اثر خامہ : مولانا مفتی محمود الرحمن قاسمی
استاذ عربی دارالعلوم جامعہ محمودیہ کالا تالاب
گنٹور آندھراپردیش
خالقِ کائنات نے انسان کو عقل و شعور، تدبر اور بصیرتِ باطنی کی بے بہا نعمتوں سے سرفراز فرما کر تمام مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی اور اسے تسخیرِ کائنات کا اختیار بخشا۔ تاریخ کا ہر دور اس حقیقت کا شاہد ہے کہ انسانی عقل نے جب بھی علم و تحقیق اور فکر و عمل کی شاہراہ پر قدم رکھا، حیرت انگیز ایجادات اور علمی انکشافات کے نئے باب رقم کیے۔ تاہم، ایک عالمگیر سچائی یہ بھی ہے کہ جب یہی عقلِ انسانی الہامی رہنمائی اور وحیِ الٰہی سے منقطع ہو کر محض مادی منفعت، نفسانی خواہشات اور تسلط کی تابع ہوئی، تو وہی ترقی اور ایجادات نوعِ انسانی کے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان بن گئیں۔
عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا فکری و سائنسی انقلاب انسان کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں عقل کو وحیِ الٰہی کی روشنی میں متوازن رکھنا نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے، بلکہ بقائے باہمی اور انسانی وجود کی بنیادی شرط بھی ہے۔ اس مضمون میں سائنسی پیش رفت کے اس دور میں ٹیکنالوجی اور اسلامی اخلاقیات کے باہمی ربط کو قرآنی آیات اور فکر انگیز زاویوں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
۱. ٹیکنالوجی کا ارتقاء اور اخلاقی ذمہ داری
گزشتہ ادوار میں وہ تمام ہتھیار، جن کے ذریعے عالمی جنگیں لڑی گئیں اور جو آج بھی بے شمار معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں، دراصل انسان کی حفاظت اور امن و سلامتی کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ لیکن جب ان کا استعمال مقاصدِ امن کے بجائے ظلم و جبر اور دہشت پھیلانے کے لیے کیا جائے، تو وہ انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتے ہیں۔ ان کا ایسا غلط استعمال کسی بھی پہلو سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ تمام حقائق ہمیں قرآنِ کریم کے فکر انگیز زاویۂ نظر سے متوجہ کرتے ہیں کہ انسان کو اپنے محفوظ مستقبل کی تلاش میں صرف ترقی یافتہ ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ مصنوعی ذہانت جیسے نازک اور پُر اثر شعبے کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ سابقہ ادوار کی کوئی بھی ایجاد خودکار یا سیکھنے کی صلاحیت سے متصف نہ تھی، مگر مصنوعی ذہانت وہ پہلا نظام ہے جو خود سے سیکھنے، نئے طریقے دریافت کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر انسانی عقل نفس کی غلام بن جائے، تو یہی عقل شیطانی تحریکات کا آلہ بن کر انسان کو خالقِ حقیقی سے دور لے جا سکتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عقل کو وحی کی روشنی میں متوازن رکھا جائے، تاکہ ترقی کا یہ سفر خیر و فلاح کے دائمی دائرے میں باقی رہے۔
۲. عقلِ محض کا جمود اور اسلامی اخلاقی تناظر
یہی سبب ہے کہ جب محض عقلِ انسانی ہی کو کسوٹی بنا لیا گیا اور اسے وحی، الہام اور باطنی مشاہدے سے جدا کر دیا گیا، تو بعض لوگوں نے خالقِ کائنات کے وجود تک کا انکار کر دیا۔ حالانکہ اگر عقل، حسی تجربات کے ساتھ ساتھ الہامی رہنمائی اور باطنی ادراک سے جڑی رہے، تو وہ انسان کو نہ صرف کائنات کی حقیقتوں تک پہنچا سکتی ہے بلکہ اسے خالقِ حقیقی کے قرب سے بھی ہمکنار کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت، جو اب محض معلوماتی نظام نہیں رہی بلکہ انسانی جذبات و احساسات کو سمجھنے اور ان کے مطابق ردِ عمل دینے لگی ہے اگر اس کا منفی استعمال بے لگام ہو گیا، تو بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسی وسیع النوع اور لامحدود جھڑپوں کو جنم دے، جو بظاہر سائنس یا فنکشنل ڈیٹا کا حصہ سمجھے جا رہے ہوں، مگر درحقیقت انسانی اخلاقیات، معاشرتی امن اور روحانی توازن کو گہرائی سے متاثر کر سکتے ہوں۔
۳. شیطانی تلبیسات اور قرآنی ہدایت
اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ آیا انسان ایسی خودکار اور ذہین مشینی ٹیکنالوجی کے ہاتھوں مہلک مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؟ تو اس کا جواب قرآن مجید کی اس آیت سے بخوبی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شیطان نے بارگاہِ الٰہی سے انسان کو خیر سے ہٹانے، فساد برپا کرنے اور اسے صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کے لیے مہلت حاصل کر رکھی ہے۔
قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
ترجمہ:
"اس (شیطان) نے کہا: سو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کے سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گا۔” (سورۃ ص: 82)
اگر یہ تناظر درست تسلیم کیا جائے تو انسانی عقل کے فرائض میں دو باتیں بہرحال وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہیں:
اوّل: عقل کو غور و فکر کے ذریعے ایجاد و دریافت کے عمل میں مسلسل پیش قدمی کرنی چاہیے۔
دوئم: اس پیش رفت کے دوران یہ امر یقینی بنایا جائے کہ اس کی اختراعات و دریافتیں نوعِ انسانی کے لیے مثبت نتائج کی حامل ہوں۔
ایسا نہ ہو کہ یہ عقل شیطانی محرکات کے زیرِ اثر آ کر ایسی عالمگیر تباہی کا ذریعہ بن جائے جو نہ صرف خود انسان کی بقا کے لیے مہلک ہو، بلکہ تمام مخلوقات اور اس کرۂ ارض پر موجود زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جائے۔
۴. قرآنی معیارِ عقل اور مصنوعی و الہامی ذہانت کا فرق
قرآن مجید نے جہاں انسان کو گہرائی اور تدبر کے ساتھ غور و فکر کی دعوت دی ہے، وہیں عاقل انسان کا ایک مخصوص معیار بھی واضح فرمایا ہے۔ محض عقل کا حامل ہونا، قرآن کی نظر میں حقیقی عقل مندی کی دلیل نہیں، بلکہ عقل کا صحیح استعمال، یعنی حق کو پہچاننا، اس پر ایمان لانا، اور اس کے مطابق عمل کرنا یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک شخص کو قرآن کے نزدیک عاقل بناتے ہیں۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا
ترجمہ:
"کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کے مانند ہو چکے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔” (سورۃ الفرقان: 44)
انسان کی عقل محض اس کے دماغ کی پیداوار نہیں، بلکہ اس کا گہرا تعلق دل سے بھی ہے۔ اگرچہ آج کا انسان جینیاتی کلوننگ (Cloning) کے ذریعے انسانی اعضاء کو مصنوعی طور پر تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، یا مشینی اعضاء کی پیوند کاری میں کامیاب ہو چکا ہے، یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ذہن کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر وہ آج بھی الہامی عقل (Divine Intellect) کے ادنیٰ درجے کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔
قرآن ہمیں یہ حقیقت واضح انداز میں سمجھاتا ہے کہ جب انسانی عقل غفلت میں مبتلا ہو جاتی ہے، تو وہ نہ صرف خدائی دعوے کرنے لگتی ہے، بلکہ ایسے دعوؤں کو تسلیم بھی کر لیتی ہے۔ یہی غفلت انسان کو عذابِ الٰہی کا مستحق بنا دیتی ہے:
قومِ موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر رب سے ہم کلام ہونے تشریف لے گئے، تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی قوم کے وہ لوگ جن کی عقل اندھی ہو چکی تھی، انہوں نے سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کر دی۔ یہ عمل دراصل انسان کے شرفِ انسانی کے خلاف تھا، بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس عمل کے ذریعے انسان نے ایک بے جان چوپائے کو اپنے اوپر فوقیت دے دی۔
فرعون کا دعویٰ: اس سے بھی زیادہ خطرناک مثال فرعون کی ہے، جس کی عقل پر جب تالے پڑ گئے تو اس نے خدائی کا دعویٰ کر ڈالا، اور افسوس کہ اس دعوے کو ماننے والے بھی ایسے ہی افراد تھے جو ایک فتنہ پرور اور تباہ کن قوت کے زیرِ اثر آ چکے تھے۔
ایسی قوت جس کے نتائج سراسر منفی اور تباہ کن تھے۔ ایسی عقل رکھنے والوں کو قرآن نے جانوروں سے تشبیہ دی ہے، جو بظاہر عقل رکھتے ہیں، مگر حقیقت میں عقل و شعور سے محروم ہوتے ہیں۔ انسان کو چوپایوں سے مشابہ قرار دینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہا ہوتا ہے جہاں اس پر نفسانی خواہشات، شہوات، اور تعصبات کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ خیر و شر کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو تدبر، تفکر، اور معرفت کا جوہر رکھا ہے، وہ اسے استعمال کرنے کے بجائے باطل کو حق ماننے لگتا ہے۔ ایسے لوگ اگرچہ شعور کے بیج اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن وہ انہیں ایمانی مشاہدے کے پانی سے سیراب کر کے ایک تناور درخت میں تبدیل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
۵. روبوٹکس، ٹیکنالوجی کا بگاڑ اور مظاہرِ ظلم
آج مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی مدد سے ایسے انسانی ڈھانچے تیار ہو چکے ہیں جو انسان کی شکل و صورت، قد و قامت، اور حرکات و سکنات میں بالکل مشابہ ہیں۔ وہ نہ صرف سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ احساسات و جذبات کو پہچان کر ان پر ردِ عمل ظاہر کرنے کے بھی قابل ہو چکے ہیں۔ صوفیہ (Sophia) نامی مشہور روبوٹ، جسے 2016 میں عالمی منظر نامے پر پیش کیا گیا، آج مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل کی نمائندگی کا استعارہ بن چکی ہے۔ اسے نہ صرف ٹیکنالوجی کا شاہکار سمجھا جاتا ہے بلکہ AI کی علامت و ترجمان کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج دنیا بخوبی جانتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سائنس کی اب تک کی سب سے عظیم ایجاد اور گہرا ترین انقلاب سمجھی جا رہی ہے۔ لیکن اس حیران کن پیش رفت کے سائے میں جو تاریک پہلو چھپے ہیں، ان سے صرفِ نظر کرنا دانش مندی نہیں:
اس انقلاب کا ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ مختلف پیشے اور انسانی ہنر جنہیں صدیوں کی محنت نے تراشا تھا، اب مشینی سسٹمز کے ہاتھوں پسِ پردہ چلے گئے ہیں۔
فراڈ اور جعل سازی کے نت نئے انداز سامنے آئے ہیں جن میں AI نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ جرائم کی دنیا میں بھی AI کی شمولیت نے نت نئے طریقے اور راستے کھول دیے ہیں، جن کے ذریعے چالاک مجرم، نگرانی کے جدید نظام کو بھی چکمہ دینے لگے ہیں۔
یہ تمام حقائق اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت، اگرچہ انسانی ترقی کا سنگِ میل ہے، لیکن یہ عقل و شعور سے عاری طاقت اگر اخلاقی اصولوں سے بے لگام ہو جائے تو انسانیت کے لیے ایک عظیم خطرہ بن سکتی ہے۔
قرآن حکیم میں انسان کے انجامِ بد کی نشان دہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ
ترجمہ:
"اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کئی قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے، مگر وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہم اسی طرح مجرم قوم کو بدلہ دیتے ہیں۔” (سورۃ یونس: 13)
۶. دنیاوی خسارہ اور انسانی سعادت کا ضیاع
یہ آیتِ مبارکہ آج کے ترقی یافتہ دور پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے، جہاں سائنسی ارتقاء کے باوجود ظلم کی نئی شکلیں جنم لے چکی ہیں۔ جیسا کہ سابقہ بحث میں ذکر ہو چکا ہے، خود ماہرینِ سائنس اس حقیقت کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی بڑھتی ہوئی طاقت مستقبل میں انسانوں کے لیے خطرے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ انسان کی بقا کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔
اس خطرے کی جڑ اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان اپنے عقل و فہم کو عقلِ کل سمجھ بیٹھتا ہے اور الٰہی حاکمیت (Divine Authority) کا انکار کر دیتا ہے۔ یہ رویہ محض فکری انحراف ہی نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا بدترین ظلم بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت انسان کے ہاتھوں تخلیق کردہ ایک صنعت ہے، جو انسانی افعال کی نقل کرتی ہے اور بعض پہلوؤں میں اسے معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس عملِ تخلیق کو قرآن صُنْع (صنعت) کے قالب میں بیان کرتا ہے۔
سورۃ الکہف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا
ترجمہ:
"کہہ دیجیے! کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں؟ وہ جن کی ساری محنت دنیا کی زندگی میں ضائع ہو گئی، اور وہ یہی گمان کرتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام (صنعت و ہنر) کر رہے ہیں۔” (سورۃ الکہف: 104-105)
حرف آخر
اگر تاریخِ انسائیت کے ارتقائی صحائف پر نظر ڈالی جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انسان نے سنگی دور کی ابتدائی بدمعاملگیوں سے نکل کر زراعت، صنعت، اور برقیات سے ہوتے ہوئے معلومات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اوجِ ثریا تک کا سفر طے کیا۔ پتھر اور لوہے کے تراشیدہ ابتدائی اوزاروں سے شروع ہونے والی یہ سفرِ ترقی آج مصنوعی ذہانت (AI) کی شکل میں ایک ایسے نقطۂ عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں آلات و مشینیں محض جامد و ساکت اوزار نہیں رہیں، بلکہ خود سوچنے، سیکھنے اور فیصلہ سازی کی شگفتہ صلاحیتوں سے آراستہ ہو چکی ہیں۔
بلا شبہ، اس تیکنیکی و سائنسی انقلاب کے اندر انسانیت کے لیے بے شمار منافع و فوائد پنہاں ہیں:
پیچیدہ طبی تشخیصات، لاعلاج بیماریوں کی فوری دریافت، معاشی و صنعتی پیداوار کی تیز ترین رفتار، تعلیمی و تحقیقی میدانوں میں لامحدود وسعت، اور مشقت طلب کاموں میں انسان کی معاونت—یہ تمام تر پہلو مصنوعی ذہانت کے روشن اور نافع رخ ہیں۔
مگر اس درخشندہ رخ کے متوازی، اگر یہی تیکنیکی طاقت اخلاقی و روحانی حدود سے آزاد ہو جائے، تو اس کے مضرات و نقصانات کی ہولناکی سابقہ تمام تباہ کاریوں پر سبقت لے جاتی ہے:
لاکھوں ہنر مندوں کی معاشی بے روزگاری، سائبر فریب کاری، ڈیپ فیک اور جعلی شناختوں کے اخلاقی جرائم، خودکار مہلک ہتھیاروں کے ذریعے انسانی آبادیوں کی تباہی، اور انسان کا اپنی ہی بنائی ہوئی مشینوں کا ذہنی و فکری غلام بن جانا یہ وہ تاریک پہلو ہیں جو پورے نظامِ عالم کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔
قرآنِ حکیم کی حق پرست اور ابدی بصیرت کا نچوڑ اور لبِ لباب یہی ہے کہ عقلِ انسانی بذاتِ خود مطلق نہیں، بلکہ وہ وحیِ الٰہی کی محتاج ہے۔ جب عقل اپنے خالق کی حاکمیت کا انکار کر کے خود کو عقلِ کل سمجھ بیٹھتی ہے، تو وہ ابلیس کے فریب اور نفسِ امارہ کی غلامی میں آ کر اپنی ہی اختراعات کو اپنی تباہی کا ذریعہ بنا لیتی ہے۔
قرآنِ پاک کا پیغام یہ نہیں کہ انسان ترقی، تحقیق اور سائنسی پیش رفت سے رک جائے؛ بلکہ اس کا منشا یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی لگام تقویٰ، عدل، اخلاقیات اور فلاحِ انسانیت کے ہاتھ میں ہو۔
اگر مصنوعی ذہانت جیسے پرُ اثر الیکٹرانک و فکری نظام کو وحی الٰہی کی روشنی اور اسلامی اخلاق کے دائرے میں رام نہ کیا گیا، تو وہی ٹیکنالوجی جسے انسان اپنی عظیم ترین فتح سمجھ رہا ہے، بالآخر اس کے اپنے زوال اور ہلاکت کا تازیانہ بن جائے گی۔ سائنسی تسخیر اور اخلاقی و روحانی اقدار کا یہی باہمی توازن ہی انسان کی حقیقی سعادت اور نجات کا واحد ضامن ہے