Breaking

’مودی کے باپ کو بھی جانا پڑے گا‘: کھڑگے کے بیان پر تنازعہ. کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے؟

’مودی کے باپ کو بھی جانا پڑے گا‘: کھڑگے کے بیان پر تنازعہ. کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے؟

’مودی کے باپ کو بھی جانا پڑے گا‘: کھڑگے کے بیان پر تنازعہ. کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے؟

پٹنہ/نئی دہلی، 25 اکتوبر(ایجنسیز) کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کے روز پٹنہ میں پارٹی کی ایک تقریب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے آنجہانی والد کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا۔ یہ واقعہ ‘باپو سبھاگار’ میں اس وقت پیش آیا جب کانگریس بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ شری کرشن سنگھ کی 139 ویں یوم پیدائش منا رہی تھی۔
جب کھڑگے وزیر اعظم پر تنقید کر رہے تھے، تو مجمع میں موجود ایک شخص نے نعرہ لگایا، "مودی نہیں جائے گا”۔
اس پر کھڑگے نے جواب دیا، "مودی کا باپ بھی جائے گا”۔ انہوں نے اس جملے کو تین بار دہرایا۔
اس کے بعد کانگریس کارکنوں نے اس شخص کو گھیر لیا، اس کی پٹائی کی اور اسے تقریب کے مقام سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے اور اس کے بعد ہونے والی ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس سے تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
بی جے پی نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی ترجمان توہین سنہا نے کھڑگے کے رویے کو "گھنونا، بچگانہ اور غیر مہذب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی کا نتیجہ ہے۔
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ انفرادی رہنماؤں سے ہٹ کر ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس تبصرے کو "افسوسناک” قرار دیا اور کھڑگے اور راہول گاندھی دونوں سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کانگریس پر وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف دشمنی رکھنے کا الزام بھی لگایا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی صدر نتن نبین نے بھی اس بیان کی مذمت کی۔
بی جے پی نے پیر کے روز ملک بھر میں اپنی ریاستی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان ریمارکس کو "توہین آمیز، غیر مہذب اور قابل اعتراض” قرار دیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے ان تبصروں کو ایک "ذاتی حملہ” قرار دیا جو سیاسی گفتگو کی حدود کو پار کر گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں ایک آنجہانی فرد کو نشانہ بنایا گیا۔ ریاستی اکائیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پرامن مظاہرے منعقد کریں تاکہ شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا سکے اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا جا سکے۔
پٹنہ میں، بی جے پی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن کرشنا کمار نے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ٹیلی ویژن کوریج کے ذریعے اس بیان کا علم ہوا اور اس سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا۔
شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خبروں کی رپورٹس، ویڈیو شواہد اور متعلقہ مواد کی جانچ کی جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اصل الفاظ کیا تھے اور کس سیاق و سباق میں کہے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے۔ (ایجنسیاں)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے