19 سالہ انکیتا بھنڈاری رشی کیش کے قریب واقع ونانترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔ 18 ستمبر 2022 کو اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ریزورٹ کا مالک پلکت آریہ، ایک بی جے پی رہنما کا بیٹاہے ۔ اس نے انکیتا پر ایک وی آئی پی مہمان کو خصوصی خدمات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور انکار کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں پلکت آریہ اور اس کے دو ملازمین کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے مگر ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امسال جنوری میں جب انکیتا بھنڈاری کا ملزم کہہ رہا تھا کہ میرا نارکو ٹیسٹ کرایا جائے تو حکومت ہی اس کی مخالفت کر رہی تھی کیونکہ بی جے پی ڈر رہی تھی کہ کہیں نارکو ٹیسٹ میں اس کے لیڈران کے نام سامنے نہ آجائیں ایسا تو ہندوستانی انتظامیہ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہوگاکہ اپنے چہیتوں کو بچانے کے لیے نارکو ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت ہر قدم پر انکیتا بھنڈاری کیس کو بھٹکانے کا کام کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے اعلان پر بھی سی بی آئی جانچ کا سچ سامنے نہیں آ پایا کیونکہ اس کیس میں جو پولیس افسر ایس آئی ٹی کی چیف تھیں، وہی سی بی آئی میں بڑے عہدے پر بھی فائز ہیں۔ ایسے میں مذکورہ افسر کا اس زون میں رہنا مناسب نہیں تھا مگر ان کو نہیں ہٹایا گیا ۔
انکیتا بھنڈاری معاملہ میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر والدین رضامندی ہوتو وہ دوبارہ سی بی آئی جانچ کرواسکتے ہیں ۔ ا س کے بعد والدین نے نہ صرف تحریری طور پر اپنا مطالبہ سامنے رکھ کر قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا بلکہ اس کے ساتھ کیس میں شامل وی آئی پی کے لیے بھی سزا کویقینی بنانے کے لیے سٹنگ جج کی نگرانی میں سی بی آئی تفتیش کی مانگ بھی کردی لیکن پھر کسی غیر متعلق شخص کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرائی گئی، اور اس ایف آئی آر کی بنیاد پر سی بی آئی جانچ کی بات کہی گئی۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ میں کچھ تکڑم بھڑا رہے ہیں۔ انکیتا کے اہل خانہ سمیت کئی لوگوں کا الزام ہے کہ دشینت گوتم ہی وہ وی آئی پی ہیں جن کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ وہ اس زمانے میں بی جے پی کی دلت سیل کے سربراہ تھے اور بی جے پی کو اس طبقےکے ووٹ کی سخت ضرورت ہے۔ ایسے میں دشینت گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری کرکے انہیں گیانیش کمار کی مانند آئینی تحفظ فراہم کردیا گیا۔اس اہم عہدے پر فائز رہنے کے دوران ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے یا جاری رکھنے میں قانونی رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔
مرکزی حکومت کے اس ناعاقبت اندیش فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اور انکیتا بھنڈاری کے والدین انڈیا گیٹ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ان کو انصاف دلانے کا مطالبہ لے کر کانگریسی کارکنان بھی میدان میں آگئے۔ جنتر منترہنوز اگر احتجاج کے لیے مخصوص ہوتا تو ممکن ہے وہ ادھرجاکر بیٹھتے مگر حکومت نے وہ سہولت بھی ختم کردی ۔ وہ رام لیلا گرونڈ جائیں تو وہاں دسہرا کا پنڈال لگا ہوا ہے ۔ بوراڈی چلے جائیں تو۲۲ کلومیٹر کےفاصلے پر کسی کو اس احتجاج کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔ اس لیے وہ انڈیا گیٹ پر بیٹھ گئے مگر کو پولیس نے صبح تقریباً 4 بجے انہیں حراست میں لے لیا اور ایک گھنٹے بعد 5 بجے رہا کر دیا۔ اس واقعہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’صبح کے 4 بجے جب دنیا سو رہی تھی تب انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لے لیا گیا۔وہ بوجھل کندھوں کے ساتھ بغیر کسی ہنگامے کے انڈیا گیٹ پر خاموشی بیٹھ کر صرف اتنا مطالبہ کر رہے تھے کہ سی بی آئی کی تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت گوتم کو سکم کا گورنر نہ بنایا جائے۔ کیا کسی غمگین ماں باپ کو اس طرح گہار لگانے کا بھی حق نہیں ہے؟ ان کا قصور کیا ہے؟
راہل گاندھی نے اس دھرنے سے قبل بدھ کی رات کو انکیتا بھنڈاری کے والدین سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کل میں اور پرینکا ان سے ملے تھے۔ جس تحقیقات کا نتیجہ آیا نہیں، اس کے پہلے ہی تقرری کی جلدی اور سوال پوچھنے والے ماں باپ کو رات کے اندھیرے میں اٹھا لینا اس حکومت کی پہچان ہے، یہ متاثرین کی آواز دبا دیتی ہے، سوال کرنے والوں کو ہٹا دیا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انصاف کی یہ لڑائی نہ دبے گی، نہ رکے گی۔ کانگریس انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت کو اس تقرری پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت گوتم کو عہدہ سنبھالنے سے روکا جائے۔ ویسے تو گورنروں کی تقرری وزیر اعظم کی قیادت والی وزرا کی کونسل کے مشورے پر کی جاتی ہے، لیکن آئین کی دفع 74(1) کے تحت صدر جمہوریہ حکومت کو کسی فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دے سکتی ہیں۔راہل گاندھی کے مطابق، انہوں نے یہ خط آخری چارہ کار کے طور پر لکھا ہےجس میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو انکیتا بھنڈاری قتل معاملے کا حوالہ دے کر دُشینت گوتم کی سکم کے گورنر کے عہدے پر تقرری پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، دشینت گوتم کو گورنر کا عہدہ سنبھالنے کی اجازت نہ دی جائے۔سوال یہ ہے کہ آخر انکیتا بھنڈاری قتل کے چار سال بعد بھی سست رفتار سی بی آئی اس معاملے میں شامل وی آئی پی کا پتہ کیوں نہیں چلا سکی ؟
امسال یوم آزادی کے دن بھی راہل گاندھی نے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے حوالے سے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکمراں جماعت میں مجرموں کو بچانے کی ایک بیمار ذہنیت ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انکیتا بھنڈاری سے ملاقات کی ایک تصویر شیئر کرکے لکھاتھا کہ ’’انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ سے 2 روز قبل ملاقات کی۔ 4 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی وہ اپنی بچی کے خلاف ایک ایسے جرم کے لیے انصاف کا انتظار کر رہے ہیں جس کی کوئی معافی نہیں ہے۔‘‘اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھاتھا کہ ’’صرف 19 سال کی انکیتا کوایک ’وی آئی پی‘ مہمان کے شرمناک مطالبے کی مخالفت کرنے پر چیلا نہر میں ڈبو کر قتل کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تشدد اور ڈبونے کے ثبوتوں کی بھی تصدیق کی لیکن ریزورٹ میں انکیتا کے کمرے کو کسی بھی قسم کی تحقیقات سے قبل ہی منہدم کر دیا گیا، جو کہ اپنے آپ میں انتہائی مشکوک قدم تھا۔‘‘ اس کا مطلب یہ بلڈوزر کی وہ کارروائی سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ شواہد مٹانے کی خاطر کی گئی تھی۔
راہل گاندھی نے پورے دو ماہ قبل یہ الزام لگا دیا تھا کہ شرمناک طور پر ریاستی حکومت خود اس ’وی آئی پی‘ کو تحفظ دے رہی ہےکیونکہ وہ بی جے پی -آر ایس ایس کا بڑا لیڈر ہے۔ یہی بی جے پی کی بیمار ذہنیت ہے، عصمت دری کرنے والوں اور مجرموں کو بچانا، انہیں سیاسی تحفظ فراہم کرنا، یہاں تک کہ عصمت دری کے مجرموں کا پھول مالاؤں سے استقبال کرنا۔ انہوں مزید لکھاتھا کہ ’’دنیا میں سب سے گھناؤنے انسان وہ ہوتے ہیں جو عصمت دری کرنے والوں کی حفاظت کرتے ہیں اور بی جے پی میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے۔‘‘ دشینت گوتم کو گورنر بناکر بی جے پی حکومت نے راہل گاندھی کے سارے الزامات کی تصدیق کردی ہے۔ راہل گاندھی نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہندوستان تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا، جب تک خواتین کو مردوں کے استعمال کی چیز سمجھنے والی یہ غیر انسانی ذہنیت ختم نہیں ہوتی۔ ہندوستان صرف اسی وقت آگے بڑھے گا، جب ہندوستان کی خواتین عزت، تحفظ ، برابری اور انصاف کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔‘‘ اس ملک میں ایک طرف نیہا بورا جیسی دلیر رہنما طلبا اور نوجوانوں کی قیادت کررہی ہیں وہیں ان کے ساتھ میدان میں آنے والی طالبات پر زعفرانی بھیڑئیے کھلے عام جھپٹ کر فخر جتا رہے ہیں۔ ہندو سرکشا دل کا پنکی پانڈے بڑی بے حیائی سے کہتا ہے کہ جو بھی سناتن کے خلاف ہوگا اس کو اسی طرح سبق سکھایا جائے گا یعنی اب یہ جنگ ہندو مسلمان کی نہیں بلکہ سناتن(بی جے پی) و غیر سناتن کی ہوگئی ہے ۔اس دھرم یدھ کا شکار نیہا سے لے کر شاہین و انکیتا سے بلقیس تک سبھی ہور ہے ہیں ۔