زمین پیاسی ، آسمان خاموش. رحمت کے دروازے کیسے کھلیں؟

زمین پیاسی ، آسمان خاموش.  رحمت کے دروازے کیسے کھلیں؟

زمین پیاسی ، آسمان خاموش
رحمت کے دروازے کیسے کھلیں؟

ازقلم:مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب :
ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ
بورابنڈہ، حیدرآباد

اس وقت ملک خصوصا ریاست خشک سالی کے حالات سے دوچار ہے ، بارش کی کمی نے زمیں میں پانی کے توازن کو بگاڑ دیا ہے ، جس کے نتیجے حکومت کی جانب سے پانی کے صحیح استعمال کے حوالے سے وارننگ دی جارہی ہے ، دعائیں اور نماز استسقاء میں بھی جاری ہے ، بظاہر حالات ابتر نظر آرہے ہیں،ایسے حالات کیوں در پیش ہوتے ہیں؟بارش کا نہ ہونا یہ محض ایک موسمیاتی تبدیلی کا نام نہیں ہے ؛ بلکہ یہ انسانی زندگی ، زراعت، معیشت اور معاشرت کے لئے ایک بڑا امتحان ہے، اللہ عزوجل نے ہر شیء کی حیات کو پانی پر موقوف رکھا ہے ، قدر ت کا عجیب وغریب نظام ہے ، سمندر کے شور اور نمکین پانی کو بادلوں کی دوش پراٹھادیتے ہیں، پھر اپنے خود کار نظام کے ذریعے سے اس پانی کے فلٹر اور صفائی کا کام کیا جاتا ہے، پھر اسے مناسب اور موزوں پر جگہ پر برساتے ہیں، جس سے انسان بلکہ ہر ذی روح کی تشنگی اور سیرانی کا کام انجام پاتا ہے ، ساری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے؛ لیکن بارش نہ ہوتو زمین کی نمی خشک ہوجاتی ہے، دھرتی کے سوتے سوکھ جاتے ہیں، کھیتوں کی ہریالی اور سرسبزی مانند پڑ جاتی ہے، تالا ب اور کنویں خالی ہوجاتے ہیں، بورویل دم توڑنے لگتے ہیں، زمین کی تہوں میں پانی کا خزانہ کم ہونے لگتا ہے ، تب انسان اور جانور پانی کی کمی کی وجہ سے قحط سالی اور خشک سالی کا شکار ہوجاتے ہیں، کسان اپنی نگاہیں آسمانوں کی طرف جمائے رہتے ہیں، مخلوق خدا عاجز ناتواں اور لاچا ر اور بے بس نظر آتی ہے ، چیزوں کے دام آسمان کو چھونے لگتے ہیں، پیداوار اور اناج کی قلت ہوجاتی ہے ، مہنگائی پیر پٍسارنے لگتی ہے ، انسانوں کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے ۔
ایک طرف انسانی ترقی اور عروج کا یہ حال ہے کہ انسان نے سینہ گیتی کے تہوں کو چاک کرلیا، زمین میں تیل کے کنویں دریافت کرلئے، زمین سے دھاتوں کو خزانوں کو اگلوا لیا، سمندروں کی تہوں تک رسائی حاصل کرلی، فضاؤں کے دوش پر منوں وزن کو دوڑا دیا، پہاڑوں کے اندر راستے اور سرنگیںبناڈالے، آسمانوں کی بلندیوں کو چھولیا، نت نئی ایجادات اور جدید اسبا ب وٹیکنالوجی کے ذریعہ ناجانے کتنے محیر العقول کارنامے انجام دے لئے، آسمان وزمین ، سمندر وفضاؤں کے ناجانے کتنے سربستہ راز دریافت کرلئے، وہ بڑے بڑے ڈیم کی شکل میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کرسکتا ہے ، پانی کی لہروں کو مسخر کرلیتا ہے ، اس کے بہاؤ کو روک لیتا ہے ، پانی کو ایک مقام سے دوسرے مقام کو منتقل کرسکتا ہے ، بارش کے امکانات کا انداز ہ لگا سکتا ہے ، اور موسمی مزاج ومذاق کو پڑھ سکتا ہے ، لیکن آج بھی انسان اس قدر ناتواںاور عاجز اور درماندہ واقع ہوا ہے کہ ان سب کے باوجود ایک بارش کا قطرہ اور پانی کی ایک بوند اپنی مرضی سے وجود میں نہیں لاسکتا۔
اسلام نے انسانی اخلاقی ، معاشی اور اجتماعی اعمال واحوال کو امن وامان سلامتی وبرکت کے ساتھ جوڑ کر بتلایا ہے ، روایت میں ہے کہ ’’اعمالکم عمالکم ‘‘ شریعت نے جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کا اہتمام کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ، وہی حقوق العباد کی ادائیگی میں کمی کوتاہی کو بھی اللہ کی ناراضگی اور غضب خداوندی کو دعوت دینے کا ذریعہ قرار ہے ، خصوصا ، بداعمالی، بد اخلاقی ، معاملات کا فساد وبگاڑ، زکوۃ کی عدم ادائیگی، ناپ تول میں کمی، دیانت کا فقدان، ظلم وجور اور مخلوق خدا کے ساتھ بد سلوکی ان چیزوں کو باران رحمت کے نزول میں رکاوٹ اور غصب خداوندی کو دعوت دینے والا قرار دیا ہے ۔
بارش کیوں نہیں ہوتی؟
بارش نہ ہونے کے اسباب وجوہات ہیں، جن کو جان کر ان کا تدارک کرنا نہایت ضروری ہے ؛ تاکہ رحمت خداوندی کو متوجہ کیا جاسکتے، قحط سالی اور پانی کی کمی کا ازالہ ہو، باران رحمت کا نزول ہو، مخلوق خدا کے لئے آسانی اور سہولت ہو۔
ایمان اور تقوی کی کمی
قرآن یہ کہتا ہے کہ ایمان، تقوی اور اعمال کے بگاڑ وفساد کا باہمی تعلق ہے، آسمان وزمین کا یہ نظام بے مقصد نہیں ہے ، بلکہ وہ خالق کائنات کے قائم کردہ تکوینی وتشریعی نظام کے ماتحت ہے ، اس لئے انسان کے ایمان تقوی اور عدل وانصاف اللہ کی برکتوں کو کھینچتا ہے ، اس کی نوازش اور خزانوں کے دہانوں کو کھولتا ہے، جب کہ ظلم وجوراور خیانت اللہ کی نعمتوں کے چھین جانے کا باعث بنتا ہے ۔
ارشاد باری عزوجل ہے :
’’ولو أن أہل القری آمنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکات من السماء والأرض ولکن کذبوا فأخذناھم بما کانوا یکسبون‘‘ (سورۃ الأعراف: ۹۶)( اور اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا، تو ہم نے ان کے کرتوتوں(اور اعمالِ بد)کی پاداش میں انہیں پکڑ لیا)۔
اور تقوی محض چند اوراد واذکار اور عبادات کا نام نہیں ؛ بلکہ اس کا وسیع اور جامع مفہوم ہے جس میں عدل وانصاف ، امانت داری، غریبوں کی حقوق اور اللہ کے تمام حدود کی پاسداری شامل ہے ، جس معاشرے میںحقوق تلف ہوں اور دھوکہ دہی اور دغابازی عام ہو وہاں مادی اسباب کے باوجود برکتیں اٹھالی جاتیں ہیں۔
ماحولیاتی اور زمینی بگاڑ انسانی کرتوں کا نتیجہ
ماحولیات کی تبدیلی اور موسموں کا بگاڑ، بارشوں کی کمی، کھیت وکھلیان کا سوکھ جانا، غذا واناج کا فقدان، مندی اور مہنگائی ان ساری چیزوں میں انسانوں کے اعمال اوران کے کرتوں اور اعمال بد کا بڑا اثر ہے،اللہ عزوجل ان حالات کے ذریعے بندوں کو اپنے رب کی طرف رجوع کا موقع دیناچاہتے ہیں:
ارشاد باری عزوجل ہے:
’’ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت أیدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلکم یرجعون‘‘(الروم:۴۱)خشکی اور تری میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب فساد ظاہر ہو گیا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آ جائیں
کفران نعمت کی سزا
یہ حالات در حقیقت اللہ کی عطاء وبخشش اور داد ودہش پر بجائے شکرانے کے کفرانے کی جذبات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، انسان بے پایاں رحمتوں کی وسعت اورعطا ونوازش کی بہتات کے باوجود ناشکری پر اتر آتا ہے ، اللہ کی نعمتوں کا بے جااسراف بھی کفران نعمت ہے، جس میں ندی نالوں کے پانی کو آلودہ اور گندا کرنا، پانی کابے دریغ استعمال اور زیر زمین پانی کے ذخائر کا بے رحمانہ اسراف یہ بھی کفران نعمت ہم ، یہ بھی قحط اور اور نعمتوں کے چھین جانے اورعذاب خداوندی عقاب وسزا کی وجہ بنتا ہے ، پھر ناگہانی حالات اور مصائب پیدا ہوجاتے ہیں: ارشاد خداوندی ہے :
’’ ضرب اللہ مثلا قریۃ کانت آمنۃ مطمئنۃ یأتیھا رزقھا رغدا من کل مکان ، فکرت بأنعم اللہ، فأذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف بما کانوا یصنعون‘‘ ( سورۃ النحل: ۱۱۲)اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جو امن اور اطمینان میں تھی، اس کا رزق ہر جگہ سے فراوانی کے ساتھ آتا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کے بدلے انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا۔
توبہ واستغفار سے غفلت
انسانوں گناہوں کا پلندہ ہے، فطری طور پر گناہ کا صدور انسان پر ہوتا ہے ، لیکن جس نے گناہ پر استغفار کیا ہے ، وہ گناہ پر اصرار کرنے والا نہیں ہوتا ہے، جو گناہ کر کے توبہ واستغفار سے غافل ہو، رب کی بارگاہ میں اپنے پشیمانی اور شرمندگی کا اظہار نہ کر ے ، یہ توبہ سے غفلت اور استغفار سے دوری بھی نعمت خداوندی اور رحمت خداوندی کے نازل ہونے کے حائل اور رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ارشاد خداوند ی ہے : ’’ قلت استغفروا ربکم إنہ کان غفارا، یرسل السماء علیکم مدرارا، یمدد کم بأموال وبنین ویجعل لکم جنات ویجعل لکم أنھارا‘‘(سورۃ نوح: ۱۰،۱۲،) میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں پیدا کرے گا۔
زکوۃ عدم ادائیگی خشک سالی کا سبب
زکوۃ اسلام کا اہم اور بنیادی رکن ہے ، جو خالص مالی عبادت پر مشتمل ہے ، مال زکوۃ یہ اغنیاء کے اموال میں فقراء کا حق ہے ، جس کو دبا لینا، زکوۃ کی ادائیگی نہ کرنا یہ بھی انسانوں کے غضب خداوندی اور اللہ کی سزا اور عقاب اور پکڑ کا باعث بنتا ہے،
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ولم یمنعوا زکوۃ أموالھم إلا منعوا القطر من السماء ، ولو لا البھائم لم یمطروا‘‘ (سنن ابن ماجۃ ، کتاب الفتن، باب العقوبات، حدیث: ۴۰۱۹)
اس روایت میں معاشرے کو ایک سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ مال کے واجب حقوق روک لینا محض ذاتی کوتاہی نہیں، بلکہ اس کے اجتماعی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ زکو اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ اس کے ذریعے مال کی تطہیر، ضرورت مندوں کی اعانت اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور پیدا ہوتا ہے۔حدیث کے اس مفہوم کی روشنی میں اہلِ ایمان کو اپنے مالی معاملات کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیا زکو صحیح طور پر ادا کی جا رہی ہے؟ کیا مستحقین تک ان کا حق پہنچ رہا ہے؟ کیا مال کی محبت نے انسان کو واجبات سے غافل کر دیا ہے؟
ناپ تول میں کمی اور معاشی بے برکتی
اللہ عزوجل نے ترازو کو نازل کیا، عدل وانصاف کو قائم کیا ہے ، جب ناپ تول میں کمی کر کے عدل وانصاف کا جنازہ نکالا جاتا ہے ، مخلوق خداوندی کا خون چوسا جاتا ہے ، تو آسمان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں، قحط سالی اور معاشی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم وجبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،یہ تعلیم آج کے معاشی ماحول میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، ناپ تول میں کمی صرف ترازو کے ساتھ دھوکا دینے تک محدود نہیں؛بلکہ ہر وہ طرزِ عمل اس کے مفہوم سے مناسبت رکھتا ہے جس میں انسان دوسرے کا حق دبا کر اپنا فائدہ حاصل کرتا ہے،ملاوٹ، جعلی مصنوعات، ناقص مال کو عمدہ ظاہر کرنا، مزدور کی اجرت روکنا، معاہدے کی خلاف ورزی، رشوت اور تجارتی دھوکا معاشی اعتماد کو تباہ کرتے ہیں، جب بازار سے امانت اٹھ جاتی ہے تو محض دولت کی کثرت معاشرے کو خوش حال نہیں بنا سکتی۔
ارشاد خداوندی ہے: ’’ویل للمطففین، الذین اذ اکتالوا علی الناس یستوفون، وإذا کالوھم أو وزنوھم یخسرون‘‘ (۱،۳)ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے؛ جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ہ دین داری کا امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ بازار، دفتر، کاروبار، ملازمت اور روزمرہ معاملات میں بھی ہوتا ہے۔
اور گذشتہ حدیث کا ایک حصہ بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے:’’ ولم ینقصوا المکیال والمیزان إلا أخذوا بالسنین وشدۃ المؤنۃ، وجور السلطان علیھم‘‘ (سنن ابن ماجۃ ، کتاب الفتن، باب العقوبات، حدیث:۴۰۱۹)جس وقت ناپ تول میں کمی ہونی لگتی ہے تو قحط سالی، معاشی بد حالی اور اور امت سلاطین کے ظلم وجور کاشکار بن جاتی ہے۔
حرام کمائی اور رشوت ستانی
حرام کی کمائی اور رشوت ستانی یہ بھی نعمت خداوندی کے چھین جانے کا سب بنتا ہے، ایک شخص ظاہری عاجزی، سفر کی مشقت کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں دعا گو ہے ، بارگاہِ خداوندی میں ہاتھوں کا اٹھاتا ہے، لیکن اس کی زندگی میں معاملات درست نہیں ، جو شخص اپنے کاروبار میں دوسروں کے حق مارتا ہے ، رشوت لیتا ہے ، حرام ذرائع آمدنی کو اختیار کرتا ہے اور پھر دعاء کے لے ہاتھ اٹھا کر اپنے لئے رحمت خداوندی کے متوجہ ہونے کیلئے دعاگو ہے ، اس متضاد طر ز عمل سے اجتناب ضروری ہے ،دعا اور عمل ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ دعا بندگی کا اظہار ہے اور حلال زندگی اس بندگی کی عملی شہادت۔
اس حدی میں اسی جانب اشارہ ہے ، جس کو صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود حالت میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر پکارتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! لیکن اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے؛ پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو؟’’فأنی یستجاب لذلک‘‘ (صحیح مسلم: کتاب الزکاۃ، حدیث: ۱۰۱۵)
ظلم اور حقوق العباد کی پامالی
مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ، مخلوق میں بہترین وہ شخص ہے جو اللہ کے کنبہ کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں مخلوق کے ساتھ رحمت، شفقت اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ،اسی جانب نبی کریم ﷺ اشارہ کیا: ’’الراحمون یرحمہم الرحمن، ارحموا من فی الأرض یرحمکم من فی السماء‘‘ (جامع الترمذی: أبواب البر والصلۃ، حدیث: ۱۹۲۴)رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔
اس حدیث کا پیغام نہایت جامع ہے، اللہ تعالی کی رحمت کا امیدوار وہ انسان بھی ہوتاہے جو خود دوسروں کے لیے رحمت کا ذریعہ بنتا ہے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، بیوہ کی مدد کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، پیاسے کو پانی پلانا، مزدور کو اس کا پورا حق دینا، بیمار کی خبر گیری کرنا اور جانوروں کے ساتھ نرمی برتنا سب اسی اخلاقی تعلیم کے مظاہر ہیں،خشک سالی کے زمانے میں اس تعلیم کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، جب پانی کم ہو تو اس کی منصفانہ تقسیم، ضرورت مندوں کی مدد، جانوروں کے لیے پانی کا انتظام اور ذخیرہ شدہ وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کرنا معاشرتی رحم کی عملی شکلیں ہیں،کیا یہ مناسب ہے کہ کسی بستی میں لوگ پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہوں اور دوسری طرف پانی محض نمود و نمائش یا غیر ضروری استعمال میں ضائع کیا جائے؟ کیا یہ درست ہے کہ ایک شخص ضرورت مندوں کے لیے پانی مہیا کرنے کے بجائے قلت سے فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھاتا رہے؟رحم صرف جذباتی کیفیت نہیں؛ یہ ایک عملی ذمہ داری ہے۔
دورسالت اور حضور ﷺ کا عمل مبارک
رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں بارش طلب فرمانے (استسقاء )کے متعدد واقعات کتبِ حدیث میں صحیح اور مستند اسناد کے ساتھ منقول ہیں، ان میں سے دو واقعات سب سے زیادہ مشہور، مفصل اور نمایاں ہیں: ایک مسجدِ نبوی کے اندر منبر پر خطبے کے دوران دعا فرمانا اور دوسرا مدینہ منورہ سے باہر کھلے میدان میں باقاعدہ باجماعت نمازِ استسقا ادا فرمانا اور چادر پلٹنا۔
(۱)سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن دار القضا کی سمت والے دروازے سے مسجدِ نبوی میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، وہ شخص آپ ﷺ کے روبرو کھڑا ہو گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور تین مرتبہ دعا فرمائی:’’ اللھم اغثنا، اللھم اغثنا‘‘ (اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔)
سیدنا انس فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس وقت آسمان پر نہ تو کوئی بادل تھا اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا، اور ہمارے اور جبلِ سلع کے درمیان کوئی مکان یا گھر حائل نہ تھا (یعنی پورا آسمان صاف دکھ رہا تھا)) اچانک جبلِ سلع کے پیچھے سے ڈھال کی مانند ایک بادل کا ٹکڑا ابھرا، جب وہ آسمان کے بیچ میں پہنچا تو پھیل گیا اور موسلادھار برسنے لگا، اللہ کی قسم!ہم نے پورا ایک ہفتہ سورج نہیں دیکھا۔
پھر اگلے جمعہ اسی دروازے سے ایک شخص داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مال و مویشی (زیادتیِ آب سے) ہلاک ہونے لگے اور راستے مسدود ہو گئے، آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ بارش روک لے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی:’’ اللھم حوالینا ولا علینا، اللھم علی الآکام، والظراب، وبطون الأودیۃ، ومنابت الشجر‘‘ (اے اللہ! ہمارے ارد گرد (پہاڑوں اور وادیوں پر) برسا، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ!ٹیلوں، پہاڑیوں، وادیوں کے اندرونی حصوں اور درختوں کے اگنے کے مقامات پر برسا)راوی کہتے ہیں: اسی لمحے مدینہ کی فضا سے بارش تھم گئی اور بادل چھٹ گئے، اور ہم مسجد سے باہر نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔(صحیح البخاری، کتاب الاستسقا، باب الاستسقاء فی المسجد الجامع، حدیث:۱۰۱۳ )۔
(۲)میدان میں نکل کر باقاعدہ باجماعت نمازِ استسقا اور چادر پلٹنایہ وہ تاریخی اور فقہی واقعہ ہے جو فقہائے کرام کے نزدیک نمازِ استسقا کی مشروعیت، اس کی ہیئت، بلند آواز سے قرت اور چادر پلٹنے (تحویل الرداء) کی بنیادی شرعی دلیل ہے، یہ واقعہ سیدنا عبداللہ بن زید انصاری مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم خرج إلی المصلی یلتمس الاستقاء ، واستقبل القبلۃ، فحول رداء ہ، وصلی رکعتین جھر فیہما بالقراء ۃ‘‘ ( صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب صلاۃ الاستسقاء، حدیث: ۸۹۴، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
نبی کریم ﷺ بارش طلب فرمانے کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے، آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر اپنی چادر مبارک کو پلٹا، اور دو رکعت نماز پڑھائی جس میں قرت بلند آواز کے ساتھ فرمائی۔
(۳) استسقا کے لیے نکلتے وقت رسول اللہ ﷺ کی عاجزانہ ہیئترسول اللہ ﷺ کس کیفیت اور ظاہری وضع قطع کے ساتھ میدان میں تشریف لے گئے، اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نہایت باریک بینی کے ساتھ نقل فرمایا ہے:’’ خرج رسول اللہ ﷺ مبتذلا، متواضعا، متضرعا، حتی اتی المصلی، فصلی رکعتین، کما یصلی فی العید، لم یخطب خطبتکم ہذہ، ولکن لم یزل فی الدعاء والتضرع والتکبیر‘‘ ( جامع الترمذی، بواب الصلا، باب ما جا فی صلا الاستسقا، حدیث: ۵۵۸) رسول اللہ ﷺانتہائی معمولی و سادہ کپڑوں میں، عاجزی اور گریہ و زاری کی کیفیت کے ساتھ تشریف لائے، یہاں تک کہ عیدگاہ پہنچے… آپ ﷺ نے عید کی طرح دو رکعت نماز ادا فرمائی، تمہارے اس رسمی خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ مسلسل دعا، تضرع ،گریہ و زاری اور تکبیر میں مشغول رہے۔
ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے عہد میں استسقا کبھی مسجد کے اندر منبر پر دورانِ خطبہ دعائے استسقا کے ذریعے ہوا اور کبھی باقاعدہ میدان میں جا کر پیوند لگے و معمولی کپڑوں میں، عاجزی کے ساتھ دو رکعت نماز، قبلہ رخ ہو کر دعا اور چادر پلٹنے کی ہیئت کے ساتھ ادا کیا گیا۔
نماز استسقا کا مسنون طریقہ
۱۔تین دن کی تیاری: امام اور اہل علم لوگوں کو تلقین کریں کہ وہ تین دن مسلسل روزے رکھیں، صدقہ و خیرات کریں اور آپس کے تنازعات و مظالم ختم کر کے توبہ کریں۔
۲۔چوتھے دن خروج: چوتھے دن تمام بستی روزے کی حالت میں پرانے، سادہ اور پیوند لگے کپڑوں میں، عاجزی اور سر جھکائے ہوئے پیدل عیدگاہ کی طرف نکلے،قیمتی ملبوسات اور تکبرانہ سواریوں پر نکلنا ممنوع ہے۔
۳۔دو رکعت نماز: امام بغیر اذان اور اقامت کے دو رکعت نماز پڑھائے، جس میں قرت بآوازبلند کی جائے، پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الأعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیۃ پڑھنا مستحب ہے۔
۴۔خطبہ اور تحویل ردا ء(چادرپلٹنا) نماز کے بعد امام منبر پر چڑھے بغیر زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دے، خطبہ کی ابتداء میں چار پلٹے (اوپر کا حصہ نیچے یا دایاں بائیں کر دے)اس کے بعد امام قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اورسب لوگ بیٹھ کراس پر آمین کہیں، نیز استسقاء کی نماز کے لئے تین دن نکلنا مستحب ہے (فتاوی شامی : باب صلاۃ الاستسقاء : ۲؍۱۸۴،دار الفکر، بیروت، الطبعۃ الثانیۃ: ۱۴۱۲ھ، ۱۹۹۲م فتاوی بنوریہ ٹاون کراچی: فتوی نمبر: ۱۴۴۵۰۶۱۰۱۰۷۵،فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵؍۲۳۸، ۲۱۴، طبع، دار العلوم دیوبند)
کیا کریں کیا نہ کریں؟
ان میں کچھ امور ہیں جن کا اہتما م کرنا ہے ، کچھ چیزیں منع ہیں، جن سے بچنا ہے ، اس طرح اللہ کی رحمت کو متوجہ کیا جاسکتا ہے :
کیا کریں؟ رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے والے امور
(۱) کثرت استغفارکا انفرادی و اجتماعی معمول: ہر وقت زبان پر توبہ اور استغفار جاری رکھا جائے؛ یہ آسمان سے بارش کو برسانے والا عمل ہے۔
(۲)واجب الادا زکوۃ کی فی الفور ادائیگی: مال دار افراد اپنی زکوۃ کا ایک ایک روپیہ نکال کر حقداروں تک پہنچائیں، کیونکہ زکوۃ کی چوری بارش رکنے کا واضح نبوی سبب ہے۔
(۳)حقوق العبادکی ادائیگی کریں: وراثت میں بیٹیوں اور بہنوں کا غصب شدہ حق واپس کریں، ملازمین و مزدوروں کی رکی ہوئی اجرتیں ادا کریں اور ناپ تول کے پیمانے درست کریں۔
(۴)ضعفاء، بچوں اور بے زبان مویشیوں کی شمولیت:دعا کے وقت معصوم بچوں، ضعیف بوڑھوں اور چوپایوں کو میدان میں لایا جائے(فتاوی شامی: باب صلاۃ الاستسقاء، ۲:۱۸۵، دار الفکربیروت)
(۵)پانی کے موجودہ ذخائر کی حفاظت اور اسراف کی روک تھام: پانی کے با جا اسراف کوبند کریں، کم پانی سے گزارا کرنے کی عملی مہم چلائیں، اور زیرِ زمین پانی کے بلا ضرورت استعمال پر قدغن لگائیں۔
(۶)مسلسل تین دن میدان میں نکلنا: اگر ایک دن بارش نہ ہو تو مایوس نہ ہوں، بلکہ اگلے دو دن بھی متواتر عاجزی کے ساتھ میدان کا رخ کیا جائے۔
(۷)باران رحمت کے لئے منقول دعائیں: نبی کریم ﷺ سے بارش کی طلب کے لیے جو نصوص منقول ہیں، استسقاء کے دوران ان الفاظ سے گریہ و زاری کی جائے:
پہلی مسنون دعا:’’اللھم اغثنا غیثا مغیثا، مریئا مریعا، نافعا غیر ضار ، عاجلا غیر آجل‘‘ (سنن ابی داؤد: کتاب الصلاۃ، باب رفع الیدین فی الاستسقاء، حدیث: ۱۱۶۹)((اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رسی کرنے والی ہو، خوشگوار ہو، سرسبزی لانے والی ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو، اور جلدی برسنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو)
دوسری مسنون دعا: ’’اللھم اسق عباد وبھائمک، وانشر رحمتک وأحی بلدک المیت‘‘ ( سنن ابی داؤد، باب الاستسقاء، حدیث: ۱۱۷۶)
کیا نہ کریں؟ باران رحمت کے برسنے میں رکاوٹ بننے والے امور
(۱) گناہوں پر اصرار اور غفلت: خشک سالی کو فقط ایک عام موسمی چکر سمجھ کر ناچ گانے، بے حیائی، جھوٹ اور نمازوں کے ضیاع پر ڈٹے رہنا عذاب کو پختہ کرتا ہے۔
(۲)ناپ تول میں کمی اور تجارتی ملاوٹ: خریداروں کو دھوکہ دینا اور تجارتی بددیانتی وہ گناہ ہے جو حدیث کی رو سے براہ راست قحط سالی لاتا ہے۔
(۳)ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی: پانی کی قلت یا قحط کے دنوں میں اناج اور بنیادی اشیا روک کر قیمتیں بڑھانا سخت ملعون فعل ہے۔
(۴)تکبر اور فاخرانہ نمائش: استسقا کے موقع پر عمدہ ملبوسات، قیمتی گاڑیوں کے پروٹوکول اور اتراتے ہوئے نکلنا دعا کی روح کو فنا کر دیتا ہے۔
ان موجودہ حالات میں شریعت اوراسلام نے بارش طلب کرنے اور رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے کا جو طریقہ کار بتلایا ہے ، گناہوں ، معصیتوں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اہتمام کے ساتھ رجوع، اور طلب اور تضرع اور استغفار کرنے کرنے کو کہا ہے ، اس کا اہتمام کرتے ہیں، تو پھر باران رحمت کا نزول ہوسکتا ہے،جس طرح زمین کی پیاس بجھنے کے لئے بادلوں سے پانی کا برستا ضروری ہے ،اسی طرح معاشرہ کی پیاس بجھانے کے لئے عدل، انصاف، امانت داری، زکوۃ کی ادائیگی، توبہ واستغفار اور رجوع الی اللہ، گناہوں ، معصیتوںاور فضول خرچیوں سے بچنا بھی ضروری ہے ۔
ایک طرف آسمان سے پانی کی بھیک مانگی جائے اور دوسری طرف زمین پر اللہ کے بندوں کا خون چوسا جائے اور ان کے حقوق دبائے جائیں، یہ کھلا تضاد ہے۔ جب قومیں اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اپنے معاشی و سماجی معاملات کو شریعت کے مطابق درست کرتی ہیں اور خلوص کے ساتھ ماتھا خاک پر ٹیکتی ہیں، تو اللہ رب العزت کا فضل جوش میں آتا ہے اور بند آسمان رحمت کی موسلادھار بارشوں کے ساتھ کھل جایا کرتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے