جامعہ کے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کے نام

جامعہ کے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کے نام

جامعہ کے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کے نام

ازقلم:محمد علم اللہ
لندن، 29 اکتوبر

پیارے بھائیو اور بہنو،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

یہ خط کئی بار لکھا اور کئی بار مٹایا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں سے شروع کروں۔ پھر سوچا، جہاں سے دل دکھ رہا ہے، وہیں سے شروع کرتا ہوں۔ قلم اٹھایا تو پہلا لفظ ”جامعہ“ لکھا، اور وہیں رک گیا۔ ایک آنسو گرا اور لفظ پھیل گیا۔ میں نے اسے مٹایا نہیں۔ اس خط کا پہلا لفظ وہی دھبہ ہے۔
آج انتیس اکتوبر ہے۔ جامعہ کا یومِ تاسیس۔ ہر سال اس دن میں پرانی تصویریں نکال کر دیکھتا ہوں اور مسکراتا ہوں۔ اس سال تصویریں نکالیں تو آنکھیں بھر آئیں، کیونکہ فون، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر جو تصویریں آ رہی ہیں، وہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔ بند گیٹ۔ ویلڈ کیا ہوا لوہا۔ باہر دفعہ 163۔ پولیس کی بسوں کی لمبی قطار، جیسے کسی دشمن کے علاقے کا گھیراؤ ہو رہا ہو۔ اور اندر میرے گھر کے، میرے چھوٹے بھائی بہن، ٹھنڈے فرش پر بیٹھے ہوئے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق تو ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنے والوں تک پر مقدمے بنا دیے گئے ہیں۔
جس گیٹ سے ہم روز ہنستے کھیلتے داخل ہوتے تھے، اسے ویلڈ کر دیا گیا ہے۔ یہ باتیں لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور آنکھوں میں آنسو ہیں۔ جامعہ کے دروازے کبھی کسی پر بند نہیں ہوئے تھے۔ وہ تو اسی لیے بنی تھی کہ جن پر دروازے بند ہوں، ان کے لیے ایک دروازہ کھلا رہے۔
مجھے اپنا پہلا دن یاد ہے۔ ایک پرانا سا بیگ کندھے پر تھا، اور دل میں ایسا ڈر جیسے کسی بڑے شہر میں کھو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ گیٹ کے اندر قدم رکھا تو کسی سینئر نے، جس کا نام بھی مجھے نہیں معلوم، مسکرا کر پوچھا تھا، ”نئے ہو؟ آؤ، میں دکھاتا ہوں۔“ اس ایک جملے نے مجھے بتا دیا تھا کہ میں کسی اجنبی جگہ نہیں، اپنے گھر آیا ہوں۔ مگر آج اسی گیٹ کو لوہا پگھلا کر بند کر دیا گیا ہے۔ کوئی نیا بچہ آج آیا ہوگا۔ شاید اس کی ماں نے صبح اسے دہی شکر کھلا کر رخصت کیا ہو، اور دروازے تک آ کر دعا پڑھی ہو۔ اور وہ بچہ اب گیٹ کے باہر کھڑا ہوگا، کارڈ ہاتھ میں لیے، لوہے کو دیکھتا ہوا، اور سوچ رہا ہوگا کہ کیا یہی وہ جامعہ ہے جس کے قصے اس نے اپنے گاؤں میں سنے تھے۔ اسے مسکرا کر اندر کون لائے گا؟
سولہ دن ہو گئے۔ سولہ راتیں۔ سنا ہے لائبریری بند ہے، کینٹین بند ہے، کلاسیں آن لائن کر دی گئی ہیں۔ شناختی کارڈ ہاتھ میں لیے بچوں کو اپنی ہی یونیورسٹی میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ یہ بھی سنا کہ پانی اور کھانا اندر لے جانے سے روکا گیا۔ اور کل شام کی خبر پڑھ کر تو میں دیر تک بیٹھا رہا، کہ جو ساتھی بھوک ہڑتال پر ہیں انہیں دیکھنے ڈاکٹر آئے اور انہیں بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔ خدا جانے ان میں سے کتنی باتیں پوری سچ ہیں۔ مگر اگر آدھی بھی سچ ہیں، تو میں اپنی مادرِ علمی سے کیا کہوں؟
ابھی تو دو ہزار انیس کا زخم بھی نہیں بھرا تھا۔ تم میں سے کچھ کو یاد ہوگا، کچھ نے صرف سنا ہوگا، کہ اسی ذاکر حسین لائبریری میں، جہاں ہم کتابوں پر سر رکھ کر سو جایا کرتے تھے، ایک رات کیا ہوا تھا۔ میں سمجھتا تھا وہ رات آخری تھی، ایک ڈراؤنا خواب جو گزر گیا۔ مگر لگتا ہے کچھ راتیں لوٹ لوٹ کر آتی ہیں۔
اور یہ سب کس لیے ہو رہا ہے؟ بس اس لیے کہ تم اپنی یونین مانگ رہے ہو۔ اپنی آواز مانگ رہے ہو۔ وہ یونین جس کا الیکشن انیس برس سے نہیں ہوا۔ تم میں سے بہت سے تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب آخری بار جامعہ کے کسی طالب علم نے اپنا نمائندہ چنا تھا۔ ایک پوری نسل آئی اور چلی گئی، اور اسے کبھی یہ حق نہیں ملا۔ ہم بھی انہی میں تھے۔ ہم آئے، کلاسیں اٹینڈ کیں، امتحان دیے، ڈگریاں لیں اور چلے گئے، مگر کبھی بیلٹ پیپر دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ تم تخت نہیں مانگ رہے، میرے دوستو۔ تم بس یہ مانگ رہے ہو کہ تمہاری بات سنی جائے۔ اور اس کے جواب میں لوہے کے دروازے ملے ہیں۔
میں تم سے ہزاروں میل دور لندن میں ہوں۔ یہاں رات ہے اور بارش ہو رہی ہے۔ یہاں کی بارش عام طور پر بس بارش ہوتی ہے، مگر آج لگ رہا ہے جیسے آسمان بھی کسی کو یاد کر کے رو رہا ہو۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو گیٹ نمبر سات سامنے آ جاتا ہے۔ انصاری آڈیٹوریم کی سیڑھیاں، جن پر بیٹھ کر ہم دنیا بدلنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ گلستانِ غالب کا لان، جہاں آج تمہارا ایک ساتھی دن رات بیٹھا ہوا ہے۔ ایم سی آر سی کے وہ کمرے جہاں میں نے پہلی بار سیکھا تھا کہ سچ دکھانا بھی ایک عبادت ہے۔ پریم چند آرکائیوز کی وہ الماریاں، جن میں جامعہ کے بانیوں کی یادیں، پرانے خط اور پیلے پڑتے کاغذ آج بھی سانس لے رہے ہیں۔ آج ان بند دروازوں کے پیچھے وہ کاغذ بھی اکیلے ہوں گے۔ اور جامعہ کا وہ چھوٹا سا قبرستان، جہاں ذاکر صاحب اور ڈاکٹر انصاری سو رہے ہیں۔
پتا نہیں کیوں، آج ان کا خیال بار بار آ رہا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی ساری زندگی، اپنی ساری کمائی، اپنی ساری نیندیں اس جامعہ پر وار دیں، آج ان کی قبروں کے پاس پولیس اور نیم فوجی دستوں کے بوٹوں کی آواز گونج رہی ہے۔ کبھی موقع ملے تو وہاں جا کر فاتحہ پڑھ لینا۔ اور ان سے معافی مانگ لینا، ہم سب کی طرف سے، کہ ہم ان کے گھر کی حفاظت نہیں کر سکے۔ اور یہ بھی کہہ دینا کہ گھبرائیں نہیں، ان کے بچے آج بھی جاگ رہے ہیں۔
میرے دوستو، مجھے تم پر فخر ہے۔ اتنا فخر جس کے اظہار سے میں قاصر ہوں۔ تم نے دکھا دیا کہ سو برس بعد بھی جامعہ کی رگوں میں وہی خون ہے۔ مگر ساتھ ساتھ ڈر بھی لگ رہا ہے۔ جو ساتھی بھوک ہڑتال پر ہیں، ان کے چہرے تصویروں میں دیکھے۔ ہونٹ سوکھے ہوئے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، مگر ان آنکھوں میں وہی ضد۔ ان سے میری طرف سے کہہ دینا کہ ہمیں ان کی ضد پر فخر ہے، مگر ان کی جان ہمیں اس ضد سے زیادہ عزیز ہے۔ کسی ماں کا بیٹا ہے وہ، کسی باپ کی بیٹی ہے وہ۔ ان کے گھر میں کوئی رات بھر فون ہاتھ میں لیے جاگ رہا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا۔ اور بہنوں کا خاص خیال رکھنا۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہونے کی خبریں آ رہی ہیں، وہ پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، اورناپاک نامحرم ہاتھوں سے باحجاب بہنوں کی تذلیل کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں، انہیں دیکھ کر خون کھولتا ہے۔
میں سوچتا ہوں، ان میں سے کسی کی ماں نے آج رات فون کیا ہوگا۔ ”بیٹا، کچھ کھایا؟“ اور بیٹے نے سوکھے ہونٹوں سے مسکرا کر کہا ہوگا، ”ہاں امی، کھا لیا۔“ اور فون رکھ کر دیر تک آسمان دیکھتا رہا ہوگا۔ اور ماں نے بھی فون رکھ کر اپنی پلیٹ سرکا دی ہوگی، کیونکہ مائیں سب جانتی ہیں۔ پھر اس نے بیٹے کے حصے کی روٹی ایک رومال میں لپیٹ کر الگ رکھ دی ہوگی، جیسے وہ ابھی دروازہ کھول کر آ جائے گا۔ اور جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی ہوگی، اور ساری رات وہیں بیٹھی رہی ہوگی۔ میرے پیارو، وہ روٹی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ اس جھوٹ کا بوجھ زیادہ دن مت اٹھانا۔
اب ایک بڑے بھائی کی طرح، تمہارے ہاتھ پکڑ کر، دو چار باتیں کہنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے لائبریری بند کر دی، کلاسیں بند کر دیں۔ تو تم اپنی لائبریری خود بن جاؤ۔ تم میں جو پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، ایم اے کر رہے ہیں، پوسٹ ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں، وہ وہیں، اسی فرش پر بیٹھ کر پڑھانا شروع کر دیں۔ ایک چھوٹی سی لیکچر سیریز ہی سہی۔ آج کوئی تاریخ پر بولے، کل کوئی ادب پر، پرسوں قانون والے ساتھی، جنہوں نے کالے کوٹ پہن کر اتنا خوبصورت مارچ نکالا، سب کو آئین کے وہ صفحے پڑھائیں جو تمہیں بولنے کا حق دیتے ہیں۔ دنیا کو دکھا دو کہ جامعہ کا طالب علم جب زمین پر بیٹھتا ہے تو وہاں بھی کتاب کھول لیتا ہے۔ وقت کو ضائع مت ہونے دو۔ یہ سولہ دن، یہ سولہ راتیں، کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ انہیں ایسا بنا دو کہ آنے والے ان پر کتابیں لکھیں۔
تمہیں پتا ہے، جامعہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئی تھی۔ جب مولانا محمد علی جوہر علیہ الرحمہ اور ان کے ساتھیوں نے سرکاری سرپرستی سے آزاد، اپنی زبان میں اپنی تعلیم کی بات کی، اور علی گڑھ میں ان پر دروازے بند کر دیے گئے، تو وہ روئے نہیں، لوٹے نہیں۔ وہیں خیمے گاڑ دیے اور پڑھانا شروع کر دیا۔ نہ عمارت تھی، نہ پیسہ، نہ کتابیں۔ اور آس پاس کے گاؤں والے، غریب کسان، جنہوں نے خود کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا، دیگوں میں کھانا بھر کر لاتے، چپ چاپ رکھتے، اور سر جھکا کر چلے جاتے۔
آج جب پڑھا کہ تم تک پانی پہنچانا بھی مشکل ہو گیا ہے، تو وہ گاؤں والے بہت یاد آئے۔ سوچا، وہ ہوتے تو کیا کرتے؟ شاید دیواریں پھلانگ کر دیگیں پہنچا دیتے۔ جامعہ کی پہلی کلاس خیمے میں لگی تھی۔ سنا ہے آج تمہارے خیمے بھی اکھاڑ دیے گئے۔ مگر میرے پیارے بھائیو اور بہنو، خیمے اکھڑتے ہیں، کلاس نہیں اکھڑتی۔ عمارتیں بند ہوتی ہیں، علم بند نہیں ہوتا۔
ایک گزارش اور ہے۔ کچھ اور نہ ہو سکے تو جامعہ کی کہانی پڑھو، اونچی آواز میں۔ ایک گول دائرہ بنا لو، جیسے بچپن میں نانی دادی کے گرد بیٹھتے تھے، اور باری باری پڑھو۔ ایک کی آواز تھک جائے تو دوسرا اٹھا لے، دوسرے کی تھکے تو تیسرا۔ آواز ٹوٹنے نہ پائے۔ اور گیٹ کے باہر جو کھڑے ہیں، انہیں بھی سننے دو۔ کیا پتا، ان میں سے کسی کا دل پگھل جائے۔ وہ بھی تو کسی کے بیٹے ہیں، ان کے گھر میں بھی کوئی ماں ان کا انتظار کرتی ہوگی۔
عبدالغفار مدھولی کی ”جامعہ کی کہانی“ سے شروع کرو۔ ساتھ میں ”محمد علی کی ڈائری“ بھی رکھو جسے عبد الماجد دریاآ بادی نے مرتب کیا ہے۔ دونوں اردو کے علاوہ انگریزی اور ہندی میں بھی مل جاتی ہیں، تاکہ دائرے میں کوئی اکیلا نہ رہے۔
پھر مولانا جوہر کی آپ بیتی ”My Life: A Fragment“ پڑھو، جو مشیر الحسن صاحب نے مرتب کی ہے۔ ادھوری کتاب ہے۔ مولانا اسے پورا نہیں کر سکے، کیونکہ زندگی نے مہلت ہی نہیں دی۔ لندن میں، اسی شہر میں جہاں میں بیٹھا یہ خط لکھ رہا ہوں، آزادی مانگتے مانگتے ان کی سانس ٹوٹ گئی۔ یہیں گول میز کانفرنس میں، بیمار، کمزور، کرسی پر بیٹھے بیٹھے، انہوں نے انگریزوں سے کہا تھا کہ میں اپنے ملک واپس جانا چاہتا ہوں، مگر آزادی ہاتھ میں لے کر۔ ورنہ میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا، اور تمہیں مجھے یہیں قبر کی جگہ دینی ہوگی۔ اور میرے پیارو، وہ واپس نہیں گئے۔ چند ہفتوں بعد یہیں ان کا انتقال ہوا۔ آخری دنوں میں ان کی بیگم ان کے سرہانے بیٹھی رہتی تھیں، اسی شہر کی ٹھنڈی راتوں میں۔ جو عورت ساری عمر اپنے شوہر کو جیلوں کے دروازوں پر رخصت کرتی رہی، اس نے آخر میں انہیں پردیس میں رخصت کیا۔ اور جس آدمی نے ہندوستان کے لیے سب کچھ لٹا دیا، اسے ہندوستان کی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی۔ وہ یروشلم میں دفن ہیں۔
میں جب بھی لندن کی کسی سڑک سے گزرتا ہوں تو سوچتا ہوں، شاید ملت کا یہ شیدائی اور محسن بھی یہیں سے گزرا ہوگا، اپنے وطن کو یاد کرتے ہوئے۔ سوچتا ہوں، اگر وہ آج اوکھلا آتے، اور اپنے لگائے ہوئے پودے کے دروازے پر لوہا جڑا دیکھتے، تو کیا کہتے؟ شاید کچھ نہ کہتے۔ بس تمہارے پاس فرش پر بیٹھ جاتے اور تمہیں حوصلہ دیتے۔ میرے پیارے دوستو! جس رات دل بہت بھاری ہو، ”کلامِ جوہر“ کھول لینا۔ جیل کی کوٹھری میں لکھی گئی غزلیں ہیں۔ تمہیں لگے گا کسی نے تمہارے ہی لیے لکھی تھیں۔
ذاکر صاحب کے ”تعلیمی خطبات“ پڑھو۔ اور ان کی ”ابو خاں کی بکری“ بھی، دائرے میں بیٹھ کر، ضرور پڑھنا۔ میں نے بچپن میں یہ کہانی پڑھی تھی تو بس ایک کہانی لگی تھی۔ آج پڑھی تو رو پڑا۔ وہ ننھی چاندنی، جو رسی توڑ کر پہاڑوں کی آزاد ہوا کی طرف بھاگی تھی، اور ساری رات بھیڑیے سے لڑتی رہی، صبح تک لڑتی رہی۔ ذاکر صاحب جانتے تھے کہ ایک دن ان کے بچوں کو یہ کہانی سمجھ آئے گی۔ شاید وہ دن آج ہے۔ رشید احمد صدیقی کا خاکہ ”ذاکر صاحب“ بھی پڑھو، اور اس آدمی سے ملو جس نے یورپ کی ساری آسائشیں ٹھکرا کر انہی خیموں کو اپنا گھر بنایا۔
سید عابد حسین صاحب کی ”قومی تہذیب کا مسئلہ“ پڑھو، اس ہندوستان کو یاد کرنے کے لیے جس کا خواب جامعہ نے دیکھا تھا، اور جو آج کہیں کھو گیا لگتا ہے۔ مشیر الحسن اور رخشندہ جلیل کی ”Partners in Freedom“ کی پرانی تصویریں دیکھو۔ وہ دبلے پتلے، خستہ حال استاد اور طالب علم، جن کی آنکھوں میں تمہاری ہی جیسی چمک ہے۔ پروفیسر محمد مجیب کی ”Dr. Zakir Husain: A Biography“، مشیر الحسن کی ”Mohamed Ali: Ideology and Politics“، اور گیل مینالٹ کی ”The Khilafat Movement“ بھی پڑھو۔ یہ ذرا سنجیدہ کتابیں ہیں، مگر انہی سے پتا چلے گا کہ تم کس پیڑ کی شاخ ہو، اور اس پیڑ کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔
بس آخری بات، اور یہ دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا ہوں۔ غصہ جائز ہے۔ بہت جائز ہے۔ مگر اسے آگ مت بننے دینا۔ تمہاری سب سے بڑی طاقت تمہاری استقامت ہے، تمہاری ضد ہے، اور تمہارا پرامن ہونا ہے۔ کوئی اکسائے، کوئی دھکا دے، کوئی گالی دے، تب بھی۔ ایک دوسرے کو سنبھالنا۔ جو تھک جائے اسے اپنے کندھے پر سر رکھنے دینا۔ جو رو پڑے اسے رونے دینا، اور اس کے پاس بیٹھے رہنا۔ جس کے پاس کھانے کو نہ ہو، اپنی آدھی روٹی اسے دے دینا۔ جامعہ ہمارے لیے یونیورسٹی کم، گھر زیادہ ہے۔ دروازے بند کرنے سے گھر کی دیواریں تو قید ہو سکتی ہیں، گھر والوں کی محبت نہیں۔
جامعہ ہو یا علی گڑھ، دونوں جگہ کے طالب علموں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ یہ کوئی عام ادارے نہیں ہیں۔ یہ ادارے ملت کی بے پناہ قربانیوں سے بنے ہیں۔ غریبوں نے پیٹ کاٹ کر، ماؤں نے اپنے زیور اتار کر، مزدوروں نے اپنی دہاڑی بچا کر جو چندے دیے، انہی سے ان کی اینٹیں جڑی ہیں، اور ان کے پیچھے بڑے بڑے ارمان اور خواب تھے۔ جو لوگ تمہیں مشتعل کر کے املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسائیں، وہ تم میں سے ہرگز نہیں ہو سکتے۔ ایسے عناصر پر خاص نظر رکھو۔ اور یاد رکھو، دونوں اداروں میں تشدد کے معمولی واقعات کو بنیاد بنا کر کئی کئی سال تک طلبہ کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ بدخواہوں کو اب یہ موقع مت دینا۔
اور آج رات، اگر ہو سکے تو، ایک چھوٹا سا چراغ جلا لینا۔ کوئی موم بتی، کوئی دیا، کچھ بھی۔ اسے اپنے دائرے کے بیچ رکھ لینا۔ آج جامعہ کی سالگرہ ہے، اور سالگرہ پر چراغ جلتے ہیں۔ کیک نہیں ہے، غبارے نہیں ہیں، تالیاں نہیں ہیں، کوئی بات نہیں۔ بس ایک لو ہو، جو اندھیرے میں کہے کہ ہم ابھی یہیں ہیں۔ اور اس چراغ کے پاس بیٹھ کر، ایک لمحے کو آنکھیں بند کر کے، ان سب کو یاد کر لینا جو یہاں سے گزرے اور اب نہیں ہیں۔ وہ بھی آج تمہارے دائرے میں ہیں، بس دکھائی نہیں دیتے۔ اور جب وہ لو کانپے، تو سمجھ لینا کہ لندن میں کوئی تمہارے لیے دعا مانگ رہا ہے۔
میں بہت دور ہوں۔ سات سمندر پار۔ اور یہی دوری آج سب سے زیادہ چبھ رہی ہے۔ تمہارے پاس ہوتا تب بھی کیا کر سکتا تھا، بس تمہارے ساتھ اس ٹھنڈے فرش پر بیٹھ جاتا۔ اس وقت وہ بھی نہیں کر سکتا۔ تو بس یہ چند ٹوٹی پھوٹی سطریں ہیں، اور دعائیں ہیں۔ آج رات کی ساری دعائیں تمہارے نام ہیں۔ فجر کی نماز میں بھی تمہیں یاد کروں گا، اور اس وقت تمہارے یہاں سورج نکل رہا ہوگا، اور شاید کسی بند گیٹ پر پہلی کرن پڑ رہی ہوگی۔ دعا کرتا ہوں، وہ کرن لوہے کو پگھلا دے۔
اللہ تم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ساتھیوں کو صحت اور استقامت دے، اور ان کی ماؤں کو صبر۔ اور جامعہ کے دروازے جلد کھلیں، صرف لوہے کے نہیں، دلوں کے بھی۔
جامعہ کو سالگرہ مبارک، میری ماں۔ تیرے دروازے پر آج لوہا ہے، مگر تیرے بچوں کے سینوں میں تیرا نام ہے، اور وہ نام کوئی ویلڈ نہیں کر سکتا۔ اس سال تیرے بچوں نے تجھے آنسوؤں اور حوصلے کا تحفہ دیا ہے۔ قبول کر لینا، اور انہیں اپنی گود میں سلا لینا۔ بہت تھکے ہوئے ہیں۔
تمہارا دکھی بھائی، جو آج کی رات سو نہیں سکے گا،

پس نوشت: کل صبح گیٹ کے سامنے کھڑے ہونا تو ایک بار لوہے پر ہاتھ رکھ کر دیکھنا۔ ٹھنڈا ہوگا۔ تمہارے ہاتھ گرم ہیں۔ آخر میں گرمی ہی جیتتی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے