Breaking
’’وہ چند لمحے……‘‘

’’وہ چند لمحے……‘‘

ازقلم:سیما شکور حیدر آباد

زندگی کے سفر میں کئی لوگ ملتے ہیں، بچھڑجاتے ہیں اور ہم بھی انہیں بھول جاتے ہیں لیکن… کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم جب کسی سے ملتے ہیں تو چند لمحوں کی ملاقات ہماری ساری زندگی پر محیط ہوتی ہے کوئی ہماری زندگی پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ ہم چاہ کر بھی اُسے بھول نہیں پاتے وہ چند لمحوں کی خوشبو ہمارا حصار اس طرح کرلیتی ہے کہ ہم اُن چند لمحوں میں اس طرح قید ہوجاتے ہیں کہ ہمیں کبھی رہائی نہیں مل سکتی۔ کسی کی شخصیت کی مسحور کن مہک ہمیں اپنا اسیر بنالیتی ہے۔… اور ہم اپنی پوری زندگی اُسی شخصیت کے خیالات میں گُم ہو کر خود اپنے آپ کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں، وہ لمحے بہت خوبصورت ہوتے ہیں ، پھولوں کی پتیوں سا نازک اور ریشمیں احساس ہمیں اُس جہاں میں لے جاتا ہے جہاں کوئی اور نہیں ہوتا صرف ایک حسین احساس کے سوا… دُور دُور تک کوئی نہیں ہوتا۔ وہ چند دلکش لمحات کی گرفت ہمیشہ ہمیں اپنی بانہوں میں لیے رہتی ہے اور ہم بس سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ کاش وہ چند لمحے طویل ہوجاتے اور پھرہم اُداسیوں کی اُس وادی میں کھوجاتے ہیں جہاں خیالات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا اور آنکھوں سے گرتے گرم قطرے عارض کو بھگودیتے ہیں، وقت یونہی گزرتا رہتا ہے، زندگی میں کئی نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں، زندگی میں کیسے بھی موڑ آجائیں لیکن وہ چند لمحوں کی یادیں ویسی ہی دل کے آسمان پر ستاروں کی طرح جگمگاتی رہتی ہیں ، انسان سب کچھ بھول جاتا ہے لیکن … وہ یادیں نہیں بھول سکتا، وہ یادیں اُس کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں اور وہ اُن گھڑی دو گھڑی کی یادوں کے سہارے اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے وہ یادیں اُسے قدم قدم پر جینے کا حوصلہ اور اُمیدیں فراہم کرتی ہیں، مایوسیوں کے گھور اندھیروں میں چاندنی بن کر اس طرح بِکھر جاتی ہیں کہ انسان خود میں ایک توانائی محسوس کرتا ہے کیونکہ روحوں کے روحوں سے تعلق اس قدر مضبوط ہوتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ تنہائیوں میں وہ یادوں کی پریاں اس طرح رقص کرتی ہیں کہ انسان اپنے سارے دُکھ درد بھول جاتا ہے اُسے یاد رہ جاتی ہیں تو وہ چند لمحوں کی یادیں، وہ چند لمحوں کی یادیں۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی پسندیدہ شخصیت سے کبھی ملے ہی نہیں ہوتے صرف ایک تعلق ہوتا ہے اور پھر اچانک جب ملاقات ہوجاتی ہے تو وہ لمحے یادگار ہوجاتے ہیں اور ہمارے ذہن پر انمٹ نقوش چھوڑ دیتے ہیں ۔ کبھی کٹھن وقت میں کسی کاساتھ دینا بھی ہم بھُلا نہیں پاتے اور ہمارے دلوں میں اُس شخص کے لیے عقیدتوں کے گلاب کھلتے ہی رہتے ہیں ہم وہ احسان نہیں بھُلا پاتے۔ خوبصورت اور دلفریب یادوں کی برف جب دل کے چناروں پر گِرتی ہے تو پھر اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔کچھ بچھڑنے والے اس طرح بچھڑتے ہیں کہ پھر کبھی دوبارہ نہیں مل پاتے تمام عمر دل کی زمین پر یادوں کی بارش گرتی ہی رہتی ہے اور ہم ایک مسحور کن احساس میں کھو جاتے ہیں ۔ جس کے پاس انمول یادوں کی سوغات ہوتی ہے وہ کبھی تنہا نہیں ہوتے، دُکھ نصیب والوں کو ہی ملا کرتے ہیں، وہ خوبصورت سے دُکھ جو جینے کا سہارا بن جایا کرتے ہیں اور کتنے بد نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ کہ جن کے پاس وہ حسین اور سحر آفریں سے دُکھ بھی نہیں ہوتے… نجانے کس طرح جیتے ہوں گے وہ لوگ… جو اس قدر تہی داماں ہوتے ہیں صحرا کے ریگ زاروں سی ہوتی ہے ایسے لوگو ں کی زندگی اور وہ زندگی زندگی تو نہیں ہوتی۔ احساس کا ہونا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے، احساس سے عاری لوگوں پر کسی کے ملنے اور بچھڑنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بنجر زمین سے ہوتے ہیں اُن کے دل اور صحرا سی ہوتی ہیں ان کی بے جان ، بے حس آنکھیں… اُن آنکھوں میں کوئی سمندر نہیں ہوتا ، سمندر تو کیا شبنم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا۔ اُنہیں کسی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنی مادہ پرستانہ سوچ کے ساتھ ہی مطمئن رہتے ہیں اور… جن کے پاس احساس کی دولت ہوتی ہے وہ دنیا کی دولت کو ٹھوکر مار دیتے ہیں اور چند لمحوں کی حسین یادوں میں ہی ساری زندگی بِتادیتے ہیں، یادوں کے جل ترنگ جب بجتے ہیں تو دل کی جھیل میں ڈھیر سارے خوشیوں کے کنول کھِل جایا کرتے ہیں، یادوں کی جل ترنگ جب بجتے ہیں تو دل کی جھیل میں ڈھیر سارے خوشیوں کے کنول کھِل جایا کرتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے