کانگریس اور کاکروچ جنتا پارٹی کی قربت .
راہل گاندھی سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں
ازقلم:عبدالعزیز
راہل گاندھی کی سیاست گہری حکمت عملی کی عکاسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مودی اور شاہ کی تمام پیش کردہ رکاوٹوں اور ان کی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوششوں کے باوجود آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج وہ نریندر مودی کے مقابلے میں عوام کے لئے زیادہ مقبول و محبوب لیڈر ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے ان کے پاؤں میں زنجیریں ڈالنے کی ہر طرح کوشش کی گئی ، ان پر مقدمے پر مقدمے دائر کئے گئے۔ یہاں تک کہ ان کی پارلیمنٹ سے رکنیت ختم کر دی گئی۔ ان کو بے گھر کردیا گیا، مگر ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا بلکہ بڑھتا گیا۔ ان کا ایک نعرہ ’’ڈرو مت‘‘ انقلاب کا سبب بنا۔ مہم یا تحریک چلانے والوں کے دل سے قید و بند کا ڈر جاتا رہا۔ ڈیڑھ سال پہلے سے ’’پیپر لیک‘‘ کے مسئلے کو اٹھاتے رہے۔ اس کا بھی اثر ہوتا رہا، لیکن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا جنتر منتر پر دھرنا اور بھوک ہڑتال کے علاوہ پارلیمنٹ تک مارچ اور پولس کی بربریت و سفاکیت کے نتیجے میں حکومت کو جھکنا پڑا اور وزیر تعلیم کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ یہ ایک طرح سے پیپر لیک کی مہم کا جو آغاز راہل گاندھی نے کیا تھا طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک سے کامیاب ہوئی۔ اگر چہ راہل گاندھی نے خود کریڈٹ لینے کے بجائے اس کا کریڈٹ اسٹوڈنٹس اور نوجوانوں کو دیا۔
’’ووٹ چوری‘‘ کے مسئلے کو بھی اعداد و شمار کی روشنی میں پُر اثر طریقے سے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے راہل گاندھی کانفرنسوں کے ذریعے پیش کر رہے تھے۔ اس کا اثر بھی ہورہا تھا۔ حالانکہ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اس معاملے میں سرگرمی اور جوش و خروش ہونا چاہئے تھا وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اپوزیشن کے لیڈران بیان بازی پر ہی اکتفا کر رہے تھے، لیکن 23ستمبر 2026ء کو انیتا چوپڑا کی تحقیقی رپورٹ جب انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع ہوئی تو ملک بھر میں بھونچال سا آگیا۔ اپوزیشن کی تمام پارٹیاں’ ووٹ چوری‘ کی مہم میں دل و جان سے راہل گاندھی کے ساتھ ہوگئیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم کا اپنے طور طریقے سے اس کا حصہ بن گئی۔ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کاکروچ پارٹی کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کا اعلان ہوا۔ 9 اکتوبر کوہی حکومت دہلی شہر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا۔ چالیس پچاس ہزار پولس فورسز تعینات کر دی گئی۔ میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا۔ دو ڈھائی سو ریل کی آمد و رفت روک دی گئی۔ دہلی میں دس اکتوبر کو ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ان سب کے باوجود بہت بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوان مظاہرے میں شریک ہوئے۔ 7,500 نوجوانوں اور طالب علموں کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ مظاہرہ بھی کامیاب رہا۔ حکومت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
کانگریس اور کاکروچ پارٹی کی قربت: کانگریس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہرے میں احتیاط برتتے ہوئے مظاہرے کے دوران اپنے چیف اسپوکس مین پون کھیڑا کو جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے میں بھیج کر یہ اشارہ دینے کی کوشش کی کہ وہ کاکروچ پارٹی کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت دور سے ہی سہی کر رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نہ اس مظاہرے میں شامل ہوئے اور نہ ہی انھوں نے کوئی بیان دیا۔ راہل گاندھی کی عدم شمولیت کی وجہ سے اروند کجریوال اور سونم وانگچُک کانگریس پر نشانہ سادھتے رہے۔ راہل گاندھی نے دونوں کی تنقیدوں کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ جو لڑکے اور لڑکیاں دہلی پولس کی بربریت کا شکار ہوئے تھے راہل گاندھی ان کی حمایت کے لئے کھڑے ہوگئے تھے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو مظاہرے کے دوران پیلیٹ گن کے چھروں کا شکار ہوا جس کے جسم پر زخموں کے بے شمار نشان تھے اور جس کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی اسے لے کر پولس اسٹیشن کے سامنے دھرنا دیا کہ پولس کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے۔ 8 گھنٹے کے دھرنے کے بعد راہل گاندھی ایف آئی آر درج کرانے میں کامیاب ہوئے۔ پارلیمنٹ کے سیشن میں راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام پارٹیاں ’ووٹ چوری‘ اور ’پولس کی بربریت‘ کے خلاف جم کر حکومت کی مخالفت کی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ 20 روز تک نہ مودی پارلیمنٹ میں آئے اور نہ ہی امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں اپنا منہ دکھانے کی جرأت کی۔ کاکروچ پارٹی راہل گاندھی کی پُرجوش حمایت کا مشاہدہ کرتی رہی لیکن دوری بنائے رکھی۔
راہل گاندھی نے 12 اکتوبر کو اپنی رہائش گاہ پر اپوزیشن پارٹیوں کے تمام لیڈران اور سیول سوسائٹی کے رہنماؤں کو ’اعلی درجے ٹی پارٹی‘میں شرکت کی دعوت دی جس میں تمام لوگوں نے شرکت کی۔ کہا جاتا ہے کہ راہل گاندھی نے کاکروچ پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کو بھی ٹی پارٹی میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن وہ اس وقت مہاراشٹر میں تھے۔ ان کی دادی کا انتقال ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ان کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں آیا۔ سورو داس اور آسوتوش رانکا جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے جرم میں گرفتار کرلئے گئے تھے۔ ان سب کے باوجود ابھجیت دیپکے کاکروچ پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو اپنی نمائندگی کے لئے بھیج سکتے تھے۔ دہلی میں اننا ہزارے کی قیادت میں کانگریسی حکومت کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا تھا۔ یہ بھی ایک قسم کے ’پریشر گروپ‘ کا مظاہرہ تھا جس کے نتیجے میں اروند کجریوال ابھر کر سامنے آئے۔ انھوں نے ’عام آدمی پارٹی‘ کی بنیاد ڈالی۔ الیکشن لڑے ۔ کانگریس کا دہلی سے صفایا ہوگیا۔ اس پس منظر کی وجہ سے کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے کی حمایت کانگریس کی طرف سے جوش و خروش کے ساتھ نہیں ہورہی تھی، یہ سمجھتے ہوئے کہ کہیں یہ بھی اننا ہزارے کے پریشر گروپ کی طرح نہ ثابت ہو۔ دوسری اہم بات کاکروچ پارٹی کے معاملے میں یہ ہے کہ اس کے بانی یا دو اسپوکس مین کا تعلق عام آدمی پارٹی سے رہ چکا تھا۔ حالانکہ یہ سب کے سب عام آدمی پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں لیکن اروند کجریوال سے ان لوگوں کا رابطہ اور تعلق ختم نہیں ہوا ہے۔ اروند کجریوال کا کاکروچ پارٹی پر کافی اثر ہے۔ عام آدمی پارٹی نہایت سرگرمی کے ساتھ کاکروچ پارٹی کے ہر مظاہرے میں شامل ہوتی رہی ہے۔
کانگریس کے کچھ لیڈروں کا خیال ہے کہ ’راہل گاندھی کی ٹی پارٹی‘ میں ابھجیت دیپکے نے شرکت کے لئے کسی قسم کی سرگرمی اور جوش و جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ راہل گاندھی نے اپنی کئی کانفرنسوں میں بہت ہی واضح طور سے بیان کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ، مودی -شاہ کو ہٹانے کے لئے جو بھی جہاں بھی، جس نام یا عنوان سے مہم چلا رہا ہے وہ سب ایک ہے کوئی متوازی مہم نہیں ہے۔ راہل گاندھی کی اس گہری سیاست کو اپوزیشن پارٹیاں سمجھ چکی ہیں ۔ کاکروچ پارٹی کے اندر اس حکمت عملی کو سمجھنے میں تامل ہورہا تھا لیکن سورو داس اور آسوتوش رانکا کی گرفتاری اور پانچ دنوں کی عدالتی حراست میں لئے جانے کے بعد راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعے گرفتاری کی زبردست مخالفت کی اور کہاکہ ’’قومی پرچم کے لہرانے سے کسی بھی طالب علم یا نوجوان کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ قومی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔ جنتر منتر پر مظاہرے کرنے کی جو پابندی لگا دی گئی ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے، اس کو ہم حاصل کرکے رہیں گے‘‘۔ ابھجیت دیپکے نے راہل گاندھی کی اس حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
راہل گاندھی کی حمایت اور ابھجیت دیپکے کے اظہارِ تشکر سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو کام کانگریس پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے ذریعے کرانا چاہتی تھی وہ حکومت کے غلط قدم کی وجہ سے آسان ہوگیا۔ دیر یا سویر ابھجیت دیپکے یا ان کی پارٹی راہل گاندھی یا ’انڈیا بلاک‘سے قریب ہوجائے گی۔راہل گاندھی سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں ۔ وہ صدر جمہوریہ اور چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی اپنے پالے میں لینے کے لئے کوشاں ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا کے رویے کو انھوں نے منفی بتانے سے گریز کیا اور پٹیشن دائر کرنے کو چیف جسٹس کی طرف توجہ دلائی گئی اس کا خیر مقدم کیا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے اس رویے کی بھی سراہنا کی کہ انھوں نے ووٹ چوری کا ثبوت چاہا ہے۔ وہ جلد ہی ڈھیر سارا ثبوت جو اکٹھا کئے ہوئے ہیں وہ ان کی خدمت میں پیش کردیں گے۔ سب کو ساتھ لینے کی بات راہل گاندھی ہندومت کی تاریخ کے پس منظر میں شیوجی کی بارات کہتے ہیں۔ وہ بی جے پی کے لوگوں کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں جو ووٹ چوری کے خلاف ہیں اور مودی اور شاہ کے تسلط اور غلبے کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ راہل گاندھی کی سیاست، حکمت عملی اور مصلحت پسندی جنگ کے اس سپہ سالار کی طرح ہے جو ہوش اور جوش دونوں سے کام لے رہا ہو اور سب کو اپنی فوجی مہم میں شریک کرنا چاہتا ہو۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی دور اندیشی کے سامنے حکومت بے بس نظر آرہی ہے۔ اس کی توڑ تو ضرور کرنا چاہتی ہے مگر جو لوگ بھی دوچار دنوں میں راہل گاندھی کی کامیاب حکمت عملی کے خلاف بی جے پی کی طرف سے میدان میں اترے ہیں ان کا بیان جھوٹ اور وہ بھی سفید جھوٹ کی وجہ سے ہوا میں تحلیل ہورہا ہے۔ مثلاً امیت شاہ نے جو اپنی پارٹی کے چانکیہ کہلاتے ہیں ،کہا ہے کہ ’’راہل گاندھی گھس پیٹھیا (درانداز) کی حمایت کرنا چاہتے ہیں اور گھس پیٹھیا کو ملک سے ہٹاکر دم لیں گے۔‘‘ بارہ ساڑھے بارہ سال سے مرکز میں مودی حکومت قائم ہے، سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر وزیر داخلہ کے ذمہ ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ در اندازوں کی کوئی تعداد وزیر داخلہ کی طرف سے پیش نہیں کی جاسکی۔ اگر درانداز آئے ہیں اور وزیر داخلہ ان کو نہیں روک سکا تو راہل گاندھی کو نہیں امیت شاہ کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ دوسری بات مودی-شاہ کے سپاہی یہ پیش کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی ہوں یا ابھجیت دیپکے ان سب کی مہم یا تحریک باہری طاقتوں کی سازش ہے۔ جئے پرکاش نرائن نے اندرا گاندھی کے خلاف ان کو ہٹانے کی جو مہم شروع کی تھی اس وقت اندرا گاندھی نے اسے بیرونی سازش قرار دیا تھا مگر اندرا گاندھی کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اندرونی یا بیرونی سازش وہ دکھانے سے قاصر رہیں۔ اب یہی حال امیت شاہ یا ان کے صاحب کا بھی ہونے والا ہے۔ ان کا بھی چل چلاؤ ہے۔ اندرا گاندھی کی طرح یہ بھی بیرونی سازش دکھانے سے قاصر رہیں گے کیونکہ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے اس کے ہاتھ پاؤں نہیں ہوتے۔ جھوٹ اور جھوٹا دنیا کے سامنے بدنام ہوجاتا ہے۔ حق کی دیر یا سویر جیت ہوتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068