’’خود پرست ہو… اپنی اوقات دِکھا رہے ہو تم‘‘

’’خود پرست ہو… اپنی اوقات دِکھا رہے ہو تم‘‘

’’خود پرست ہو… اپنی اوقات دِکھا رہے ہو تم‘‘

ازقلم:سیما شکور حیدر آباد

خود پرست انسان در اصل خود اپنی پرستش کرنے میں اتنا مگن رہتا ہے کہ اُسے سارے انسان کیڑے مکوڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اُس کا محور اُس کی ذات ہوتی ہے وہ ہر وقت اپنے مفادات کے بارے میں ہی سوچتا رہتا ہے، اُس کے نزدیک اُس کی کامیابی ہی کامیابی ہے وہ کسی سے بھی متاثر نہیں ہوتا ۔ تم اگر خود پرست ہو تو تم صرف ساری زندگی اپنی پرستش کرتے رہوگے۔ کسی کی تکلیف اور دکھ تم کبھی بھی محسوس نہیں کرسکتے اس لیے کہ تم اپنے سِوا کسی اور کے بارے میں تو کبھی سوچتے ہی نہیں ہو ۔ تم یہ بات کیوں بھول جاتے ہو کہ درختوں کے پتّے چاہے کتنی ہی اونچی شاخوں پر ہوں، سوکھ جانے کے بعد تو انہیں زمین پر ہی گِرنا ہوتا ہے، آسمان کی بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستارے بھی ٹوٹ کر زمین پر ہی گِر جایا کرتے ہیں… ہاں! تم یہ سب بھول جاتے ہو کیونکہ تمہیں صرف اپنی ذات کو اہمیت دینے کی عادت ہے، بڑی بڑی فلسفیانہ گفتگو کرنے والے اور ڈھیروں کتابیں لکھنے والے مصنف بھی اُن کے قریب جانے والے لوگوں کو اپنی اوقات دکھادیتے ہیں وہ جو ہیں وہ تو وہ خود ہی بتادیتے ہیں اپنے گھٹیا رویوں سے ، اپنے تکبر سے …اور وہ نہیں جانتے کہ وہ ہزاروںدِلوں سے اُتر جایا کرتے ہیں انسان اپنے اعلیٰ اخلاق اور بلند کِردار سے لوگوں کے دلوں میں جگہ پاسکتا ہے صرف اپنے آپ کو بلندیوں پر سمجھنے والے لوگ سوکھے ٹنڈ منڈدرختوں کی طرح زمین بوس ہو جایا کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو منفرد اور اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک سمجھنے والے لوگ اگر کوئی مقام پا بھی لیں تو بھی وہ بہت جلد اپنا مقام کھودیتے ہیں اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے سیکھتے رہنا ضروری ہوتا ہے ایک ہی جگہ پرپڑا ہوا پانی بدبودار ہوجاتا ہے جبکہ سمندر میں گِرنے والے ننھے ننھے بارش کے قطرے جب سمندر کی بانہوں میں سمٹ جاتے ہیں تو وہ خود بھی سمندر بن جاتے ہیں سمندر بارش کے قطروں کو پناہ دیتا ہے اور وہ ننھے بارش کے قطرے سمندر کی پناہوں میں محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ سمندر کی وسیع النظری ہی سمندر کو سمندر بناتی ہے۔ اعلیٰ کردار کے لوگ اپنی گفتگو سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں اور پست خیالات رکھنے والے لوگ اپنے گھمنڈ اور متکبرانہ رویوں سے جان لیے جاتے ہیں۔ ہم جو مٹی سے بنے ہوئے لوگ ہیں ایک دن ہم مٹی میں ہی مل جائیں گے فنا ہوجائیں گے اور لوگ ہمیں چند دنوں میں ہی بھول جائیں گے لیکن … لوگوں کے دِلوں کے سنگھاسن پر براجمان ہونے والے عظیم لوگ کبھی دِلوں سے نہیںاُتراکرتے وہ ہمیشہ لوگوں کے دِلوں میں پھولوں کی طرح مہکتے رہتے ہیں۔ ہمارے لیے دولت حاصل کرنا ضروری نہیں ضروری تو یہ ہے کہ ہمارے کِردار سے پھوٹنے والی روشنی دُور دُور تک پھیل جائے تم مر بھی جائو تو بھی نہیں مرسکتے اگر تم لوگوں کے دِلوں میںزندہ ہو ۔
خود پرست لوگ اپنے بُرے رویوں کی وجہ سے تنہا رہ جاتے ہیں، لوگ اُن کے قریب جانا پسند نہیں کرتے اُن کے معاشرتی تعلقات ختم ہونے لگتے ہیں لوگ اُن کی اصلیت جاننے کے بعد اپنے سماجی رشتے توڑ دیتے ہیں انسان کی عاجزی اور انکساری رشتوں کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے اور جو لوگ جھکنا نہیں جانتے وہ بہت جلدی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ چاند اپنی کرنیں زمین پر بکھیر دیتا ہے اور ہرسُو اُجالا بِکھر جاتا ہے۔ اپنے آپ کو سب سے برتر اور اعلیٰ سمجھنے والے لوگ ذہنی اور نفسیاتی مریض ہوتے ہیں وہ شہرت کے بھوکے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے نزدیک انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ کسی کی صلاحیتوں کو دل سے تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کو عزت دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ احساس ایسے لوگوں کو کبھی چھُو کر بھی نہیں گزرتا۔ احساس اورخود احتسابی انسان کو غلطیاں کرنے سے روکتی ہے انسان اپنی غلطیوں پر نظر رکھنے لگے، لوگوں کے دُکھ اُسے دُکھی کرنے لگیں تو وہ انسانیت کی معراج کو پالیتا ہے۔ اپنی ذات کے اِرد گِرد ہی گھومنے والے لوگ نہیں جان سکتے کہ انسانیت کیاہے۔ خود پرستی کے شعلے انسان کو راکھ میں تبدیل کردیتے ہیںراکھ جب بِکھر جاتی ہے تو پھر دکھائی نہیں دیتی۔ خود پرستی جب انسان کو انسان سے دور کردے تو پھر اُس کے وجود اور راکھ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا… تو پھر اُس کے وجود اور راکھ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے