قیادتیں مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرنا بند کریں۔
از۔ذوالقرنین احمد
عوام کا سوال کرنا بالکل درست ہے کہ جب سبھی اپوزیشن پارٹیاں گیانیش کمار اور بی جے پی کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہی ہیں ایسے میں مسلمان اور اسلام کی بات کرنے والی، حجابی لڑکیوں کو سی ایم بنانے والی پارٹی کیوں سڑک پر نہیں ہے، چلوں ٹھیک ہے اپوزیشن کے ساتھ نہیں آ سکتے ہیں یا اپوزیشن آپ کو کھیلنے میں نہیں لیتی ہے تو آپ اپنی ریاست میں تو کم از کم آندولن کھڑا کر سکتے ہیں یا کسی انداز میں احتجاج درج کرا سکتے ہیں۔ دوسری ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر احتجاج ہوگا تو صرف ہرے جھنڈے اور ٹوپی والے ہی احتجاج میں دیکھائی دیں گے پھر یہاں اقلیت کا احساس ضرور ہوگا۔ پھر ان لوگوں کہ یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے کہ یہ ہر بار مسلمان اور اسلام کے نام پر جذبات کو بھڑکانے کا کام کیوں کرتے ہیں کیسے کسی ریاست میں صرف مسلمانوں کے ووٹوں پر آپ جیت درج کرا سکتے ہیں اور اگر اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ہی الیکشن لڑیں گے تو پھر بی جے پی بھی تو وہی کرتی آرہی ہیں ہندوتوا کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہیں لیکن ان کے پاس دیگر قوموں کا ساتھ ہے تمہاری پارٹی کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے تو پھر اس کمیونٹی کے ووٹ نہیں ملتے ہیں نا ہی انکی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ کسی طرح کا کوئی قدم ان کے بھروسہ پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
تو پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ جب انتخابات آتے ہیں تبھی آپ کو مسلمانوں کی یعد ستانے لگتی ہیں آپ بڑے بڑے سیاسی جلسوں میں جذباتی باتیں کرکے چلیں جاتے ہیں لیکن پیچھے رہنے والے اپنے اپنے گاؤں دیہاتوں اور شہریوں بستیوں میں عام مسلمانوں کے ساتھ دیگر ہندوتوا ذہنیت کس قدر نفرت انگیزی پر اتر آتی ہیں کبھی آپ نے اس کا فیڈ بیک لینے کی زحمت گورا کی ہے۔ مسلمانوں کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی مسلمانوں کی الگ سے ریاست نہیں ہے کہ آپ کی جزباتی تقاریر سے وہاں کی عوام کا رد عمل نہیں ہوگا۔ ظاہر سے بات ہیں اگر آپ کسی کے مذہبی جذبات کا استعمال کرتے ہوئے ان کے اندر جھوٹی امیدیں پیدا کرتے ہیں لیکن دوسرے دن وہی نوجوان اٹھے گا اور اپنے کام پر جائیں گا، کوئی مزدوری کرتا ہے کوئی فیکٹری میں کام کرتا ہے، کئی خواتین کمپنیوں میں کھیتوں میں کام کرتی ہیں، بچے فٹ پاتھ پر بس اسٹینڈ ریلوے اسٹیشن پر پانی کی بوتلیں فروخت کرتے ہیں، کوئی حمالی کرتا ہے، تو کوئی کارپوریٹ سیکٹر میں ملازم ہے تو کوئی سرکاری آفس میں ہے ان مسلمانوں کو کیا کیا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے نہیں بالکل بھی نہیں آپ کو نتائج کی کوئی خبر ہی نہیں ہے آپ اپنا بھاشن دینے کر فرسٹ کلاس پلین سے سکون سے اپنے گھر پہنچ جاتے ہیں لیکن پیچھے رہ جاتی ہیں بے بس، لاچار، پریشان مسلم عوام جو حالات کا شکار ہیں جو معاشی، تعلیمی، بے روزگاری، ہر طرح سے پسماندگی کا شکار ہیں وہ تو اسی حالت میں ہے آپ کی اسپیچ سے انہیں کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ نقصان ہوتا ہے شرمندگی ہوتی ہیں یہ سب کانوں کی عیاشی کے سیوا کچھ نہیں۔
اور ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ نے گیانیش کمار یا بی جے پی کے خلاف احتجاج کی کال دیں بھی دی تو اس میں بھی نقصان مسلم نوجوانوں کا ہی ہوگا گزشتہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے موقع پر مسلمان احتجاج میں پیش پیش نہیں تھے اس لیے وہاں صرف آنسو گیس لاٹھی چارج سے کام لیا گیا اور آج بھی مسلمان احتجاج میں اپنی اصل شناخت کے ساتھ شامل نہیں ہیں اگر آپ کے احتجاج کی کال دینے کے بعد مسلمان سڑکوں پر آتا ہے تو اس میں نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوگی، بچے یتیم ہوگے، عورتیں بیوہ ہوجائیں گی، ماں باپ بے سہارا ہوجائیں گے، کاروبار اجڑ جائیں گے، نوکریاں چلی جائیں گی، گھروں پر بلڈوزر چلیں گے، نوجوانوں کو این ایس اے کے تحت جیلوں میں ڈال دیا جائے گا جن کی ضمانتیں تک نہیں ہوگی، اور لیڈر اپنی پرائیویٹ کار میں گھومیں گے اپنے محلوں میں پرسکون نیند سورہے ہوگے ان کے بچے یورپی ممالک میں عیش کی زندگیاں گزار رہے ہوگی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑیں گا بس نقصان ہوگا تو مسلمانوں کا ہوگا۔
اگر آپ کو احتجاج کرنا ہی ہیں تو خود اپنی قیادت کے ساتھ عوامی ہجوم کے بغیر احتجاج کیجئے اپوزیشن کے ساتھ نہ صحیح اپنے حصے کا کام کیجئے حکومت کے خلاف اپنے اپنے طور پر احتجاج کیجئے اپنی سیاست چمکانے کے لیے مسلم نوجوانوں کو قربانی کا بکرا مت بنائیے نوجوانوں کو ٹھنڈے دماغ سے یہ سوچنا ہوگا سیاسی شعور کو بیدار کرنا ہوگا یہ سوجھ بوجھ پیدا کرنا ہوگی کیونکہ اقلیت میں رہ کر بڑی بڑی سیاسی باتیں، نعرے بازی کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ زمینی سطح پر تحریکی و تنظیمں کام انجام دینے ہوتے ہیں تحریکی سوچ کو پروان چڑھانا ہوتا ہے زمیںی سطح پر اتر کر کام کرنا ہوتا ہے ایک تنظیم کھڑی کرنی ہوتی ہیں عوام میں شعور پیدا کرنا ہوتا ہے تب جاکر تبدیلی کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔