الیکشن کمیشن کا جواب یا جھوٹ کا پلندہ

الیکشن کمیشن کا جواب  یا جھوٹ کا پلندہ

الیکشن کمیشن کا جواب یا جھوٹ کا پلندہ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

حکومت نے الیکشن کمشنر کو ہر سزا سے محفوظ کردیا مگر الیکشن کمیشن کی خاطر کوئی سیفٹی جیکٹ فراہم نہیں کی اس لیے لوگ اسےعدالت میں گھسیٹنے لگے اور اس طرح بلواسطہ گیانیش کمار پر بھی آنچ آنے لگی۔ فی الحال الیکشن کمیشن کو عدالت میں لائن حاضر ہوکر اپنی صفائی پیش کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ اس نے انتخابی نظام میں اس قدر گندگی پھیلائی کہ بدبو پوری دنیا میں پھیل گئی۔ چار دانگِ عالم میں گونجنے والے ووٹ چور گدی چھوڑ کے نعروں نے سر سنگھ چالک کے دورےمیں وشو گرو والے دعویٰ کو بے اثر کردیا ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے راجیہ سبھا کی رکن ڈولا سین کی ایک نئی عرضی پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقوں کو ایک نوٹس تھما دیا ۔الیکشن کمیشن پر الزام لگایا گیا ہے کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران سپریم کورٹ کی منظوری کے بغیر ’فارم 6‘ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ڈولا سین کی وکیل مینکا گرو سوامی نے الیکشن کمیشن کے اس دعویٰ کو غلط بتایا کہ ’فارم 6‘ میں کی گئی تبدیلیوں کو سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی۔ سپریم کورٹ خود چونکہ اس کا اعتراف کرچکا ہے اس لیے اگر وہ کمیشن کی بات مان لے تو اسے اپنی تردید کرنی پڑے گی ۔ عدالت نےاس دھرم سنکٹ سے نمٹنے کے لیے تمام معاملات کا جائزہ لینے کی ضمانت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دفاع میں الیکشن کمیشن نے بعد از خرابیٔ بسیار اپنا حلف نامہ تو داخل کیا مگر اس میں ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوئے دعویٰ کر دیا کہ یہ عمل قانون کے مطابق تھا اور اسے نافذ کرنے سے متعلق احکامات کو کمیشن کے تینوں ارکان نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کی من مانی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے جواب میں کمیشن نے 248 صفحات پر مشتمل جو حلف نامہ داخل کیا اس پر ’چوری اور سینہ زوری‘ والا محاورہ منطبق ہوتا ہے کیونکہ ایس آئی آر کا دفاع کرتے ہوئے کمیشن نے ’فارم 6‘ میں ترمیم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اس میں کوئی تبدیلی ہی نہیں کی گئی۔ اس کےسفید جھوٹ ہونے کاثبوت یہ ہےکہ اگر تبدیلی ہی نہیں ہوئی تو یہ کیوں کہاگیا کہ اسے سپریم کورٹ کی منظوری حاصل تھی؟ گیانیش کمار کی مکاری و عیاری سے الیکشن کمیشن تضادات کے جال میں الجھ گیا ہے۔حلف نامہ داخل کرنے والے ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورونے الزامات لگانے کی کوشش پر افسوس کا اظہار کیا گیا لیکن اگرگیانیش کمار دھاندلی نہیں کرتے تو اس کی نوبت ہی نہیں آتی۔

الیکشن کمیشن اب اپنے حلف نامہ میں تینوں ارکان کے اتفاق کی د ہائی دے رہا ہے لیکن انڈین ایکسپریس اخبار نے 25؍ ستمبرکواپنی رپورٹ میں ثبوت کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمشنرسکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض کیا تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سارے احکامات ان کی جانکاری یا سفارش کے بغیر من مانے طریقہ پر جاری کیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے ایک طرف سچے شواہد ہیں اور دوسری جانب کھوکھلا دعویٰ دیکھنا یہ ہے وہ کیا کرتا ہے۔ اس معاملے میں عدالتِ عظمیٰ کا گول مول فیصلہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو الیکشن کمیشن سے ہٹ کر عدلیہ کےخلاف احتجاج کرنے پر مجبور کردے گا اورسارا غم و غصہ عدالت پر پھوٹ پڑے گا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ سی جی آئی کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑ لے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے یہ کہہ کر کہ عدالت الیکشن کمیشن کے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق تمام پہلوؤں کی چھان بین کرے گااس مفروضے کی ہوا نکال دی کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو قانونی استثناء کا تحفظ حاصل ہے اور کوئی ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا ۔

سی ای سی کو سارے اختیارات اور مراعات غیر جانبدارانہ انتخاب کا انعقاد کرنے کے لیے دئیے جاتے ہیں۔ وہ اگر اسی فرض منصبی کے خلاف سرکار کا آلۂ کار بن جائے تو اس کا آئینی تحفظ ازخود ختم ہوجانا چاہیے۔ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تنازعات کا جائزہ محض تفریح کے لیے تو نہیں لے رہا ہے۔ اس کی جانچ پڑتال میں جو کوتاہیاں پائی جائیں گی اس کی سزا تو سنانی ہی ہوگی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ کا یہ تبصرہ سی ای سی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ ،’’ہمیں سب پتہ ہے۔ ہم جانچ کریں گے۔‘‘ عدالت نے درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن کے جوابی حلف نامے پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا گیا ہے۔حکومت کے خلاف جاری و ساری احتجاج کا پہلا مرحلہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف تھا ۔ اس کی قیادت بڑے پیمانے پر کاکروچ جنتا پارٹی نے کی تھی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد جب گیانیش کمار کے استعفیٰ کا معاملہ آیا تو قیادت کی باگ ڈور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے سنبھالی جو انڈیا بلاک کی بھی نمائندگی کرتے ہیں ۔

کانگریس کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو متعلقہ فائل نوٹس اور اندرونی مواصلات کو محفوظ رکھنے کی ہدایت کرے۔ سنگھوی کی دلیل تھی کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ سازی کا عمل اس پورے تنازعہ کا مرکز ہے۔ اس بابت فیصلے سے پہلے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا دوسرے الیکشن کمشنرز سے مشاورت کرکے انہیں اعتماد لیا گیا یا نہیں ؟ یعنی یہ فیصلے واقعی متفقہ تھے یا نہیں ؟ سنگھوی کے مطابق فائل نوٹنگز اور اندرونی مواصلات اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہو سکتے ہیں کہ آیا SIR کے احکامات متفقہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اگلی سماعت کے لیے 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ کمیشن کے دعوؤں اور درخواست گزاروں کے اعتراضات پر آئندہ سماعت میں جرح ہوگی ۔سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا بہت پہلے سے آنا جانا رہا ہے۔ ایک زمانے میں جسٹس سوریہ کانت اس کے ہر فیصلے کی تائید کردیا کرتے تھے مثلاً مغربی بنگال کی بابت کہہ دیا گیا’’اس بار نہیں تو اگلی مرتبہ ووٹ دے دیں گے‘‘ یا’’ یہ تو ضمنی انتخاب ہے اس کیا فرق پڑے گا ؟‘‘وغیر ہ لیکن اس وقت سی جی آئی ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سمجھ کر ان پر ہونے والے تشدد کی ویڈیو تک دیکھنے کے روادار نہیں تھے مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ قانون کی تعلیم دینے والی دو یونیوسٹیوں کے طلبا نے جب ان کے ہاتھ سے ڈگری لینا گوارہ نہیں کیا تو موصوف کا دماغ ٹھکانے آگیا ۔

چیف جسٹس نے ابھی حال میں بنگلورو کے نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU) کے 34 ویں سالانہ کانووکیشن سےجو خطاب کیا تو اسےسن کر ایسا لگا گویا راون کے منہ سے رامائن کے اشلوک نکل رہے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ قانونی تعلیم کا مقصد صرف علمی معلومات حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ طلباء کو مختلف نظریات اور نقطہ نظر کو سمجھنے اور معاشرے کی خدمت کرنے کے لیے تیار کرنا بھی ہے لیکن کل تک تو وہ خود سرکار کا نقطۂ نظر معلوم کرکے اس کی خدمت میں غرق تھے۔ دوسروں کو نصیحت کرنا آسان مگر اس پر عمل کرکے دکھانا مشکل ہے۔ نوجوانوں کو کاکروچ کہنے والے سی جی آئی کی زبان سے طلبا نے جب سنا کہ ’’میں آپ کے لیے بہت زیادہ توقعات کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ توسب چونک گئے۔چیف جسٹس نے فرمایا ’’انصاف کے لیے کھڑے ہونے کے لیے ہمت ضروری ہے‘‘۔ سی جے آئی سوریہ کانت کے اندر کتنی ہمت ہے اس کا امتحان الیکشن کمیشن کے خلاف جاری مقدمہ میں ہوجائے گا ۔

چیف جسٹس نے فرمایا ’’قانونی پیشہ کمزور دل والوں کے لیے نہیں ہے۔ اس میدان میں کامیابی کے لیے قانونی دفعات اور نظیروں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے مضبوط عزم کی ضرورت ہوتی ہے‘‘لیکن کیا خود سی جی آئی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہیں؟ یہ سوال ان کو خود اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے۔ اپنے پروچن میں وہ بولے ’’ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سہولت کے لیے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کریں، اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے غیر منصفانہ اقدامات یا شارٹ کٹ نہ لیں‘‘۔کاش کہ وہ اس پر عمل کرکے دکھاتے تاکہ الفاظ میں تاثیر پیدا ہوتی۔ سی جے آئی سوریا کانت نے کہا کہ قانونی پیشہ ناانصافی کو دور کرنے، انفرادی آزادی کے تحفظ اور آئین کے وقار کو برقرار رکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے لیکن کیا ہمارے جج ان مواقع کا بھرپور استعمال کرتے ہیں؟ چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ طلباء معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں گے لیکن موجودہ حکومت تو ایسا کرنے والوں پر کھلے عام تشدد کرتی ہے ۔ بھاگوت ان کو بیرونی دشمن طاقتوں کا آلۂ کار کہتے ہیں۔ سوریہ کانت نے ترغیب دی کہ قوم انہیں صرف قانونی ماہرنہیں بلکہ امید کے پیامبر کے طور پر بھی دیکھتی ہے مگر اس بابت ہمارے ججوں نے اکثر قوم کو مایوس ہی کیاہے۔ دوسروں عاجزی کی تلقین کرنے والے چیف جسٹس میں اگر یہ صفت ہوتی تو بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کاکروچ نہیں کہتے لیکن اس شر سے خیر کا پہلو نکل آیا بقول شاعر؎

جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا
جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے