قیامت کے دن شیطان کی تقریر ؟

قیامت کے دن شیطان کی تقریر ؟

ازقلم:مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی !

اس بات سے ہم میں سے ہر شخص اچھی طرح واقف ہے کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور کوئی بھی دشمن اپنے دشمن کا بھلا نہیں چاہتا وہ تو یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح آپ بھی اس کی طرح ضائع اور برباد ہو جائیں ۔۔۔اور شیطان کی یہ دشمنی آج کل سے نہیں بلکہ بالکل شروع دن سے ہے۔۔۔
شیطان نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو بہلا پھسلا کر اللہ تعالی کی نافرمانی میں مشغول کر دیا یہاں تک کہ ان دونوں نے اس چیز کو کھا لیا جس چیز کے کھانے سے اللہ تعالی نے منع کیا تھا تو اللہ تعالی حضرت آدم اور حضرت حوا سے ناراض ہو کر ان دونوں کو جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا۔۔۔۔
جس وقت میں اللہ تعالی نے شیطان کو مردود اور ذلیل کیا تو اس وقت میں شیطان نے اللہ تعالی سے مہلت مانگی قیامت تک کے لیے زندہ رہنے کی اللہ تعالی نے شیطان کی خواہش کو قبول کرتے ہوئے اس کو قیامت تک کی زندگی کی مہلت دے دی تو شیطان نے اسی وقت اللہ تعالی کو چیلنج کیا کہ میں آ پ کے بندوں کو مختلف طریقوں سے بھٹکاتے رہوں گا ۔۔۔چنانچہ شیطان مختلف طریقہ سے انسانوں کو بھٹکاتا ہی رہتا ہے ۔۔۔۔سمجھدار اور عقلمند انسان شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتے ۔۔۔اور جو ناسمجھ اور نادان ہیں، دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔۔۔۔
یہ طے ہے کہ یہ دنیا ایک دن ختم ہوگی میدان محشر میں اللہ تبارک و تعالی سارے لوگوں کا حساب و کتاب لیں گے اچھے لوگوں کو اچھائی کا بدلہ دیا جائے گا اور جن لوگوں نے برائیاں کی ہیں ان کو برائی کے بدلے میں اللہ تعالی جہنم میں ڈالنا طے فرمائیں گے ۔۔۔۔
چنانچہ جتنے نیک لوگ ہوں گے ان سب کو اللہ تبارک و تعالی اپنی رضا نصیب فرمائیں گے اور سب کو جنت میں عزت و احترام کے ساتھ داخل فرمائیں گے ۔۔۔۔اور جن لوگوں نے دنیا میں برے اور نافرمانی کے کام کیے بشمول کافروں ، منافقین اور مشرکین کے اور وہ ایمان والے جنہوں نے ایمان تو قبول کیا مگر ایمان کے تقاضوں کے مطابق زندگی نہیں گزاری ان سب کو اللہ تعالی جہنم میں داخل فرمائیں گے۔۔۔۔
قیامت کے دن دنیا میں نافرمانی کیے ہوئے لوگوں کو جہنم میں ڈالا جانا طئے ہونے پر شیطان ایک تقریرکرے گا۔۔۔۔
ویسے تقریر ایک فن ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے دل کی بات سلیقہ مندی کے ساتھ کسی بھی شخص کے سامنے رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔تقریر میں اتنی زیادہ تاثیر ہوتی ہے کہ سامنے والے کو کسی بات پر منوا جاسکتا ہے اسی وجہ سے تقریر کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد مبارک بہت مشہورہے ” ان من البیان لسحرا” کہ تقریر در اصل جادو ہے ۔۔۔۔۔مگر مقررین نے صرف پکار پکار کر بولنے کو تقریر کا نام دیدیا ۔۔۔کاش مقررین تیاری کرکے تقریر کرتے تو یقینا لوگوں کے دلوں کی کیفیت کچھ اور ہوتی ۔۔۔۔
جمعہ کی مناسبت سے رب ذوالجلال نے دو خطبوں کو دو رکعت کے برابر قرار دے کر سارے مومنین سے فرمایا کہ خطبہ غور سے سنیں۔۔۔۔یعنی روزانہ ظہر میں چار رکعت پڑھا کرتے تھے مگر جمعہ کی اہمیت کے پیش نظر جس میں سارے لوگ جمع ہوتے ہیں دو رکعت اللہ تعالی نےختم کر کے دو رکعت کی جگہ پر دو خطبے لازم فرمائے اور ان خطبوں کے دوران بات کرنے سے بھی منع کیا گیا اور خطیب حضرات کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ لوگوں کو دین اسلام کی ضروری اور اہم باتیں بیان کریں۔۔۔ مگر دیکھا گیا کہ اکثر خطیب حضرات کچھ اخبار کے مطالعے پر اور کچھ یوں ہی اپنی پرانی معلومات کی بنیاد پر اور کچھ خطیب حضرات تو حالات سے بے خبر ہو کرکسی اختلافی یا ایسے موضوعات پر تقریر کرتے ہیں جس کا عوام کوکوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔خطیب حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مسجد کے منبرومحراب کوامانت سمجھ کر منبر و محراب کے تقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے عوام کی ضرورتوں کا خیال کرتے ہوئے دین اور اسلام کی اہم اور ضروری باتیں جمعہ کے خطبے میں بیان کرنا چاہیے ۔۔۔۔
اسی وجہ سے بہت سارے لوگ اب تقریر سننا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔
پوری انسانیت کے نیک لوگوں کے سردار سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ ہوں گے اور سارے برے لوگوں کا سردار قیامت کے دن شیطان ہوگا ۔۔۔۔۔قیامت کے دن رسول اکرم ﷺ ایک ایک ایمان والے کو جہنم سے بچانے کے لیے اللہ تعالی کی حمد و ثناء میں مشغول اور مصروف ہوں گے اور اللہ تعالی سے فریاد کرتے رہیں گے کہ اے اللہ جتنے ایمان والے ہیں ان سب کے حق میں میری سفارش قبول فرما کر جنت میں داخل فرمائیے ۔۔۔
اور کمبخت شیطان اس وقت میں "خود تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” پر عمل کرتے ہوئے نافرمان لوگوں کو جہنم کی طرف اللہ تعالی کی طرف سے جمع کیے جانے پر ایک تقریر کرےگا۔۔۔۔۔
یہ ساری باتیں اللہ تعالی نے قران مجید میں بیان فرما دی ہیں ۔۔۔۔
اسی لیے میں عرض کرتا ہوں ہر مسلمان کو پوری زندگی میں ایک مرتبہ کم از کم پوری قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی فکر کرنی چاہیے ۔۔
اللہ تعالی نے قران مجید میں ایسے ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں کہ پڑھتے ہوئے انسان لطف اندوز ہوتا رہتا ہے اللہ تعالی کے احکامات سے آ گاہی ہوتی ہے ۔۔۔قران مجید اللہ تعالی کا ایسا معجزانہ کلام ہے کہ جتنے مرتبہ آ پ اس کو پڑھیں گے نیا لطف اور نیا مزہ آ تا رہے گا۔۔۔
وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
"اور جب (سب) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان (اہلِ جہنم سے) کہے گا کہ خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو تم سے وعدے کیے تھے وہ سب جھوٹے نکلے۔ اور میرا تم پر کچھ زور تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تم کو (اپنے راستے کی طرف) بلایا اور تم نے میرا کہا مان لیا، تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد سن سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد سن سکتے ہو۔ میں اس بات سے بیزار ہوں کہ تم مجھے پہلے (خدا کا) شریک بناتے تھے، بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”

ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو شیطان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔۔۔۔ ان کے سامنے علمائے کرام کی تقریریں اور اللہ والوں کی نصیحتیں کام نہیں کرتی ان کو کتنا بھی سمجھالیں وہ شیطان کے نقش قدم پر ہی چلتے ہیں ۔۔۔ حالانکہ شیطان ہم سب کا حقیقی دشمن ہے۔۔۔ اللہ تعالی نے شیطان کی دشمنی کو قران مجید میں بھی ذکر فرمایا ۔۔۔ہم میں سے ہر عقلمند اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ کوئی دشمن اپنے دشمن کا بھلا کبھی نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔
یہ ساری باتیں قرآ ن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف جگہوں پر بیان فرمائی ہیں ۔۔۔۔
ذرا اس منظر کو دل میں تصور کیجیے! شیطان کی فطرت میں ہے ملمع سازی کرنا اور خراب کام یا بات کو اچّھی بناکر پیش کرتا ہے، انسان کو بہکاتا ہے، گناہ کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے، حرام کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے، نیکی کو مشکل بنا کر دکھاتا ہے ۔۔۔مگر یاد رکھیں کہ جس بات یا کام کو شریعت نے برا اور خراب کہا ہے وہ شیطان کی ملمع سازی سے اچھا نہیں ہوجاتا ۔۔۔۔شیطان کی کاریگری اور ملمع سازی سے نظر کا دھوکہ تو ہوسکتا ہے مگر خراب کام اچھا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔
شیطان انسان سے کہتا ہے:
"ابھی تو عمر پڑی ہے!”
"ابھی جوانی ہے!”
"بعد میں توبہ کر لینا!”
"سب لوگ یہی کر رہے ہیں!”
"ایک مرتبہ کرنے سے کیا ہوگا؟”
لیکن قیامت کے دن یہی شیطان کہے گا:
فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم
"مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو!”
کیوں؟
اس لیے کہ شیطان کسی بھی انسان کو مجبور نہیں کر سکتا۔
وہ صرف وسوسہ ڈالتا ہے، دعوت دیتا ہے، بہکاتا ہے؛ فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
★ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار:۔۔۔۔۔۔
ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شیطان ہمیں صرف گناہ کی طرف بلاتا ہے۔ لیکن شیطان کا طریقہ اس سے زیادہ خطرناک ہے۔۔۔۔
اور وہ یہ ہے کہ شیطان کبھی گناہ کو گناہ کی شکل میں پیش نہیں کرتا۔
بلکہ وہ اسے خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ
شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا۔
یہی شیطان کا دھوکہ ہے۔
وہ حرام یا ناجائز کو "ضرورت” کا نام دے دیتا ہے۔
وہ فضول خرچی کو "اسٹیٹس” کا نام دے دیتا ہے۔
وہ بے حیائی کو "آزادی” کا نام دے دیتا ہے۔
وہ تکبر کو "خود اعتمادی” کا نام دے دیتا ہے۔
وہ غیبت کو "صرف بات چیت” کا نام دے دیتا ہے۔
وہ نماز میں سستی کو "مصروفیت” کا نام دے دیتا ہے۔
اور توبہ کو ہمیشہ کل پر ڈال دیتا ہے۔
پھر انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنی مرضی سے زندگی گزار رہا ہوں۔
قیامت کے دن سب سے بڑا دھوکا کھلے گا

دنیا میں انسان کے پاس بہت سے بہانے ہیں۔
وہ کہہ سکتا ہے:
"مجھے فلاں دوست نے خراب کیا۔”
"ماحول خراب تھا۔”
"مجھے کسی نے ورغلایا تھا۔”
"لوگوں نے مجبور کیا تھا۔”
لیکن قیامت کے دن کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔
اسی لیے شیطان خود کہے گا:
وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي
"میرا تم پر کوئی اختیار اور زور نہیں تھا، میں نے صرف تمہیں بلایا اور تم نے میری بات قبول کر لی۔”
اس جملہ پر ہمیں آج غور و فکر ہے، قیامت کے دن افسوس سے اگر بچنا ہے تو آ ج ہی ہم کو شیطان کے اس جملے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔
آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم شیطان کی آواز دعوت پر لبیک کہیں گے یا اللہ تعالی کی آوازپر ؟
آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم خواہش کے پیچھے چلیں گے یا شریعت کے حکم پر چلیں گے ؟
آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری زندگی قرآن کریم کے بتاۓ ہوے طریقہ پر چلےگی یا ماحول؟۔۔۔۔
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ
عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد (آخرت) کے لیے عمل کرے، اور عاجز (کم عقل یا ناکام) وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے لگائے رکھے اور اللہ تعالیٰ سے (بنا عمل کیے) بڑی امیدیں رکھے۔۔۔۔۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے