Breaking

یورپ کی سڑکوں پر عوامی غصہ: فرانس اور اسپین میں احتجاج (Protest) کی لہر

یورپ کی سڑکوں پر عوامی غصہ: فرانس اور اسپین میں احتجاج (Protest) کی لہر
Public anger on the streets of Europe A wave of protests in France and Spain

یورپ کی سڑکوں پر عوامی غصہ: فرانس اور اسپین میں احتجاج (Protest) کی لہر

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

پیرس کی گلیوں سے لے کر میڈرڈ کے پورتا دیل سول چوک تک، یورپ کے دو بڑے ملکوں میں ان دنوں سڑکوں پر اترے ہوئے لوگوں کا حکومتوں کے خلاف سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف غیض و غضب دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں جگہ وجہ الگ الگ ہے۔ فرانس میں لوگ کٹوتیوں (Cuts) والے بجٹ سے تنگ ہیں، اور اسپین میں ایک 87 سالہ بزرگ خاتون کے گھر سے نکالے جانے کی تصویر نے پورے ملک کا دل ہلا دیا۔
پہلے فرانس کی بات کرتے ہیں۔ یکم اکتوبر 2026 کو وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے 2027 کا بجٹ (Budget) پیش کیا تو اس کا سب سے بڑا اعلان بچت کا تھا۔ حکومت خسارے (Deficit) کو جی ڈی پی (GDP) کے 5 فیصد تک لانا چاہتی ہے، اس کے لیے 43 ارب یورو کی نئی بچت رکھی گئی ہے، اور پچھلے اقدامات ساتھ ملا لیں تو کل بچت 54 ارب یورو بنتی ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ اگر یہ قدم نہ اٹھایا گیا تو 2027 میں خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے آس پاس پہنچ جائے گا۔ لیکن اصل شکایت یہ ہے کہ قربانی سب سے برابر نہیں مانگی جا رہی۔ وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ دفاع کے سوا ریاست کے باقی سارے اخراجات 2026 کی سطح پر روک دیے جائیں گے۔ اور دفاع کا حال یہ ہے کہ مسلح افواج (Armed Forces) کے بجٹ میں 6.4 ارب یورو بڑھائے جا رہے ہیں۔ یعنی اسکول، اسپتال اور سرکاری دفاتر جہاں تھے وہیں رکے رہیں گے، جبکہ فوج کا بجٹ بڑھتا رہے گا۔
دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ اچانک نہیں ہوا۔ صدر میکرون جولائی 2025 میں ہی کہہ چکے تھے کہ 2027 تک دفاعی بجٹ 64 ارب یورو ہو جائے گا، یعنی 2017 کے مقابلے میں دوگنا۔ اس کے علاوہ فوجی پروگرامنگ قانون (Military Programming Law) کے تحت 2024 سے 2030 تک افواج کو مجموعی طور پر 413.3 ارب یورو دینے کا منصوبہ پہلے سے موجود ہے۔

اس معاشی عدم استحکام کا نتیجہ سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔ طلبہ یونین (Student Union) کے مطابق تقریباً تیس جامعات (Universities) کے کیمپس بند کیے گئے اور کئی ثانوی اسکولوں (Secondary Schools) پر طلبہ نے قبضہ کر لیا۔ ملک کے بہت سے حصوں میں پولیس سے جھڑپیں (Clashes) ہوئیں، اور شمالی فرانس میں ایک ہیڈ ٹیچر (Headteacher) آتش بازی کا راکٹ لگنے سے زخمی ہو گیا۔ پھر اساتذہ، فائر فائٹرز اور دوسرے سرکاری ملازمین بھی اپنی تنخواہوں اور کام کے حالات کے مطالبے کے ساتھ مظاہروں میں آ گئے۔ وزیراعظم نے تشدد کی مذمت کی، جو بجا ہے۔ مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ یورپ کے ایک امیر ملک میں اسکولوں کی بدحالی پر لوگ غصہ کیوں نہ کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیم کے بجٹ میں 1.2 ارب یورو کا اضافہ رکھا گیا ہے۔ مگر مظاہرین (Protesters) کے نزدیک ضرورت کے سامنے یہ رقم بہت چھوٹی ہے۔
اب اسپین چلتے ہیں، جہاں کہانی گھر Housing Crisis کی ہے۔ ماریکارمن آباسکال 87 سال کی تھیں۔ 23 ستمبر 2026 کو انہیں ان کے فلیٹ سے اسٹریچر پر باہر لایا گیا، کیونکہ جس کمپنی کے پاس عمارت کی ملکیت تھی اس نے کرایہ بے تحاشا بڑھا دیا تھا۔ وہ ستر برس سے زیادہ اسی گھر میں رہ رہی تھیں، اور بے دخلی (Eviction) کا حکم اس سرمایہ کاری فنڈ (Investment Fund) نے لیا تھا جس نے عمارت خریدی تھی۔ یہ منظر ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے بھول نہ سکے۔ 8 اکتوبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

میڈرڈ کے مارچ میں کتنے لوگ آئے، اس پر اختلاف ہے۔ حکام نے تقریباً 25 ہزار کی بات کی، جبکہ منتظم کرایہ دار یونین (Tenants’ Union) کا دعویٰ تھا کہ شرکاء 3 لاکھ سے زیادہ تھے۔ مگر اصل بحران کے اعداد و شمار پر کوئی جھگڑا نہیں۔ پچھلے دس برس میں اوسط کرائے دگنے ہو چکے ہیں، جبکہ تنخواہیں اس رفتار سے نہیں بڑھیں۔ مرکزی بینک (Central Bank) کے مطابق ملک میں 7 لاکھ 50 ہزار گھروں کی کمی ہے، اور ہر سال صرف تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار گھر بن رہے ہیں، جو 2008 کے مالی بحران سے پہلے کا چھٹا حصہ ہے۔ اور سرکاری کرائے کے مکانات (Public Rental Housing) اسپین کے کل مکانات کے دو فیصد سے بھی کم ہیں، جبکہ یورپی یونین (European Union) میں اوسط آٹھ فیصد ہے۔
لوگوں کو حکومت سے امید تھی، مگر وہ بھی ٹوٹ گئی۔ پارلیمنٹ نے بے دخلیاں روکنے اور رہائشی سٹے بازی (Speculation) کے خلاف حکومت کے دو ہنگامی فرمان (Emergency Decrees) مسترد کر دیے۔ اس شکست کے بعد وزیراعظم پیدرو سانچیز نے 29 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات (Snap Elections) کرانے کا اعلان کر دیا۔ یوں رہائش اب اس الیکشن کا سب سے بڑا موضوع بن چکی ہے۔
دفاع کے معاملے میں البتہ اسپین کی تصویر فرانس سے مختلف ہے، اور اسے ایمانداری سے بتانا ضروری ہے۔ 2024 میں اسپین نے جی ڈی پی کا تقریباً 1.28 فیصد دفاع پر لگایا، جو پورے نیٹو (NATO) میں سب سے کم تھا، اور بعد میں اس نے نیٹو کے 5 فیصد ہدف سے استثنا (Exemption) بھی حاصل کر لیا۔ سانچیز کا موقف تھا کہ اتنا بڑا خرچ ملک کی فلاحی ریاست (Welfare State) کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ہاں، 2025 میں دو فیصد کا ہدف پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ میں 10.5 ارب یورو کا اضافہ ضرور کیا گیا۔ مگر اسپین کے بحران کی جڑ زیادہ تر ہاؤسنگ پالیسی کی ناکامی اور سیاسی تعطل (Political Deadlock) میں ہے، ہتھیاروں کے بجٹ میں نہیں۔

دونوں ملکوں کے مسئلے الگ ہیں، مگر عام آدمی کا احساس ایک ہی ہے کہ اس کی روزمرہ کی مشکلیں فیصلہ سازوں کی ترجیحات (Priorities) میں کہیں نہیں آتیں۔ چاہے پیرس کا استاد ہو یا میڈرڈ کا کرایہ دار، دونوں آخر میں ایک ہی بات پوچھ رہے ہیں کہ ریاست کس کے لیے ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ یہ ممالک آبادی کے لحاظ سے چھوٹے ہیں، دولت میں سب سے آگے رہے ہیں، اور پھر بھی اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت اور رہائش جیسی بنیادی چیزیں مستقل طور پر نہیں دے پا رہے۔ جس نظام کو دنیا کے سامنے کامیابی کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا رہا، اس کے اپنے گھر میں لوگ اسکول، علاج اور چھت کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ اس لیے کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ مغرب کے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام (Capitalist System) کی ناکامی ہے۔ جب قرض، سود اور منافع پر کھڑی معیشت ہر بحران میں عام آدمی سے بچت مانگتی ہے اور بڑے اداروں اور اسلحے کے لیے خزانے کھلے رکھتی ہے، تو لوگوں کا یہ سوال بجا ہے کہ یہ معاشی نظام کس کے لیے بنا ہے۔
ان سب کے باوجود ایک چیز جو یورپ کو بھارت سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہاں کی پولیس احتجاج کرنے والوں پر گولی نہیں چلاتی اور نہ ہی پیلٹ گن (Pellet Gun) سے انہیں نشانہ بناتی ہے۔ احتجاج کرنے والوں کو باغی اور ملک دشمن قرار نہیں دیا جاتا، بلکہ ان کے ساتھ اپنے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کی جنگوں نے عالمی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی جنگ نے پہلے ہی توانائی اور اشیائے ضرورت مہنگی کر دی تھیں۔ پھر ایران کی جنگ آئی۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل روزانہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرتی تھی، اور اب ایران نے اسے بند کر رکھا ہے۔ یورپی یونین کے اندازے کے مطابق گیس کی قیمتیں تقریباً 70 فیصد اور تیل کی قیمتیں تقریباً 50 فیصد بڑھ گئیں، اور برینٹ (Brent) خام تیل 70 ڈالر سے بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب (Bab el-Mandeb) بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے جہاز رانی اور خوراک کی ترسیل پر مزید دباؤ کا خطرہ ہے۔ بحیرہ اسود سے گندم اور سورج مکھی کے تیل کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہے۔ یعنی جن حکومتوں نے جنگوں میں فریق بن کر ساتھ دیا، آج ان کے اپنے لوگ مہنگے ایندھن اور مہنگی روٹی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
دنیا کے کمزور ملکوں کا تجربہ بھی انتہائی افسوسناک رہا ہے۔ روس، ایران، عراق اور سوڈان پر برسوں تک پابندیاں (Sanctions) لگائی گئیں۔ عراق پر یہ پابندیاں تقریباً تیرہ برس رہیں۔ رقم کی منتقلی کے نظام (SWIFT) اور ڈالر کے ذریعے مالی راستوں پر مغرب کا اثر اتنا ہے کہ جسے چاہیں معاشی طور پر تنہا کر دیں۔ غریب ملک کا شہری امیر ملک کی سرحد پر پہنچے تو اسے گھس پیٹھیا کہا جاتا ہے، جبکہ انہی ملکوں کے وسائل صدیوں تک لوٹے گئے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی تباہی کے باوجود یورپ کے کئی حکمران اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہے۔ پابندیاں، ناکہ بندی اور دوہرے معیار اس نظام کا مستقل حصہ بنے رہے۔
آج وہی یورپ، جو دوسرے ملکوں میں احتجاج، انتشار اور حکومتوں کی تبدیلی کی سیاست کا ذمہ دار رہا ہے، اپنے ہی شہروں میں احتجاج جھیل رہا ہے۔ اس کی حکومتیں ماضی کی عظمت میں جی رہی ہیں اور عوام حال کی مہنگائی میں پس رہے ہیں۔ یورپ کی حکومتوں کو اسے وقتی ہنگامہ سمجھ کر نہیں ٹالنا چاہیے۔ یہ ایک وارننگ (Warning) ہے۔ جب گھر، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی چیزوں کے لیے لوگوں کو لڑنا پڑے اور دوسری طرف دفاعی بجٹ بڑھتا رہے، تو سڑک ہی عوام کا آخری ایوان (Last Forum) بن جاتی ہے۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے