امریکہ و ہندوستان میں فرقہ واریت اور مارکو روبیو کا دورہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نےاگر اس بار اپنے دورے کا آغاز دہلی سے نہیں کیا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ انہوں نے پچھلی بار بھی سرکاری دورہِ ہند کی ابتداء کولکتہ سے کی تھی۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار سنبھال لینے کے فوراً بعد مارکو روبیو کا اپنی اہلیہ جینیٹ ڈی روبیو کے ہمراہ وسطی کولکتہ میں واقع مدر ٹریسا کی قائم کردہ مشنریز آف چیریٹی کے عالمی صدر دفتر مدر ہاؤس کا دورہ یکجہتی کا اہم پیغام دینے کے لیے تھا ۔اس سے 14 سال قبل ہلری کلنٹن نے امریکی وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے کولکتہ کا دورہ کیا تھا۔ مارکو روبیو کاکولکاتہ جانا اس لیے اہم تھا کیونکہ مشنریز آف چیریٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان تعلقات اور اختلافات کا معاملہ گذشتہ برسوں میں ہندوستانی سیاست اور میڈیا میں کافی نمایاں رہا ہے۔ 1950 سے سرگرمِ عمل اس عالمی فلاحی تنظیم کی بیرونی فنڈنگ( (FCRA لائسنس کی تجدید سے دسمبر 2021 میں مرکزی وزارت داخلہ نے انکار کر دیا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس ادارے کے خلاف کچھ "سربستہ منفی انپٹس” موصول ہوئے تھے۔اس اقدام سے تنظیم کے لیے بیرونی ممالک سے فنڈز حاصل کرنا قانونی طور پر بند ہو گیا۔ مرکزی حکومت کےاس اقدام کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی حکومت پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ آگے چل کر عالمی بدنامی سے بچنے کے لیے قانونی تقاضے پورے ہونے کا بہانہ بناکر اسے بحال کردیا گیا۔
سنگھ پریوار خود تو امریکہ سے چندہ جمع کرکے یہاں لاتا ہے جس کا انکشاف ابھی حال میں ہوچکا ہے مگر دوسروں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ امریکی ماہرین اور تنظیموں کی رپورٹس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو امریکہ سے ہونے والی فنڈنگ کا انکشاف کیا گیا ہے۔ انڈین ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ کی مختلف رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں قائم اس فنڈ کے ذریعے 1995 سے 2002 کے دوران آر ایس ایس کو لاکھوں ڈالر منتقل کیے گئے۔ مارچ 2026 کے اندر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے آر ایس ایس پر پابندیاں عائد کرنے، اس سے منسلک افراد کے اثاثے منجمد کرنے اور ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی اپیل تک کردی تھی مگر سنگھ کے بجائے ہندوستانی وزارت خارجہ نے آر ایس ایس کا دفاع کرتے ہوئے اسے تعصب پسندانہ قرار دے کر مسترد کردیا ۔ انہیں کے بل پر ہندو قوم پرست گروہ مشنریز آف چیریٹی پر یہ الزام عائد کرتےہیں کہ وہ غریب اور قبائلی ہندوؤں کو علاج، تعلیم اور فلاحی کاموں کا لالچ دے کر عیسائیت میں تبدیل کرتے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ دھن دولت تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے پاس ہے مگر اس کا استعمال عیش و عشرت یا ووٹ اورارکان پارلیمان و اسمبلی کی خریداری پر کیاجاتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے خود عوامی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہیں کرتے الٹا بڑے سرمایہ داروں کےآلۂ کار بن کر قبائلی عوام کو ان کے جنگلات و علاقوں سے بے دخل کردیتے ہیں ۔ درانداز کہہ کرغریبوں کو بے گھر کر نےکے بعد وہ زمین اڈانی جیسے سرمایہ دار کو دے دی جاتی ہے۔ 2021 میں تو بی جے پی کی گجرات سرکار نے مدر ٹریسا کی تنظیم کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرکے الزام لگایا گیا تھا کہ شیلٹر ہوم میں رہنے والی لڑکیوں کو زبردستی عیسائی مذہبی کتابیں پڑھنے اور صلیب پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کی ادارے نے تردید کی تھی۔ 2018 میں بی جے پی کی جھارکھنڈ سرکار نے مشنریز آف چیریٹی کے ایک مرکز ‘نرمل ہردے’ سے ایک راہبہ اور ملازم کو نوزائیدہ بچوں کو غیر قانونی طور پر بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے مدر ٹریسا کے مشن پر کڑی تنقید کی توٰ ممتا بنرجی اور دیگر رہنماؤں نے بی جے پی پر ایک انفرادی غلطی کو بنیاد بنا کر پوری تنظیم کو بدنام کرنے کی سیاسی سازش کرنے کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تنظیم کے شیلٹر ہومز کے خلاف خصوصی تحقیقات کی درخواست کو خارج کر کے سنگھ کو کرارہ طمانچہ جڑ دیا تھا۔
ماضی میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور کئی بی جے پی رہنما مدر ٹریسا کی فلاحی خدمات کا بنیادی مقصد غریبوں کی خدمت نہیں بلکہ انہیں عیسائی بنانا بتا چکے ہیں جبکہ مشنریز آف چیریٹی اور عیسائی برادری کے رہنما ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت اقلیتی اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیاہے۔ اس تناظر میں مارکو روبیو کا دورہ عیسائی تنظیم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نظر آتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ سے حالیہ دورے کے دوران امبانی کے نیٹ ورک 18 پر ایک تفصیلی انٹرویو نشر ہوا۔ اس میں گروپ کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کے ساتھ بات چیت میں مارکو روبیو نے کہا کہ جب نفرت پر مبنی جرائم کی بات آتی ہے تو امریکی انتظامیہ نہ تو ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور نہ ہی ان کونظر انداز کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی بہانہ بناتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی سرکاریں اس طرح کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔ مذکورہ بالا واقعات گواہ ہیں کہ کمل والے نہ صرف اس طرح کے واقعات کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے انہیں جائز ٹھہراتے ہیں۔
مارکو روبیو سے الینوئس میں ایک ہندو مندر پر حملہ کرنے کی سازش اور نسلی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تووہ بولے، “بدقسمتی سے ایسا صرف امریکہ میں نہیں ہوتا، ایسی چیزیں دنیا بھر کے ہر معاشرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے- کبھی جہالت، کبھی نفرت۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے حملے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔“کچھ حملے دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔امریکہ بھی اس سے اچھوت نہیں ہے لیکن وطن عزیز میں انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور اس کی بنیاد پر سیاست چمکائی جاتی ہے۔مارکو روبیو نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’’مجھے نہیں لگتا، اور نہ ہی میں نے کبھی محسوس کیا ہے کہ امریکہ میں ہندوستان مخالف جذبات وسیع یا گہرے ہیں۔ کسی بھی بڑے اور پیچیدہ معاشرے کی طرح، افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں بھی کچھ بے وقوف، جاہل، یا نفرت سے بھرے ہوئے لوگ ہیں ‘‘ لیکن ہندوستان میں ایسے لوگ سرکار دربار پر قابض ہیں۔ ان کی پشت پناہی سےآئے دن مساجد اور گرجاگھروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
گجرات سے لے کر منی پور تک زعفرانی ٹولہ ظلم و ستم کی آگ برساتاہے اور اب تو اس نے جنتر منتر پر اپنے ہم مذہب مخالفین کو بھی نہیں بخشا۔ مارکو روبیو نے اس بات پرفخر جتایا کہ ہماری کمیونٹیز اس طرح کا واقعہ ہونے پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے آس پاس کی دوسری کمیونٹیز بھی جو متحد ہو کر اس طرح کے واقعات کے خلاف احتجاج کرتی ہیں لیکن کیا ہندوستان کے اندر ایسا ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہاں میں نہیں ہے۔ مارکو روبیو نے کچھ سال پہلے وسکونسن میں سکھوں کے ساتھ ایک خوفناک واقعہ کے خلاف کمیونٹی کی ریلی کا حوالہ دیا مگر ہمارے ملک میں مسلمانوں یا عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی مخالفت میں مشترکہ جلوس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ امریکہ میں ہندو مندروں کو پچھلے سال بھی نشانہ بنایا گیا تھا ۔ کرشن جنم اشٹمی (16 اگست) سے صرف چند دن پہلے10؍ اگست (2025)کوگرین وڈ سٹی انڈیانہ میں واقع بی اے پی ایس سوامی نارائن مندر کو نقصان پہنچایا گیا۔شکاگو میں قائم ہندوستانی قونصل خانے نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ۔ ایک بیان میں قونصل خانے نے "فوری کارروائی” کے لیے قانون نافذ کرنے والے حکام کے سامنے اٹھایا ہے کیونکہ مندر کے احاطے کی دیواروں پر ہندوستان اور ہندو مخالف نعرے بھی لکھے گئے تھے۔
گزشتہ سال کے پہلے ۸ ماہ میں چار مرتبہ امریکہ کے اندر کسی مندر پر حملہ ہوا تھا۔ مارچ میں، امریکہ میں اسی طرح کے ایک اور واقعے میں کیلی فورنیا میں واقع بی اے پی ایس ہندو مندر کو ایک نامعلوم شخص نے بے حرمتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت، وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جائسوال نے اس فعل کو "گھناؤنا” قرار دیتے ہوئے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ وطن عزیز میں سہارنپور کے اندر خود حکومت غیر قانونی طور پر مسجد کو شہید کردیتی ہے اور دہلی میں ریس کورس مسجد کو نوٹس تھما دیا جاتاہے۔ گرجا گھروں پر حملے عام بات بن گئے ہیں۔ ان کے خلاف ہر غیر ملکی بیان کو اندرونی معاملات میں مداخلت کہہ کر مسترد کردیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا آنکھ موند کر بیٹھی ہے اور اس کا ردعمل محض بیان بازی سے رکے گا؟ مارکو روبیو نے ان واقعات کوتشویشناک قرار دے کر کہا کہ امریکہ ان چیزوں پر توجہ دی جاتی ہے اور انہیں مکمل طور پر مسترد کیا جاتاہے۔ ان کے خیال میں امریکہ کا بڑا حصہ واضح طور پر ان چیزوں کو غلط کہتا ہے ۔کاش کہ وطن عزیز میں بھی یہی صورتحال ہو مگر مودی سرکار کے چلتے ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔