Breaking

گالی کی سیاست اور بی جے پی کا دوہرا معیار

گالی کی سیاست اور بی جے پی کا دوہرا معیار

گالی کی سیاست اور بی جے پی کا دوہرا معیار
مخالف کی زبان پر شور، اپنے لیڈروں کی بدکلامی پر خاموشی کیوں؟
۔۔۔۔۔
ازقلم:شرف الدین سید بنگلور 9342522346۔
۔۔۔

ہندوستان کی سیاست میں آج ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ مخالف کے ایک جملے پر اخلاقیات کا پورا دفتر کھول دیا جاتا ہے، قومی وقار خطرے میں نظر آنے لگتا ہے اور احتجاج کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، لیکن جب اپنے ہی حلقے سے توہین آمیز، فرقہ وارانہ اور مخربِ اخلاق بیانات سامنے آتے ہیں تو ردعمل کا معیار بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کس کو گالی دی؛ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اخلاقیات کا کوئی ایک معیار بھی باقی ہے، یا اس کا فیصلہ اب بولنے والے کی جماعت اور نشانہ بننے والے کی حیثیت دیکھ کر کیا جاتا ہے؟
تازہ مثال کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے اس بیان کی ہے جو 25 اکتوبر 2026 کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ ایک شخص نے جب نعرہ لگایا کہ مودی نہیں جائیں گے۔ اس پر کھرگے نے فورا جواب دیا کہ ’’مودی کا باپ بھی جائے گا۔‘‘ اس جملے پر بی جے پی نے شدید اعتراض کیا ہے ۔ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلاف میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے بارے میں اس نوعیت کی زبان ناقابل قبول ہے۔اصولی طور پر دیکھا جائے تو سیاسی گفتگو میں ذاتی اور خاندانی حملوں سے گریز ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم کا منصب احترام کا تقاضا کرتا ہے، اور کسی بھی رہنما کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اختلاف کا جواب تحقیر آمیز زبان میں دے۔ لیکن یہ اصول اسی وقت معتبر ہوگا جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔ اگر ایک فریق کے جملے پر احتجاج ضروری سمجھا جاتا ہے تو دوسرے فریق کے رہنماؤں کی غیر شائستہ زبان پر بھی اسی سنجیدگی سے سوال اٹھنا چاہیے۔اخلاقیات کا پیمانہ اگر سیاسی وفاداری کے مطابق بدلتا رہے تو وہ اخلاقیات نہیں، سیاسی سہولت کا نام ہے۔
سیاسی مخالفین کی تضحیک: تنقید یا کردار کشی؟
وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے متعدد رہنما مختلف اوقات میں پنڈت جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت سیاسی مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ بعض بیانات میں سیاسی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر بحث کے بجائے ذاتی زندگی، خاندان اور کردار کو موضوع بنایا گیا۔ خواتین کے خلاف ’’بار ڈانسر‘‘ اور ’’پچاس کروڑ کی گرل فرینڈ‘‘ جیسے تحقیر آمیز فقرے بھی ہندوستانی سیاسی مباحث میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔
یہاں فرق واضح ہونا چاہیے: کسی رہنما کی پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حق ہے، لیکن کسی کی تذلیل کرنا سیاسی دلیل نہیں۔ حکومت کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا، وعدوں کا حساب مانگنا اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانا جمہوری عمل ہے۔ اس کے برعکس ذاتی حملے اور بازاری زبان عوامی مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں اور سیاسی گفتگو کو پست سطح پر لے جاتے ہیں۔
مہاتما گاندھی جیسی قومی شخصیت کے بارے میں بھی متنازع اور توہین آمیز تبصرے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں بھی اصول یہی ہونا چاہیے کہ کسی شخصیت کے تاریخی کردار پر تنقیدی بحث اور اس کی تضحیک میں فرق کیا جائے۔ سیاسی اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مخالف کی عزت کو نشانہ بنانا جائز ہو جائے۔
اس لیے کھرگے کے جملے پر اعتراض کو محض سیاسی انتقام قرار دے کر واویلا مچانا بھی مناسب نہیں، بی جے پی کے لیے یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں کے بیانات پر بھی یہی معیار نافذ کرتی ہے یا نہیں۔
پارلیمنٹ میں دانش علی کی توہین: الفاظ حذف ہوئے، احتساب کہاں تک پہنچا؟ستمبر 2023 میں نئی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پر بحث جاری تھی۔ اسی دوران بی جے پی کے رکنِ پارلیمان رمیش بیدھوری نے بہوجن سماج پارٹی کے مسلم رکن کنور دانش علی کے خلاف انتہائی توہین آمیز، فرقہ وارانہ اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔ انہیں ’’ملا‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ جیسے القابات سے مخاطب کیا گیا، جبکہ ان کے خلاف دیگر رکیک الفاظ بھی استعمال ہوئے۔یہ واقعہ کسی انتخابی جلسے یا سڑک پر نہیں، ملک کی پارلیمنٹ کے اندر پیش آیا۔ وہ ایوان جہاں ہندوستان کے عوام کی نمائندگی ہوتی ہے، جہاں آئین اور قانون پر بحث ہوتی ہے اور جہاں ہر رکن سے جمہوری آداب کی پابندی کی توقع کی جاتی ہے۔واقعے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے ایوان میں افسوس کا اظہار کیا، اسپیکر کی ہدایت پر نازیبا الفاظ کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کردئیے اور صرف معاملہ پارلیمنٹ کی استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ دسمبر 2023 میں بیدھوری نے کمیٹی کے سامنے اپنے الفاظ پر افسوس ظاہر کیا۔معاملہ رفع دفع کردیا۔
وزیر اعظم بس خاموش رہے۔یہاں اصل سوال ہے کہ کیا یہ کارروائی اس واقعے کی سنگینی کے تناسب سے کافی تھی؟ کیا ایک منتخب رکن کے خلاف مذہبی شناخت کی بنیاد پر اس نوعیت کی بدکلامی کے معاملے میں محض الفاظ حذف کر دینا، تنبیہ کرنا اور بعد میں افسوس کا اظہار کر دینا کافی تھا؟دانش علی اور دیگر اپوزیشن ارکان نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ناقدین کا اعتراض یہ تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر مذہبی بنیاد پر توہین آمیز زبان استعمال کرنے والے رکن کے خلاف ایسی واضح تادیبی کارروائی ہونی چاہیے تھی جو آئندہ کے لیے مثال بنتی۔ پارلیمنٹ کی حرمت صرف کارروائی کے ریکارڈ سے الفاظ نکال دینے سے بحال نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے رویے کے خلاف مؤثر احتساب بھی ہو۔یہاں معاملہ کسی ایک مسلم رکن کی دل آزاری تک محدود نہیں رہتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے اندر ایک رکن کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عام شہری اپنے آئینی تحفظ کے بارے میں کیا توقع رکھے؟ جمہوریت میں کسی فرد کی عزت اس کی مذہبی وابستگی یا سیاسی جماعت کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔
کرنل صوفیہ قریشی: ملک کی خدمت، مگر مذہبی شناخت پر حملہ!
مئی 2025 میں مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کنور وجے شاہ کے بیان نے اس بحث کو مزید سنگین بنا دیا۔ آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی مسلح افواج کی کارروائیوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دینے والی کرنل صوفیہ قریشی کو شاہ نے اپنے بیان میں دہشت گردوں کی ’’بہن‘‘ کے طور پر پیش کرنے والا توہین آمیز اشارہ دیا۔ ان کے بیان کو بڑے پیمانے پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر تضحیک اور فوجی افسر کی توہین کے طور پر دیکھا گیا۔یہ محض کسی سیاسی مخالف کے خلاف جملہ نہیں تھا۔ ایک فوجی افسر، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کر رہی تھیں، کو دہشت گردوں سے جوڑنے کا تاثر پیدا کیا گیا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس بیان کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے بیان کی سنگینی پر سخت ریمارکس دیے، جس کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں اس معاملے پر قانونی کارروائی آگے بڑھی۔ مئی 2026 میں عدالت نے وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری کے معاملے پر ریاستی حکومت سے فیصلہ کرنے کو کہا۔ اگست 2026 کے آخر میں عدالت کو بتایا گیا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، لیکن مقدمہ چلانے کی منظوری کا معاملہ ابھی زیر التوا ہے۔ اور وزیر اعظم یہاں پر بھی چپ:یہ تفصیلات اہم ہیں، کیونکہ ان سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں قانونی کارروائی ہوئی، لیکن حتمی قانونی نتیجہ سامنے آنے سے پہلے اسے مکمل انصاف یا مکمل عدم کارروائی میں سے کسی ایک صورت میں بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود سیاسی اور اخلاقی سوال اپنی جگہ موجود ہے: ایک فوجی افسر کی خدمات اور وطن سے وفاداری کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر دہشت گردوں سے جوڑنے کا تاثر کیوں پیدا کیا گیا؟ اور ایک ذمہ دار سرکاری عہدے پر فائز شخص سے کیا یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ کے ممکنہ اثرات کو سمجھے؟اگر وزیر اعظم کے بارے میں ایک سخت جملے پر قومی وقار کا سوال اٹھتا ہے تو ملک کی خدمت انجام دینے والی ایک خاتون فوجی افسر کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنائے جانے پر بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ قومی وقار کسی ایک شخصیت کی ملکیت نہیں؛ یہ ملک کے اداروں، اس کے شہریوں اور ان کی مساوی عزت سے وابستہ ہے۔
حکومت اور اسپیکر کی ذمہ داری کیا ہے؟پارلیمنٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح حکومت اور حکمران جماعت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے ارکان کے طرزِ عمل کے بارے میں جواب دہی سے گریز نہ کریں۔ تاہم پارلیمنٹ میں ہر معاملے پر سزا کا فیصلہ قواعد اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ تنبیہ، الفاظ حذف کرنا، استحقاق کمیٹی کی کارروائی اور تادیبی سزا مختلف اقدامات ہیں؛ انہیں ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا قواعد کا اطلاق غیر جانب دارانہ انداز میں ہوتا ہے؟ کیا فرقہ وارانہ بدکلامی کے معاملات کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے جتنی سنجیدگی سے حکمران جماعت کے خلاف کہے گئے کسی جملے کو لیا جاتا ہے؟ اور کیا حکومت اپنے رہنماؤں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر واضح موقف اختیار کرتی ہے؟یہ سوال صرف بی جے پی سے متعلق نہیں۔ ہر سیاسی جماعت کو اپنے رہنماؤں کے طرزِ گفتار اور طرزِ عمل کا احتساب کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کی بدکلامی کو بھی جائز نہیں کہا جا سکتا، اور حکمران جماعت کی بدکلامی کو بھی محض سیاسی بیان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ جمہوری اصول کسی جماعت کی ملکیت نہیں ہوتے۔
عوامی مسائل پس منظر میں کیوں چلے جاتے ہیں؟
جب سیاسی گفتگو ذاتی حملوں اور لفظی جنگوں میں الجھ جاتی ہے تو عوام کے اصل مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، کسانوں کی پریشانیاں، معاشی عدم مساوات اور اقلیتوں کے حقوق پر سنجیدہ بحث کی جگہ مخالفین کی تضحیک لے لیتی ہے۔ جلسوں میں تالیاں تو بجتی ہیں، لیکن عوام کو ان سوالات کے جواب نہیں ملتے جن کے لیے وہ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔
جمہوریت کا مقصد سیاسی مخالف کو خاموش کرنا نہیں، بلکہ عوام کو باخبر کرنا اور اقتدار کو جواب دہ بنانا ہے۔ وزیر اعظم سمیت کوئی بھی منتخب رہنما تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تنقید کا معیار دلیل، حقائق اور عوامی مفاد ہونا چاہیے۔ اسی طرح کسی رہنما کے غیر شائستہ جملے کو بنیاد بنا کر اس کی جماعت کے ہر مؤقف کو رد کرنا بھی مناسب نہیں۔سیاسی تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف شدید ہو سکتا ہے، مگر انسان کی عزت اور مذہبی شناخت کو تضحیک کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اور اگر ایسا ہو تو کارروائی کا معیار بولنے والے کے سیاسی مرتبے کے بجائے واقعے کی نوعیت اور متعلقہ قواعد کے مطابق طے کیا جائے۔
آخر یہ کیسا معیار ہے؟
ملکارجن کھرگے کے جملے پر بی جے پی کا احتجاج اپنی جگہ، لیکن اس احتجاج کو معتبر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ زبان کی شائستگی کا اصول سب کے لیے یکساں ہو۔ رمیش بیدھوری کے پارلیمانی واقعے اور کرنل صوفیہ قریشی کے حوالے سے کنور وجے شاہ کے بیان نے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جنہیں صرف سیاسی الزام تراشی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان واقعات میں کارروائی کے مختلف مراحل ضرور سامنے آئے، لیکن ان کی نوعیت، تناسب اور اثر پذیری پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے۔کسی کے سخت جملے کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسرے کی بدکلامی کا حوالہ دینا بھی مناسب نہیں۔ اگر کھرگے کے الفاظ غیر شائستہ تھے تو ان پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اسی اصول کے تحت بیدھوری اور وجے شاہ کے بیانات کو بھی پرکھنا ہوگا۔ اخلاقیات کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے اور پرائے کے لیے الگ پیمانے نہ بنائے جائیں۔
اگر ایک جملہ پارلیمانی اخلاقیات کا مسئلہ ہے تو مذہبی شناخت کی بنیاد پر کی جانے والی توہین بھی اتنی ہی سنجیدہ ہونی چاہیے۔ اگر وزیر اعظم کے احترام کا مطالبہ جائز ہے تو ایک مسلم رکنِ پارلیمان اور ایک خاتون فوجی افسر کی عزت کا تحفظ بھی اسی اصول کے تحت ضروری ہے۔
جمہوریت کا اصل امتحان مخالف کی غلطی پکڑنا نہیں، اپنی جماعت کی غلطی کو بھی اسی پیمانے پر پرکھنا ہے۔ جو اصول صرف مخالفین کے لیے ہوں، وہ اصول نہیں رہتے؛ وہ سیاسی مفاد کے دفاع کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے