تبصرۂ کتاب حرف سے آگہی تک
تصنیف مفتی سراج الہدیٰ ندوی ازہری
استاذ حدیث دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد
تبصرہ نگار✍🏻 محمد عادل ارریاوی
صفحات 240
سن اشاعت مارچ 2026ء
ناشر مکتبۃ النور دیوبند
___________
قلم اللہ ربّ العزت کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، احساسات، تجربات اور علمی سرمایہ کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ دنیا میں بےشمار لوگ آتے ہیں اور وقت کے ساتھ سب رخصت ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اپنے قلم اور زبان کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہتے ہیں۔ یہی قلم کی عظمت ہے کہ اس کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے، مگر اس سے نکلنے والے الفاظ نسلوں تک روشنی بانٹتے رہتے ہیں۔
انسان کی زندگی بہت مختصر ہے اس کی قوت محدود ہے اور اس کے تجربات بھی ایک حد تک ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے علم و تجربے کو تحریر کی شکل دے دیتا ہے تو اس کی بات اس کی زندگی کی حدود سے نکل کر دور دراز علاقوں اور آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کی کتابیں صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی پڑھی جاتی ہیں، ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور ان کے افکار سے ذہنوں کی آبیاری ہوتی ہے۔
تاہم قلم اور زبان کی اصل کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ تحریر کتنے لوگوں تک پہنچی کتنی مرتبہ پڑھی گئی یا اسے کتنی پذیرائی حاصل ہوئی بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس سے کتنے دلوں میں خیر کی تڑپ پیدا ہوئی، کتنے ذہنوں کو صحیح سمت ملی اور کتنے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی۔ شہرت وقتی ہوسکتی ہے، مگر اخلاص کے ساتھ لکھی گئی مفید تحریر کا اثر دیرپا ہوسکتا ہے۔
بہر حال ہر صاحبِ علم اور صاحبِ فکر کو چاہیے کہ وہ مطالعے کو اپنا ساتھی قلم کو اپنا وسیلہ اور اصلاح و رہنمائی کو اپنا مقصد بنائے۔ جو علم حاصل ہو اسے محفوظ بھی کیا جائے اور حسبِ استطاعت دوسروں تک پہنچایا بھی جائے کیوں کہ علم کی حفاظت صرف اسے یاد رکھنے میں نہیں، بلکہ اسے مفید انداز میں محفوظ کرنے اور آگے منتقل کرنے میں بھی ہے۔
انہی قلم کاروں اور اہلِ علم میں حضرت مفتی سراج الہدیٰ ندوی ازہری صاحب استاذِ حدیث دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد کا نام بڑی قدر و منزلت سے لیا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی آپ کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں جنہیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور بے شمار لوگوں نے ان سے خوب استفادہ کیا۔
انہی علمی و فکری کاوشوں میں 32 مضامین کا مجموعہ، 240 صفحات پر مشتمل کتاب (حرف سے آگہی تک) بھی ہے، جو بہت قلیل مدت میں بڑی مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ اس کتاب پر حضرت مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب اور مفتی تنظیم صاحب قاسمی نے تصدیقی تقریظ تحریر فرمائی ہے۔
چند دن قبل میں نے یہ کتاب خریدی اور اس کا مطالعہ شروع کیا تو پڑھتے پڑھتے ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ مکمل کیے بغیر چھوڑنے کو جی نہیں چاہا۔ تین ابواب پر مشتمل یہ کتاب حضرت مفتی سراج الہدیٰ ندوی ازہری صاحب کے زمانۂ طالب علمی سے لے کر اب تک کے منتخب مضامین کا مجموعہ ہے۔
پہلے باب میں اخلاصِ نیت، صحابۂ کرام، قرآنِ کریم، عصرِ حاضر، قربانی، قادیانیت، عفو و درگزر، مسجدِ نبوی سود کی لعنت وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ قلم اٹھایا گیا ہے۔
دوسرا باب ادبیات پر مشتمل ہے، جس میں قرآن، غار والوں کا قصہ، اردو زبان، ولی دکنی، الطاف حسین حالی، مولانا آزاد وغیرہ جیسے موضوعات کو جگہ دی گئی ہے۔
تیسرے باب میں فکریات کے تحت اے انسان نہ کر تقدیر کا شکوہ، کیا وہ خوش نصیب ہے؟، فلسطین لہو لہو، عالمِ اسلام کی بے حسی، لڑکی کو رحمت، زائرینِ حرم کے نام، دہشت گرد کون؟، ساکشی مہاراج، وغیرہ جیسے اہم اور فکر انگیز موضوعات شامل ہیں۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر مضمون سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ضرور ملتا ہے۔ کہیں دینی و اصلاحی پہلو نمایاں ہے، کہیں ادبی ذوق کی تسکین کا سامان ہے، تو کہیں فکری و معاشرتی مسائل پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ کتاب کا مطالعہ مکمل کرنے کے بعد دل سے حضرت مفتی صاحب کے لیے بے شمار دعائیں نکلیں۔
میری رائے ہے کہ آپ اس کتاب کو ایک بار ضرور پڑھیں اور اس کے علمی و فکری مضامین سے استفادہ کریں۔
میں حضرت مفتی سراج الہدیٰ ندوی ازہری صاحب کو ایک زمانے سے پڑھتا اور سنتا آیا ہوں۔ مفتی صاحب ایک بہترین مقرر، صاحبِ قلم اور مدرس ہیں، نیز حیدرآباد کے اکابر علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی و قلمی خدمات قابلِ قدر ہیں اور ان کی تحریریں قارئین کے لیے علم و فکر کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت حضرت مفتی صاحب کی اس علمی و فکری کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے، اسے لوگوں کے لیے نافع بنائے، انہیں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے، عمر میں برکت دے اور ہمیشہ صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
