میری ڈائری کا ایک ورق.
ہجرت، اذان اور نماز، بیمار ماں کا دل
ازقلم:عبدالعزیز
ہجرت: یہ بات اس وقت کی ہے جب پورے ملک میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے ’تحفظ شریعت‘ کی مہم جاری تھی۔ عالم اسلام کے ایک بہت بڑے عالم کا اس وقت ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ’’اگر مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی ہوئی تو وہ ہجرت کرنا گوارا کریں گے مگر ملک میں رہنا کسی قیمت پر گوارا نہیں کریں گے‘‘۔ اس بیان کے چند دنوں کے بعد مسلم پرسنل لاء کے صف اول کے ایک عالم دین کلکتہ تشریف لائے۔ ایک پریس رپورٹر کے سوال کے جواب میں پریس کانفرنس کے دوران موصوف نے کہاکہ ’’اب ہجرت کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں اب ہجرت نہیں ہے‘‘۔ خاکسار اس وقت اردو روزنامہ ’اقراء‘ کا مدیر تھا۔ عالم دین کو فون کرکے بات چیت کے لئے وقت لیا ۔ وہ راضی ہوگئے۔ حاجی منصور احمد کنوینر مسلم پرسنل لاء ایکشن کمیٹی مغربی بنگال کے ساتھ موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے میں نے کہاکہ آپ نے ہجرت کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ اسلام سے میل نہیں کھاتا۔ دین اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ میں نے علامہ حمید الدین فراہی کی تفسیر سورۃ الکافرون کا حوالہ دیا کہ علامہ نے ہر نبی کے کاموں کے تین مراحل بیان کئے ہیں: ’دعوت، اتمام حجت اور اعلانِ برأت و ہجرت‘ ۔یہی تین مراحل متبعین نبی کا بھی ہوتا ہے۔
علامہ اپنی تفسیر’نظام القرآن‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’مراحلِ نبوت میں سے پہلا مرحلہ دعوت اور صبر کا مرحلہ ہے، اس کے بعد برأت و ہجرت کی منزل آتی ہے اور سب سے آخر میں فتح و کامرانی کی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں رہا بلکہ یہ اس کا ایک عام قانون ہے جو تمام انبیاء بلکہ تمام خلق کے لئے یکساں ظاہر ہوا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس کی طرف اشارات ہیں۔ بعض سورتوں میں یہ چیز عمود کی حیثیت رکھتی ہے اور بعض میں اگر چہ یہ عمود کی حیثیت نہیں رکھتی لیکن اس کا ذکر نہایت اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ سورۂ اعراف، سورۂ ہود، سورۂ یوسف اور سورہ نحل میں اس کی تفصیلات موجود ہیں‘‘۔
مولانا کو ایک حدیث قدسی کا بھی حوالہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے جس میں سے ایک ہجرت بھی ہے۔ علامہ اقبالؒ کا ایک مشہور شعر بھی سنایا ؎ ’ہے ترکِ وطن سنتِ محبوبِ الٰہی— دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی‘۔ کئی دیگر علماء کے اقوال کے حوالے بھی پیش کئے۔ امام حسن بصریؒ کا ایک قول پیش کیا۔ ’’اگر کسی دور میں یہ اتفاق ہو کہ مسلمان کسی ملک میں کم تعداد میں ہوں اور ان کے وہاں موجود ہونے سے کفار کی مجموعی قوت میں اضافہ ہو رہا ہو۔ان کے وہاں سے ہجرت کر جانے سے کفار کی شان و شوکت کم ہو جائے تو حسن بصری کے قول کے موافق انہیں وہاں سے لازماً ہجرت کر جانی چاہیے کیونکہ وہاں بھی ہجرت کرنے کی وہی علت پیدا ہو گئی ہے جو مکہ سے مدینہ کرنے میں تھی‘‘۔
مولانا سے میں نے دریافت کیا کہ آپ کس حدیث یا قرآن کی کس آیت کی بنیاد پر ہجرت کے ختم ہونے کی بات فرما رہے ہیں۔ تو انھوں نے ایک حدیث بیان کی : ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘‘ (فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں)۔ میں نے مولانا سے کہاکہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اہل مکہ سے فتح مکہ کے موقع پر کہی تھی۔ ظاہر ہے مکہ فتح ہونے کے بعد اہل مکہ کے لئے ہجرت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ تمام حوالوں کے باوجود جب مولانا ٹس سے مس نہیں ہوئے تو میں نے ان سے کہاکہ اگر آپ کو کسی پڑوسی ملک میں دھکیل دیا جائے یا جانے پر مجبور کیا جائے تو اس عمل کے لئے کون سی اصطلاح استعمال فرمائیں گے۔ اس پر حضرت مولانا نے توقف کے بعد کہاکہ ہجرت کی گنجائش ہے۔ مجھے اور حاجی منصور صاحب کو بیحد خوشی ہوئی کہ ایک گھنٹہ بیس منٹ کے بحث و مباحثے کے بعد مولانا نے تسلیم کرلیا کہ ہجرت پہلے کی طرح باقی ہے۔ تعجب اس بات پر مجھے ہوا کہ ہجرت کے بغیر جہاد ممکن نہیں ہے۔ اگر ہجرت نہیں ہوگی تو جہاد بھی نہیں ہوگا۔ جہاد کے بارے میں حکومت برطانیہ کے اشارے پر قادیانیوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا تھا اور بیانات بھی دیئے تھے کہ ’’اب جہاد بالسیف کا زمانہ نہیں ہے جہاد بالقلم کا زمانہ ہے‘‘۔ ان کا ایک مشہور مصرع بھی ہے : ’آئیں گے مسیح کریں گے جنگوں کا التوا‘۔ مرزا اپنے آپ کو نبی کے علاوہ مسیح موعود بھی کہا کرتے تھے۔
میں نے دوسرے روز اس موضوع پر روزنامہ ’اقراء‘میں اداریہ بھی لکھا تھا جس میں یہ بھی بتایا تھا کہ ہجرت اور جہاد لازم و ملزوم ہیں۔ اگر کوئی ہجرت کے بارے میں کہتا ہے کہ اب ہجرت نہیں ہے تو ایک طرح سے وہ جہاد کی بھی نفی کرتا ہے۔ اس طرح کی تحریر یا بیان سے قادیانیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ میری اس تحریر کا عالم دین نے بہت برا مانا تھا لیکن میں نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کیونکہ آپ کی طرح بہت سے علماء میں ہجرت کے بارے میں فتح مکہ کے موقع کی حدیث کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ النساء میں فرماتاہے: ’’جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لئے بڑی گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کے لئے ہجرت کے لئے نکلے، پھر راستے میں ہی اسے موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا، اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے‘‘۔ (آیت:100)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’بعض لوگوں کو ایک حدیث سے غلط فہمی ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے ’لاہجرۃ بعد الفتح‘ یعنی فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے؛ حالانکہ دراصل یہ حدیث کوئی دائمی حکم نہیں ہے بلکہ صرف اس وقت کے حالات میں اہل عرب سے ایسا فرمایا گیا تھا۔ جب تک عرب کا بیشتر حصہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اور صرف مدینہ میں اسلامی احکام جاری ہورہے تھے۔ مسلمانوں کے لئے تاکیدی حکم تھا کہ ہر طرف سے سمٹ کر دارالاسلام میں آجائیں، مگر جب فتح مکہ کے بعد عرب میں کفر کا زور ٹوٹ گیا اور قریب قریب پورا ملک اسلام کے زیر نگیں آگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہجرت کی حاجت باقی نہیں رہی ہے۔ اس سے یہ مراد ہر گز نہ تھی کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے تمام حالات میں قیامت تک کے لئے ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی ہے‘‘۔
اذان اور نماز: آج صبح چہل قدمی سے واپس گھر کی طرف آرہا تھا تو اے جی سی بوس روڈ اور شیکسپیئر سرانی کے کراسنگ کے کونے پر ایک تاجر سے دعا سلام کے بعد بات چیت ہونے لگی۔ اس کا ایک ملازم دکان کا گیٹ کھول رہا تھا۔ وہ اپنی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔ میں جب اس سے قریب ہوا تو اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ چہل قدمی ہوگئی۔ ’’جی ہاں‘‘میں نے جواب دیا۔ ’’اب تو آپ دن بھر گھر میں رہیں گے ؟‘‘ اس نے سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ’’پانچ وقت مسجد جاتا ہوں، صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد واکنگ (Walking)کے لیے گیا تھا‘‘۔ اس نے کہا کہ’’ میں بھی چرچ ہوکر آرہا ہوں، آپ کے یہاں تو سنڈے سنڈے جانے کا رواج ہے‘‘۔ جواب میں اس نے کہا کہ میں gathering mass (عوامی اجتماع)میں نہیں جاتا ہوں۔ Idon’t believe in priesthood (پادری سسٹم پر یقین نہیں رکھتا)۔ پھر میں نے اسے بتایا کہ دین اسلام میں پوپ سسٹم یا پادریت کا رواج بالکل نہیں ہے۔ آپ کے یہاں میں نے جو سنا یا دیکھا ہے کہ پادری یا پوپ کے بغیر prayer سر انجام نہیں دیا جاتا۔ پہلی بار آپ سے سن رہا ہوں کہ آپ تنہا چرچ میں جاکر عبادت کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہماری مسجدوں میں اگر امام موجود نہیں ہوتا تو کسی کو بھی نماز پڑھانے کے لئے آگے کھڑا کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ہر دینی کام اسلام میں جائز ہے، اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے‘‘۔اس نے کہا کہ ’’اسے معلوم ہے۔کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا !‘‘آج جب ’فیس بک‘ کھولا تو میں نے ایک پوسٹ میں پڑھا کہ گزشتہ روز کلکتہ کی مسجد ناخدا میں جہاں تین مؤذن مقرر ہیں سب کے سب کورٹ گئے ہوئے تھے۔ میرے خیال سے اسے مسئلہ یا ایشو نہیں بنانا چاہئے۔ اذان دینا تو ثواب کا کام ہے۔ ہر مسلمان یہ مقدس فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ دیہاتوں میں تو آج بھی جو پہلے مسجد پہنچتا ہے اذان کا وقت ہوتا ہے تو وہ اذان دے دیتا ہے۔ میرے گاؤں میں جب ایک صاحب کو اذان دینے کے لئے مخصوص کرنے کی بات آئی تو کئی مصلیان نے اعتراض کیا کہ ’’بھلا ہم لوگ کیوں اس کارخیر سے محروم رہیں گے؟‘‘
بیمار ماں کا دل: میری ماں مجھے بیحد پیار کرتی تھیں۔ یہاں تک کی شدت بیماری میں بھی میرا خیال رکھنا بھولتی نہیں تھیں حالانکہ جس قدر مجھے ان کی خدمت کرنا تھا کلکتہ میں رہنے کی وجہ سے نہ کر سکا دوتین بار کلکتہ ضرور لایا مگر وہ والد محترم کی وجہ سے کلکتہ زیادہ دنوں تک نہ رہ سکیں۔۔ پچپن ہی میں میرے چچا جان اپنے بیٹے کے ساتھ مجھے بھی کلکتہ لے آئے مگر گاؤں سے ہمارا لگاؤ شروع سے اج تک باقی ہے۔ماں باپ کی زندگی میں گاؤں انا جانا زیادہ تھا۔ماں بیمار پڑ یں تو انکی دیکھ بھال کے لیے زیادہ آنے جانے لگا۔ ماں کی ایک ایسی بات ہے جب یاد آتی ہے تو آنکھوں میں آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ میرے والد نے جب میری ماں سے کہا "عزیز کو جلدی بلاء یں گے ” ماں نے اپنی بیماری کے باوجود کہا ” بھیا کو تکلیف ہوجائے گی ” میری ماں پیار سے مجھے بھیا کہہ کر پکارتی تھیں ان کا مطلب تھا کہ میں بیمار ہوں بیٹے کو کھانے پینے میں تکلیف ہوجائے گی۔ بیمار ماں کی اس محبت کو میں سینے سے لگا یے رکھتا ہوں اپنی شدید بیمار ی اور تکلیف کے باوجود مجھ جیسے کم خدمت گزار بیٹے کی معمولی سی تکلیف کو نظر انداز نہ کرنے والی ماں کو کویی نالاء یق بیٹا ہی بھول سکتا ہے۔ ان کی ایک بات مجھے یاد تھی اس کا ذکر اپنے بڑے بیٹے فاروق اعظم سے کیا ۔میں نے فاروق کو بتایا کہ جب میں سات آٹھ سال کا تھا تو میری ماں خواتین کی ایک مجلس میں نہ جانے کس بات پر کہہ رہی تھیں کہ بیٹا وہ ہے جو حج کرایے ” فاروق سے جب میں نے خواہش ظاہر کی کہ تم اپنے ماں باپ کو حج کراچکے ہو۔۔میری ماں کا حج بدل بھی ادا کردو ” میرا پیارا بیٹا تیار ہوگیا۔ بفضلہ تعالیٰ اسی سال اسے بخوبی انجام دیا۔۔ میں دل کی گہرائیوں سے اپنے پیارے لخت جگر کا شکر گزار ہوں۔آپ حضرات سے بھی درخواست ہے کہ میری ماں کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عنایت فرما یے۔آمین