فرانس میں ستمبر کے وسط سے شروع ہونے والی ایک طلبہ تحریک نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ یہ تحریک 17 ستمبر کو پیرس کے نواحی علاقے کرتیل سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مارسی، لیل اور دوسرے شہروں تک پھیل گئی۔ مظاہرین میں سے ایک کے پلے کارڈ پر لکھا تھا: "جین زی جیتے گی”۔ یہ نعرہ اس نسل کے عزم کی نمائندگی کرتا ہے جو خود کو نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہے۔ طلبہ کی شکایات کا مرکز ان کا روزمرہ تعلیمی ماحول ہے۔ وہ اسکولوں کی کم فنڈنگ، غیر محفوظ عمارتوں اور اساتذہ کی کمی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ کلاسوں میں خالی پیریڈ، اساتذہ کی غیر حاضری اور بے ترتیب ٹائم ٹیبل بھی بڑے مسائل ہیں۔ والدین کے مطابق بعض صورتوں میں اسکول کا دن 10 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے، اسی لیے کئی والدین بھی بچوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔ طلبہ کے نزدیک یہ صرف سہولتوں کا معاملہ نہیں، مستقبل کا سوال ہے۔ ایک ریلی میں کہا گیا: "جین زی ووٹ دینے کے لیے بہت کم عمر ہے، مگر اسے آنسو گیس کا نشانہ بنانے کے لیے کافی بڑی سمجھا جاتا ہے۔” یہ جملہ اس احساس کو بیان کرتا ہے کہ ان کی بات سنی نہیں جا رہی۔
اس کا موازنہ آپ ہمارے ملک میں طلبہ کو پیش آنے والی مشکلات سے کیجیے۔ پتا نہیں کتنے اسکول بند ہو گئے، کتنے اسکولوں میں ٹیچرز اور پروفیسرز نہیں ہیں، اسکولوں کی عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں، امتحانات میں پرچے لیک ہو جاتے ہیں، بڑی مشکل سے داخلہ ملتا ہے، اور جب ڈگری حاصل ہو جاتی ہے تو اکثریت کو نوکری نہیں ملتی۔ خیر۔ فرانس میں طالب علموں کے مطالبات بھی واضح ہیں۔ طلبہ یونینیں اسکولوں کی مرمت کے لیے 10 ارب یورو کی ہنگامی رقم، اساتذہ کی بڑے پیمانے پر بھرتی اور یونیورسٹیوں میں اضافی نشستیں مانگ رہی ہیں۔ طلبہ نے وزیراعظم سے براہِ راست ملاقات کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ وہ اپنی تجاویز، جن کی لاگت کا حساب ان کے بقول وہ لگا چکے ہیں، خود پیش کر سکیں۔
طالب علموں کے اس غصے کے پیچھے ایک وسیع تر ماضی اور پس منظر بھی ہے۔ ملک مالی دباؤ میں ہے، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور حکومت دونوں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، اور حکومت اگلے سال کے لیے کٹوتیوں والا بجٹ لا رہی ہے۔ مکرون آئینی طور پر تیسری مدت کے لیے امیدوار نہیں بن سکتے اور اگلے سال مئی میں صدارتی انتخاب ہونا ہے، اس لیے ہر جماعت اس تحریک کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میلاں شون نے احتجاج کی کھل کر حمایت کی ہے مگر پرامن طریقوں پر زور دیا ہے، جبکہ حکومت انتہائی بائیں بازو کی جماعت فرانس انباؤنڈ پر تحریک بھڑکانے کا الزام لگاتی ہے۔ عوامی رائے البتہ طلبہ کے حق میں ہے۔ فیگارو کے سروے کے مطابق 63 فیصد فرانسیسی اس تحریک کو جائز سمجھتے ہیں۔ تحریک کا سب سے متنازع پہلو غصہ اور تشدد ہے۔ زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے، لیکن کہیں آگ لگانے، بس شیلٹر توڑنے اور پولیس سے جھڑپوں کے واقعات بھی ہوئے۔ حکومت کے مطابق اب تک 215 طلبہ اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ افراد گرفتار ہوئے، جن میں اکثریت نابالغوں کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پولیس کے "غیر متناسب جبر” کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیراعظم لکورنو پولیس کی زیادتی کے الزام کو مسترد کرتے ہیں اور اسے "جھوٹ” قرار دیتے ہیں۔
حکومت نے مفاہمت کی کوشش ضرور کی ہے۔ وزیراعظم لکورنو نے 7 اکتوبر کے خطاب میں اعتراف کیا کہ نوجوانوں کا غصہ "بلا وجہ نہیں” ہے اور اکتوبر کے آخر تک منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس خطاب میں کوئی ٹھوس اعلان نہیں تھا۔ طلبہ کے مطالبات کو نومبر کی بجٹ بحث کے سپرد کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی اشارہ دیا کہ فوری اقدامات کے لیے کہیں اور بچت کرنی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ نے احتجاج جاری رکھنے اور آئندہ ہفتے بڑے مظاہروں کا اعلان کیا۔ آنے والے ہفتے اس تحریک کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر حکومت اکتوبر کے آخر تک ٹھوس منصوبہ نہ دے سکی اور بجٹ مذاکرات میں بھی کٹوتیاں غالب رہیں تو تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ دوسری طرف انتخابی سال میں کوئی بھی حکومت نوجوانوں اور والدین کی ناراضی کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایک بات نوٹ کرنے والی ہے: حکومتِ فرانس نے مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائیں، پیلٹ گن استعمال نہیں کی، جگہ جگہ بیریکیڈ نہیں لگائے، مظاہرین کے لیڈروں کو ظالمانہ قوانین کے تحت گرفتار نہیں کیا، اور مظاہرین کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔ یورپ اور ہمارے ملک کا فرق نظر آ رہا ہے۔
فرانس کے طالب علموں کے غصہ سے ایک سوال پیدا ہو رہا ہے فرانس اپنی رقم کہاں خرچ کر رہا ہے؟ ایک طرف طلبہ اسکولوں کی مرمت کے لیے 10 ارب یورو مانگ رہے ہیں، اور حکومت جواب میں کہتی ہے کہ فوری اقدامات کے لیے کہیں اور سے بچت کرنی پڑے گی۔ دوسری طرف دفاعی بجٹ 2017 میں 32 ارب یورو تھا اور 2027 تک تقریباً 63 ارب یورو ہو جائے گا، یعنی صرف دس سال میں دگنا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کا خسارہ جی ڈی پی کے 5.8 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور قرض 3.2 ٹریلین یورو سے اوپر جا چکا ہے۔ حکومت اور دفاعی بجٹ کے حامیوں کی دلیل ہے کہ روس کو روکنے اور یورپ کے دفاع کے لیے یہ اضافہ ضروری ہے، اور وہ 2024 میں 18 ارب یورو کی ہتھیاروں کی برآمدات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ فرانس اپنا دفاعی بجٹ کم کر سکتا ہے اور پیسے کے ضیاع کو روک سکتا ہے۔ خود فرانس کی آڈٹ عدالت یہ مان چکی ہے کہ بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کی اصل لاگت کم بتائی جاتی ہے۔ یوکرین کی امداد کے اعداد و شمار میں بھی بڑا فرق ہے ،فرانسیسی وزارتِ دفاع 8.6 ارب یورو بتاتی ہے، جبکہ کیل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ رقم 4.9 ارب یورو ہے۔ تو سوال سیدھا ہے، جس حکومت کے پاس اسکولوں کی مرمت اور اساتذہ کی بھرتی کے لیے پیسے نہیں، وہ ہتھیاروں اور بیرونِ ملک غیر ضروری مہمات پر اتنی بڑی رقم کیوں لگا رہی ہے؟ اگر دفاعی بجٹ کم ہو اور اخراجات کا حساب شفاف ہو، تو وہ وسائل نکل سکتے ہیں جو آج طلبہ کے مطالبات پورے کرنے کے لیے درکار ہیں۔
فرانس کی خبریں اب بھارت میں پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ آج (18 اکتوبر) میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے ایس آئی آر کے خلاف مظاہروں کے دوران حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ بنگلا دیش اور فرانس کی طرز پر بھارت میں بھی بدامنی پھیلانے کی سازش کر رہی ہے، اور کہا کہ "بھارت نہ بنگلا دیش ہے نہ فرانس”۔