امبانی اور مسک کے درمیان مشترک سرمایہ داری ہےمگر فرق یہ ہے کہ ایک ہندوستان اور دوسری امریکہ کی امیر ترین شخصیت ہے۔ ایلون مسک ویسے تو دنیا کا سب سے امیر شخص ہے مگر اس کے باوجود وہ ہندوستان میں اپنی اسٹارلنک سروس کا اجرا نہیں کرپارہا ہے۔ اس تاخیر کے لیے وہ مکیش امبانی کو ذمہ دار مانتا ہے اس لیے اس نے پچھلے دنوں موصوف پر کئی سخت اور طنزیہ تبصرے کرڈالے ۔مثلاً ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پرمکیش امبانی کو طنزیہ انداز میں "وزیراعظم امبانی” اور "ہندوستان کا اصل باس” کہہ کر پکارا۔وہ بھول گیا اس کی یہ حرکت وزیر اعظم کے توہین کی مترادف ہے مگر امریکیوں کی اس کی پروا ہی نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوست مودی کے بارے میں بری بھلی باتیں کہہ کہہ کے انہیں اس کا عادی بنادیا ہے۔ میڈیا میں تو یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ مسک کے دوست ایپسٹن نے اسرائیل میں مودی جی سے ٹھمکے تک لگوا دئیے تھے۔ ایلون مسک نے الزام عائد کیا کہ ریلائنس کے اثر و رسوخ اور نام نہاد اجارہ داری کی وجہ سے ان کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک کو ہندوستان میں لائسنس کے حصول میں بلاوجہ روکا جا رہا ہے۔ایلون مسک نے امبانی کے حامیوں اور آن لائن حلقوں پر بھی تنقید کی اور ہندوستان میں سیاسی مہمات اور انتخابی فنڈنگ سے متعلق کچھ پرانی رپورٹس بھی شیئر کیں جس سے مودی اور ریلاینس کے رشتوں کی پول کھلتی ہے۔اس کے بعد جب ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے مسابقت کا خیرمقدم کیا گیا تو ایلون مسک نے بھی نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے شکریہ ادا کردیا ۔
مسک اور امبانی کی لڑائی کو اگر تجارتی رقابت کے زمرے میں ڈال کر سیاست سے الگ کردیا جائے تب بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورے کا کیا کریں گے؟ وہ ایک خالص سیاستداں ہیں ۔ انہوں نے رواں سال دوسری بار ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی زحمت کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرکے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھایا جاسکے ۔ اس مقصد میں بین السطور جس معاشی کشیدگی کااعتراف کیا گیا ہے ،اس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں شروع کی گئی محصولات (ٹیرف) کی جنگ ہے۔ اس نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اختلافات میں زبردست اضافہ کردیا تھا۔ حالیہ دورے میں روبیو نے کہا، ’’ہندوستان بارہا یہ خواہش ظاہر کر چکا ہے کہ وہ توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے، اور یہ ایک دانش مندانہ اقدام ہے لیکن یہ کام ایک دن میں نہیں ہوگا، اس لیے میرے خیال میں ہندوستان نے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے اور ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔‘‘ گویا انہوں نے ہندوستانی پیش رفت سے خوش ہوکر ’موگامبو خوش ہوا‘ کا نعرہ ٔ مستانہ بلند کردیا ۔
سوال یہ ہے کہ اس خوشی کا اظہار کرنے کی خاطر وہ ممبئی کیوں آئے ؟ وہاں سے جام نگر جانے کے بعد دہلی سے ہوتے ہوئے امریکہ کیوں نہیں لوٹے؟ دہلی سے انہیں ایسی کون سی پریشانی ہے جو اسے نظر انداز کردیا گیا؟ مارکو روبیو نے اسی سال مئی میں جب ہندوستان کا دورہ کیا تھا تو وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی لیکن اس بار وہ دہلی کے قریب بھی نہیں پھٹکے حالانکہ جام نگر سے دہلی جانا آسان تھا مگر دوبارہ ممبئی لوٹ آئے اور اپنے ہندوستانی ہم منصب وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کو ممبئی بلا لیا ۔ کیا مارکو روبیو نے اپنی اس رعونت کے مظاہرے سے مودی سرکار کی توہین نہیں کی ۔ انہوں نے اگر ایسا رویہ اختیار کیا تو نہ صرف ہندوستانی صنعتکاروں بلکہ وزیر خارجہ جے شنکر کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا مگر اس کے لیے جو ریڑھ کی ہڈی درکار ہے وہ سنگھ کی شاکھا میں توڑ دی جاتی ہے۔ ویسے شاکھا میں جائے بغیر کمل تھامنے والوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جاتا ہے ۔ اس لیےسرمایہ داروں سمیت وزیر خارجہ اور صوبائی وزیر اعلیٰ تک صف بستہ سرخ قالین بچھا کراستقبال میں کھڑے ہوگئے۔
ہندوستانی وزیر خارجہ جے شنکر سے ملاقات کے بعد روبیو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے تحفظ اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور امریکہ و ہندوستان کی اسٹریٹیجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی معاہدہ ’’بہت قریب‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ تجارتی معاہدہ وزیر تجارت کے ساتھ ہوگا یا براہِ راست سرمایہ داروں سے ہوجائے گا ۔ یہ معاہدہ اگر حکومت ہند کے ساتھ ہونا ہے تو وزیرصنعت و تجارت پیوش گوئل کو جو اتفاق سے ایوانِ پارلیمان میں ممبئی کی نمائندگی کرتے ہیں اس تقریب سے کیوں دور رکھے گئے؟ ماضی میں وہ ریل،مالیات، کوئلہ، توانائی اور مواصلات سمیت کئی اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں اس کے باوجود ان پر صنعتکاروں کو کیوں ترجیح دی گئی؟ ان سوالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی نظر میں اب مودی سرکار کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے۔ اسے پتہ ہے کہ امریکہ بہادر جو بھی کرے گا اس کو من عن تسلیم کرلیا جائے گا اور حکومتِ ہند اس میں مداخلت یا مخالفت نہیں کرے گی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹرمپ کے ساتھ دوستی ملک کی یہ درگت بنا دی ہے۔
امسال فروری میں دونوں ممالک نے ایک ایسے عبوری تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیا تھا جو امریکہ کی جانب جھکا ہوا تھا اور اس سے ہندوستانی کسانوں تک کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا مگرخدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس پر عمل درآمد کے آغاز سے قبل ہی امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ محصولات کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس لیے وہ معاہدہ ازخود عارضی طور پر ٹھنڈے بستے میں چلا گیا ۔ اب روبیو فرماتے ہیں ، ’’ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ میں کہوں گا کہ دستخط شدہ معاہدے کے بغیر جتنا قریب پہنچا جا سکتا ہے، ہم اتنے قریب ہیں۔ میرے خیال میں صرف چند معاملات حتمی طور پر طے ہونا باقی ہیں۔‘‘ یہ بات اگر درست ہے تو انہیں ممبئی میں وزیر خارجہ یا امبانی، اڈانی و ٹاٹا سنز کے سربراہ سے ملنے کے بجائے دہلی جاکر وزیر اعظم نریندر مودی اور پیوش گوئل سے ملنا چاہیے تھا ۔ جس طرح پانچ ماہ قبل 23 مئی( 2026) کو مارکو روبیو دہلی میں وزیراعظم مودی سے ملاقات کرکے انہیں واشنگٹن ڈی سی کے دورے کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ ’’ ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ایک تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا جس سے دونوں ممالک مزید مضبوط ہوں گے‘‘۔ کہہ کر پھر سے امریکہ آنے اور تجارتی معاہدے پر دستخط کے امریکہ آنے کی پھر سے دعوت دینی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ ممبئی میں آئے اور وہیں سے لوٹ گئے ۔ مودی جی کو پوچھ کر نہیں دیا۔
گزشتہ مرتبہ مارکو روبیو نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ سلامتی کے حوالے سے ہمارے بہت معاملات یکساں ہیں۔ انڈیا ہمارے کواڈ کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس کا فورم بھی ہو گا‘‘۔ اس سال کواڈ اجلاس میں صدر ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے مگر اس بابت گفتگو کرنے کے لیے روبیو نے مودی سے ملاقات کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ مارکو روبیو کا یہ رویہ وزیر اعظم نریندر مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کا مظہر ہے۔ ہندوستان کے تئیں معاندانہ رویہ اختیار کرنے والے مارکو روبیو اکیلے نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ہندوستانی پیشہ ور آئی ٹی انجینیرز کو تضحیک سے ’بندھوا مزدور ‘ کر مقامی ملازمتوں کا دشمن قرار دینا کیسا ہے؟ ٹرمپ کے ذریعہ ہندوستان کو ’جہنم کا دروازہ‘ کہنا کس زمرے میں آتا ہے۔ ہندوستانیوں کے خلاف امریکی حکومت کا ناروا سلوک تو اظہر من الشمس ہے۔ ہمارے باشندوں کو جس طرح بیڑیاں باندھ کر ہندوستان بھیجنا نفرت و اہانت کا عملی اظہار نہیں تو کیا ہے؟مارکو روبیو کے مطابق امریکہ میں یہودی مخالفت بڑھی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے کیونکہ امریکی رائے عامہ بنانے والا میڈیا یہودیوں کے قبضے میں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اس کے باوجود ایسا کیوں ہوگیا؟ اس کی وجہ اسرائیلی حکومت کے غزہ پر ہونے والے مظالم ہیں۔ اس کو عالمی عدالت نے نسل کشی قرار دے کر اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو مجرم بتایا ہے۔ ایسے میں انسانی ضمیر کی ان کے حامیوں سے نفرت فطری امر ہے۔ بدقسمتی ہے مودی جی اور ان کی سرکار بھی اسرائیلی حکومت کی ہمنوا بنی ہوئی ہے ۔ اس کی قیمت امریکہ میں رہنے والی ہندو برادری چکا رہی ہے۔ مارکو روبیو امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کے ساتھ لاکھ ہمدردی سہی مگر ان کا اپنے دورےمیں دہلی جاکر وزیر اعظم سے ملنے کے بجائے وزیر خارجہ کو ممبئی بلا لینا یقیناً ایک اہانت آمیز رویہ تھا جس کو آسانی سے بھلایا نہیں جاسکے گا ۔روبیوکا یہ دورہ تو خیر پانچ ماہ بعد ہوا مگر جاتے ہوئے وہ اعلان کرگئے کہ ہر تین ماہ میں ہندوستان کا دورہ کریں گے ۔ خدا کرے کہ یہ سلوک آئندہ دوہرایا نہ جائے اوروہ پروٹوکول کا پاس و لحاظ رکھیں ۔ امریکی انتظامیہ کے ذریعہ مکیش امبانی کی پذیرائی دیکھ کر نظر انداز کیے جانے والے مودی جی غالب کا یہ شعر پڑھ رہے ہوں گے؎
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا