تہذیب الاخلاق: اردو صحافت میں شعور و آگہی کا انقلاب

تہذیب الاخلاق: اردو صحافت میں شعور و آگہی کا انقلاب

تہذیب الاخلاق: اردو صحافت میں شعور و آگہی کا انقلاب
(خود احتسابی سے سماجی بیداری تک: سر سید کی اصلاحی تحریک)

از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت

سال کی آخری رات ہے۔ ایک معمر شخص اندھیرے کمرے میں بیٹھا اپنی زندگی کا جائزہ لے رہا ہے۔ بچپن، جوانی، رشتے، خواہشیں، عبادتیں، یہ سب مناظر اس کے سامنے آتے ہیں مگر کسی یاد سے بھی دل کو قرار نہیں ملتا۔ اسے یہ ملال اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے کہ عمر بیت گئی اور وہ انسانوں کی بھلائی کے لیے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہ دے سکا جو اس کے بعد بھی زندہ رہتا۔ سر سید احمد خاں کی تحریر ’’گزرا ہوا زمانہ‘‘ میں یہ بزرگ دراصل ایک نوعمر لڑکے کے خواب کا کردار ثابت ہوتا ہے۔ لڑکا جب بیدار ہوتا ہے تو اس کے پاس وہی قیمتی وقت موجود تھا جس کی واپسی کے لیے بوڑھا تڑپ رہا تھا۔ سر سید اپنے نوجوان قاری کو اسی موڑ پر اپنی زندگی کا حساب خود کرنے کی ذمہ داری سونپ دیتے ہیں۔
1873ء میں ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں شائع ہونے والی یہ تمثیل سر سید کے اصلاحی مزاج کا ایک بلیغ نمونہ ہے۔ وہ زندگی بدلنے کی آرزو کو محض وعظ بنانے کے بجائے قاری کا ذاتی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ دسمبر 1870ء میں جاری ہونے والا جریدہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ درحقیقت اسی نوع کی تعلیمی، اخلاقی اور معاشرتی جدوجہد کا مؤثر وسیلہ تھا۔ اس کے اوراق پر فرد کی عادت اور معاشرے کی مجموعی حالت ایک دوسرے سے الگ نہیں تھیں۔ اپنی انفرادی زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت، بالآخر ایک اجتماعی ذمہ داری کے سوال تک پہنچتی تھی۔
اس رسالے کا ظہور اردو کی ایک پہلے سے رواں دواں اور متحرک علمی فضا میں ہوا۔ دہلی کالج میں جدید علوم کے تراجم اور اردو کے ذریعے تدریس کی مستحکم روایت پہلے سے موجود تھی۔ ماسٹر رام چندر کی ادارت میں نکلنے والے جرائد ’’فوائد الناظرین‘‘ اور ’’محبِ ہند‘‘ سائنسی معلومات، علمی تجسس اور اصلاحی نظریات کو مسلسل جگہ دے رہے تھے۔ گیل مینولٹ (Gail Minault) کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ ان جرائد کی نثر میں سادگی اور بے تکلف گفتگو کا انداز نمایاں تھا، جبکہ حصولِ علم کے لیے دیگر تہذیبوں کے تجربات سے استفادہ کرنے کا کھلا جذبہ بھی پایا جاتا تھا۔
سر سید نے اسی ہمہ گیر علمی روایت کے بطن سے اپنی الگ آواز پیدا کی۔ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی اصلاحی جہت کے پسِ پردہ معاشرے سے مسلسل ہم کلام رہنے کی تڑپ کارفرما تھی۔ اس کے قاری کو اپنے گھر، اپنی مجلس اور اپنے روزمرہ رویوں پر ازسرِنو نظر ڈالنی تھی۔ جو بات مدت سے رائج چلی آ رہی ہو، اس کے حقیقی فائدے پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے؛ اور جس رویے کو معاشرہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہو، اس کے پوشیدہ نقصانات پر بھی کھل کر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اصلاحی تحریر اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ معمول کی روزمرہ زندگی میں دبے ہوئے کسی پوشیدہ روگ کو سنجیدہ بحث کا موضوع بنا دے۔
سر سید کے ہاں ’’تہذیب‘‘ کا مفہوم اسی تناظر میں خاصا وسیع اور ہمہ گیر تھا۔ ان کی تعبیر کے مطابق اخلاق، روزمرہ معاملات، معاشرت، جدید علوم، پیشہ ورانہ ہنر اور وقت کی قدر و قیمت، سب ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہیں۔ سبطِ حسن نے حامد حسن قادری کے حوالے سے اس تعبیر کو نقل کیا ہے، جس میں انسانی اعمال اور اجتماعی زندگی کے ارتقا پر بنیادی زور ملتا ہے۔ اس زاویۂ نگاہ کی رو سے شائستگی صرف گفتگو کے تکلفات کا نام نہیں رہتی بلکہ خود زندگی گزارنے کا ایک منظم قرینہ بن جاتی ہے۔ علم کی جستجو، اپنے پیشے میں مہارت اور دیگر انسانوں کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلق نبھانا، یہ سب دراصل ایک ہی تہذیبی عمل کے مختلف مظاہر ہیں۔
اس طرزِ فکر کی ایک روشن اور درخشاں مثال سر سید کے شاہکار مضمون ’’تعصب‘‘ میں نظر آتی ہے۔ وہ مذہبی پختگی اور کورانہ تعصب میں ایک واضح لکیر کھینچتے ہیں۔ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم انسان دوسرے فریق کا مؤقف تحمل سے سننے اور دلائل کے ساتھ گفتگو کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، جبکہ تعصب انسان کو اسی بنیادی اخلاقی وصف سے محروم کر دیتا ہے۔ متعصب فرد دوسروں کے علم، تجربے اور خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کے تمام امکانات بھی کھو بیٹھتا ہے۔ یوں ایک انفرادی اخلاقی کجی، وسیع تر علمی اور معاشرتی زوال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
مضمون ’’تعصب‘‘ کی نثر میں استدلال مرحلہ وار آگے بڑھتا ہے۔ آغاز میں ایک مخصوص سماجی رویہ سامنے لایا جاتا ہے، پھر اس کے مضر اثرات کھول کر بیان ہوتے ہیں، اور آخر میں قاری کی عدالت میں غور و فکر کی درخواست پیش کر دی جاتی ہے۔ مصنف اپنے قاری کی فکری وابستگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ امکان روشن کرتا ہے کہ اپنے مسلک و عقیدے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ وسعتِ نظری بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اس دل نشیں اسلوب میں کڑا سے کڑا سوال بھی ایک بے تکلف مکالمے کا حصہ بن کر دل میں اتر جاتا ہے۔
یہاں پہنچ کر سر سید کی سادہ نگاری کا اصل راز آشکار ہوتا ہے۔ عام فہم عبارت لکھنے کے لیے فقط ثقیل الفاظ ترک کر دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ خیال کی ہم آہنگی، دلائل کی کڑیوں کا ربط اور مخاطب سے جذباتی یگانگت بھی ناگزیر ہے۔ ان کی منتخب تحریروں میں قاری کو ابتدا ہی سے معلوم رہتا ہے کہ بات کس نکتے پر ہو رہی ہے اور مصنف اسے کس منطقی نتیجے تک لے جانا چاہتا ہے۔ ان کی تحریر کی اصل طاقت اس کے مدعا پر گرفت ہے۔ وہ اپنے مرکزی موضوع پر جم کر بات کرتے ہیں، اسے مختلف زاویوں سے پرکھتے ہیں اور قاری کو مسلسل اپنے تفکر میں شریک رکھتے ہیں۔
اس سب کے باوجود سر سید کے ادبی وسائل محض خشک استدلال تک محدود نہیں تھے۔ ’’گزرا ہوا زمانہ‘‘ پر مارگریٹ پرناؤ (Margrit Pernau) اور میکس اسٹلے (Max Stille) کا تحقیقی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس میں خواب کی تکنیک قاری کو یاسیت اور خوف سے نکال کر بتدریج رجائیت اور امید کی طرف لے جاتی ہے۔ بوڑھے کے حق میں جو مہلت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی تھی، نو عمر لڑکے کے لیے وہ پوری آب و تاب کے ساتھ باقی تھی۔ اس ڈرامائی موڑ پر افسانے کا فکری رخ یکسر بدل جاتا ہے۔ گزرے ہوئے وقت کے ضیاع کا قلق، آئندہ وقت کو سلیقے سے استعمال کرنے کے ولولے میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں یہ تمثیل ایک تجریدی اخلاقی نکتے کو ایک متحرک اور جیتے جاگتے انسانی تجربے میں تبدیل کر دیتی ہے۔
سر سید کی یہ ادبی بصیرت ان کے اصلاحی مشن کو سمجھنے کی کلید ہے۔ محض پند و نصیحت سن لینے اور اس کی باطنی ضرورت کو شدت سے محسوس کرنے کے مابین بڑا خلا ہوتا ہے۔ فکشن، دل چسپ مکالمہ اور انسانی کیفیات کی مصوری اس خلیج کو باآسانی پاٹ سکتے ہیں۔ قاری کہانی کے کردار کے کرب میں اپنے ہی کسی اندیشے کی جھلک دیکھتا ہے اور اس کی امید میں اپنی زندگی کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی اس نوع کی تمثیلی تحریروں میں ادبی حسن اور اصلاحی تڑپ ایک دوسرے کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔
اصلاحی صحافت کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مخاطب کو ایک خودمختار اور جواب دہ ہستی سمجھے۔ برینن ڈی انگرام (Brannon D. Ingram) نے رسوم و رواج پر سر سید کی تنقید کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک ایسے باشعور فرد کے خاکے کو اجاگر کیا ہے جو اپنی روش پر خود نگاہ رکھے اور معاشرتی روایات کے ساتھ اپنا تعلق عقل و فہم کی بنیاد پر استوار کرے۔ اس فکری سانچے میں سماجی زندگی ایک ایسا میدان ہے جس میں ہر فرد برابر کا شریک بھی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کے لیے خود ذمہ دار بھی۔ محض رواج کی اندھی تقلید انسان کو اس کے انفرادی فیصلوں کے خمیازے سے بری الذمہ نہیں کر سکتی۔
تاہم اصلاحِ معاشرہ کی مختلف تحریکیں اپنے جداگانہ فکری سرچشمے رکھتی تھیں۔ انگرام کے سر سید اور مولانا اشرف علی تھانوی کے تقابلی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ہی مصلحین کے ہاں فرسودہ رسوم کی شدید مذمت ملتی ہے، مگر اس رد و قبول کی نظری بنیادیں باہم مختلف ہیں۔ یہ تقابل بتاتا ہے کہ اجتماعی بہبود کے متلاشی مفکرین بھی طریقِ کار، ترجیحات اور بنیادی پیمانوں پر باہم علمی اختلاف رکھ سکتے ہیں۔ اس ہمہ رنگ فکری کینوس پر سر سید کے تشخص کو ان کے مخصوص استدلال، ترجیحات اور طرزِ تخاطب ہی سے الگ پہچانا جا سکتا ہے۔
سر سید کے تصورِ تہذیب میں ایک چبھتا ہوا تنقیدی سوال بھی جا بجا سر اٹھاتا ہے۔ اندرونی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس دور کی ترقی یافتہ اور بااثر اقوام کی صف میں وقار حاصل کرنے کی آرزو بھی ان کی تحریروں میں جا بجا جھلکتی ہے۔ ان عبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس جاگتا ہے کہ اپنی خامیوں کو سدھارنے کی مخلصانہ لگن اور بیرونی اعتراف کی تمنا باہم گڈمڈ ہو رہی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں یہ کشمکش گہرے معنی رکھتی تھی کہ آیا کوئی معاشرہ اپنی فلاح کا معیار اپنے داخلی مسائل سے اخذ کرتا ہے، یا پھر غالب طاقتوں کی رائے اس کے احساسِ خودی کو متعین کرتی ہے؟ سر سید کی فکر اس فکری تضاد کو سمجھنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ تیکھا سوال آج کے عہد میں بھی سنجیدہ صحافت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ صحافی جب اپنے معاشرے کے چلن پر تنقید کرتا ہے تو اس کے پیشِ نظر یہ نکتہ رہنا چاہیے کہ اس کے نظریات کا منبع کیا ہے اور اس کی اصلاحی تجاویز سے حقیقتاً کس طبقے کے حالات سدھریں گے۔ محض کسی تصور کا جدید ہونا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا، بالکل اسی طرح جیسے کسی روایت کا قدیم ہونا اسے ہر عیب سے پاک نہیں کر دیتا۔ بالغ نظر سماجی تنقید ہمیشہ انسانوں کی زمینی ضروریات، تاریخی تجربات اور حتمی نتائج سے روشنی حاصل کرتی ہے۔ سر سید کے افکار سے ہم عصر مکالمہ اسی وقت سودمند ثابت ہو سکتا ہے جب ان کے اٹھائے گئے فکری سوالات کو موجودہ بھارتی معاشرے اور آج کے بدلتے حالات کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
’’تہذیب الاخلاق‘‘ کا صحافتی کارنامہ اس زاویے سے بھی بے مثال ہے کہ اس کی مصلحانہ للکار پلٹ کر اپنے ہی قاری کا گریبان پکڑتی ہے۔ قاری کو فقط اغیار کی خامیاں گنوا کر مطمئن ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی، بلکہ اسے اپنی روزمرہ عادات، ذاتی ترجیحات اور ذہنی رویوں پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا پڑتا ہے۔ ایسی بے باک تحریر اپنے قاری کے ساتھ ایک دشوار مگر غیر معمولی بندھن استوار کرتی ہے۔ اسے مخاطب کا قلبی اعتماد بھی درکار ہوتا ہے اور اسی اعتماد کی اوٹ میں کڑوے سچ بولنے کا حوصلہ بھی۔ سر سید کے اسلوب کی فتح اسی توازن میں مضمر ہے کہ ان کی گہری سماجی وابستگی نے کبھی ان کی تنقیدی نگاہ کو کند نہیں ہونے دیا بلکہ وہی جرأتِ اظہار کا اصل محرک بنی۔
اردو ادب اور ملکی صحافت کے لیے یہ روایت ایک لازوال اور تابندہ ورثہ ہے۔ زبان کی سادگی، منطقی ربط اور انسانی جذبات کی سچی ترجمانی مل کر نثر کو کتابی دنیا سے نکال کر جیتی جاگتی زندگی کے قریب لے آتے ہیں۔ اس فکری ورثے کی معنویت کسی عظیم تاریخی شخصیت سے آنکھیں بند کر کے اتفاق کرنے میں نہیں، بلکہ اس سنجیدہ جستجو میں پوشیدہ ہے جس کے تحت تحریر کو انسانوں کی فلاح سے وابستہ کیا گیا تھا۔ الفاظ اپنے مقصد میں اسی وقت سرخرو ہوتے ہیں جب وہ قاری کو محض وقتی طور پر مرعوب کرنے کے بجائے اس کے فہم و شعور کو جلا بخشیں۔
’’گزرا ہوا زمانہ‘‘ کے بیدار بخت لڑکے کے لیے امید کی نئی صبح ابھی روشن ہے۔ اس نے خواب کے آئینے میں اس نقصان کو دیکھ لیا تھا جس کا مداوا وہ اپنی بیداری کی زندگی میں باآسانی کر سکتا ہے۔ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے مضامین بھی اپنے دور کے بھارتی معاشرے اور قاری کے سامنے یہی روشن امکان پیش کرتے ہیں کہ زندگی جس ڈگر پر چل رہی ہے، اسی بے حسی پر سمجھوتہ کیے رکھنا ناگزیر نہیں۔ کسی کہنہ عادت پر سوال اٹھانا، کسی تعصب کی زنجیر توڑنا یا کسی دوسرے انسان کا بوجھ بانٹنا، اجتماعی بیداری کا ہر انقلاب دراصل اسی نازک لمحے سے جنم لیتا ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے ضمیر کے سامنے خود کو سچے دل سے جواب دہ ٹھہراتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے