ایس آئی آر کے دورا ن فہرست رائے دہندگان میں ردوبدل ڈیجیٹل نظام اور انتظامی نگرانی پر سوالات

ایس آئی آر کے دورا ن فہرست رائے دہندگان میں ردوبدل ڈیجیٹل نظام اور انتظامی نگرانی پر سوالات

ایس آئی آر کے دورا ن فہرست رائے دہندگان میں ردوبدل
ڈیجیٹل نظام اور انتظامی نگرانی پر سوالات

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

ملک بھر میں جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کار پر بحث اور احتجاج کے درمیان اتر پردیش سےفہرست رائے دہندگان میں بے ضابطگیوں کی ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہوں نے انتخابی ریکارڈ کی درستگی اور اس کی نگرانی کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کہیں رائے دہندگان کے نام اور خاندانی تفصیلات تبدیل ہونے کی شکایات ہیں، کہیں ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات کا معاملہ سامنے آیا ہے، تو کہیں سافٹ ویئر کی خامیوں کے باعث ناموں اور دیگر معلومات کی غلط ترجمانی ہوئی ہے۔ ان واقعات نے یہ جاننے کی ضرورت بڑھا دی ہے کہ فہرست رائے دہندگا ن تیار کرنے، ان میں تبدیلیاں کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے موجود نظام کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔
اتر پردیش کے پیلی بھیت اسمبلی حلقے میں بعض رائے دہندگان کے ناموں اور خاندانی کوائف میں تبدیلی، شناختی نمبروں کے ساتھ دوسرے افراد کی تفصیلات ظاہر ہونے اور اندراجات میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ دوسری طرف، اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابی ریکارڈ میں سافٹ ویئر کے ذریعے ناموں کے غلط ترجمے اور اندراجات میں تکنیکی خامیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ بظاہر یہ الگ الگ نوعیت کے معاملات ہیں، لیکن ان سب میں ایک مشترک سوال موجود ہے انتخابی ریکارڈ میں درج معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے اور غلطیوں کی بروقت اصلاح کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟
پیلی بھیت میں سامنے آنے والے معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ بعض رائے دہندگان کے الیکٹورل فوٹو آئیڈینٹیٹی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبر اور سیریل نمبر تو وہی رہے، لیکن ان کے ساتھ درج نام، والد کے نام اور دوسری تفصیلات بدل گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، بعض افراد نے حتمی فہرست رائے دہندگان میں اپنے کوائف کی تصدیق بھی کر لی تھی، مگر بعد میں جب ان کے شناختی نمبر آن لائن تلاش کیے گئے تو ان کے بجائے دوسرے افراد کی تفصیلات سامنے آنے لگیں۔ایسی صورتِ حال میں صرف شناختی نمبر یا کارڈ کا برقرار رہنا کافی نہیں۔ انتخابی ریکارڈ اسی وقت درست سمجھا جا سکتا ہے جب شناختی نمبر، نام، خاندانی کوائف اور دیگر متعلقہ معلومات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اگر ان میں تضاد پیدا ہو جائے تو نہ صرف ریکارڈ کی افادیت متاثر ہوتی ہے بلکہ متعلقہ رائے دہندہ کو ووٹ ڈالنے کے وقت بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اس معاملے میں اعداد و شمار کے دو الگ مجموعے سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف سیاسی اور مقامی سطح پر کی گئی جانچ کے حوالے سے پیلی بھیت اسمبلی حلقے میں تیرہ ہزار ایک سو پچاس اندراجات میں ناموں یا دیگر تفصیلات کے اختلافات کی نشان دہی کی گئی۔ دوسری طرف سرکاری تحقیقات سے متعلق اطلاعات کے مطابق، اکتیس مئی سے انتیس اگست دو ہزار چھبیس کے درمیان فارم آٹھ کے ذریعے رائے دہندگان کے کوائف میں ترمیم کے لیے تیرہ ہزار سات سو اناسی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ ان میں سے دس ہزار چار سو ستر درخواستیں منظور اور تین ہزار تین سو نو درخواستیں مسترد کی گئیں۔ سرکاری تحقیقات کے حوالے سے یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ منظور شدہ تمام دس ہزار چار سو ستر اندراجات میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔تاہم، ان دونوں اعداد و شمار کو ایک ہی نوعیت کا سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا تعلق الگ الگ جانچ اور طریقۂ شمار سے ہے۔ اصل صورتِ حال جاننے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کتنی درخواستوں کے ذریعے تبدیلیاں کی گئیں، کتنے رائے دہندگان متاثر ہوئے اور کن اندراجات میں کس نوعیت کی غلطیاں پائی گئیں۔ ان تفصیلات کا مستند اور تقابلی جائزہ ہی واضح کر سکتا ہے کہ بے ضابطگیوں کا دائرہ کتنا وسیع تھا اور ان کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے۔
اطلاعات کے مطابق، یہ تبدیلیاں ایس آئی آر کے بعد دس اپریل دو ہزار چھبیس کو حتمی فہرست رائے دہندگانشائع ہونے کے بعد درج کی گئی تھیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد ریکارڈ میں تبدیلی کی اجازت کن ضابطوں کے تحت دی گئی، درخواستوں کی جانچ کس معیار پر ہوئی اور منظوری دینے کا اختیار کس عہدیدار کے پاس تھا۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ہر تبدیلی کے حق میں کون سی دستاویزات پیش کی گئیں اور ان کا ریکارڈ کس طرح محفوظ رکھا گیا۔اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ ضروری دستاویزات یا منظوری کے بغیر تبدیلیاں کی گئیں تو یہ محض ریکارڈ کی غلطی نہیں، بلکہ انتظامی نگرانی اور جواب دہی سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہوگا۔
پیلی بھیت کے معاملے سے الگ، اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابی ریکارڈ میں سافٹ ویئر کی ایک اور خامی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا کہ انگریزی میں درج ناموں کو ہندی رسم الخط میں تلفظ کے مطابق لکھنے کے بجائے ان کا لفظی ترجمہ کر دیا گیا۔ نتیجتاً بعض نام ایسے الفاظ یا جملوں میں بدل گئے جن کا اصل نام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک مثال ایسی بھی سامنے آئی جس میں کسی شخص کے نام کا مفہوم اس طرح بن گیا، گویا اس نے کسی دوسرے شخص کو قتل کیا ہو۔ بعض ریکارڈوں میں تعلیمی ڈگری کا مخفف والد کے نام کے خانے میں بھی درج ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق، گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ تقریباً ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ رائے دہندگان کے ریکارڈ میں ایک سو اٹھاون غیر معمولی اندراجات کی نشان دہی کی گئی۔
یہ معاملہ پیلی بھیت میں شناختی نمبروں کے ساتھ دوسرے افراد کی تفصیلات منسلک ہونے سے مختلف ہے، لیکن دونوں واقعات ڈیجیٹل نظام کی درستگی سے متعلق اہم سوال اٹھاتے ہیں۔ انتخابی ریکارڈ تیار کرنے اور اس میں تبدیلیاں کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر میں غلطیوں کی شناخت کون کرتا ہے؟ کیا ہر اندراج کی حتمی منظوری سے پہلے انسانی جانچ ہوتی ہے؟ اور اگر کسی تکنیکی خرابی کے باعث کسی شخص کی شناخت غلط درج ہو جائے تو اس کی اصلاح کا طریقہ کیا ہے؟
ناموں کو ایک رسم الخط سے دوسرے رسم الخط میں منتقل کرتے وقت، ترجمہ کرتے ہوئے یا مختلف ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان معلومات منتقل کرنے کے دوران معمولی غلطی بھی کسی شخص کی شناخت بدل سکتی ہے۔ اسی لیے خودکار نظاموں کے ساتھ انسانی نگرانی بھی ضروری ہے۔ غیر معمولی اندراجات کی نشان دہی، مشتبہ تبدیلیوں کی جانچ اور حتمی اشاعت سے پہلے معلومات کی تصدیق ایسے اقدامات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ڈیجیٹل نظام انتخابی انتظام کو تیز اور آسان ضرور بناتے ہیں، لیکن ان کی افادیت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب معلومات کی صحت، غلطیوں کی اصلاح اور ذمہ داری کے تعین کے لیے بھی مؤثر انتظام موجود ہو۔
فہرست رائے دہندگان سے نام حذف کرنے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک صحافتی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ ایس آئی آر کے دوران ای آر او نیٹ سافٹ ویئر نے ستاسی ہزار ایک سو ستائیس ایسے فارم سات تیار کیے جن میں نام حذف کرنے کی وجوہات درج نہیں تھیں۔ فارم سات فہرست رائے دہندگان سےکسی رائے دہندہ کا نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ان میں سے متعدد فارم انتخابی عہدیداروں کے نام سے درج تھے۔ بعض عہدیداروں نے مبینہ طور پر بتایا کہ سماعت کے دوران رائے دہندہ کی تصدیق نہ ہونے پر سافٹ ویئر خودکار طور پر فارم تیار کر دیتا تھا۔ اس تحقیق میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کسی شخص کا نام حذف کرنے کے لیے باقاعدہ کارروائی کی گئی تھی تو اس کی وجہ اور متعلقہ ثبوت ریکارڈ میں واضح طور پر کیوں درج نہیں تھے۔اسی تحقیق میں افراد کی جانب سے جمع کرائی گئی بڑی تعداد میں درخواستوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں سے بعض مبینہ طور پر مقررہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد قبول کی گئی تھیں۔ان دعووں کی جانچ کے لیے ضروری ہے کہ ہر درخواست کی تاریخ، درخواست گزار کی شناخت، اعتراض کی وجہ، سماعت کی تفصیلات، متعلقہ دستاویزات اور حتمی فیصلے کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو۔ ایسا ریکارڈ ہونا چاہیے جس کی بعد میں آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکے۔کسی رائے دہندہ کا نام حذف کرنے کا فیصلہ اسی وقت قابلِ اعتماد سمجھا جا سکتا ہے جب یہ واضح ہو کہ کارروائی کس بنیاد پر ہوئی، متعلقہ شخص کو اطلاع دی گئی یا نہیں، اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع ملا یا نہیں، اور فیصلے سے اختلاف کی صورت میں اسے نظرثانی یا اصلاح کے لیے کیا راستہ فراہم کیا گیا۔یہ صرف انتظامی کارروائی کے تقاضے نہیں، بلکہ شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔پیلی بھیت سے متعلق بعض شکایات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایسے افراد کے نام حذف کر دیے گئے جو اب بھی اپنے متعلقہ علاقوں میں رہائش پذیر تھے، جب کہ بعض غیر مقامی افراد کے نام فہرست میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح کچھ رائے دہندگان کے ایک سے زیادہ ای پی آئی سی نمبر جاری ہونے اور ایک ہی شخص کے نام پر متعدد فارم چھ درخواستیں موجود ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔فارم چھ نئے رائے دہندہ کے اندراج، فارم آٹھ پہلے سے موجود اندراج میں ترمیم اور فارم سات نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان تینوں اقسام کی درخواستوں کی الگ الگ جانچ ضروری ہے، کیونکہ نئے نام کے اندراج، موجودہ معلومات میں تبدیلی اور کسی نام کے اخراج سے متعلق بے ضابطگیوں کی وجوہات اور نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔
ایک سے زیادہ شناختی نمبروں یا دوہرے اندراجات کے معاملے میں سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آیا واقعی ایک ہی شخص کے نام پر متعدد فعال اندراجات موجود ہیں یا کسی تکنیکی یا شناختی غلطی کی وجہ سے ایسا دکھائی دے رہا ہے۔ صرف ایک جیسے نام یا ملتے جلتے خاندانی کوائف کی بنیاد پر دو مختلف افراد کے اندراجات کو دوہرا قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔اس کے لیے متعلقہ درخواستوں، رہائشی پتے، تصاویر، شناختی دستاویزات اور منظوریوں کے ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔ اسی طرح کسی رائے دہندہ کا نام حذف کرنے یا اس کی تفصیلات تبدیل کرنے سے پہلے شواہد کی تصدیق اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی بھی لازم ہے۔فہرست رائے دہندگان کی درستی کا تقاضا یہ ہے کہ غیر ضروری یا واقعی دہرائے گئے اندراجات کی اصلاح کی جائے، لیکن کسی اہل رائے دہندہ کا نام محض غلطی، ناقص تصدیق یا انتظامی کوتاہی کے باعث حذف نہ ہونے پائے۔
بعض شکایات میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ فہرست رائے دہندگان میں تبدیلیوں سے ایک مخصوص مذہبی برادری، خصوصاً مسلمان رائے دہندگان، زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ناموں، خاندانی تفصیلات اور حذف شدہ اندراجات کی مثالیں پیش کی گئی ہیں، جب کہ بعض مقامی جائزوں میں متاثرہ اندراجات کی تعداد بھی بتائی گئی ہے۔تاہم، ان دعووں کی حقیقت جاننے کے لیے مکمل اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار درکار ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کن علاقوں اور پولنگ بوتھوں میں تبدیلیاں ہوئیں، ان کی تاریخیں کیا تھیں، درخواستیں کس نوعیت کی تھیں اور ان کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی۔
ان واقعات کے بعد انتخابی حکام کی جانب سے بے ضابطگیوں کی اصلاح، متعلقہ عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور مزید تحقیقات کے احکامات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پیلی بھیت کے معاملے میں موجودہ اور سابق انتخابی رجسٹریشن افسران اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی ہدایات دیے جانے کی اطلاع ہے۔ اسی آپریٹر کے ذریعے درج کی گئی فارم چھ اور فارم سات درخواستوں کی جانچ کا حکم بھی دیا گیا۔ان اقدامات کی اصل افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب تحقیقات چند شکایات تک محدود رہنے کے بجائے پورے متعلقہ ریکارڈ کا احاطہ کریں۔ اگر کسی ایک آپریٹر یا نظام کے ذریعے بڑی تعداد میں تبدیلیاں کی گئی تھیں تو ان سب کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا دوسری درخواستوں میں بھی اسی نوعیت کی خامیاں موجود تھیں۔
اس مقصد کے لیے ریکارڈ کا جامع آڈٹ، درخواستوں اور منظوریوں کی تصدیق اور متعلقہ عہدیداروں کے کردار کی جانچ اہم ہے۔ ڈیجیٹل نظام میں محفوظ لاگ اِن ریکارڈ، تبدیلیوں کی تاریخ اور وقت، منظوریوں کی تفصیلات اور اصل درخواستوں کا تقابل تحقیقات کو درست سمت دے سکتا ہے۔تحقیقات میں تکنیکی خرابی، انسانی غلطی، ناقص نگرانی اور دانستہ ردوبدل کے امکانات کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔ جہاں کسی فرد کی کوتاہی ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، جب کہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری انتظامی اور تکنیکی اصلاحات بھی کی جانی چاہییں۔ جواب دہی کا مقصد صرف کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں، بلکہ ایسی خامیوں کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنا بھی ہے۔
فہرست رائے دہندگان کی درستگی محض دفتری ریکارڈ کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق شہریوں کے حقِ رائے دہی سے ہے۔ اگر کسی اہل شہری کا نام فہرست سے غائب ہو جائے، اس کے شناختی نمبر کے ساتھ کسی دوسرے شخص کی تفصیلات منسلک ہو جائیں یا اس کا اندراج غلط معلومات کے تحت موجود ہو تو اسے ووٹ ڈالنے کے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیےفہرست رائے دہندگان میں غلطیوں کی اصلاح کے لیے واضح طریقۂ کار، بروقت اطلاع، شکایت درج کرانے کی سہولت اور فیصلے کے خلاف مناسب چارہ جوئی کا نظام ضروری ہے۔ شناختی کارڈ کا موجود ہونا اورفہرست رائے دہندگانمیں درست اندراج برقرار رہنا دو الگ، لیکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے امور ہیں۔ انتخابی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان دونوں کے درمیان مطابقت یقینی بنائے۔
اتر پردیش میں سامنے آنے والے واقعات نےفہرست رائے دہندگا ن کی تیاری، ڈیجیٹل نظاموں کے استعمال، درخواستوں کی جانچ، ناموں کے اندراج اور اخراج اور حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا جواب صرف دعووں، وضاحتوں یا ابتدائی تحقیقات سے نہیں، بلکہ وسیع اور غیر جانب دارانہ دستاویزی جانچ سے ہی مل سکتا ہے۔اس کے لیے سابقہ اور موجودہ انتخابی ریکارڈ کا تقابل، درخواستوں اور منظوریوں کی تصدیق، سافٹ ویئر کے آڈٹ لاگز کا جائزہ، پولنگ بوتھ کے لحاظ سے اعداد و شمار کی جانچ اور متاثرہ رائے دہندگان کی شکایات کا بروقت ازالہ ضروری ہے۔ ہر اندراج اور ہر تبدیلی کی وجہ واضح طور پر درج ہونی چاہیے، خودکار نظاموں سے پیدا ہونے والی غلطیوں کی بروقت نشان دہی ہونی چاہیے اور شکایات کی تحقیقات کسی دباؤ یا تعصب کے بغیر انجام دی جانی چاہییں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے