الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں سرد جنگ

الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں سرد جنگ

الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں سرد جنگ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران کی گئی کارروائی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سپریم کورٹ میں سماعت میں عدالت نے مظاہرہ کے دوران پولیس کارروائی، میٹرو اسٹیشن پر پابندی اور انٹرنٹ سروس بند کیے جانے سے منسلک حکم عدولی کی عرضی پر بھی سماعت کی۔ پہلے تو ان سارے معاملات کوقابلِ اعتناء ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تو اس نے ان اقدامات سے منع کیا مگر اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرے کو بے دردی سے کچلا گیا ۔ اس میں وردی والوں کے علاوہ بجرنگی غنڈوں کا بھی خوب استعمال کیا گیا۔ ان لوگوں نے پولیس کے تحفظ میں مارپیٹ کی اس کے باوجود دہلی پینسٹھ مقامات پر مظاہرہ ہوا۔ اس طرح ایک جنتر منتر کا مظاہرہ پوری دہلی میں پھیل گیا اور اس نے سنگھ پریوار کو ننگا کردیا۔سرکار کی اس دھاندلی اور عائد کردہ پابندیوں اور متعلق افسران کے خلاف سپریم کورٹ میں حکم عدولی کی درخواستیں داخل کی گئیں ۔ ان میں الزام لگایا گیاکہ سپریم کورٹ کی پہلی کی ہدایات کے باوجود مظاہرہ کے دوران لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگانا ، مظاہرین کو حراست میں لینا ، میٹرو خدمات اور انٹرنیٹ پر پابندی لگانا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی طرف سے عدالت میں جوابات بھی داخل کیے گئے ۔ مظاہرہ کے دوران لگائی گئی پابندیوں سے متعلق سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں حکومت کی طرف سے بغیر شرط معافی مانگ لی ۔ویسے اپنی ہزیمت کو چھپانے کے لیے انھوں نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ حکومت نے معافی مانگ لی ہے، جبکہ حکم عدولی کی کارروائی میں بلاشرط معافی مانگنا ایک رسمی عمل بھی ہے۔ اس پر جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا کہ عدالت کو حلف نامے تاخیر سے ملے نیز اس وقت تک صرف ڈی ایم آر سی کا حلف نامہ ملا تھا۔ سالیسٹر جنرل نے جب کہا کہ دہلی پولیس کمشنر نے اپنے حلف نامہ میں کارروائی سے متعلق سبھی بنیادی باتیں سامنے رکھی ہیں توجسٹس باگچی نے معافی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس بلاشرط معافی پر توجہ نہیں دے رہی ہے کیونکہ سالیسٹر جنرل کے دلائل سے یہ مشروط معافی جیسی معلوم ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرز کو نوٹس جاری کرکےایک کرارہ طمانچہ جڑ دیا۔

سپریم کورٹ میں 28؍ اکتوبر دو ایسے تبصرے ہوئے جنھوں نے الیکشن کمیشن کی نیند اڑا دی۔ سپریم کورٹ نے ووٹ گنتی کی ویڈیو نہ ملنے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے کمزور بہانے قبول نہیں کیے جائیں گے۔ یہ کرناٹک کی شرنگیری اسمبلی سیٹ کے 2023 کے انتخابات کا معاملہ زیر سماعت تھا۔ کانگریس رہنما ٹی ڈی راجے گوڑا نے یہ سیٹ 201 ووٹوں کے فرق سے مذکورہ بالا نشست جیت لی تھی، لیکن بعد میں کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم پر پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ گنتی ہوئی اور بی جے پی امیدوار ڈی این جیوراج کو کامیاب قرار دیا گیا۔ راجے گوڑا نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو رواں سال مئی میں تو انہیں عبوری راحت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ جب تک ان کی عرضی زیر التوا رہے گی، وہ اسمبلی کے رکن بنے رہیں گے۔ کانگریس لیڈر نے الیکشن آبزرور کی رپورٹ اور سال 2023 میں ہوئی ووٹوں کی اصل گنتی اور اس سال ہوئی دوبارہ گنتی، دونوں کی ویڈیو ریکارڈنگ تک رسائی مانگ لی۔ سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے اصل گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ پیش کرنے کا حکم دیا ۔ اس پر کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ ویڈیو نہیں مل رہی اور اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے اس پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ الیکشن کرانے والے ادارے کے پاس اپنے ہی انتخابات کا ریکارڈ کیسے موجود نہیں ہے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر دستیاب تمام ریکارڈ پیش کیا جائے۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا تو کمیشن کے خلاف منفی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے جب اس معاملے میں کہا کہ اصل گنتی کی فوٹیج نہیں مل رہی ہے۔ بنچ نے اس بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنچ کے لیے الیکشن کمیشن کی یہ بات ماننا مشکل ہے کہ وہ اپنے کرائے گئے انتخابات کے ریکارڈ نہیں ڈھونڈ سکا۔ بنچ نے پوچھا کہ ‘الیکشن کمیشن کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس نے ریکارڈ کھو دیے ہیں؟’بنچ نے صاف کہا کہ وہ ایسے بہانے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور زور دیا کہ الیکشن کمیشن کا مقصد انتخابات کرانا ہے اور اس کے بارے میں دستاویزات بھی رکھنا ہے۔ بنچ نے پوچھا کہ ‘آپ کا یہ کہنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا کہ ہم اسے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟’ بنچ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت میں اس کے پاس جو بھی ریکارڈز ہیں، انہیں پیش کرے۔ بنچ نے یہ صاف کر دیا کہ اگر الیکشن کمیشن دستاویزات پیش نہیں کر پاتا ہے، تو اس کا الٹا نتیجہ نکالا جائے گا یعنی یہ بات ثابت ہوجائے گی ووٹ چوری میں خود چوکیدار ملوث ہے۔ راہل گاندھی اور پھر سی جے پی نے سڑکوں پر اتر کر لگائے اب اس پر عدالتِ عظمیٰ کی مہر بھی ثبت ہونے جارہی ہے۔اس معاملے کی اگلی سماعت 15 فروری 2027 کو ہوگی بعید نہیں کہ اس سے قبل گیانیش کمار استعفیٰ دے کر ملک سے باہر فرار ہوجائیں ۔

سپریم کورٹ کا دوسرا معاملہ دہلی کا ہے۔ وہاں الیکشن کمیشن نے 31؍ اگست کو ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری کیا تھا۔ اس کے مطابق، دہلی میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 45 لاکھ ووٹروں میں سے 47 لاکھ کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے تھے۔ معروف جہد کار اور وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے یہ مطالبہ کیا کہ دہلی کے اندر ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے جن لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، ان کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے مناسب طریقہ کار بنایا جائے۔ ان کی درخواست ہے کہ ایسے ووٹروں سے یہ اعلان کرنے کا مطالبہ نہ کیا جائے کہ وہ پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی میں ایس آئی آر کے تحت دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 30؍ اکتوبر ہے اور اس کے بعد ووٹروں کی حتمی فہرست شائع ہو جائے گی۔بھوشن کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی سماعت اگر 30؍ اکتوبر کو ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس پر بنچ نے سماعت کی تاریخ آگے بڑھا کر 28؍ اکتوبر مقرر کر دی۔

پرشانت بھوشن نے اس سے بھی پہلے سماعت کی درخواست کی تو بنچ نے کہا، ’’ہم ایسا حکم دینے پر غور کر رہے ہیں جس سے اس مسئلے کا حل نکل سکے۔‘‘ اس سے عدالیہ کے ارادوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 22 ستمبر کو انجلی بھاردواج اور امرتا جوہری کی درخواست میں ووٹروں کو ’’منطقی تضادات‘‘ کے زمرے میں رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے معیار، تعریفوں، الگورتھم سے متعلق اصولوں اور عملی رہنما ہدایات کو بھی عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ درخواست گزاروں نے حال ہی میں زیر سماعت مقدمے میں ایک اضافی درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے ووٹر لسٹ میں درج کسی بھی ووٹر سے فارم 6 میں شامل ایسا اعلان جمع کرانے کا مطالبہ نہ کیا جائے جو اس پر حقیقتاً لاگو نہیں ہوتا۔ درخواست گزاروں نے یہ ہدایت دینے کی بھی مانگ کی ہے کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے یا بحال کرنے کا دعویٰ دیگر شرائط کے مطابق درست ہے تو محض اضافی ایس آئی آر اعلان نامہ جمع نہ کرانے کی بنیاد پر اسے مسترد نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ دہلی میں ایس آئی آر کے تحت لوگوں کو ’’تقریباً میکانکی انداز میں‘‘ نوٹس بھیجے جا رہے ہیں اور اس عمل میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہییں۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’منطقی تضاد‘‘ کی شناخت کے لیے اختیار کیے گئے معیار کی وضاحت ضروری ہے۔ انقلابِ زمانہ کے اثرات نے حکومت کے ساتھ اس کی حامی اداروں بشمول الیکشن کمیشن کو متاثر کیا ۔ کل تک جوکمیشن فہرست کی سافٹ کاپی دینے کا روادار نہیں تھا اب اس پر راضی ہوگیا۔ فارم میں ۶؍ میں تبدیلی کی جانب بڑھ گیا بلکہ اب تو یہ امکان بھی پیدا ہوگیا ہے کہ ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ مسترد کردیا جائے۔سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی یہ سرد جنگ کیا گل کھلائے گی اور حکومت پر کیسے اثر انداز ہوگی یہ وقت بتائے گا لیکن سنگھ نواز دانشور ابھی سے چیف جسٹس سوریہ کانت کو برا بھلا کہنے لگے ہیں بلکہ کچھ نے تو انہیں نمک حرام تک کے خطاب سے نواز دیا ہے جبکہ یہ وہی صاحب ہیں کہ جو نوجوانوں کو کاکروچ بولنے کے باوجود حکومت کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے تھے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے