عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں ۔۔ سورت الکھف کے حوالہ سے

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں ۔۔ سورت الکھف کے حوالہ سے

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں ۔۔ سورت الکھف کے حوالہ سے

مرتب :- ڈاکٹر عتیق الرحمان عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

سیدنا علامہ اقبال کا یہ شہرہ آفاق مصرعہ "عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں” محض ایک شاعرانہ تخیل یا جذباتی نعرہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس قرآنی منہج، نبوی تربیت اور اسلامی بیداری (Islamic Resurgence) کا شعری استعارہ ہے جو جمود کو توڑ کر انقلابِ نو کی بنیاد رکھتا ہے۔ عقابی روح سے مراد بلند پروازی، خودداری، غیور پناہ گاہوں سے بے نیازی، تیز نگاہی اور طوفانوں سے ٹکرانے کا وہ عزمِ مصمم ہے جو مسلم نوجوان کو زمین کے تعفن سے اٹھا کر ثریا کے اوج پر پہنچا دیتا ہے۔ جب یہ روح کسی نسلِ نو میں انگڑائی لیتی ہے، تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے، قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھتے ہیں اور باطل کے بت پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ زیرِ نظر مقالے میں ہم اس ملکوتی و عقابی روح کا تجزیہ سورت الکہف کے عمیق تناظر، سیرتِ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے درخشندہ آئینے، احادیثِ مبارکہ، آیاتِ ربانی، صحابہ کرام و خلفائے راشدین کے انقلابی اسوہ اور امت کے عبقری فقہاء، مفسرین اور جدید تحریکاتِ اسلامی کے سرخیل دانشوروں کے افکار کی روشنی میں فصیح و بلیغ اور علمی زبان میں پیش کریں گے۔
۱۔ سورت الکہف کا تناظر اور بیداریِ شباب
سورہ الکہف قرآنِ مجید کی وہ کلیدی سورت ہے جو فتنۂ دجال اور مادی استکبار کے خلاف مومنانہ مزاحمت کا مینوفیسٹو (Manifesto) فراہم کرتی ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی "اصحابِ کہف” کے تذکرے سے ہوتا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے "فِتْيَةٌ” (نوجوانوں کی ایک جماعت) کہہ کر پکارا۔ یہ وہ نوجوان تھے جن کے اندر عقابی روح بیدار ہوئی تو انہوں نے وقت کے جابر و قاہر بادشاہ دسیانوس کی خدائی اور شرک کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا۔
قرآنِ حکیم ان کی اس عقابی شان کو یوں بیان کرتا ہے: "اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا” (جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور کہا: اے ہمارے رب، ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان درست کر دے)۔
ان نوجوانوں کی بیداری کے چند بنیادی مظاہر درج ذیل ہیں جن سے عقابی روح کی عکاسی ہوتی ہے:
ایمانی استقامت اور اعلانِ حق: انہوں نے صرف دل میں ایمان کو چھپایا نہیں بلکہ وقت کے ظالم دربار میں کھڑے ہو کر اپنے رب کی توحید کا ببانگِ دہل اعلان کیا۔ رب العزت فرماتا ہے: "وَرَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ” (اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا جب وہ کھڑے ہوئے، پس انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے)۔ یہ کھڑے ہو کر اعلان کرنا (اذ قاموا) نوجوانوں کی اسی ہمتِ مرداں اور پروازِ عقابی کا مظہر ہے۔
ہجرت اور مادی تعیشات سے بے نیازی: عقاب کبھی دوسرے کے بنائے ہوئے آشیانے میں نہیں رہتا اور نہ ہی وہ مردہ شکار کھاتا ہے۔ اصحابِ کہف نے شاہی محلات کی پرتعیش زندگی، منصب اور جاہ و جلال کو لات مار دی اور غار کی سخت و تاریک زندگی کو گلے لگا لیا، کیونکہ ان کے نزدیک ضمیر کی آزادی اور ایمان کی حفاظت مادی آسائشوں سے کہیں بالا تر تھی۔
فکری شعور اور دجالی نظام کا بائیکاٹ: سورت الکہف کا یہ تناظر واضح کرتا ہے کہ عقابی روح کا پہلا تقاضا مروجہ فاسد نظامِ حیات سے فکری و عملی بغاوت ہے۔ جب معاشرہ سڑ گل جائے، تو نوجوانوں کا کام اس سڑاند کا حصہ بننا نہیں، بلکہ اس سے کنارہ کش ہو کر ایک نئے صالح انقلاب کی تیاری کرنا ہے۔
۲۔ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینے میں روحِ شباب
سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شاہد ہے کہ مکہ کی سنگلاخ وادی میں جب محسنِ انسانیت نے دعوتِ حق کا علم بلند کیا، تو مروجہ چوہدریوں اور بوڑھے جاگیرداروں نے آپ کی مخالفت کی، لیکن مکے کے غیور اور مہم جو نوجوانوں نے لبیک کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینے میں عقابی روح کی تربیت کا ایک خاص منہج نظر آتا ہے، جس نے نوجوانوں کو قیادت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کیا۔
سیرتِ نبوی کے چند تابناک نمونے درج ذیل ہیں:
دارِ ارقم کا نوجوان مرکز: مکہ کا وہ مرکز جہاں اسلام کی ابتدائی نرسری قائم ہوئی، وہ ایک نوجوان صحابی حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا گھر تھا، جن کی عمر اس وقت بیس سال سے بھی کم تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبے پر اعتماد کیا اور اسے تحریک کا ہیڈ کوارٹر بنایا۔
ہجرت کی رات علی المرتضیٰ کا ایثار: ہجرتِ مدینہ کی خوفناک رات، جب چاروں طرف تلواریں لہرا رہی تھیں اور موت کا رقص جاری تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بستر پر ایک بائیس سالہ نوجوان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سلایا۔ حضرت علی کے اندر کی عقابی روح نے موت کے بستر کو مخمل کا بستر سمجھ کر قبول کیا، کیونکہ وہاں امت کے مستقبل کی بقا کا راز چھپا تھا۔
سفیرِ اسلام مصعب بن عمیر: مکے کا سب سے خوبصورت، پرتعیش زندگی گزارنے والا اور مہنگے ترین عطور استعمال کرنے والا نوجوان جب مصعب بن عمیر کے روپ میں ایمان لاتا ہے، تو اس کی عقابی روح بیدار ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یثرب (مدینہ) کا پہلا سفیر بنا کر بھیجتے ہیں۔ ایک اکیلا نوجوان اپنی حکمت، متانت اور فصاحت سے پورے مدینے کے سیاسی اور معاشرتی رخ کو بدل دیتا ہے اور یثرب کو "مدینۃ الرسول” بنانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اسامہ بن زید کی سپہ سالاری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا آخری فیصلہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک عظیم لشکر کی روانگی تھا، جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جیسے جلیل القدر اکابر صحابہ شامل تھے۔ حضرت اسامہ کی عمر اس وقت صرف سترہ یا اٹھارہ سال تھی۔ یہ اس بات کی عملی تمثیل ہے کہ اسلام میں قیادت کا معیار عمر کی طوالت نہیں بلکہ صلاحیت، ایمانی پختگی اور عقابی روح کی بیداری ہے۔
۳۔ احادیثِ مبارکہ اور قرآنی آیات کی شہادتیں
اسلامی شریعت کے مصادرِ اصلیہ یعنی قرآن اور حدیث میں نوجوانوں کی اس انقلابی بیداری کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔
قرآنی آیات کے شواہد:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ ۖ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ” (اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا، تو عنقریب اللہ ایسی قوم لائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے، جو مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے)۔ یہ صفت کہ "کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے” (ولا یخافون لومۃ لائم)، عقابی روح کا طرۂ امتیاز ہے، جو مصلحت پسندی کے خول کو توڑ کر صرف رضاے الٰہی کے لیے جیتی اور مرتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں قوم نے کہا: "سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗٓ اِبْرٰهِيْمُ” (ہم نے ایک نوجوان کو سنا جو ان بتوں کا ذکر برائی سے کرتا تھا، جسے ابراہیم کہا جاتا ہے)۔ یہاں بھی "فتیٰ” (نوجوان) کا لفظ استعمال کر کے واضح کیا گیا کہ بت شکن جذبہ ہمیشہ نوجوانوں کا ہی مقدر ہوتا ہے۔
احادیثِ نبویہ کے ارشادات:
صحیح بخاری و مسلم کی مشہور حدیث ہے کہ قیامت کے دن، جب کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ جن سات اشخاص کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ ہوگا: "وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ” (اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو)۔ جوانی میں جذبات کے طوفان کو قابو کرنا اور شہوات کے ماحول میں پاکدامنی کی زندگی گزارنا عقابی روح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ…” جس میں سب سے پہلے فرمایا: "شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ” (اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو)۔ جوانی کی توانائیوں کو اقامتِ دین کی جدوجہد میں لگانا ہی اس نعمت کا حقیقی شکر ہے۔
۴۔ خلفائے راشدین کے نظریات اور انقلابی اسوہ
خلفائے راشدین نے اپنے دورِ خلافت میں نوجوانوں کی اس عقابی روح کو نہ صرف سراہا بلکہ سلطنتِ اسلامیہ کے تنظیمی، عسکری اور سیاسی ڈھانچے میں ان کا بھرپور استعمال کیا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نظریہ: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فتنۂ ارتداد کے خلاف جس آہنی عزم کا مظاہرہ کیا، اس میں انہوں نے نوجوان مجاہدین پر انحصار کیا۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین کا عظیم الشان کام انجام دینے کے لیے انہوں نے ایک نوجوان صحابی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا (جن کی عمر اس وقت تقریباً بائیس سال تھی)۔ حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا تھا: "انك رجل شاب عاقل لا نتهمك” (تم ایک نوجوان اور عاقل انسان ہو، ہم تم پر کوئی تہمّت یا شک نہیں رکھتے)۔ یہ نوجوانوں کی فکری صلاحیت پر خلافتِ راشدہ کے اعتماد کی بین دلیل ہے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا منہج: حضرت عمر فاروقؓ اپنی شوریٰ کے اجلاسوں میں بڑے بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ نوجوانوں، بالخصوص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا کرتے تھے۔ جب بعض اکابر نے اس پر اعتراض کیا، تو حضرت عمر نے ابنِ عباس سے سورہ النصر کی تفسیر پوچھ کر سب پر ثابت کیا کہ فہم و فراست کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ دل و دماغ کی بیداری سے ہے۔ حضرت عمر کا قول تھا: "علیکم بالشباب فإنہم أرق أفئدۃ” (نوجوانوں کو لازم پکڑو، کیونکہ ان کے دل سب سے زیادہ رقیق اور حق کو جلدی قبول کرنے والے ہوتے ہیں)۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حکمتِ عملی: حضرت عثمانؓ نے اپنے دور میں سلطنتِ اسلامیہ کی بحری فتوحات اور دور دراز کے علاقوں میں اشاعتِ اسلام کے لیے نوجوان جرنیلوں اور گورنروں کو آگے بڑھایا، جنہوں نے بحیرہ روم میں قیصر کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا نظریہ: شیرِ خدا حضرت علی تو خود شجاعت، بلاغت اور روحِ شباب کا مجسمہ تھے۔ آپ کا خطبۂ جہاد نوجوانوں کے اندر وہ حرارت پیدا کرتا تھا کہ وہ موت کی پروا کیے بغیر میدانِ کارزار میں کود پڑتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ جب حق کی پہچان ہو جائے، تو اس کی راہ میں بوڑھا ہونے کا انتظار مت کرو، بلکہ جوانی کے پورے جوش کے ساتھ باطل پر ٹوٹ پڑو۔
۵۔ اکابر علماء اور دانشورانِ امت کا نظریہ
امتِ مسلمہ کے کلاسیکی مفسرین، فقہاء اور صوفیاء نے ہمیشہ جوانی کی بیداری کو تزکیۂ نفس اور اقامتِ دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ کا نظریہ: امام غزالی نے اپنی معرکہ الآراء تصنیف احیاء علوم الدین اور نوجوانوں کے نام اپنے مکتوب ایھا الولد میں واضح کیا ہے کہ جوانی نفسِ امارہ کے خلاف جہادِ اکبر کا نام ہے۔ امام غزالی کے نزدیک عقابی روح کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان اپنے دل کو غیر اللہ کی محبت سے پاک کر کے معرفتِ الٰہی کے افق پر پرواز کرے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو جوانی شہوات کی غلامی میں گزر جائے، وہ دراصل انسانیت کے درجے سے گری ہوئی زندگی ہے؛ حقیقی نوجوان وہ ہے جو عقل کو خواہش پر غالب کر لے۔
امام نووی رحمہ اللہ کا فکر: امام نووی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ریاض الصالحین میں باب التوبہ اور جوانی کی عبادت کے ابواب قائم کر کے یہ ثابت کیا کہ امت کی اصلاح کا دارومدار نوجوانوں کے کردار پر ہے۔ امام نووی خود جوانی کی حالت میں ہی علم کے اس مقام پر فائز ہوئے کہ آج پوری دنیا ان کے مرتب کردہ احادیث کے مجموعوں سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ ان کا نظریہ تھا کہ وقت کی قدر کرنا اور سنتِ نبوی پر سختی سے کاربند ہونا ہی وہ حقیقی پرواز ہے جو انسان کو مقربین کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔
۶۔ تحریکاتِ اسلامی کے سرخیل اور جدید مفکرین کے نظریات
بیسویں صدی میں جب امتِ مسلمہ استعمار کی غلامی کا شکار تھی، تو جن مفکرین نے مسلم نوجوانوں کے اندر عقابی روح کو بیدار کرنے کے لیے انقلابی نظریات پیش کیے، ان کے افکار درج ذیل ہیں:
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
مولانا مودودی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تجدید و احیائے دین اور نوجوانوں کے نام مختلف خطابات میں عقابی روح کی تشریح "انقلابی ایمانی شعور” سے کی ہے۔ مولانا کا نظریہ تھا کہ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات (System of Life) ہے جو پوری دنیا پر غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔
نظریاتی و عملی تمثیل: مولانا مودودی نے جوانی کے جذبے کو مروجہ سیاسی و مادی بتوں (جیسے قوم پرستی، سوشلزم، کیپٹلزم) کے خلاف استعمال کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نوجوانوں کی نگاہیں اقامتِ دین کے عالمی مشن پر مرکوز نہیں ہوں گی، وہ سستی سیاست کا شکار ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار کی جس نے علم، استدلال اور نظم و ضبط کے ذریعے باطل افکار کا مقابلہ کیا۔
مولانا امین احسن اصلاحی ندوی
مولانا اصلاحی نے اپنی شاہکار تفسیر تدبر قرآن میں سورہ الکہف کے تحت اصحابِ کہف کے واقعے کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حق کی دعوت جب بھی اٹھی ہے، اسے نوجوانوں نے ہی سہارا دیا ہے۔
فکری اسلوب: مولانا اصلاحی کے نزدیک عقابی روح کا مطلب قرآنِ مجید کے غوروخوض (تدبر) سے پیدا ہونے والی وہ حکمت ہے جو انسان کو زمانے کے بہاؤ کے خلاف کھڑا ہونے کی طاقت دیتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اندھی تقلید اور فکری جمود عقاب کی پرواز کو ختم کر دیتے ہیں؛ لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ براہِ راست قرآن کے چشمے سے سیراب ہوں تاکہ ان کے اندر حق و باطل کی تمیز کا ملکوتی ملکہ پیدا ہو سکے۔
امام حسن البناء شہید
مصر میں تحریکِ اخوان المسلمون کے بانی، امام حسن البناء شہید نے بیسویں صدی کے سب سے بڑے نوجوانوں کے نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مسلم نوجوان کے اوصاف کو بیان کرتے ہوئے اسے "عقیدے کا سپاہی” قرار دیا۔
عملی تمثیل: حسن البناء نے قاہرہ کے قہوہ خانوں اور کلبوں سے نوجوانوں کو اٹھا کر مساجد اور جہادِ فلسطین کے میدانوں میں لا کھڑا کیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ جب نوجوان کے دل میں اللہ کا خوف اور امت کا درد جاگتا ہے، تو وہ رات کا عابد اور دن کا مجاہد بن جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: "إنما تنجح الفكرة إذا قوي الإيمان بها، وتوفر الإخلاص في سبيلها، وازداد الحماس لها، ووجد الاستعداد الباذل المضحى لتحمل أعبائها” (کوئی نظریہ تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب اس پر ایمان مضبوط ہو، اس کی راہ میں اخلاص ہو، اس کے لیے جوش و جذبہ ہو، اور اس کے بوجھ کو اٹھانے کے لیے قربانی کا جذبہ موجود ہو)۔ یہ چاروں صفات صرف بیدار نوجوانوں میں ہی یکجا ہو سکتی ہیں۔
سید قطب شہید
سید قطب نے اپنی معرکہ الآراء تفسیر فی ظلال القرآن اور انقلابی کتاب معالم فی الطریق (جادہ و منزل) میں عقابی روح کو "جاہلیتِ جدیدہ کے خلاف اعلانِ جنگ” سے تعبیر کیا۔
انقلابی فکر: سید قطب کے نزدیک مروجہ دنیا ایک مادی جاہلیت کا شکار ہے، اور اس جاہلیت کو توڑنے کے لیے ایک ایسی "مومن قرآنی جماعت” (قرآنی نسلِ نو) کی ضرورت ہے جو دنیا کی کسی طاقت سے مرعوب نہ ہو۔ انہوں نے اپنی شہادت کے ذریعے عملی تمثیل پیش کی کہ عقاب پھانسی کے فندے کو چوم سکتا ہے، لیکن باطل حکمران سے معافی مانگ کر اپنی پرواز کو داغدار نہیں کر سکتا۔
خرم جاہ مراد
جدید دور میں نوجوانوں کی نفسیات اور ان کی تنظیمی تربیت کے ماہر، خرم جاہ مراد نے اپنی کتابوں جیسے لمحاتِ بیداری اور نوجوانوں سے خطابات میں عقابی روح کو عصری اسلوب میں پیش کیا۔
عملی منہج: خرم مراد کا نظریہ تھا کہ مسلم نوجوان کو دنیا کے علوم (سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات) میں بھی امامت کا مقام حاصل کرنا چاہیے اور اپنی اخلاقی پاکیزگی کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک عقابی روح کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان گلوبلائزیشن (Globalization) کے اس دور میں اسلام کا داعی بن کر ابھرے، نہ کہ مغربی تہذیب کا مقلد بن کر گم ہو جائے۔
مولانا سید جلال الدین عمری
سابق امیر جماعتِ اسلامی ہند اور مایہ ناز مصنف، مولانا جلال الدین عمری نے اپنی تصنیف معاشرہ اور اسلام اور بالخصوص نوجوانوں کے مسائل پر اپنے مقالات میں واضح کیا کہ امت کی تعمیرِ نو میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں۔
فکری اصول: مولانا عمری کا نظریہ تھا کہ عقابی روح کی بیداری کا مقصد معاشرتی بگاڑ، اخلاقی انحطاط اور بے راہ روی کے طوفان کے خلاف بند باندھنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنی توانائیوں کو تخریبی سرگرمیوں کے بجائے تعمیری، تعلیمی اور دعوتی سرگرمیوں میں صرف کرنا چاہیے تاکہ ایک صالح مسلم معاشرے کا قیام عمل میں آ سکے۔
مفصل حواشی، حوالہ جات اور مصادر
یہاں اس مضمون کے تمام علمی مباحث، آیات، احادیث اور مفکرین کے افکار کے اصل مصادر و مراجع کا تفصیلی اندراج کیا جا رہا ہے:
۱۔ قرآنی آیات اور تفسیری حواشی
سورہ الکہف، آیت ۹ تا ۱۴: اصحابِ کہف کا واقعہ اور نوجوانوں کی ایمانی استقامت کا تذکرہ۔ تفصیلی فکری نکات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: تدبر قرآن، مولانا امین احسن اصلاحی، جلد ۴، صفحہ ۵10-530، مطبوعہ فاران فاؤنڈیشن، لاہور۔
سورہ المائدہ، آیت ۵۴: "فسوف يأتي الله بقوم…” کی تفسیر کے لیے دیکھیں: فی ظلال القرآن، سید قطب شہید، دار الشروق، قاہرہ؛ جہاں انہوں نے اس آیت کو مومنانہ بیداری اور عالمی اسلامی انقلاب کی بنیاد قرار دیا ہے۔
سورہ الانبیاء، آیت ۶۰: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بت شکن نوجوان (فتیٰ) کے طور پر تذکرہ۔ تفہیم القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد ۳، دار الایمان، لاہور۔
۲۔ احادیثِ مبارکہ کے مراجع
صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوٰۃ (حدیث نمبر ۶۶۰): عرش کے سائے تلے جگہ پانے والے سات افراد کا تذکرہ، بشمول "وشاب نشأ في عبادۃ الله”۔
صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل اخفاء الصدقۃ (حدیث نمبر ۱۰۳۱): مذکورہ بالا حدیث کی مسلم شریف کی روایت۔
المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب الرقاق (حدیث نمبر ۷۸۴۶): "اغتنم خمساً قبل خمس…” (جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو)۔ امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
ریاض الصالحین، امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی: باب التوبہ اور باب مجاھدۃ النفس، مکتبہ دار السلام، ریاض۔
۳۔ سیرتِ نبوی اور تاریخِ صحابہ کے مصادر
الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارکپوری: دارِ ارقم کی تاسیس، حضرت مصعب بن عمیر کی مدینہ ہجرت اور دعوت، اور اسامہ بن زید کے لشکر کی تفصیلات۔ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ، لاہور۔
سیرت ابن ہشام، ابو محمد عبد الملک بن ہشام: ہجرتِ نبوی کی رات حضرت علی المرتضیٰ کے بسترِ رسول پر سونے کا مفصل واقعہ، جلد ۲، دار المعرفۃ، بیروت۔
تاریخ الطبری (تاریخ الامم والملوک)، محمد بن جریر الطبری: فتنۂ ارتداد کے خلاف سیدنا ابوبکر صدیق کی حکمتِ عملی اور حضرت زید بن ثابت کا جمعِ قرآن کے لیے انتخاب، جلد ۳، دار التراث، بیروت۔
الطبقات الکبریٰ، ابن سعد: حضرت عمر فاروق کے دور میں نوجوان صحابہ بالخصوص ابنِ عباس کی علمی و شوریٰ میں شمولیت کے واقعات، دار صادر، بیروت۔
۴۔ اکابر علماء اور کلاسیکی مفکرین کے مراجع
احیاء علوم الدین، امام ابو حامد الغزالی: کتاب الصبر والشکر اور کتاب ریاضۃ النفس، دار المعرفۃ، بیروت۔ جہاں جوانی کے تزکیے اور نفسِ امارہ کے خلاف جنگ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
ایھا الولد (اے فرزند)، امام غزالی: نوجوانوں کے نام امام کا خصوصی نصیحت نامہ، ترجمہ و شرح، مکتبہ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور۔
۵۔ جدید تحریکاتِ اسلامی اور مفکرین کے مصادر
تجدید و احیائے دین، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی: اسلامی انقلاب کا منہج اور نوجوانوں کا کردار، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور۔
مجموعہ رسائل امام حسن البناء، حسن البناء شہید: رسالہ "إلى الشباب” (نوجوانوں کے نام)، دار الدعوۃ، اسکندریہ، مصر۔
معالم فی الطریق (جادہ و منزل)، سید قطب شہید: دار الشروق، قاہرہ و بیروت۔ (جدید مادی جاہلیت کے خلاف مسلم نوجوانوں کی فکری بیداری کا مینوفیسٹو)۔
لمحاتِ بیداری اور نوجوانوں سے خطابات، خرم جاہ مراد: منشورات، لاہور۔ (عصری چیلنجز اور مسلم نوجوانوں کی تنظیمی و اخلاقی ذمہ داریاں)۔
معاشرہ اور اسلام، مولانا سید جلال الدین عمری: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۔ (نسلِ نو کی تعلیم و تربیت اور معاشرتی بگاڑ کے خلاف ان کا کردار)۔
ا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے