ارشادِ ربانی ہے:’’فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے‘‘۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو دین حق کی دعوت دےکربنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کیا اس نےرعونت سے سوال کردیا :’’ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟‘‘ اس کا متانت بھرا جواب دیا گیا کہ "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو‘‘۔ دعوت کی اہانت میں فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟‘‘مگر اس سے بے نیازداعی نے کہا’’تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں‘‘۔کوئی خدائی کا دعویدارخود کواپنے پرکھوں کا رب نہیں کہہ سکتا اس لیےفرعون تمسخر و تہمت بازی پر اترکر بولا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں‘‘۔اس الزام تراشی کے جواب میں الجھنے کے بجائےموسیؑنے اپنی دعوت کی وضاحت فرمائی ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں‘‘۔ اس طرح پاگل کہنے والے کی عقل پر سوال کھڑا ہوگیا۔
ان دلائل کے جواب میں فرعون دھمکی پر اتر کرکہتا ہے:’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں‘‘۔ ہزاروں سال بعد بھی فرعون کے پیروکار ٹرمپ، نیتن یاہو یا مودی و شاہ آج بھی دھونس دھمکی پر اتارو ہیں، احساسِ جرم کا شکار کرکے تمسخر اڑانا، الزام تراشنا اور دھمکی دینا ان کا شیوہ ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے معجزات کوجھٹلانے کے لیے فرعون نہ صرف جادو گروں کو بلاتا ہے بلکہ اس مناظرے کو دیکھنے کے لیے پوری قوم کو جمع کرنے کا بندو بست بھی ازخود کرتا ہے حالانکہ اس کی کوئی حاجت نہیں تھی ۔ معجزات کو دیکھ کروہ اسےموسیٰؑ کی دعوت قبول کرلینی چاہیے تھی یا انکار کرکے وہ انہیں چپ چاپ اپنے گھر روانہ کرسکتا تھامگر فرعون کی قوم کے سامنے اتمام حجت کاکام مشیت الٰہی نے اسی سے لےلیا۔ وہ جادوگروں کے ذریعہ حضرتِ موسیٰ ؑ کو رسوا کرنا چاہتا تھا مگر جادوگروں نے دین حق کو قبول کرکے پوری قوم کے سامنے دین حق کی عملی شہادت پیش کردی اور فرعون کی دھمکی کو سرِ عام ٹھوکر سے اڑاکر اسے ذلیل کردیا۔ وطن عزیز کے تناظر میں حکومتِ وقت کے لیے سی جے پی کے مطالبات کو تسلیم کرلینا یا نظر انداز کردینا مشکل نہیں تھا مگراس کا تکبر اور تشدد سرکارکی رسوائی کا سامان بن گیا۔
فرعون اور اس کی قوم پر اتمامِ حجت کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ:’’راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ‘‘ اسی کے ساتھ خبردار کردیا کہ دیکھو :’’ تمہارا پیچھا کیا جائے گا‘‘۔ فرعون کو تعاقب کی بھی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ ملک چھوڑ کر جارہے تھے۔ اسے تو خیر منانی چاہیے تھی مگر متکبر حکمراں ایسا نہیں سوچتا بلکہ ’’اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیئے(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے‘‘۔ یہ احساس ِ قلق وزیر اعظم نریندر مودی کے نصف شب میں جاری ہونے والی پہلی ریل میں بھی نظر آتا ہے جسے مائی ڈیر فرینڈس سے شروع کرکے نشر کیا گیا تھا۔ فرعون کو بھی زعم تھا کہ :’’ ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے‘‘۔ یہاں سے ایک ظالم حکمراں کے عبرتناک انجام کا ایساذکر شروع ہوتا ہے جو تاقیامت بنی نوعِ انسانی کی رہنمائی کرتا رہے گا ۔
فرمانِ قرآنی ہے:’’اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے ‘‘۔ یہ کس قدر موثر اسلوبِ بیان ہے کہ انہیں موسیٰؑ نے نہیں نکالا بلکہ وہ ازخود نکل آئے اور ان کا یہ نکلنا کوئی عارضی عمل نہیں ثابت ہوا۔ آگے کی آیت اشارہ کرتی ہے کہ اب ان کےرب کائنات کی نعمتوں سے محروم ہوجانے کی گھڑی آگئی ہے ۔ آگے کی آیت میں ارشادِ خداوندی ہے:’’یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا‘‘۔ یعنی اب اقتدار اور جاہ و جلال کی منتقلی کا وقت آگیا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا ؟ اس کی قرآنی منظر نگاری ملاحظہ فرمائیں :’’صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے ،جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے” ۔یہ ایک فطری ردعمل تھا کیونکہ آگے ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور پیچھے خونخوار فوج تھی ۔ایسے آزمائشی لمحات میں بھی حضرتِ موسیٰؑ کا قابلِ تقلید توکل دیکھیں کہ انہوں نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا” ۔
اس نازک گھڑی میں رب کائنات کی رہنمائی اس طرح آئی کہ:’’ ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر” یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا ۔ اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے ۔ موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا اور دوسروں کو غرق کر دیا ۔ اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں ‘‘۔ فرعون کے اس انجام میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ اسے بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ سمندر کو پھٹتے ہوئے دیکھ کر اس کو یہ سوچ کر لوٹ جانا چاہیے تھا کہ سمندر اگر راستہ دے سکتا ہے تو غرق بھی کرسکتا ہے اور یہی اس کی فطرت ہے مگر جاہ و سلطنت کے گھمنڈ میں مبتلا لوگوں سے یہ توقع نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ سونم وانگچوک کے اغوا پر نوجوانوں کا پرجوش ردعمل دیکھ کر اگر جلوس پر تشدد نہیں کیا جاتا تو دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی ضرورت نہ پڑتی۔ پچھلے مظالم سے عبرت پکڑ کر اگر اس بار جنتر منتر پر پرامن احتجاج کی اجازت دے دی جاتی تو آج یہ دگر گوں حالت نہیں ہوتی مگر ایسا لگتا ہے کہ فرعون کی راہوں پر گامزن اس کے پیروکار بھی اپنے عبرتناک انجام کی جانب بگ ٹٹ دوڑے چلے جارہے ہیں ۔