مہاراشٹر یکساں سول کوڈ:کمیشن کی جانب سے طلب کئے گئے اعتراضات و مشورے آئین ہند کے مطابق دیئے جائیں گے : مولانا حلیم اللہ قاسمی

مہاراشٹر یکساں سول کوڈ:کمیشن کی جانب سے طلب کئے گئے اعتراضات و مشورے آئین ہند کے مطابق دیئے جائیں گے : مولانا حلیم اللہ قاسمی

مہاراشٹر یکساں سول کوڈ:کمیشن کی جانب سے طلب کئے گئے اعتراضات و مشورے آئین ہند کے مطابق دیئے جائیں گے : مولانا حلیم اللہ قاسمی

 

 

ممبئی 24؍اکتوبر(الہلال میڈیا) صوبہ مہاراشٹر میں یکساں کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے مہاراشٹر حکومت نے سبکدوش جسٹس رنجنا دیسائی کی قیادت میں ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل دی ہے جس نے اس تعلق سے کارروائی شروع کردی ہے۔کمیشن کی جانب سے عوامی اعتراضات اور مشورے طلب کیئے گئے ہیں۔ عوامی اعتراضات اور مشورے کس ڈھنگ سے دیئے جائیں اس تعلق سے دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ میٹنگ میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی، نائب صدر مولانا محمد عارف عمری،جنرل سیکریٹر ی مفتی محمد یوسف قاسمی، خازن مولانا اشتیاق احمد قاسمی، ناظم تنظیم مفتی حفیظ اللہ قاسمی ،قانونی مشیر ایڈوکیٹ شاہدندیم و دیگر نے شرکت کی۔

دوران میٹنگ یہ طے پایا کہ کمیشن کی جانب سے طلب کیئے گئے اعتراضات اور مشوروں پر ہر طرح سے غور کرنے کے بعد قانونی پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے جوابات مرتب کیئے جائیں گے۔
اس ضمن میں مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر یہ سمجھتی ہے کہ ہمارا ملک ایک مذہبی ملک ہے جس میں لاتعداد مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، ہندوستان کے دستور میں تمام مذاہب کو برقرار رہنے ، ان کے مطابق عمل کرنے کی آزادی رکھی گئی ہے،نیزیکساں سول کوڈ اس مذہبی آزادی کو متاثر کئے بغیر تشکیل نہیں دیا جا سکتا ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر ضروری سمجھتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت مہاراشٹر نے جو سوالنامہ مرتب کیا ہے، اس کی متعدد دفعات مسلم پرسنل لاء سے متصادم ہیں، جیسے نکاح ،طلاق ،وصیت، وراثت جیسے شرعی امور میں صریح مداخلت کا راستہ کھولا گیا ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس تجویز کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
مولانا نے مزید کہا کہ حکومت مہاراشٹر کے سوالنامے میں لیو ان ریلیشن شپ کو قانونی جواز مہیا کرنے پر کافی زور صرف کیا گیا ہے، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا یہ ماننا ہے کہ یہ عمل اگر قانونی جواز کا حامل ہوجاتا ہے تو اس سے ملک کے تمام مذاہب کی ناقدری ہوگی اور فحاشی و جنسی انارکی پر کوئی قدغن باقی نہیں رہے گی، یہ مذاہب کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی مشرقی ثقافت کے بھی بر خلاف ہے، اس لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس مجوزہ قانون کی پرزور مخالفت کرتی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے