راجستھان کے مدارس – تعلیمی اصلاح کے نام پر قانونی خودمختاری کا امتحان!

راجستھان کے مدارس – تعلیمی اصلاح کے نام پر قانونی خودمختاری کا امتحان!

راجستھان کے مدارس –
تعلیمی اصلاح کے نام پر قانونی خودمختاری کا امتحان!

ازقلم: ✍️ افتخاراحمدقادری

راجستھان میں تقریباً تین ہزار مدارس کے انتظامی و تعلیمی مستقبل سے متعلق ہائی کورٹ کی حالیہ کارروائی نے اقلیتی تعلیمی اداروں کی آئینی حیثیت، مذہبی آزادی، تعلیمی معیار اور حکومتی نگرانی کے باہمی تعلق کو ایک مرتبہ پھر قومی مباحثے کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے۔ جسٹس ونیت کمار ماتھر اور جسٹس چندر شیکھر شرما پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پرتیپال سنگھ کی جانب سے دائر کردہ عرضی پر ریاستی حکومت سے تفصیلی حلف نامہ طلب کرتے ہوئے اسے ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک اپنا لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس مقدمے کا بنیادی سوال مدارس کے نصاب یا انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس سے یہ وسیع تر مسئلہ بھی وابستہ ہے کہ تعلیمی معیار کی بہتری، بچوں کے حقوق کے تحفظ اور مذہبی اقلیتوں کی آئینی آزادی کے مابین توازن کس طرح برقرار رکھا جائے۔
عرضی گزار کی جانب سے راجستھان مدرسہ بورڈ ایکٹ ۲۰۲۰ء کی قانونی حیثیت اور اس کے تحت مدارس کے انتظامی و تعلیمی معاملات پر اٹھائے گئے اعتراضات نے ایک اہم قانونی بحث کو جنم دیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے ان اداروں کی نگرانی کا موجودہ نظام مؤثر نہیں اور تعلیم کے معیار کو جانچنے کے لیے مزید سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت کے سامنے ایسے متعدد مطالبات رکھے گئے ہیں جن کے اثرات ریاست کے ہزاروں مدارس، ان میں زیرِ تعلیم طلبہ اور تدریسی خدمات انجام دینے والے افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ عدالت نے فی الحال ان مطالبات کو حتمی قانونی منظوری نہیں دی نہ ہی مدرسہ بورڈ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا ہے۔ موجودہ مرحلہ ریاستی حکومت سے جواب طلب کرنے اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کا ہے، جسے کسی حتمی فیصلے یا مدارس کے خلاف عدالتی حکم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ عرضی گزار کے وکیل نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس میں ابتدائی اور بالائی ابتدائی درجات کے لیے باقاعدہ نصاب نافذ کیا جائے، ضلعی سطح پر مشترکہ امتحانات کا اہتمام ہو اور طلبہ کی تعلیمی استعداد جانچنے کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔ بادی النظر میں تعلیمی معیار کی پیمائش، طلبہ کی علمی پیش رفت کا جائزہ اور تدریسی نظام کی بہتری ایسے امور ہیں جن پر کسی بھی تعلیمی ادارے میں سنجیدہ توجہ دی جانی چاہیے۔ تعلیم کا مقصد محض اسناد کی تقسیم نہیں بلکہ طالب علم میں فکری بالیدگی، علمی استدلال، اخلاقی شعور اور عملی زندگی کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ مدارس بھی اس عمومی تعلیمی ضرورت سے مستثنیٰ نہیں، تاہم یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اصلاح کا طریقۂ کار کیا ہوگا، اس کی قانونی بنیاد کتنی مضبوط ہوگی اور اس کے نفاذ میں مدارس کی مذہبی و تعلیمی شناخت کو کس حد تک ملحوظ رکھا جائے گا۔
مدارس کی تعلیمی بہتری اور ان کے مذہبی تشخص کے درمیان کسی مصنوعی تصادم کو جنم دینا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے، نہ آئینی اصولوں سے ہم آہنگ۔ دینی مدارس صدیوں سے مذہبی علوم کی تدریس، اخلاقی تربیت، زبان و ادب کی ترویج اور معاشرتی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان اداروں کی تعلیمی ضروریات کا جائزہ لیتے وقت یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ان کا بنیادی مقصد مذہبی تعلیم و تربیت بھی ہے۔ چنانچہ اگر حکومت تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرتی ہے تو ان میں جدید علوم، بنیادی ریاضی، زبانوں، سائنسی شعور اور عصری تقاضوں سے متعلق مضامین کی مناسب گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن ایسا نظام تشکیل دینا ضروری ہے جو دینی تعلیم کے بنیادی مقاصد کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کرے۔

آئینِ ہند کا آرٹیکل ۲۵ تمام شہریوں کو آزادیٔ مذہب کا حق فراہم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل ۲۶ مذہبی امور کے انتظام سے متعلق حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جو آئین میں مقررہ حدود اور شرائط کے تابع ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل ۳۰ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق تسلیم کرتا ہے۔ ان دفعات کا مطلب یہ نہیں کہ اقلیتی تعلیمی ادارے ہر نوع کی قانونی پابندی، مالیاتی جواب دہی یا طلبہ کے تحفظ سے متعلق ضوابط سے بالاتر ہیں؛ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ انتظامی نگرانی کے نام پر ان کے آئینی حقوق کی معنویت ہی غیر مؤثر بنا دی جائے۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ ریاستی ضوابط قانونی جواز، معقولیت، شفافیت اور آئینی توازن کے اصولوں پر پورے اتریں۔ اسی تناظر میں مدارس کے ریکارڈ کو آدھار سے منسلک کسی مخصوص پورٹل پر محفوظ کرنے کی تجویز بھی توجہ طلب ہے۔ جدید دور میں تعلیمی اداروں کا درست اندراج، طلبہ کی تعداد کا قابلِ اعتماد تعین، سرکاری امداد کے استعمال کی نگرانی اور انتظامی معلومات کی شفافیت یقیناً اہم ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل نظام کے نفاذ میں طلبہ کی نجی معلومات کے تحفظ، معلوماتی سلامتی، قانونی جواز اور ان بچوں کے لیے متبادل انتظامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن کے پاس ضروری دستاویزات موجود نہ ہوں یا جنہیں اندراج کے عمل میں عملی دشواریوں کا سامنا ہو۔ کسی بچے کی تعلیمی رسائی دستاویزی پیچیدگیوں کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ شفافیت اور نگرانی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا نظام وضع کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جو غیر ضروری محرومی کا سبب نہ بنے۔ عرضی میں ان مذہبی اساتذہ کو مدرسہ بورڈ کے فنڈ سے تنخواہ دینے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جن کے پاس مقررہ تعلیمی اسناد یا ڈگریاں موجود نہیں۔ اس معاملے میں محض کسی سند کی عدم موجودگی کو تدریسی نااہلی کا قطعی ثبوت قرار دینا بھی مناسب نہیں اور نہ ہی مذہبی تعلیم کے شعبے میں پیشہ ورانہ معیار کی ضرورت سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ تقرری کے معیارات واضح ہوں، اساتذہ کی علمی استعداد کا منصفانہ جائزہ لیا جائے اور دینی علوم کی تدریس کے لیے متعلقہ اہلیت کو بھی مناسب اہمیت دی جائے۔ اگر کسی ادارے میں تقرریوں کے ضوابط یا مالیاتی معاملات میں بے قاعدگیاں پائی جائیں تو ان کی اصلاح شفاف طریقے سے ہونی چاہیے، لیکن کسی وسیع تر تعلیمی طبقے کے بارے میں عمومی مفروضوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے حقِ تعلیم قانون، یعنی رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد اور معیار پر پورا نہ اترنے والے مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کرنے جیسے مطالبات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ بعض سفارشات میں مدارس کے اراضی و انتظامی معاملات کے حوالے سے سخت اقدامات کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم سفارشات، قانونی دفعات اور عدالتی فیصلے تین الگ قانونی حیثیتیں رکھتے ہیں ان سب کو ایک ہی مفہوم میں ضم کر دینا قانونی بحث کو الجھانے کے مترادف ہوگا۔ کسی قانون کا کسی مخصوص ادارے پر اطلاق اس کی قانونی نوعیت، متعلقہ عدالتی تشریحات اور دیگر نافذالعمل ضوابط کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح کسی مدرسے کی رجسٹریشن منسوخ کرنے یا اس کی اراضی کے بارے میں اقدام کرنے کے لیے قانونی اختیار، مناسب طریقۂ کار اور متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ بہرحال ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کسی قسم کی مصلحت پسندی روا نہیں ہونی چاہیے۔ ہر بچے کو محفوظ ماحول، بنیادی تعلیم، مناسب نگہداشت اور جسمانی و ذہنی نشوونما کے مواقع میسر آنے چاہییں۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں بچوں کے تحفظ، تعلیمی معیار یا انتظامی شفافیت سے متعلق حقیقی مسائل موجود ہوں تو ان کی نشاندہی اور اصلاح ضروری ہے۔ لیکن اصلاحی اقدامات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ان کا اطلاق منصفانہ، شواہد پر مبنی اور امتیازی رویوں سے پاک ہو۔ مدارس کے معائنے کا نظام بھی واضح اصولوں کے تابع ہونا چاہیے، تاکہ کسی ادارے کے ساتھ اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے اور یکساں نوعیت کے تعلیمی تقاضوں کو یکساں معیار کے مطابق جانچا جا سکے۔ راجستھان حکومت کے لیے عدالت میں پیش کیا جانے والا حلف نامہ محض رسمی جواب نہیں ہوگا بلکہ اس سے ریاست کے تعلیمی نظم و نسق، مدارس کے متعلق پالیسی اور قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں اس کا موقف واضح ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مدارس کی حقیقی تعداد، رجسٹریشن کی صورتِ حال، مالیاتی معاونت، نصاب، اساتذہ کی اہلیت اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات سامنے لائے۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچے میں خامیاں ہیں تو ان کی نشاندہی کے ساتھ قابلِ عمل اصلاحی تجاویز پیش کی جائیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے کہ مجوزہ اقدامات کن قوانین کے تحت نافذ کیے جا سکتے ہیں، ان کے مالیاتی اثرات کیا ہوں گے اور ان کے نفاذ سے طلبہ کی تعلیم میں تعطل پیدا ہونے سے کیسے بچایا جائے گا۔ مدارس کے منتظمین اور ذمہ داران کو بھی اس صورتِ حال سے محض تشویش یا احتجاج کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہیں اپنے اداروں کا ریکارڈ منظم رکھنے، مالیاتی معاملات میں شفافیت اختیار کرنے، اساتذہ کی اہلیت کے معیار کو بہتر بنانے، طلبہ کے تعلیمی نتائج کا جائزہ لینے اور جہاں ضرورت ہو وہاں عصری مضامین کی تدریس کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ قانونی تقاضوں سے آگاہی، متعلقہ دستاویزات کی تکمیل اور تعلیمی اصلاح کے لیے سنجیدہ کوششیں مدارس کے ادارہ جاتی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے متعلق پالیسی سازی میں ان کے منتظمین، اہلِ علم، ماہرینِ تعلیم اور متعلقہ اقلیتی نمائندوں کی آرا کو مناسب جگہ دی جائے، تاکہ فیصلے زمینی حقائق سے مربوط رہیں۔

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مقررہ آئندہ سماعت اب اس معاملے کا اہم مرحلہ ہے۔ اس تاریخ پر ریاستی حکومت کا موقف اور عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے قانونی و انتظامی نکات آئندہ کارروائی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ فی الوقت نہ مدارس کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اور نہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ان اداروں کی رجسٹریشن یا اراضی کے بارے میں کوئی فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس مرحلے پر اصل توجہ عدالتی کارروائی، حکومت کے جواب اور متعلقہ قوانین کی تشریح پر مرکوز رہنی چاہیے۔ راجستھان کے تقریباً تین ہزار مدارس کا معاملہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تعلیمی اصلاح اور آئینی آزادی ایک دوسرے کی ضد نہیں، بشرطیکہ دونوں کو قانون، انصاف اور معقولیت کے دائرے میں رکھا جائے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تعلیمی حقوق کا تحفظ کرے، اداروں کی جواب دہی یقینی بنائے اور عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت برقرار رکھے؛ اسی طرح اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کو پوری سنجیدگی سے ملحوظ رکھے۔ مدارس کی بہتری کا راستہ نہ غیر ضروری پابندیوں سے ہموار ہوگا، نہ ہر قسم کی نگرانی سے گریز کے ذریعے؛ بلکہ ایک ایسے متوازن نظام سے نکلے گا جس میں معیارِ تعلیم بلند ہو، مذہبی شناخت محفوظ رہے، بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور قانون کی بالادستی ہر فریق کے لیے یکساں ہو۔ یہی وہ معیار ہے جس پر راجستھان حکومت کے آئندہ لائحۂ عمل اور عدالتی کارروائی کو پرکھا جانا چاہیے۔
مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے