا کہ نماز پڑھ لیں تو فائدہ ہے نہ پڑھیں تو کوئی پوچھ ہونے والی نہیں ہے ۔۔۔۔نماز کا باضابطہ حساب ہونے والا ہے ۔۔۔۔ہم نے اذان کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں ۔۔۔۔
کبھی تو غور کیجئے کہ اذان کس کی طرف سے دی جا رہی ہے ،اذان کیوں دی جا رہی ہے ؟
چونکہ اذان اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے اعلان ہے۔۔. اذان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اذان کے دوران بات کرنے سے منع کیا گیا اور دیگر اذکار و عبادات سے بھی منع کیا گیا اور تو اور ۔۔۔۔ فقہاء کرام نے تو یہاں تک صراحت کی ہے کہ کوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے تو وہ شخص بھی قرآ ن کریم کی تلاوت کو روک دے اذان کا جواب دینے کے لیے ۔۔۔۔

اذان شروع ہونے پر سارے مسلمان مرد اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف نکل پڑتے تو غیر مسلم بھائیوں کو یہ شکایت کا موقع ہرگز نہیں ملتا کہ اذان بے مقصد ہے ۔۔۔۔اذان کی اہمیت اپنی جگہ بر قرار ہے ۔۔۔اب سے تقریبا 20، 25 سال پہلے کے حالات کا جائزہ لیں گے تو مسلمان اور دیگر مذاہب کے برادران وطن آپس میں بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے۔۔۔۔ کوئی تعصب ، نفرت ، حسد ، اور جلن کسی کو کسی سے نہیں تھی آ پس میں سب مل جل کر ایک دوسرے کے مذہب کی تعظیم کیا کرتے تھے۔۔۔یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمانوں کو غیر مسلموں کے کسی تہوار سے کوئی خوف اور ڈر نہیں تھا اور غیر مسلموں کو بھی مسلمانوں کے مذہبی عبادتوں اور تہواروں سے کسی قسم کی عداوت اور دشمنی نہیں تھی اذان ہوتی تو اذان کی تعظیم میں دیگر مذاہب کے برادران وطن کو خاموش رہتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔۔۔۔ اپنی ٹی وی کے ساؤنڈ کم کر دیے جاتے اور ہم نے ایسے غیر مسلموں کو بھی دیکھا ہے جو ٹی وی کے پروگرام کو اذان کے وقت میں آ ف کردیا کرتے تھے۔۔۔۔وہ بھی انسان تھے ۔۔۔۔آ ج مسلمان ہی اذان کی تعظیم نہیں کرتا مسلمان ہی اذان ہونے پر اذان کا جواب نہیں دیتا اور اذان ہونے پر مسلمان اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر نماز کے لیے ہی نہیں جاتا ۔۔۔۔عدالت میں کچھ متعصب غیر مسلم بھائیوں نے یہ شکایت کی کہ اذان کی وجہ سے ہم کو دشواری ہو رہی ہے لہذا اذان مائک پر نہ دی جائے یا پورے محلے میں کسی ایک جگہ ہی اذان دینے کے لیے مسلمانوں کو پابند بنایا جائے ۔۔۔۔بہت ساری عدالتیں اذان کو مذہبی شعار بھی تسلیم کرنے تیار نہیں اور دلیل میں عدالتیں یہی کہتی ہیں کہ بہت سارے مسلمان وہ ہیں جو اذان ہونے پر نہ اذان کا جواب دیتے ہیں اور نہ ہی اذان ہونے کے بعد وہ نماز کے لیے نکل پڑتے ہیں ۔۔۔اور دلیل میں عدالتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر واقعتا اذان مذہبی شعار ہوتا تو مذہبی مسلمانوں کی طرح دیگر مسلمان جو مسجدوں کو نہیں جاتے ہیں وہ بھی مسجدوں کو ضرور چلے جاتے،بہت سارے مسلمانوں کا مسجد کو اذان ہونے پر نہ جانا اس بات کی علامت ہے کہ اذان مذہبی شعار نہیں ہے ۔۔۔۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ مسلمان اپنے عمل کے ذریعے جو چیز مذہبی شعار ہے اس کی اہمیت کو گھٹا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

دشمنان اسلام اذان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس سلسلے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں
وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ
(المائدة: 58)
"اور جب تم نماز کے لیے اعلان کرتے ہو تو وہ اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔”۔۔۔

★ دنیا میں عبرت ناک واقعہ ۔۔۔۔تفاسیر (جیسے تفسیر ابن کثیر اور قرطبی) میں اس آیت کے شانِ نزول کے تحت ایک واقعہ منقول ہے کہ مدینہ میں ایک عیسائی شخص تھا، جب وہ مؤذن کو "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ” کہتے ہوئے سنتا تو کہتا: "جھوٹے کو جلایا جائے” (نعوذ باللہ)۔
* سزا: ایک رات اس کا خادم گھر میں آگ لایا، اس دوران وہ عیسائ شخص سو رہا تھا اور گھر والے بھی سوئے ہوئے تھے۔ آگ سے ایک چنگاری اڑی جس نے پورے گھر کو لپیٹ میں لے لیا۔ وہ عیسائی شخص اور اس کا پورا خاندان اس آگ میں جل کر خاکستر ہو گیا۔ اللہ نے اسے دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنا دیا۔۔۔۔۔
اذان کے وقت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب سارے کام کا چھوڑ دیے جائیں اور اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جائیں عورتیں اپنے گھروں میں نماز پڑھیں یا مرد حضرات کے ساتھ مسجد کی طرف نکل پڑیں۔ ۔۔۔
★ جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ
نابینا تھے، عمر رسیدہ تھے، گھر دور تھا اور مسجد تک لانے والا کوئی باقاعدہ مناسب رہبر (گائیڈ) موجود نہیں تھا۔
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ کیا میرے لیے گھر میں نماز پڑھنے کی کوئی رخصت (گنجائش) ہے؟
نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تم (گھر سے) اذان سنتے ہو؟” انہوں نے عرض کیا: "ہاں۔” تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا (کہ تم جماعت چھوڑ دو)۔”۔۔۔
اذان ہو جانے کے بعد نماز گھر میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہے تو نماز چھوڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے ۔۔۔۔

جب ایک مسلمان اذان کی آواز سنتا ہے، جو کہ اللہ کی طرف سے کامیابی اور بندگی کی پکار ہے، اور وہ بغیر کسی شرعی عذر (جیسے بیماری یا شدید مجبوری) کے اسے نظر انداز کر دیتا ہے، تو یہ عملی طور پر اللہ کے حکم کو ہلکا جاننا ہے۔ زبان سے مذاق نہ اڑانے کے باوجود، عمل سے یہ ظاہر کرنا کہ نماز کی کوئی اہمیت نہیں، عملی تمسخر اور استہزاء کے مشابہ ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
(الجمعة: 9)

"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔”

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب نماز کی اذان کہی جائے تو دنیاوی مشاغل پر نماز کو ترجیح دینی چاہیے۔

اذان کا مقصد کیا ہے؟
اذان کے بنیادی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ نماز کا وقت ہونے کا اعلان کیا جائے۔۔۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھڑی، موبائل یا اوقاتِ نماز کے کیلنڈر موجود نہیں تھے۔ اس لیے اذان کے ذریعے پورے شہر اور علاقے کے مسلمانوں کو بتایا جاتا تھا کہ نماز کا وقت شروع ہو گیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں اذان کے کلمات سنےاور رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ، فَلْيُنَادِ بِهِ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ
"یہ یقیناً سچا خواب ہے، ان شاء اللہ۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ ان کی آواز تم سے زیادہ بلند اور مؤثر ہے۔ جو کلمات تمہیں بتائے گئے ہیں وہ بلال کو بتاؤ، پھر وہ ان کے ذریعے اذان دیں۔”

(سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب كيف الأذان)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کا ایک اہم مقصد لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنا اور نماز کے وقت سے آگاہ کرنا ہے۔

ذرا غور کیجیے کہ مؤذن جب اذان دیتا ہے تو سب سے پہلے کہتا ہے:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے۔

یہ گویا دنیا کے ہر مسلمان کو یاد دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔
کاروبار اللہ سے بڑا نہیں۔۔۔نوکری اللہ سے بڑی نہیں۔۔۔مال و دولت اللہ سے بڑی نہیں۔۔۔گھر اور خاندان اللہ سے بڑے نہیں۔۔۔۔دنیا کی کوئی مصروفیت اللہ تعالی سے بڑی نہیں۔

پھر مؤذن کہتا ہے:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
پھر:
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

گویا اذان کے ذریعے مسلمان کے عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت کی بھی تجدید کروائی جا رہی ہے ۔۔۔۔
پھر مؤذن کہتا ہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
"آؤ نماز کی طرف۔”
اور:
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
"آؤ کامیابی کی طرف۔”

یہاں ایک بہت بڑا سبق ہے۔

اذان یہ نہیں کہتی کہ صرف "نماز کا وقت ہو گیا ہے”، بلکہ یہ کہتی ہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ — نماز کی طرف آؤ۔
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ — کامیابی کی طرف آؤ۔

یعنی حقیقی کامیابی اللہ کی اطاعت و عبادت اور نماز کے راستے میں ہے۔

اذان ہمیں دنیا کی مشغولیات سے نکال کر اللہ تعالی کی طرف بلاتی ہے

انسان دن بھر دنیا کے کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ کوئی دکان پر ہے، کوئی دفتر میں، کوئی فیکٹری میں، کوئی کاروبار میں، کوئی تعلیم میں اور کوئی اپنے گھر کے کاموں میں وغیرہ۔۔

پھر اچانک مسجد سے آواز بلند ہوتی ہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
یہ آواز انسان کو یاد دلاتی ہے:
اے انسان! دنیا کے کام اپنی جگہ، لیکن تیرے رب کا حق تیرے اپنے کاموں سے زیادہ اہم ہے۔۔۔۔

چونکہ دنیا انسان کو اپنے رب سے غافل کرتی ہے، اس لیے اذان کے ذریعے دن میں بار بار انسان کو اس کے رب کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔۔۔

اذان مسلمانوں کی وحدت کی علامت ہے

دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف قوموں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن جب اذان بلند ہوتی ہے تو اپنے اپنے علاقے میں پوری امت ایک ہی کلمات سنتی ہے:
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

یہ مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ ہمارا رب ایک ہے، ہمارا نبی ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہماری عبادت کا مرکز ایک ہے۔

اذان صرف ایک اعلان نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والی آواز ہے۔۔بھوت پریت کے نظر آنے پر اذان کہنا نہ صرف دلی سکون کا باعث ہوتا ہے بلکہ بھوت پریت اور شیطانی اثرات کو ختم کرنے میں مفید اور معاون ہے ۔۔۔۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے