جمعہ نامہ:الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

جمعہ نامہ:الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

جمعہ نامہ:الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں‘‘وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے انتخاب جیت کر خود کو جیل جانے سے بچانے کے لیے کیا نہیں کیا؟ یہودیوں کو ’گریٹر اسرائیل کا خواب دِکھا کر بیوقوف بنایا۔ ہم سایہ عرب ممالک کے ساتھ معاہدۂ ابراہیمی کرکے مسلم ممالک کو اپنا ہمنوابنانے کی کوشش کی۔ غزہ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کاارتکاب کر عالمی عدالت کامجرم بن بیٹھا۔ حماس کا نام ونشان مٹانے کی خاطر اس کے کئی رہنماوں کو شہید کرکے جشن منایا۔ ایران پر حملہ کرکے رہبر معظم سمیت ان کے خاندان اور پوری ایرانی فوجی قیادت کو شہید کردیا لیکن اس کے باوجود پارلیمانی انتخاب میں معمولی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ۔ نیتن یاہو کا اتحاد 11؍ نشستوں کے نقصان کے سبب 64 ؍سے گھٹ کر53؍پر آگیا۔ اس طرح حماس نے میدان جنگ کے بعد انتخاب میں بھی نیتن یاہو کو شکستِ فاش سے دوچار کردیا۔ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواب دیکھنے والے نیتن یاہو کی اپنی کرسی خطرے میں پڑ گئی کیونکہ :’’ اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا‘‘۔
فرمانِ خداوندی ہے:’’اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں‘‘۔ اس آیت کی ایک زندہ تفسیر حالیہ اسرائیلی انتخاب میں سامنے آئی۔ اسرائیل میں بیٹھے گیانیش کمار نے اپنی مرکزی الیکشن کمیٹی کا ایک فرمان جاری کرکے ستمبر 2026 میں ملک کی دو اہم عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں سمیت بعض سیاستدانوں کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ سنا دیا ۔ اسرائیل کی تاریخ میں چونکہ آج تک کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکی ہے اس لیے مختلف جماعتوں کے اتحاد سے حکومت سازی کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں ان جماعتوں پر پابندی لگا دینا کہ جو کسی صورت حمایت نہیں کرسکتی ہوں ایک نہایت خطرناک چال تھی۔ نااہل قرار دیئے جانے والے افراد اور جماعتوں میں عرب-یہودی جماعت حداش کے یہودی سیاستدان عوفر کاسیف اورقوم پرست جماعت بلدکے رہنما سامی ابو شحادہ کو بھی شامل کرکےیہ گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مذکورہ اقدام فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہے۔
نیتن یاہو کو اس سازش کا خیال ایک ایسے وقت میں آیا کہ جب وہ اپنی شکست کوچشمِ زدن سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی خفیہ خبر رساں ایجنسیوں نے خبر دے دی ہوگی کہ ’ تمہارے دن لد گئے ہیں ۔ اس لیے اب جیل جانے کی تیاری کرو ‘ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نازک لمحات میں خود اسرائیلی سپریم کورٹ کے ذریعہ مدد و نصرت فرمائی ۔ فرعون کے دربار میں جب حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کا منصوبہ بن رہا تھا تو ان کی مدد کے لیے آنے والا شخص کوئی اسرائیلی نہیں تھا۔ارشادِ قرآنی ہے: ’’اور شہر کے پرلے سرے (آخری کنارے) سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا: اے موسیٰ! دراصل سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں، لہٰذا تو یہاں سے نکل جا، میں یقیناً تیرے خیرخواہوں میں سے ہوں‘‘۔ تفاسیر میں اس مومنِ آلِ فرعون کا نام "سمعان” آتا ہے۔خوش قسمتی سے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں کوئی سوریہ کانت نہیں تھا جو کہہ دیتا، اس بار نہیں تو اگلی بار لڑ لیں گے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لیے 2؍ اکتوبر 2026ء کووہاں کی عدالتِ عظمیٰ نے متفقہ طور پر سینٹرل الیکشن کمیٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نیتن یاہو کا اندیشہ غلط نہیں تھا ۔ اس لیے کہ جہاں اس کااتحاد ۱۱؍ نشستوں کا نقصان اٹھاکر معمولی اکثریت سے بھی محروم ہوگیا وہیں عرب جماعتوں کو 9کے اضافے نے 10؍ سے 19؍ پر پہنچا دیا ۔ اس طرح جن کو دوڑ سے باہر کرنے کی سازش رچی جارہی تھی وہ اب کنگ میکر بن گئے اور مکاروں و عیاروں کے منہ لٹک گئے۔ بینجمن نیتن یاہو کی ذلت و رسوائی قرآن عظیم کی یہ آیت یاد دلاتی ہے: ’’لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا‘‘۔ اس ہلاکت کی وجہ یہ بتائی گئی کہ :’’(ایسا اس وقت ہوا) جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں ‘‘ اس کے آگے یہ بشارت دی گئی ہے کہ :’’اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو ‘‘۔اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کا وقت اب نہیں آیا مگر آکر رہے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالی ٰ سے زیادہ اپنے وعدے کا پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ارشادِ فرقانی ہے:’’ پس اے نبیؐ، آپ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے‘‘۔ ایسے میں امت کی ذمہ داری ظالموں کو اخروی انجامِ بد سے خبردار کرنے کی ہے ۔
فرمانِ خداوندی ہے:’’ ڈراؤ اِنہیں اُس دن سے جبکہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیئے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے۔ اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے۔ تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے‘‘۔ دنیا کی سزا سے بچنے کی خاطر جبرو استبداد کا سہارا لینے والوں تک یہ پیغام پہنچ جانا چاہیے کہ :’’ یہ اِس لیے ہوگا کیونکہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی‘‘۔ غزہ کی نسل کشی کے بعد دعوتی ذمہ داری کی ادائیگی نہایت مشکل کام ہے مگر حضرت ابراہیم ؑ نے تو نذرِ آتش کردئیے جانے کے بعد بھی اپنی قوم کی خیر خواہی میں ان کے نجات کی دعا کی تھی۔ سورۂ ابراہیم کی اختتامی آیت امت کو اس کافرض منصبی یاد دلاتی ہے:’’ یہ پیغام سب انسانوں کے لیے ہے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا تا کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں‘‘۔ رب کائنات ہم سب کو مزاحمت کے ساتھ ساتھ دعوت کا فرضِ منصبی ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے