دلی کی ریس کورس مسجد: تعصب کی سیاست، سرکاری فریب اور انصاف کا جنازہ
ازقلم: ندیم عبدالقدیر
(فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی)
حکومت، پولیس، نوکرشاہی اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ کس طرح مسلمانوں کی عبادت گاہوںکو نشانہ بناتا ہے یہ بات دلّی کی ریس کورس مسجد معاملے سے ایک بار پھر اجاگر ہوئی ۔ ریس کورس مسجد تقریباً۳۰۰؍سال پرانی ہے اور اسے آثارِ قدیمہ کا درجہ بھی حاصل ہے ۔یہ مسجد دلّی وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور امید پورٹل پر بھی اس کا اندراج ہے۔ ان سب کے باوجود دلّی بجلی بورڈ اور دلّی محکمہ آب رسانی نے مسجد کے پانی اور بجلی کنکشن منقطع کردئیے ۔ بجلی اور پانی کنکشن منقطع کرنے کا جواز میونسپل نے یہ بتایا کہ مسجد سے متصل جھونپڑپٹی کے علاقوں میں انہدامی کارروائی جاری ہے اسلئے پورے علاقے کی بجلی کو منقطع کرنا پڑا ہے۔ ملک بھر میں دلّی کے اس ریس کورس علاقے سے بھی بڑے بڑے علاقوں میں انہدامی کارروائیاں ہوئی ہیں کیا کبھی آپ نے ایسا سنا کہ جس جگہ انہدامی کارروائی کی جارہی ہے اس سے متصل علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی؟ بڑی بڑی جھونپڑپٹیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا لیکن آس پاس کے علاقوں کی عمارتوں کی بجلی منقطع کرنے کی ضرورت کبھی نہیں پیش آئی تو یہاں آخر مسجد کی بجلی منقطع کرنے کی ضرورت کیوں پڑگئی ؟اور پانی کنکشن منقطع کرنے کی کیا توجیہہ ہے اس بارے میںتو میونسپل نے کچھ بتایا بھی نہیں؟
ریس کورس کے اس پورے علاقے میں انہدامی کارروائی کیلئے ’قومی سلامتی‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔ یہ کہا جارہا کہ یہ علاقہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور انڈین ائیر فورس کے قریب ہے اسلئے یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ یعنی ’۷؍ریس کورس‘ کو دراصل ۱۹۸۴ء میں راجیو گاندھی نے وزیراعظم کی نئی رہائش گاہ کے طور پر منتخب کیاتھا تب سے ہندوستان کا ہر وزیراعظم یہاں رہائش اختیار کرتا ہے۔ راجیو گاندھی کے بعد ، وی پی سنگھ، چندر شیکھر ، پھرنرسمہاراؤ، پھر آئی کے گجرال، دیوگوڑا، اٹل بہاری واجپائی اورڈاکٹر منموہن سنگھ اتنے لوگ بطور وزیراعظم یہیں رہائش پذیر رہے،لیکن کسی بھی وزیراعظم نے’۷؍ریس کورس ‘کی اس رہائش گاہ کیلئے ریس کورس کے علاقے کی آبادی کو اپنے لئے خطرہ قرار نہیں دیا، مگرنہ جانے کیوں نریندر مودی کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا؟ایسا بھی نہیں ہے کہ مذکورہ علاقے سے وزیراعظم کی رہائش گاہ پر کوئی حملہ ہوا ہو ۔ریس کورس نامی جس روڈ پر وزیراعظم کی ۵؍بنگلوں پر مشتمل یہ شاہی رہائش گاہ واقع ہے اس روڈ کے دونوں طرف سے کسی بھی گاڑی یا عام شہری کو داخلے کی اجازت تک نہیں ہوتی ہے اورسب سے اہم بات یہ کہ ریس کورس مسجد کا وزیراعظم کی رہائش گاہ سے طائرانہ فاصلہ آدھا کلومیٹرکا ہے۔بذریعہ روڈ یہ فاصلہ دیڑھ کلومیٹر کا ہے ۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ اور ریس کورس کی مسجد کے درمیان درجنوں عمارتیں اور کئی اہم شاہراہیں موجودہیں۔یعنی یہ جواز جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں کہ مذکورہ مسجد وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہے ۔ رہا انڈین ائیر فورس سے متصل ہونے کا عذر،تو مرکزی حکومت کے ’ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ‘ محکمہ نے اس بارے میں بھی عدالت میں جھوٹ ہی کہا۔ لینڈ اینڈڈیولپمنٹ آفس نے کہا کہ مسجد کی دیوار اور ائیر فورس کے احاطہ کی دیوار ایک ہی ہے یعنی ’شیئرڈ ۔باؤنڈری ۔وال‘ ہے۔ یہ بات پوری طرح جھوٹ ہے ۔ مسجد اور ائیرفورس کے دفتر کے درمیان کوئی ’باؤنڈری ۔وال‘ ہے ہی نہیں ۔ مسجد کیا بلکہ مسجد جس قطعہ اراضی پر واقع ہے اس کی بھی کوئی ’باؤنڈری ۔وال‘ ہندوستانی فضائیہ کے دفتر سے متصل نہیں ہے ۔ ان دونوں کے درمیان سے ایک سڑک گزرتی ہے ۔ سڑک کے ایک طرف ہندوستانی فضائیہ کا دفتر ہے اور سڑک کی دوسری طرف وہ قطعہ اراضی ہے جس پر مسجد واقع ہے۔اس کے علاوہ ہندوستانی فضائیہ کے جس احاطے کو بہت حساس قرار دیاجارہا ہے وہ درحقیقت صرف ’اکاؤنٹ آڈٹ‘ دفتر ہے ۔یہاں کوئی میزائیل ، ڈرون، طیارے یا کوئی جنگی سامان نہیں ہے۔ صرف اکاؤنٹ آڈٹ کیا جاتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔کُل ملا کر تمام سرکاری محکمے عدالتوں میں بے خوفی اور ڈھٹائی کے ساتھ لگاتار جھوٹ پر جھوٹ داغےجارہے ہیںاور پورے ملک کا میڈیا اس جھوٹ کو آفاقی سچ کے طو رپر پیش کررہاہےبلکہ عدلیہ بھی اس جھوٹ کو سچ مان رہی ہے ۔ پانی اور بجلی منقطع کئے جانے کے خلاف مسجد نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی جس پر عدالت نے کہا کہ یہ مسجد وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور عرضی امام صاحب نے داخل کی ہے اسلئے اس پر شنوائی نہیں ہوسکتی ہے۔ عدالت نے حق انسانی کا بھی پاس نہیں رکھا ۔ ’بجلی اور پانی‘ آئین کے مطابق’رائٹ ٹو لیو‘ یعنی زندگی کے حقوق میں شامل ہیں لیکن عدالت کو یہ یاد نہیں رہا۔ اس تمام تر اندھیرے، مکاری اور منظم ناانصافی کے باوجود اگر کوئی چیز امید کی کرن ہے، تو وہ مقامی مسلمانوں کا عزم اور ثبات ہے۔آفرین ہے وہاں کے مسلمانوں پر جو ان ساری ناانصافیوں اورمظالم کو سہتے ہوئے بھی مسجدوں کو اپنے سجدوں سے آباد کئے ہوئےہیں اورایک ایسی حکومت اور عدلیہ سے قانونی لڑائی لڑرہےہیں جس کی جیب میں ہر سچے سوال کے بدلے ایک فریب ہے ۔